تعزیر: تعریف، حدود اور اقسام

تحریر: عمران ایوب لاہوری

اُن جرائم میں جن کی وجہ سے کوئی حد مقرر نہیں ہے قید یا مارتا یا اس کی مثل کوئی اور سزا دی جا سکتی ہے لیکن وہ دس کوڑوں سے زیادہ نہ ہو
لغوی وضاحت: لفظِ تعزير کا معنی ہے ”سخت مارنا اور ادب دینا ۔“ یہ باب عَزْرَ يُعَزِّرُ (تفعيل) سے مصدر ہے ۔
[المنجد: ص / 554]
شرعی تعریف: ایسی سزا جو حد کے علاوہ (ہلکے درجے کی ) ہو ۔
[القاموس المحيط: ص / 396 ، الفقه الإسلامي وأدلته: 5591/7]
➊ حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يـجـلـد فوق عشرة أسواط إلا فى حد من حدود الله
”اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے علاوہ (کسی جرم میں ) دس کوڑوں سے زیادہ کوڑے نہیں لگائے جائیں گے ۔“
[بخاري: 6849 ، 6850 ، كتاب الحدود: باب كم التعزير والأدب ، مسلم: 1708 ، احمد: 466/3 ، ابو داود: 4491 ، ترمذي: 1463 ، ابن ماجة: 2601 ، نسالي فى السنن الكبرى: 320/4 ، حاكم: 369/4 ، دارمي: 176/2]
➋ بهز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت کے معاملے میں قید کیا پھر اسے چھوڑ دیا ۔
[حسن: صحيح ابو داود: 3087 ، كتاب القضاء: باب الرجل يحلف على حقه ، احمد: 447/4 ، ابو داود: 3630 ، ترمذي: 1417 ، نسائي: 66/8 ، حاكم: 125/1]
(احمدؒ ، اسحاقؒ ) دس کوڑوں سے زیادہ تعزیہ درست نہیں ۔
(ابو حنیفہؒ ، شافعیؒ ) دس کوڑوں سے زیادہ بھی تعزیر لگائی جا سکتی ہے ۔
[نيل الأوطار: 607/4 ، تحفة الأحوذي: 858/4 ، فتح البارى: 185/12]
(راجح) برحق بات یہ ہے کہ حدیث کے مدلول پر عمل کیا جائے (یعنی دس کوڑوں سے زیادہ تعزیر جائز نہیں ) ۔
[نيل الأوطار: 608/4]
اس حدیث سے تعزیر کا وجوب نہیں بلکہ جواز ثابت ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض معاملات کی اطلاع دی گئی جن پر حد لازم نہیں تھی تو آپ نے انہیں کچھ نہ کہا مثلاً:
① ماہِ رمضان میں دن کو بیوی سے جماع کرنے والے کے متعلق ۔
② جو شخص ایک عورت سے ملا پھر اس نے جماع کے علاوہ اس کے ساتھ سب کچھ کیا ۔
[الروضة الندية: 615/2]
تعزیر کی اقسام
تعزیر کی اقسام میں سے چند یہ ہیں:
➊ قید کرنا ، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ۔
➋ جلا وطن کرنا ، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخنثین کو کیا ۔
➌ کلام چھوڑ دینا ، جیسا کہ جنگ تبوک سے پیچھے رہنے والے تین صحابیوں سے کیا ۔
➍ ایسی گالی جس میں فحش نہ ہو ، جیسا کہ قرآن میں ہے کہ
قَالَ لَهُ مُوسَىٰ إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ ‎ [القصص: 18]
”موسیٰ علیہ السلام نے اسے کہا یقینا تم واضح گمراہ اور بھٹکے ہوئے ہو ۔“
حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا:
أَنتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا [يوسف: 77]
”تم بدتر جگہ میں ہو ۔“
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا:
إنك امرؤ فيك جاهلية
”بے شک تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت موجود ہے ۔“
[بخاري: 30 ، كتاب الإيمان: باب المعاصى من أمر الجاهلية]
مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرنے والے کے لیے کہا:
لا ردها الله عليك
”اللہ تعالیٰ اسے تجھ پر نہ لوٹائے ۔“
[مسلم: 568 ، كتاب المساجد: باب النهي عن نشد الضالة فى المسجد]
مسجد میں تجارت کرنے والے کو دیکھو تو کہو:
لا أربع الله تجارتك
”اللہ تعالیٰ تیری تجارت میں نفع نہ دے ۔“
[ترمذي: 1321 ، كتاب البيوع: باب النهى عن البيع فى المسجد]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے