مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

تشہد کی دعا میں مغفرت کی حقیقت

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

درج ذیل روایت میں مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ فرمایا گیا ہے، حالانکہ مغفرت تو صرف اللہ ہی دے سکتا ہے؟ تو اس کا کیا مفہوم ہے؟

جواب:

سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد کی یہ دعا سکھلائی:
اَللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے سوا کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں، سو مجھے اپنے فضل سے مغفرت عطا فرما اور مجھ پر رحم فرما، یقیناً تو ہی معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
(صحيح البخاري: 834، صحیح مسلم: 2705)
یقیناً مغفرت اور معافی کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں، مگر یہاں دعا میں کمال عاجزی و انکساری اور اعتراف جرم کا اظہار مقصود ہے، کہ اے اللہ! میرے اعمال اس قدر نہیں کہ مجھے معاف کیا جائے، مگر تو اپنے خاص فضل و کرم سے میری مغفرت فرما۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔