مضمون کے اہم نکات
تعزیت کرنے کا بیان
تعزیت کا طریقہ:
❀تعزیت کا مطلب ہے میت کے وارثوں کو صبر کی تلقین کرنا، آخرت میں اجر و ثواب کی امید دلانا اور ان کے دکھ درد میں شریک ہو کر ان کے غم کو ہلکا کرنا۔ یہاں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعزیتی الفاظ کے چند نمونے دے رہا ہوں، تا کہ مسلمانوں کو تعزیت کا نبوی طریقہ معلوم ہو سکے:
➊ ایک بچے کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اے فلاں شخص! دو صورتوں میں سے تجھے کون سی صورت پسند ہے؟ ایک تو یہ کہ تم اس (اپنے بچے) سے اپنی زندگی میں فائدہ اٹھاتے اور دوسری یہ کہ کل قیامت کے دن وہ تجھ سے آگے بڑھ کر تمھارے لیے جنت کا دروازہ کھول دے۔“ اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ وہ آگے بڑھ کر میرے لیے جنت کا دروازہ کھول دے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو تیرے لیے طے ہو چکا ہے۔“
(سنن نسائی، کتاب الجنائز، باب في التعزية: 2090 – صحیح)
➋ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعزیت کرتے ہوئے فرمایا:
إن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل عنده بأجل مسمى فلتصبر ولتحتسب
”یہ اللہ کا مال تھا جو اس نے لے لیا اور جو اس نے دے رکھا ہے وہ بھی تو اسی کا ہے، اس کے ہاں ہر چیز (کے فنا ہونے) کا وقت مقرر ہے۔ بس صبر کرو اور اللہ سے اجر کی امید رکھو۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب قول النبي يعذب الميت ببعض ……. الخ: 1224 – صحیح مسلم: 923)
➌ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت سے اس کے بیٹے کی تعزیت کرتے ہوئے فرمایا:
”مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے اپنے بچے پر جزع فزع کی ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اللہ کے تقویٰ اور صبر کی تلقین فرمائی۔ اس عورت نے کہا: ”میں جزع فزع کیوں نہ کروں، میں رقوب ہوں (یعنی میرے بچے زندہ نہیں رہتے)، میرا صرف یہی ایک بچہ تھا وہ بھی فوت ہو گیا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رقوب تو وہ ہے جس کا بچہ باقی بچ جائے (جس سے وہ صرف دنیا میں فائدہ اٹھا سکے گی)۔“ پھر فرمایا: ”جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ (صبر کر کے اللہ سے اجر کا طلب گار ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے ان بچوں کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا اور کسی کے دو فوت ہو جائیں تو دو کی وجہ سے بھی جنت کا داخلہ نصیب ہوگا۔“
(مستدرك حاکم: 383/1، 384، ح: 1416 – إسناده حسن لذاته)
➍ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے اس کے خاوند کی تعزیت کرتے ہوئے فرمایا:
”اے اللہ! ابو سلمہ (یعنی اس کے خاوند) کی مغفرت فرما، آخرت میں اس کا درجہ بلند فرما، اس کے پسماندگان کا والی بن جا، اے رب العالمین! ہماری اور اس کی بخشش فرما دے اور اس کی قبر کشادہ کر کے نور سے بھر دے۔“
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب في إغماض الميت والدعاء له إذا حضر: 920)
➎ بیٹے سے اس کے باپ کی تعزیت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اے اللہ! خاندان جعفر کا والی بن جا اور (اس کے بیٹے) عبد اللہ کی کمائی میں برکت عطا فرما۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ دعا کی۔
(مسند احمد: 204/1، 205، ح: 1750 – قال شعیب الارنؤوط إسناده صحیح على شرط مسلم)
❀سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی طرف ایک تعزیتی خط لکھا تھا جس میں انھیں حدیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لکھ کر خوشخبری دی تھی۔
(صحیح بخاری، کتاب التفسير، باب والله خزائن …… الخ: 4906 – ابن حبان: 72810 وإسناده صحیح)
❀ یہ نمونے کے طور پر چند الفاظ بیان کیے ہیں، ان جیسے الفاظ اپنی زبان میں بھی کہے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان میں کوئی خلاف شرع بات نہ ہو۔
تعزیت کے لیے مخصوص جگہ بیٹھنا:
❀ ہمارے ہاں تین دن تک سوگ منانے کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ تین دنوں تک ایک جگہ پھوڑی بچھا کر بیٹھا جائے اور لوگ تعزیت کرتے رہیں۔ تعزیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں۔
❀امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اظہار افسوس کے لیے جمع ہونا مکروہ ہے، خواہ اس میں رونا شامل نہ بھی ہو، اس لیے کہ یہ غم کو تازہ کرتا اور اخراجات میں اضافہ کرتا ہے۔“
(الأم: 248/1)
❀امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”تعزیت کی خاطر بیٹھنے کو امام شافعی، مصنف کتاب (الأم) اور دیگر بہت سارے علماء ناپسند فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ تعزیت کی خاطر کسی خاص شکل میں بیٹھنا منع ہے۔ مثلاً میت کے وارث ایک جگہ جمع ہو جائیں اور جو تعزیت کرنا چاہے ان کے پاس پہنچ جائے، ان کی رائے ہے کہ میت کے وارثوں کو اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو جانا چاہیے، جو ان سے ملے تعزیت کر لے، تعزیت کی خاطر عورتوں اور مردوں کے اجتماع کی کراہت میں کوئی فرق نہیں۔“
(المجموع: 306/5)
تعزیت کو آنے والوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنا:
❀ دفن کے بعد تعزیت کے لیے آنے والوں کے لیے اہل میت کی طرف سے کھانے کا انتظام کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں، لیکن اگر دور سے مہمان آئیں تو انھیں کھانا کھلانے میں کوئی حرج نہیں۔
❀رشتہ داروں اور پڑوسیوں کا فرض ہے کہ میت کے گھر والوں اور مہمانوں کے لیے کھانا تیار کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آنے پر فرمایا:
اصنعوا لآل جعفر طعاما فإنه أتاهم أمر يشغلهم
”جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، بلاشبہ انھیں ایک ایسا معاملہ در پیش ہے جس نے انھیں مشغول کر دیا ہے۔“
(سنن أبو داود، کتاب الجنائز، باب صنعة الطعام لأهل الميت: 3132 – سنن ترمذی: 998 – حسن)
❀اگر میت کے گھر والوں کو کھانا مہیا کرنا دوسرے لوگوں پر فرض ہے تو پھر میت کے گھر سے پہلے دن، پھر تیسرے دن، پھر دسویں دن اور پھر چالیسویں دن کھانا کھانا کیسے اسلام ہو سکتا ہے؟
❀امام ابن ہمام حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اہل میت کی طرف سے مہمان داری کا کھانا مکروہ اور بہت بری بدعت ہے۔“
(فتح القدير: 473/1)
خاوند کے سوگ کا بیان:
❀بیوی پر خاوند کا سوگ منانا فرض ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث إلا على زوج فإنها تحد عليه أربعة أشهر وعشرا
”اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والی عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، سوائے خاوند کے، بلاشبہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب إحداد المرأة على غير زوجها: 1280 – صحیح مسلم: 1486)
❀رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مصیبت کے وقت مندرجہ ذیل دعا پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس سے بہتر وارث عطا کرتا ہے:
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا
”ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر دے اور اس سے بہتر بدل عطا فرما۔“
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب ما يقال عند المصيبة: 918)
خاوند کے سوگ کے احکام:
❀ زیب و زینت والی کوئی بھی چیز استعمال نہ کرے۔
❀حیض کے غسل میں تھوڑی بہت خوشبو لگانا جائز ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”ہمیں سرمہ لگانے، خوشبو استعمال کرنے اور رنگ دار کپڑا پہننے سے روک دیا گیا، البتہ وہ کپڑا اس سے الگ تھا جس کا (دھاگا) بننے سے پہلے رنگ دیا گیا ہو اور ہمیں رخصت دی گئی کہ ہم میں سے کوئی حیض سے فارغ ہو تو غسل کرتے ہوئے (بوختم کرنے کے لیے) اظفار کا تھوڑا سا عود استعمال کر سکتی ہیں۔“
(صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب القسط والجادة عند الظهر: 5341 – صحیح مسلم: 3740)
❀آنکھیں خراب ہو جائیں تب بھی سرمہ ڈالنا ممنوع ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”اے رسول اللہ! میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے، اس کی آنکھیں خراب ہو گئی ہیں، کیا وہ سرمہ ڈال لے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں!“
(صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب تحد المتوفى عنها أربعة أشهر وعشرا: 5336 – صحیح مسلم: 1488)
❀آنکھوں میں دوائی ڈالنا جائز ہے، کیونکہ اس میں زینت نہیں۔
❀بالوں کو رنگ کرنے کے لیے خضاب لگانا جائز نہیں۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں نے اپنی آنکھوں پر ایلوا (ایک قسم کی دوائی) کا لیپ کیا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے ام سلمہ! یہ کیا لگا رکھا ہے؟ میں نے عرض کی: یہ ایلوا ہے اور اس میں خوشبو نہیں ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چہرے کو صاف کرتا اور چمکاتا ہے، اسے صرف رات کے وقت استعمال کر اور دن کے وقت اتار دیا کر اور کنگھی کرتے ہوئے خوشبو اور منہدی استعمال نہ کر (یعنی اس سے سر نہ دھو) کیونکہ منہدی تو ایک قسم کا خضاب ہے۔ میں نے عرض کی: تو پھر میں کس چیز سے کنگھی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیری کے پتوں سے، اس سے اپنے سر پر لیپ کر لیا کر (اور بعد میں دھو ڈالا کر)۔“
(سنن أبو داود، کتاب الطلاق، باب فيما تجتنب المعتدة في عدتها: 2305 – سنن نسائی: 3567 – حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے)
❀عدت کے دوران میں اسی گھر میں رہے گی جس میں خاوند کی وفات کے وقت تھی، دوسری جگہ منتقل ہونا یا خوشی و غمی کی کسی تقریب میں شرکت کرنا جائز نہیں۔ فریقہ بنت مالک رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے خاوند کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کیا میں اپنے خاندان کے پاس جا سکتی ہوں؟ کیونکہ میرے خاوند نے نہ تو کوئی مکان چھوڑا ہے اور نہ کوئی خرچ۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عدت مکمل ہونے تک اس گھر میں رہو۔“
(سنن أبو داود، کتاب الطلاق، باب في المتوفى عنها تنتقل: 2300 – سنن ترمذی: 1204 – سنن ابن ماجه: 2031 – صحیح)
اس سے ثابت ہوا کہ عدت تک مکان کا انتظام ترکہ سے کیا جائے گا، مال نہ ہو تو مکان کا انتظام کرنا ورثا کا فرض ہے۔ اگر وہاں خطرہ ہو، یا کسی وجہ سے وہاں رہنا ممکن نہ رہے تو وہ دوسرے مکان میں منتقل ہو سکتی ہے۔ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے (اس گھر میں) کسی کے گھس آنے کا خطرہ ہے۔“ تو راوی کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت مرحمت فرمادی، تو وہ وہاں سے دوسری جگہ منتقل ہو گئیں۔
(صحیح مسلم، کتاب الطلاق، باب المطلقة البائن لا نفقة لها: 1482)
❀ اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر جا سکتی ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”میری خالہ کو طلاق ہو گئی، اس نے اپنے باغ سے کھجوریں توڑ لانے کا ارادہ کیا تو ایک آدمی نے انھیں باہر نکلنے سے روکا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں! تو جا کر اپنے باغ سے کھجوریں توڑ۔“
(صحیح مسلم، کتاب الطلاق، باب جواز الخروج المعتدة البائن والمتوفى …… الخ: 1483)
خاوند کے سوگ کی مدت:
حاملہ عورت کے لیے سوگ (عدت) بچے کی پیدائش تک ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ
(الطلاق: 4)
”حمل والی عورتوں کی عدت بچے کی پیدائش تک ہے۔“
غیر حاملہ کے لیے سوگ (عدت) چار ماہ دس دن ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
(البقرة: 234)
”تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور ان کی بیویاں زندہ ہوں تو ایسی بیوائیں چار ماہ دس دن انتظار کریں۔“
عام میت کے سوگ کی مدت:
❀ عورت کے لیے اپنے خاوند کے علاوہ کسی اور پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا حرام ہے۔ زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”جب شام سے ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی موت کی خبر آئی تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا (ابو سفیان کی بیٹی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ) نے تیسرے دن خوشبو منگوا کر چہرے اور بازوؤں پر ملی اور فرمانے لگیں: مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی لیکن میں نے یہ کام اس لیے کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والی عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے علاوہ کسی کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب إحداد المرأة على غير زوجها: 1280 – صحیح مسلم: 1486)
❀ عام میت کا سوگ منانا فرض نہیں ہے اور سوگ نہ منایا جائے تو اچھا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا بیمار تھا، وہ فوت ہو گیا اور وہ خود گھر میں نہیں تھے، ان کی بیوی نے جب دیکھا کہ بچہ فوت ہو گیا ہے تو انھوں نے کچھ کھانا تیار کیا اور بچے کو گھر کے ایک گوشے میں لٹا دیا، پھر جب ابو طلحہ رضی اللہ عنہ گھر آئے اور بچے کا حال پوچھا، تو بیوی نے کہا: سے اب آرام ہے اور مجھے امید ہے کہ اب وہ بالکل پرسکون ہوگا۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ وہ صحیح کہہ رہی ہیں اور وہ رات بیوی کے پاس رہے اور صبح غسل کر کے باہر نکلنے لگے تو بیوی نے بتایا کہ لڑکا تو فوت ہو چکا ہے، پھر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے نماز فجر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رات کا واقعہ گوش گزار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ اللہ تم دونوں میاں بیوی کے لیے تمھاری اس رات میں برکت دے گا۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب من لم يظهر حزنه عند المصيبة: 1301 – صحیح مسلم: 2144/23)
سوگ میں حرام کام:
❀ کسی کے افسوس کے لیے ایک منٹ یا زیادہ وقت کے لیے خاموشی اختیار کرنا حرام ہے، یہ غیر مسلموں کا طریقہ ہے۔
❀اظہار افسوس کے لیے سیاہ یا کسی بھی مخصوص رنگ کا لباس پہننا۔
❀اظہار افسوس کے طور پر سر، داڑھی اور مونچھیں وغیرہ مونڈنا۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلا کر رونے والی، بال مونڈنے والی اور گریبان پھاڑنے والی پر لعنت فرمائی ہے۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب ما ينهى من الحلق عند المصيبة: 1296)