سوال:
تشبیک کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب:
تشبیک انگلیوں میں انگلیاں ڈالنے کو کہتے ہیں، تشبیک مکروہ تنزیہی ہے، اس بارے میں ممانعت، کراہت تنزیہی پر محمول ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا توضأ أحدكم فى بيته فأتى المسجد كان فى صلاة حتى يرجع فلا يقل هكذا، وشبك بين أصابعه.
جو گھر سے باوضو ہو کر مسجد کو آئے، وہ نماز میں ہی شمار ہوتا ہے، یہاں تک کہ واپس لوٹ جائے، لہذا وہ تشبیک نہ کرے۔
(صحيح ابن خزيمة: 439، وسنده صحيح)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسجد وغیرہ میں تشبیک کرنا ثابت ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
شبك بين أصابعه.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مسجد میں) ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال لیں۔
(صحيح البخاري: 482، صحیح مسلم: 573)
❀ نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
رأيت ابن عمر يشبك بين أصابعه فى الصلاة.
میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز میں تشبیک کرتے دیکھا۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 4829، وسنده حسن)
❀ اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
رأيت سالم بن عبد الله يشبك بين أصابعه فى الصلاة.
میں نے سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کو نماز میں تشبیک کرتے دیکھا۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 4831، وسنده صحيح)
❀ اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سألت نافعا، عن الرجل يصلي، وهو مشبك يديه، قال: قال ابن عمر: تلك صلاة المغضوب عليهم.
میں نے نافع رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا، جو نماز میں تشبیک کرتا ہے، تو انہوں نے کہا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ مغضوب لوگوں کی نماز ہے۔
(سنن أبي داود: 993، وسنده صحيح)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مراد شاید پوری نماز میں تشبیک کرنا ہوگی، کیونکہ مسلمان قیام میں ہاتھ باندھتے ہیں، نہ کہ ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر رکھتے ہیں۔ یقیناً یہ مغضوب علیہم قوموں کا عمل ہے۔ ایسا نہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مطلق طور پر نماز میں تشبیک کو حرام اور ناجائز سمجھتے ہوں، کیونکہ خود سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نماز میں تشبیک کرنا ثابت ہے۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ مسجد میں اور دوران نماز تشبیک نہ کی جائے۔