تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی

مرتب کردہ ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

اس قسط نمبر ② میں ہم نعمان میڈیا کے اس باطل دعویٰ کا علمی رد پیش کر رہے ہیں کہ تعویذ گنڈے قرآن و سنت اور سلف صالحین سے ثابت ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مرفوع احادیث، آثارِ صحابہ اور تابعین کی صریح روایات تعویذ گنڈوں کے ناجائز اور شرک ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ نیز ائمہ دین (امام مالک، امام طحاوی، ملا علی قاری وغیرہ) نے ایسے تعویذ کو شرک اور اولیاء اللہ کی شان کے خلاف قرار دیا ہے۔

◈ 01 – مرفوع حدیث:

عقبہ بن عامر جہنیؓ بیان کرتے ہیں:

17422 – حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَنْصُورٍ، عَنْ دُخَيْنٍ الْحَجْرِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ،
أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِ رَهْطٌ، فَبَايَعَ تِسْعَةً وَأَمْسَكَ عَنْ وَاحِدٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، بَايَعْتَ تِسْعَةً وَتَرَكْتَ هَذَا؟ قَالَ: إِنَّ عَلَيْهِ تَمِيمَةً، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَقَطَعَهَا، فَبَايَعَهُ، وَقَالَ:
مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ.
📕 (مسند الإمام أحمد 4/154)

ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ کے پاس دس آدمیوں کا وفد آیا، آپ نے نو کی بیعت کر لی اور ایک کو چھوڑ دیا۔
جب صحابہؓ نے پوچھا تو فرمایا: ’’اس نے تعویذ باندھا ہوا ہے‘‘۔ پھر آپ نے اس کا تعویذ کاٹ ڈالا اور فرمایا:
جس نے تعویذ باندھا اس نے شرک کیا۔

📌 حکم: سند صحیح، تمام رجال ثقہ ہیں۔

◈ 02 – دوسری مرفوع حدیث:

عقبہ بن عامر جہنیؓ ہی فرماتے ہیں:

7501 – سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ:
مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَلَا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ، وَمَنْ عَلَّقَ وَدَعَةً فَلَا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ.
📕 (المستدرك على الصحيحين للحاكم 4/418 – قال: صحيح الإسناد، ووافقه الذهبي)

اور اسی طرح:
📕 (مسند أحمد 4/156) ، (أبو يعلى 4/1549) ، (مجمع الزوائد 5/103 – رجال ثقات)

ترجمہ:
’’جس نے تعویذ باندھا اللہ اس کا کام پورا نہ کرے، اور جس نے دھاگہ باندھا اللہ اسے سکون نہ دے۔‘‘

📌 حکم: صحیح الاسناد، متعدد محدثین (حاکم، ذہبی، ہیثمی، منذری) نے صحیح یا جید قرار دیا۔

◈ 03 – عبداللہ بن مسعودؓ کا عمل:

6090 – يَحْيَى بْنُ الْجَزَّارِ قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ (ابن مسعود) عَلَى امْرَأَةٍ وَفِي عُنُقِهَا شَيْءٌ مُعَوَّذٌ، فَجَذَبَهُ فَقَطَعَهُ، ثُمَّ قَالَ:
لَقَدْ أَصْبَحَ آلُ عَبْدِ اللَّهِ أَغْنِيَاءَ عَنْ أَنْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ.

📕 (صحيح ابن حبان 13/450)

ترجمہ:
عبداللہ بن مسعودؓ اپنی بیوی کے پاس گئے اور اس کی گردن میں تعویذ دیکھا تو فوراً کاٹ دیا اور فرمایا:
’’آلِ عبداللہ شرک سے بے نیاز ہیں۔‘‘
اور پھر رسول اللہ ﷺ کا فرمان ذکر کیا: الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ
(جھاڑ پھونک، تعویذ اور ٹونے سب شرک ہیں)۔

📌 حکم: سند صحیح، تمام رجال ثقہ۔

◈ 04 – ابو بشیر انصاریؓ کی روایت:

3005 – أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ أَرْسَلَ رَسُولًا:
لَا تَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ.
📕 (صحيح البخاري – كتاب الجهاد، باب ما قيل في قلائد الوتر)

ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے سفر میں ایک اعلان کروایا:
’’کسی اونٹ کی گردن میں دھاگے یا تعویذ کی کوئی لٹکنے والی چیز باقی نہ رہے مگر یہ کہ اسے کاٹ ڈالا جائے۔‘‘

◈ تشریح ائمہ:

امام مالک رحمہ اللہ نے کہا:

"كانوا يعلّقونها لدفع العين، فأمر النبي ﷺ بقطعها، ليعلمهم أن الأوتار لا ترد من أمر الله شيئاً.”
📕 (كشف المشكل – ابن الجوزي 1/408)

یعنی عرب جہلا اونٹ کی گردن میں دھاگہ تعویذ باندھتے کہ نظرِ بد نہ لگے، آپ ﷺ نے کاٹنے کا حکم دیا تاکہ معلوم ہو کہ اللہ کے حکم کے سوا کوئی چیز نفع و ضرر نہیں دے سکتی۔

امام بغوی رحمہ اللہ نے لکھا:

"كانوا يعلّقون القلائد والتمائم يظنون أنها تعصمهم من الآفات، فنهاهم النبي ﷺ.”
📕 (شرح السنة للبغوي 12/158)

یعنی وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ قلادے اور تعویذ انہیں آفات سے بچاتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے اس کو باطل قرار دے کر ممانعت فرما دی۔

◈ 05 – ابن عباسؓ کی حدیث:

6472 – رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ:
يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ.
📕 (صحيح البخاري 6472، مسلم 218)

ترجمہ:
میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ وہ وہی ہیں جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے، بدفالی نہیں لیتے اور اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہیں۔

◈ تشریح:

ملا علی قاری الحنفی (م 1014ھ) لکھتے ہیں:

"هذا من صفة الأولياء المعرضين عن الأسباب الدنيوية، وأما العوام فرخّص لهم في الرقى والعلاجات، لكن الأكمل تركها.”
📕 (مرقاة المفاتيح 8/3591)

یعنی یہ اولیاء کی صفات ہیں جو دنیاوی اسباب (تعویذ وغیرہ) سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ عوام کے لیے علاج و دعا کی گنجائش ہے، مگر اکمل یہ ہے کہ ایسی چیزوں سے بچیں۔

◈ 06 – حضرت عقبہ بن عامرؓ کا قول:

23465 – عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ:
مَوْضِعُ التَّمِيمَةِ مِنَ الْإِنْسَانِ وَالطِّفْلِ شِرْكٌ.
📕 (المصنف لابن أبي شيبة 5/439)

ترجمہ:
عقبہ بن عامرؓ فرماتے ہیں: ’’بچے اور بڑے کے جسم پر تعویذ لٹکانے کی جگہ شرک ہے۔‘‘

📌 حکم: سند صحیح، رجال ثقہ۔

◈ 07 – حضرت حذیفہؓ کا عمل:

12040 – دَخَلَ حُذَيْفَةُ عَلَى مَرِيضٍ، فَوَجَدَ فِي عَضُدِهِ سَيْرًا، فَقَطَعَهُ، ثُمَّ قَالَ:وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ.
📕 (تفسير ابن أبي حاتم 7/2252)

ترجمہ:
حضرت حذیفہؓ ایک مریض کے پاس گئے، اس کے بازو پر دھاگہ دیکھا تو اسے توڑ ڈالا اور یہ آیت پڑھی:
“ان میں اکثر اللہ پر ایمان رکھتے ہیں مگر شرک بھی کرتے ہیں۔” (یوسف:106)

◈ 08 – حضرت علیؓ کا قول:

23463 – رَأَى عَلَى رَجُلٍ خَيْطًا، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالَ: رُقِيَ لِي فِيهِ، فَقَطَعَهُ ثُمَّ قَالَ:
لَوْ مِتَّ وَأَنْتَ عَلَيْهِ مَا صَلَّيْتُ عَلَيْكَ.
📕 (مصنف ابن أبي شيبة 5/439)

ترجمہ:
حضرت علیؓ نے ایک آدمی کے ہاتھ میں تعویذ دیکھا، کاٹ ڈالا اور فرمایا: ’’اگر اس حالت میں مر جاتا تو میں تیرا جنازہ نہ پڑھتا۔‘‘

◈ 09 – حضرت عمران بن حصینؓ:

1172 – رَأَى فِي يَدِ رَجُلٍ حَلْقَةً مِنْ صُفْرٍ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ: مِنَ الْوَاهِنَةِ، فَقَالَ:
إِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهَنًا، وَلَوْ مُتَّ وَأَنْتَ تَرَاهَا نَافِعَةً لَمُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ.
📕 (الإبانة الكبرى لابن بطة 2/721)

ترجمہ:
انھوں نے ایک آدمی کے ہاتھ میں پیتل کا کڑا دیکھا تو فرمایا: ’’یہ بیماری کو بڑھائے گا، اور اگر تم اس کو نافع سمجھتے ہوئے مر گئے تو فطرت (اسلام) پر نہ مرو گے۔‘‘

◈ 10 – اقوالِ تابعین:

① ابو مجلز لاحق بن حمید (ت 106ھ):

"مَنْ تَعَلَّقَ عِلَاقَةً وُكِلَ إِلَيْهَا.”
📕 (مصنف ابن أبي شيبة 5/439)
ترجمہ: جو کوئی چیز لٹکائے گا، اللہ اسے اسی کے سپرد کر دے گا۔

② سعید بن جبیر (ت 95ھ):

ایک نے کہا: تعویذ دے دوں؟ فرمایا: "لَا حَاجَةَ لِي بِالرُّقَى.”
📕 (مصنف ابن أبي شيبة 5/440)

③ حسن بصری (ت 110ھ):

"أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ ذَلِكَ.”
📕 (مصنف ابن أبي شيبة 5/440)
ترجمہ: یعنی وہ ہر طرح کے تعویذ کو ناپسند کرتے تھے۔

④ ابراہیم نخعی (ت 96ھ):

"كَانُوا يَكْرَهُونَ التَّمَائِمَ كُلَّهَا، مِنَ الْقُرْآنِ وَغَيْرِ الْقُرْآنِ.”
📕 (مصنف ابن أبي شيبة 5/439)

ترجمہ: یعنی وہ ہر طرح کے تعویذ کو ناپسند کرتے تھے چاہے قراںی تعویذ ہوں یا غیر قرآنی تعویذ

بدعتیوں کے دلائل کا مفصل ردّ

① محمد بن إسحاق کی معنعن روایت (عبداللہ بن عمروؓ)


النقل: “كان يعلِّمُ أولادَهُ المميِّزين، ويعلِّق على الصغار” — محمد بن إسحاق عن … (بدعتیوں کا عمومی استدلال)

المفہوم: سمجھدار بچوں کو کلمات سکھاتے اور ناسمجھ کے گلے میں لٹکاتے تھے۔

التعقیب:

  • محمد بن إسحاق مدلس ہے؛ اس کی عن سے روایت بالاتفاق حجت نہیں جب تک تصریحِ سماع نہ ہو۔ ائمہ کی تصریحات: “المدلِّس لا يُحتج بعنعنته إلا أن يثبت سماعه” (نووی، عراقی، نسائی، وغیرہ).

  • ذہبی: ابنِ إسحاق کی روایات عموماً حسن، “فيمـا شذّ فيه فإنه يُعدّ منكراً” (سیر أعلام 7/…). یہاں مخالفہ للثقات ہونے کی وجہ سے منکر قرار پاتی ہے۔

  • نتیجہ: معنعن، غیر مصرح بالسماع مردود؛ مرفوع نصوص “مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ” کے صریح خلاف۔

سعید بن المسیبؒ سے جوازِ تعویذ کی طرف منسوب روایات

(ا) نوح بن أبی مریم (أبو عصمة) کی روایت
النص: 23543 – شُعْبَة، عن أبی عصمة، قال: سألتُ سعیدَ بن المسیّب … قال: «لا بأس إذا كان في أديم» (مصنف ابن أبی شیبہ)
التعقیب: نوح بن أبی مریم = کذّاب۔ ابن حجر: “كذبوه في الحديث؛ جمہور نے ترک کیا۔ کذاب کے ذریعے نسبت باطل۔

(ب) عبدالرزاق کے طریق سے:
النص: “أخبرنی معمـر… عن علقمة… سألتُ ابنَ المسیب… لا بأس به إذا كان في قصبة أو رقعة…” (المصنف)
— مگر کامل سند: “أبو یعلى → الدَّبری → عبدالرزاق …” (فضائل القرآن للمستغفری)
التعقیب: إسحاق بن إبراهیم الدَّبری ضعیف؛ ذہبی: “روى عن عبدالرزاق أحاديث منكرة…”، ابن عدی: “حدث عنه بحديث منكر… کان صغیراً ویُوهِم السماع”. اس بنا پر ضعیف اور محلِّ تردد۔

(ج) “رجلٌ من المدينة” (مجہول)
النص: شُعْبَة عن أبی عصمة و عیسى الأزرق: “سمعا رجلاً من المدينة… سألت سعید بن المسيب: لا بأس إذا كان في شيء يُواريه(فضائل المستغفری)
التعقیب: راوی مجہول؛ اصولِ حدیث: المستور/المجهول لا يُحتج به (حسامی: “المستور كالفاسق لا يكون خبره حجة…”). اس سے استدلال ساقط۔

خلاصہ سعیدی روایات: ایک میں کذاب، دوسری میں الدبری (منکر روایات)، تیسری میں مجہول؛ سب ضعیف/غیر حجت اور مرفوع صحیح نصوص کے خلاف۔

“عطاء” سے نسبت (بِلا تعیین) + لیث بن أبی سلیم کی روایت

(ا) 23544 – ابن نمیر، عن عبدالملک، عن عطاءٍ:

“الحائض عليها التعويذ… إن كان في أديم فلتنزعه…” (مصنف ابن أبی شیبہ)
التعقیب: یہاں “عطاءمُبہم ہے (ابن أبی رباح؟ ابن السائب؟ …)تعیین لازم؛ ورنہ نسب مضطرب/ممـرض۔ ** burden of proof** مدعی پر۔ بغیر تعیین حجت نہیں۔

(ب) لیث بن أبی سُلَیم کا طریق
دوسرا استدلال: “لا بأس بتعلیق القرآن” عن عطاء۔
التعقیب: لیث بن أبی سلیم = مختلط/مضطرب الحدیث؛ ائمہ نے ترک/شدید تضعیف کی۔ لہٰذا یہ قابلِ احتجاج نہیں۔

مجاہدؒ سے جواز: ثُوَيْر بن أبی فاخِتَہ کے ذریعے


النص: 23545 – وکیع، عن اسرائیل، عن ثُوَيْر:

كان مجاهد يكتب للناس التعويذ فيعلِّقُه عليهم (مصنف ابن أبی شیبہ)
التعقیب: ثُوَيْر بن أبی فاختة = متروک، واهي، رافضی؛ یحییٰ بن معین: ضعیف؛ ابو حاتم: ضعیف؛ ابو زرعہ: لیس بذاك القوی؛ دارقطنی: مَتروك؛ ذہبی: واهٍ؛ ابن حجر: ضعيف رُمِيَ بالرَّفض۔
نتیجہ: موضوعِ استدلال بے بنیاد۔

أبو جعفر (الباقر) سے جواز: یونس بن خَبَّاب اور الحسن بن صالح کے طرق

(ا) 23551 – أبان بن ثعلب، عن يونس بن خباب:

سألتُ أبا جعفر عن التعويذ للصبيان فرخّص فيه.
التعقیب: یونُس بن خَبّاب = كذّاب، “رجل سوء، يسبُّ عثمان، شيعي مفرط

(ابن معین، أحمد، دارقطنی، جوزجانی…)، لہٰذا مردود۔

(ب) “ابن أبي شيبة 23893” میں “حسن” کے طریق سے (المحقق: حسن بن صالح بن حي)
التعقیب: حسن بن صالح پر خارجیت اور تشیع کی جرح (ذہبی: “كان فيه خارجية”؛ “فيه بدعة تشيّع قليل، وكان يترك الجمعة”). اصولاً بدعتی کی روایت اپنی بدعت کے موافق ہو تو مردود (لا يُقبل إذا كان داعية أو مؤيِّداً لمذهبه).

الضحّاك کے طریق سے: جُوَيْبِر بن سعيد البلْخی


النص: 23552 – إسحاق الأزرق، عن جُويبر، عن الضحّاك… لا بأس أن يعلِّق الرجل من كتاب الله… (مصنف)
التعقیب: جُويبر = متروك الحديث؛ نسائی: متروك؛ دارقطنی: متروك؛ ذہبی: تركوه؛ ابن حجر: ضعيف جداً۔ لا حجة۔

ابن سیرینؒ سے نسبت: إسماعیل بن مسلم المَكِّی


النص: 23548 – عبد الرحيم بن سليمان، عن إسماعيل بن مسلم، عن ابن سيرين… “لا بأس بالشيء من القرآن” (مصنف)
التعقیب: إسماعیل بن مسلم المکی = منكر الحديث/متروك؛

  • احمد: “منكر الحديثحديثه عجائب

  • نسائی: متروك الحديث

  • جوزجانی: واهٍ جداً

  • دارقطنی: “متروك” (سؤالات البرقاني)
    لہٰذا نسبت قابلِ احتجاج نہیں۔

خلاصہ و نتیجہ

  • صحیح مرفوع احادیث میں تعویذ کو صریح شرک کہا گیا ہے۔

  • کئی صحابہ کرام (ابن مسعود، عقبہ بن عامر، حذیفہ، علی، عمران بن حصین وغیرہ) نے تعویذ توڑ کر پھینکے اور اسے شرک قرار دیا۔

  • کئی تابعین (سعید بن جبیر، حسن بصری، ابراہیم نخعی وغیرہ) بھی تعویذ کو ناپسند اور شرک کا ذریعہ قرار دیتے تھے۔

  • اہل بدعت کے پاس تعویذ کے جواز کی کوئی صحیح سند نہیں، تمام دلائل ضعیف، موضوع یا بدعتیوں کی گھڑی ہوئی ہیں۔

📌 اس لئے تعویذ گنڈے پر اعتماد کرنا شرک و بدعت ہے، اور ان کا ترک اولیاء اللہ کی صفت ہے۔

اہم حوالاجات کے سکین

تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 01 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 02 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 03 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 04 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 05 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 06 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 07 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 08 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 09 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 10 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 11 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 12 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 13 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 14 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 15 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 16 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 17 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 18 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 19 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 20 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 21 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 22 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 23 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 24 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 25 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 26 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 27 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 28 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 29 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 30 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 31 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 32 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 33 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 34 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 35 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 36 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 37 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 38 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 39 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 40 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 41 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 42 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 43 تعویذ کو شرک قرار دینے والے دلائل – مرفوع احادیث اور آثارِ سلف سے روشنی – 44

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے