مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

تعزیت کے وقت اجتماعی دعا کا حکم قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ :  فتاویٰ علمیہ، جلد 1، کتاب الصلاۃ، صفحہ 469

تعزیت کے موقع پر اجتماعی دعا کی شرعی حیثیت

سوال:

تعزیت کے وقت مروجہ اجتماعی دعا (یعنی سب کا ایک ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا) کیا قرآن و حدیث صحیح سے ثابت ہے؟
(سوال از: تنویر سلفی، جل علی، ایبٹ آباد)

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

◈ تعزیت کے موقع پر جو اجتماعی دعا کا رواج ہے، جس میں سب لوگ ایک ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں، اس کی کوئی بھی دلیل قرآن و حدیث صحیح سے ثابت نہیں ہے۔
◈ لہٰذا یہ عمل بدعت شمار ہوتا ہے۔

 

📌 فتویٰ کی وضاحت:

یہ بدعت ان بدعات میں سے ہے جو وقت کے ساتھ عام ہوتی جا رہی ہے۔
لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے اور نرمی اور حکمت کے ساتھ لوگوں کو اس بارے میں سمجھانا چاہیے تاکہ وہ بھی اس غیر شرعی عمل سے بچ سکیں۔

نتیجہ:

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

(شہادت اکتوبر 2001)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔