سوال:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشہد میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَفِتْنَةِ المَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ المَأْثَمِ وَالمَغْرَمِ
اے اللہ! میں عذاب قبر اور مسیح دجال کے فتنے سے پناہ مانگتا ہوں اور زندگی و موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
(صحیح البخاری: 832)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو معصوم ہیں، پھر آپ دجال کے فتنے سے کیوں پناہ مانگ رہے ہیں؟
جواب:
بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معصوم ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی حفاظت سے معصوم ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہونے دیتا تھا، نیز عبودیت کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی کمزوری اور عاجزی کا اظہار کیا جائے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دجال سے پناہ مانگ کر امت کو تعلیم دے رہے ہوں کہ یہ بہت بڑا فتنہ ہے، اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔