ترک رفع یدین کی سب روایات ضعیف و مردود ہیں

یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

ترک رفع یدین کی سب روایات ضعیف و مردود ہیں

اس مضمون میں وہ ضعیف، مردود، موضوع اور بے اصل روایات مع رد اور تارکین کے شبہات کے جوابات پیش خدمت ہیں، جنھیں بعض لوگ ترک رفع یدین یا منسوخیت رفع یدین وغیرہ کے لئے پیش کرتے رہتے ہیں:

① سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب روایت:

علقمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ پھر انھوں نے نماز پڑھی اور دونوں ہاتھ نہیں اُٹھائے سوائے پہلی دفعہ کے۔ (سنن ترمذی وقال: حدیث حسن، محلی لابن حزم وقال: «إن هذا الخبر صحيح» سنن ابی داود) دیکھئے میری کتاب: نور العینین فی مسئلہ رفع الیدین (ص 129، 130)
اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
اول: امام شافعی وغیرہ جمہور محدثین نے اسے غیر ثابت وضعیف وغیرہ قرار دیا ہے۔ دیکھئے کتاب الام (201/7) علل الحدیث لابن ابی حاتم (ح 258) سنن الترمذی (256) اور التمہید لابن عبد البر (220/3) وغیرہ
دوم: اس کے راوی امام سفیان ثوری رحمہ اللہ ثقہ ہونے کے ساتھ مدلس بھی تھے۔ دیکھئے کتاب الجرح والتعدیل (ج 4 ص 225) اور کتب المدلسین یہ روایت عن سے ہے اور کسی سند میں سماع کی تصریح نہیں ہے۔
اُصولِ حدیث کا مشہور مسئلہ ہے کہ مدلس راوی کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ دیکھئے کتاب الرسالہ للإمام الشافعی (ص380) اور مقدمہ ابن الصلاح (ص99)
اگر کوئی کہے کہ حافظ ابن حجر نے سفیان ثوری کو طبقہ ثانیہ (مدلسین کے دوسرے طبقے) میں ذکر کیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے صحیح یہ ہے کہ امام سفیان ثوری طبقہ ثالثہ (مدلسین کے تیسرے طبقے) کے مدلس تھے۔ اس کے ثبوت کے لئے گیارہ حوالے پیش خدمت ہیں:
➊ حاکم نیشاپوری نے حافظ ابن حجر سے پہلے انھیں (امام سفیان ثوری کو) الجنس الثالث یعنی طبقہ ثالثہ میں ذکر کیا ہے۔ دیکھئے معرفۃ علوم الحدیث (ص106)
➋ عینی حنفی نے کہا: اور سفیان مدلسین میں سے تھے اور مدلس کی عن والی روایت حجت نہیں ہوتی الا یہ کہ اس کی تصریح سماع دوسری سند سے ثابت ہو جائے۔ دیکھئے عمدۃ القاری (112/3)
معلوم ہوا کہ عینی حنفی کے نزدیک سفیان ثوری طبقہ ثالثہ میں سے تھے۔
➌ ابن الترکمانی حنفی نے ایک روایت پر جرح کرتے ہوئے کہا: ثوری مدلس ہیں اور انھوں نے عن سے روایت بیان کی ہے۔ (الجوہر النقی 262/8)
ابن الترکمانی کے نزدیک سفیان ثوری کی عن والی روایت (علت قادحہ سے) معلول ہے۔
➍ کرمانی نے کہا: سفیان مدلسین میں سے تھے اور مدلس کی عن والی روایت حجت نہیں ہوتی الا یہ کہ دوسری سند سے سماع کی تصریح ثابت ہو جائے۔ دیکھئے کرمانی کی شرح صحیح البخاری (62/3)
➎ قسطلانی نے کہا: سفیان مدلس ہیں اور مدلس کی عن والی روایت حجت نہیں ہوتی الا یہ کہ دوسری سند سے سماع کی تصریح ثابت ہو جائے۔ دیکھئے ارشاد الساری (286/1)
➏ صلاح الدین العلائی نے کہا: سفیان ثوری مجہول لوگوں سے تدلیس کرتے تھے۔ دیکھئے جامع التحصیل فی احکام المراسیل (ص99)
➐ حافظ ذہبی نے کہا: وہ (سفیان ثوری) ضعیف راویوں سے تدلیس کرتے تھے۔ الخ دیکھئے میزان الاعتدال (169/2)
جو مدلس راوی غیر ثقہ راویوں سے تدلیس کرے تو اس کی صرف وہی روایت مقبول ہوتی ہے جس میں سماع کی تصریح کرے۔ دیکھئے النکت للزرکشی (ص184) اور شرح الفية العراقي: التبصرة والتذکرة (183،184/1)
➑ سرفراز خان صفدر دیوبندی نے ایک روایت پر سفیان ثوری کی تدلیس کی وجہ سے جرح کی ہے۔ دیکھئے خزائن السنن (77/2)
➒ ماسٹر امین اوکاڑوی دیوبندی نے ایک روایت پر سفیان ثوری کی تدلیس کی وجہ سے جرح کی۔ دیکھئے مجموعہ رسائل (طبع قدیم 331/3) اور تجلیات صفدر (470/5)
➓ محمد شریف کوٹلوی بریلوی نے سفیان ثوری کی ایک روایت پر جرح کرتے ہوئے کہا: ”اور سفیان کی روایت میں تدلیس کا شبہ ہے۔“ (فقہ الفقیہ ص 134)
⓫ محمد عباس رضوی بریلوی نے لکھا ہے: یعنی سفیان مدلس ہے اور یہ روایت انہوں نے عاصم بن کلیب سے عن کے ساتھ کی ہے اور اصول محدثین کے تحت مدلس کا عنعنہ غیر مقبول ہے جیسا کہ آگے انشاء اللہ بیان ہوگا۔ (مناظرے ہی مناظرے ص 249)
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ (طبقہ ثالثہ کے) مدلس تھے لہذا غیر صحیحین میں اُن کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے، الا یہ کہ سماع کی تصریح ثابت ہو یا معتبر متابعت مل جائے۔ یاد رہے کہ روایت مذکورہ میں سفیان ثوری کی متابعت باسند صحیح متصل ثابت نہیں ہے۔ نیز دیکھئے میرا مضمون: امام سفیان ثوری کی تدلیس اور طبقہ ثانیہ؟
تنبیہ: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک روایت میں آیا ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی ہے، وہ شروع نماز میں تکبیر تحریمہ کے سوا ہاتھ نہیں اُٹھاتے تھے۔ (سنن الدار قطنی 1/295 وقال: تفرد به محمد بن جابر وكان ضعیفا)
اس روایت کا راوی محمد بن جابر الیمامی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔ دیکھئے مجمع الزوائد (191/5)
اور امام دارقطنی نے بھی اس راوی کو ضعیف کہا ہے لہذا یہ روایت مردود ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک اور روایت (جامع المسانید1/355) کئی وجہ سے باطل و مردود ہے:
⋆ ابومحمد عبد اللہ بن محمد بن یعقوب الحارثی البخاری کذاب ہے۔ دیکھئے میزان الاعتدال (496/2) اور لسان المیزان (348/3، 349) اس کا استاذ رجاء بن عبد اللہ انہشلی مجہول ہے اور باقی سند بھی مردود ہے۔ دیکھئے نور العینین (ص42 43)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ترک رفع یدین موقوفا بھی ثابت نہیں ہے۔

② سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب روایت:

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شروع نماز میں کانوں کی لوؤں تک رفع یدین کرتے تھے، پھر آپ دوبارہ (رفع یدین) نہیں کرتے تھے۔ (شرح معانی الآثار للطحاوی وسنن ابی داود وغیرہما)
اس روایت کا بنیادی راوی یزید بن ابی زیاد القرشی الہاشمی الکوفی ہے، جو کہ جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف تھا۔ حافظ ابن حجر العسقلانی نے کہا:
والجمهور على تضعيف حديثه
اور جمہور اُس کی حدیث کو ضعیف کہتے ہیں… (ہدی الساری ص 459)
بوصیری نے کہا: وضعفه الجمهور اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے۔ (زوائد ابن ماجہ: 2116)
اس روایت کی دوسری سند میں محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ہے، جو کہ جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف تھا۔ انور شاہ کشمیری دیوبندی نے کہا:
پس وہ میرے نزدیک ضعیف ہے جیسا کہ جمہور کا مذہب ہے۔ (فیض الباری 168/3)
بوصیری نے کہا: ضعفه الجمهور اسے جمہور نے ضعیف کہا ہے۔ (زوائد ابن ماجہ: 854) ترک رفع یدین والی ایک روایت: أبو حنيفة عن الشعبي قال : سمعت البراء بن عازب کی سند سے مروی ہے۔ (دیکھئے مسند ابی حنیفہ لابی نعیم الاصبہانی ص 156)
اس روایت کے سارے راوی: ابوالقاسم بن بالویہ، بکر بن محمد بن عبد اللہ الحبال الرازی، علی بن محمد بن روح بن ابی الحرش المصیصی، محمد بن روح اور روح بن ابی الحرش سب مجہول ہیں لہذا یہ سند مردود ہے۔ (نیز دیکھئے ارشیف متقی اهل الحدیث عدد: 4 ج 1ص 926)

③ عباد بن الزبیر (؟) کی طرف منسوب روایت:

عباد بن الزبیر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تھے تو ابتداء نماز میں رفع یدین کرتے تھے پھر نماز میں کہیں بھی رفع یدین نہیں کرتے تھے حتی کہ آپ نماز سے فارغ ہو جاتے۔ (خلافات للمتقی بحوالہ نصب الرایہ ص 404)
یہ روایت کئی وجہ سے مردود ہے:
⟐ محمد بن اسحاق (راوی) نا معلوم ہے۔
⟐ حفص بن غیاث مدلس تھے۔ دیکھئے طبقات ابن سعد (ج 6 ص390)
انھیں طبقہ اولیٰ میں ذکر کرنا غلط ہے اور صحیح یہ ہے کہ وہ طبقہ ثالثہ کے مدلس تھے۔
یہ روایت عن سے ہے لہذا ضعیف ہے۔
⟐ عباد بن الزبیر نا معلوم ہے اور اس سے عباد بن عبد اللہ بن الزبیر مراد لینا بے دلیل ہے۔
⟐ اگر بفرض محال عباد سے مراد ابن عبداللہ بن الزبیر ہوتے اور بفرض محال اُن تک سند صحیح ہوتی تو بھی یہ روایت منقطع و مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فائدہ: سیدنا عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد رفع یدین کرنا ثابت ہے۔ دیکھئے السنن الکبری لبیہقی (73/2 وسنده صحیح درجہ ثقات)
④ سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب روایتیں:
ان دونوں صحابیوں سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رفع یدین سات مقامات پر کیا جائے: نماز کے شروع میں، بیت اللہ کی زیارت کے وقت، صفا و مروہ پر، عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کے وقت اور جمرات کو کنکریاں مارتے وقت۔ (شرح معانی الآثار و کشف الاستار)
اس کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔
دیکھئے حدیث نمبر:2
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب ایک اور روایت المعجم الکبیر لطبرانی (452/11) میں ہے جو عطاء بن السائب راوی کے اختلاط کی وجہ سے ضعیف ہے۔
دیکھئے الکواکب النیرات (ص 61) اور مجمع الزوائد (297/3)
اور یہ ثابت نہیں ہے کہ یہ روایت انھوں نے اختلاط سے پہلے بیان کی تھی لہذا یہ روایت ضعیف ہے۔
المعجم الكبير للطبرانی (385/11) کی ایک روایت میں لا ترفع الأيدي إلا فى سبع مواطن … کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ روایت بھی محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی (ضعیف عند الجمہور) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب ایک بے سند اور موضوع روایت بدائع الصنائع للکاسانی (207/1) میں ہے کہ عشرہ مبشرہ رفع یدین نہیں کرتے تھے مگر صرف شروع نماز میں۔
یہ بھی مردود روایت ہے۔
بعض لوگ تفسیر ابن عباس نامی کتاب سے ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ” اور نماز میں اپنے ہاتھ نہیں اُٹھاتے۔“ (تنویر القیاس ص 212)
اس کتاب کی سند میں محمد بن مروان السدی کذاب محمد بن السائب الکلبی کذاب اور ابو صالح بازام ضعیف ہیں۔ دیکھئے نور العینین (ص 238 – 246)
لہذا یہ ساری تفسیر موضوع اور من گھڑت ہے۔
تنبیہ: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ آپ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (ج 1ص 235 وسندہ حسن)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ترک رفع یدین قطعا ثابت نہیں ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: 739، وسندہ صحیح)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ترک رفع یدین ثابت نہیں ہے۔
مجاہد سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر کے پیچھے نماز پڑھی، پس آپ نماز میں صرف پہلی تکبیر کے وقت رفع یدین کرتے تھے، اس کے بعد نماز میں کسی جگہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، شرح معانی الآثار للطحاوی)
یہ روایت ابوبکر بن عیاش (صدوق حسن الحدیث یخطی) کے وہم کی وجہ سے ضعیف ہے۔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا: یہ باطل ہے۔ (مسائل احمد، روایۃ ابن ہانی ج 1ص50)
امام ابن معین نے فرمایا: ابو بکر (بن عیاش) کی حصین سے روایت اس کا وہم ہے، اس روایت کی کوئی اصل نہیں ہے۔ (جزء رفع الیدین: 16، نصب الرایہ 1/392)
محدثین کی اس جرح کے مقابلے میں کسی مستند محدث یا امام (من المتقدمین) سے روایت مذکورہ کو صحیح قرار دینا ثابت نہیں ہے۔
عبدالعزیز بن حکیم سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا: ابن عمر اپنے ہاتھوں کو کانوں کے مقابل تک تکبیر اولیٰ کے وقت اُٹھاتے اور اس کے سوا کسی موقعہ میں ہاتھ نہ اُٹھاتے تھے۔ (موطا محمد بن الحسن بن فرقد الشیبانی)
یہ روایت دو وجہ سے مردود ہے:
● ابن فرقد جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف و مجروح ہے اور اس کی توثیق مردود ہے۔
● محمد بن ابان بن صالح جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف و مجروح راوی ہے۔

⑤ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب روایت:

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے شروع میں رفع یدین کرتے تھے، پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے۔ (العلل للإمام الدار قطنی ج4 ص 107)
یہ روایت العلل الواردہ للدارقطنی میں بے سند ہے، عبدالرحیم بن سلمان تک کوئی سند مذکور نہیں ہے اور بے سند روایت مردود ہوتی ہے۔
سرفراز خان صفدر دیوبندی نے کہا: ”اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنے استدلال میں ان کے اثر کی کوئی سند نقل نہیں کی اور بے سند بات حجت نہیں ہو سکتی۔“ (احسن الکلام ج1 ص 327، دردسر انسخه ص 403)

⑥ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب روایت:

زید بن اسلم سے مروی ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں شروع نماز اور رکوع کے وقت رفع یدین کرتے تھے پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے کی طرف ہجرت کی تو آپ نے نماز میں رکوع والا رفع یدین ترک کر دیا اور ابتدا والے رفع یدین پر ثابت قدم رہے۔ (اخبار الفقهاء والحدثین ص214 ت 378)
یہ روایت کئی وجہ سے موضوع اور باطل ہے:
اول: اس کے راوی عثمان بن محمد بن حشیش القیروانی کے بارے میں حافظ ذہبی نے کہا: كان كذابا وہ کذاب (بہت جھوٹا) تھا۔ (المغنی فی الضعفاء ج 2 ص 50 ت 4059)
دوم: اخبار الفقہاء نامی کتاب کے آخر میں لکھا ہوا ہے کہ کتاب مکمل ہوگئی۔ اور یہ (تکمیل) شعبان 483 ھ میں ہوئی ہے۔ (ص293)
اخبار الفقہاء کے مصنف محمد بن حارث القیروانی 361ھ میں فوت ہوئے تھے لہذا معلوم ہوا کہ کتاب کا ناسخ مجہول ہے جو مصنف کی وفات کے 122 سال بعد گزرا ہے۔ مجہول کی روایت مردود ہوتی ہے۔
سوم: عثمان بن سوادہ کی حفص بن میسرہ سے ملاقات یا معاصرت ثابت نہیں ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے نور العینین (ص 211۔205)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب ایک بے سند روایت نصب الرایہ (404/1) میں بحوالہ خلافیات للبیہقی مذکور ہے۔ اس کی مکمل متصل سند نا معلوم ہے اور حاکم نیشاپوری نے فرمایا:
یہ روایت باطل موضوع ہے۔ (دیکھئے نصب الرایہ ج1ص 404)

⑦ ایک بے سند روایت:

ملا کا سانی وغیرہ بعض حنفی فقہاء نے بغیر کسی سند کے ایک روایت بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم نے اپنے بعض صحابہ کو رکوع سے پہلے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تمھیں دیکھتا ہوں، تم نے اس طرح ہاتھ اُٹھائے ہوئے ہیں جیسے سرکش گھوڑوں کی دمیں ہوتی ہیں؟ نماز میں سکون کرو۔ (دیکھئے بدائع الصنائع 1/207)
یہ روایت بے سند ہونے کی وجہ سے موضوع و مردود ہے۔

⑧ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک روایت:

کثیر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: بیٹا جب تو نماز کے لئے آئے تو قبلہ رخ ہو جا، رفع یدین کر اور تکبیر تحریمہ کہہ اور قراءت کر جہاں سے کرنا چاہئے پھر جب تو رکوع میں جائے تو دونوں ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھ .. الخ (الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ج 6 ص2086)
اس روایت کا راوی کثیر بن عبد اللہ ابو ہاشم الابلی سخت ضعیف و متروک تھا۔ امام بخاری نے فرمایا: منكر الحديث عن أنس وہ انس سے منکر حدیثیں بیان کرتا تھا۔ (الکامل لابن عدی ص 2085، کتاب الضعفا للبخاری: 316)
امام نسائی نے کہا: متروك الحديث (الکامل لابن عدی ص 2085، الضعفاء والمتروکون للنسائی:506)
حاکم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اس کی بیان کردہ روایات کو موضوع قرار دیا ہے۔
دیکھئے تہذیب التہذیب (418/8، دوسر انسخه ص 374)
دوسرے یہ کہ اس موضوع روایت میں ترک رفع یدین کی صراحت نہیں بلکہ عدم ذکر ہے اور عدم ذکر ہر جگہ نفی ذکر کی دلیل نہیں ہوتا۔ دیکھئے الجوہر النقی (317/4)
بعض الناس المدونه الکبری (69/1) حدیث ابی مالک الاشعری رضی اللہ عنہ (مسند احمد 5/243) اور حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ (سنن ابی داود، التمہید ج 9ص 215) وغیرہ پیش کرتے ہیں، جن میں ترک رفع یدین کا نام و نشان نہیں ہوتا لہذا غیر متعلقہ اور عدم ذکر والی روایات پیش کرنا غلط ہے۔

⑨ تحریفات:

بعض لوگ مسند حمیدی اور مسند ابی عوانہ سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب کر کے دو حدیثیں پیش کرتے ہیں اور ترک رفع یدین ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ان دونوں کتابوں کے پرانے قلمی نسخوں میں یہ حدیثیں ترک رفع یدین کے ساتھ نہیں بلکہ اثبات رفع یدین کے ساتھ لکھی ہوئی ہیں۔ لہذا بعض الناس کی ان تحریفات سے باخبر رہیں اور تفصیل کے لئے دیکھیں نور العینین (ص 68-81)

⑩ ضعیف آثار اور بعض فوائد:

بعض لوگ مرفوع احادیث کے مقابلے میں ضعیف و غیر ثابت آثار پیش کرتے ہیں مثلاً:
➊ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب اثر منقطع ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
ابراہیم نخعی کی پیدائش سے پہلے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تھے۔
➋ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب اثر ابراہیم نخعی (ثقہ مدلس) کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے، جو شخص اسے صحیح سمجھتا ہے وہ اثر مذکور میں ابراہیم نخعی کے سماع کی تصریح پیش کرے۔
➌ خلفائے راشدین کی طرف منسوب اثر محمد بن جابر (ضعیف) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
دیکھئے یہی مضمون حدیث نمبر1
بدائع الصنائع للکاسانی (ج 1ص 207 عن علقمہ الخ) والا اثر بے سند ہونے کی وجہ سے موضوع ہے۔
➍ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب اثر با تفاق محدثین ضعیف و غیر ثابت ہے۔
کسی محدث نے اسے صحیح نہیں کہا۔ اس پر محدثین کا اتفاق ہے اور اجماع شرعی حجت ہے۔
➎ بعض لوگ محمد بن الحسن بن فرقد الشیبانی کی طرف منسوب الموطا اور الآثار سے بعض آثار پیش کرتے ہیں، جن کی سندیں صحیح نہیں اور خود ابن فرقد بھی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف و مجروح ہے۔ یہ کتابیں بھی اس سے باسند صحیح ثابت نہیں ہیں۔
➏ بعض لوگ سجدوں میں رفع یدین والی روایات پیش کرتے ہیں حالانکہ سجدوں میں رفع یدین کسی ایک روایت سے بھی ثابت نہیں اور صحیح بخاری میں لکھا ہوا ہے:
اور آپ سجدہ کرتے اور سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ (ح 738)
تفصیل کے لئے دیکھئے نور العینین (ص189۔194)
➐ بعض لوگ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث (صحیح مسلم سے) پیش کرتے ہیں حالانکہ اس حدیث کا تعلق رکوع والے رفع یدین سے نہیں بلکہ تشہد میں سلام کے وقت ہاتھوں سے اشارہ کرنے سے ہے۔ دیکھئے درس ترمذی (36/2) الورد الشذی (ص63) اور الخیز الحبیر (221/1)
➑ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام بغلوں میں بُت لے کر آتے تھے تو اس وجہ سے رفع یدین کیا جاتا تھا۔
یہ بالکل جھوٹ اور من گھڑت بات ہے جس کا کوئی ثبوت حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے۔
➒ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے رفع یدین کرتے تھے اور بعد میں اسے متروک یا منسوخ قرار دیا تھا۔
مگر اس کی کوئی سند یا دلیل حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے۔
➓ بعض لوگ جمہور محدثین کے نزدیک مجروح راویوں کی توثیق پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ جمہور کی جرح کے مقابلے میں توثیق مردود ہے الا یہ کہ خاص اور عام کا مسئلہ ہو تو پھر خاص مقدم ہوتا ہے۔
سرفراز خان صفدر دیوبندی نے لکھا ہے: بایں ہمہ ہم نے توثیق و تضعیف میں جمہور آئمہ جرح و تعدیل اور اکثر آئمہ حدیث کا ساتھ اور دامن نہیں چھوڑا۔ مشہور ہے کہ
؎ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔ (احسن الکلام ج 1ص40)
⓫ بعض لوگ شیعوں کی کتاب ”مسند زید“ اور خارجیوں کی کتاب: ”مسند الربیع بن حبیب“ کے حوالے پیش کرتے ہیں، حالانکہ یہ دونوں غیر ثابت اور باطل کتابیں ہیں۔
غیر ثابت کتابوں کا حوالہ پیش کرنا مردود ہوتا ہے۔
اثبات رفع یدین قبل از رکوع و بعد از رکوع کے دلائل کے لئے صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہما کا مطالعہ کریں۔ و ما علينا إلا البلاغ
(11/ جولائی 2009ء)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️