ترک رفع یدین کی حدیث اور محدثین کرام کی جرح
[یہ مضمون فیصل خان بریلوی کی کتاب ”رفع یدین کے موضوع پر محققانہ تجزیہ“ کے جواب میں لکھا گیا ہے۔]
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب، امام سفیان ثوری رحمہ اللہ (مدلس) کی معنعن (ترک رفع یدین والی) روایت کو جمہور محدثین نے ضعیف و معلول قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے میری کتاب نور العينين في مسئلة رفع اليدين (طبع جدید ص 130-134)
بعض لوگوں نے آج کل کے دور میں ان تضعیفی اقوال میں تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، لہذا ان مشککین کے شکوک و شبہات کے جوابات درج ذیل ہیں:
➊ امام عبد اللہ بن المبارک رحمہ اللہ نے کہا: ابن مسعود رضی اللہ عنہ (کی طرف منسوب یہ) حدیث ثابت نہیں ہے۔ (سنن ترمذی: 256) نیز دیکھیے نور العينين (ص 130)
بعض الناس نے اس جرح کو سفیان ثوری والی حدیث سے ہٹانے کی کوشش کی ہے، حالانکہ محدثین کرام نے اسے سفیان ثوری کی حدیث سے متعلق ہی قرار دیا ہے۔ دیکھیے نور العينين (ص 130)
ایک شخص نے یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے کہ امام ابن المبارک سے اس جرح کا راوی سفیان بن عبد الملک، ان کا قدیم شاگرد ہے اور خود متاخر شاگرد سوید بن نصر کی روایت میں ابن المبارک نے یہ حدیث بیان کی تھی لہذا یہ جرح قدیم اور مرجوح ہے۔
عرض ہے کہ (صحیحین کے علاوہ) عام غیر مشروط بالصحتہ کتابوں میں مجرد روایت کرنا کسی حدیث کی تصحیح نہیں ہوتا۔ مثلاً:
● مسند احمد (253/4) میں ایک روایت ہے: ”من باع الخمر فليشرب الخنازير“ اس کے راوی عمر بن بیان کے بارے میں امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: ”لا أعرفه“ میں اسے نہیں جانتا۔ (کتاب العلل و معرفة الرجال 2/7 رقم 1366)
● مسند احمد (71/6) میں دويد عن أبى سهل عن سليمان بن رومان إلخ ایک روایت ہے، جس کے بارے میں امام احمد نے فرمایا: ”هذا حديث منكر“ یہ منکر حدیث ہے۔ (المنتخب من العلل للخلال ص 44 ح 5)
● سالم عن ثوبان کی روایت میں آیا ہے کہ ”استقيموا لقريش ما استقاموا لكم“ (مسند احمد 277/5)
اس کے بارے میں امام احمد نے فرمایا: ”ليس بصحيح، سالم بن أبى الجعد لم يلق ثوبان“ صحیح نہیں ہے، سالم بن ابی الجعد نے ثوبان سے ملاقات نہیں کی۔ (العلل للخلال: 82 وسنده حسن، المنتخب من العلل للخلال ص 162 ح 82)
اس طرح کی دوسری مثالوں کے لیے دیکھیے حافظ ابن القيم کی کتاب: الفروسیة۔ لہذا امام ابن المبارک کا سوید بن نصر کی روایت میں اس حدیث کو بیان کرنا اس حدیث کی تصحیح نہیں ہے اور نہ کسی خیالی موہوم رجوع کی دلیل ہے۔
زیلعی حنفی نے ابن القطان (الفاسی) کی کتاب الوهم والإيهام سے نقل کیا ہے کہ ”ذكر الترمذي عن ابن المبارك أنه قال: حديث وكيع لا يصح … إلخ“ ترمذی نے ابن المبارک سے نقل کیا کہ انھوں نے کہا: وکیع کی حدیث صحیح نہیں ہے … (نصب الرایہ ج 1 ص 395)
اس سے معلوم ہوا کہ ابن المبارک کی جرح اسی روایت پر ہے، جسے امام وکیع نے سفیان ثوری سے بیان کیا تھا لہذا بعض الناس کا اس جرح کو طحاوی والی روایت پر فٹ کر دینا غلط ہے۔
اگر کوئی کہے کہ مغلطائی حنفی، ابن دقیق العید مالکی شافعی، عینی حنفی، ابن الترکمانی حنفی اور ابن القطان الفاسی المغربی وغیرہم نے امام ابن المبارک کی اس جرح کے جوابات دیے ہیں۔ تو عرض ہے کہ یہ سارے جوابات مردود اور باطل ہیں۔
➋ امام شافعی رحمہ اللہ نے ترک رفع الیدین کی احادیث کو رد کر دیا کہ یہ ثابت نہیں ہیں۔ دیکھیے کتاب الأم (201/7) اور نور العينين (ص 131)
اگر کوئی کہے کہ یہ مبہم الفاظ کی جرح ہے، جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
تو عرض ہے کہ یہ بعض الناس کے نزدیک مبہم ہو کر رد ہوگی، ہمارے نزدیک دو وجہ سے یہ جرح مقبول ہے:
اول: یہ اصول حدیث کے مطابق ہے، کیونکہ مدلس کی معنعن (عن والی) روایت ضعیف ہوتی ہے۔
دوم: یہ جمہور محدثین کے مطابق ہے۔
اگر کوئی کہے کہ ابن الترکمانی نے حدیث مذکور کے بارے میں طحاوی کی تصحیح نقل کی ہے تو عرض ہے کہ طحاوی نے (بقول ابن الترکمانی) الرد على الکرابیسی (نامی کتاب) میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب موقوف روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھیے الجوہر النقی ج 2 ص 79)
لہذا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب اس روایت کے بارے میں ان کی تصحیح ثابت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت کو طحاوی کا صحیح کہنا جمہور محدثین کے خلاف ہونے کی وجہ سے غلط ہے۔
ایک شخص (فیصل خان بریلوی) نے لکھا ہے:
کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا بعد والا قول بھی یہی ہے کہ ان دونوں حضرات سے (حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) ترک رفع یدین ثابت ہے۔ (رفع یدین کے موضوع پر محققانہ تجزیہ ص 107)
عرض ہے کہ یہ اس شخص کا کالا جھوٹ ہے۔
فائدہ: محمد بن عبد الباقی الزرقانی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب حدیث کے بارے میں موطا امام مالک کی شرح میں کہا: ”ورده الشافعي بأنه لم يثبت“ اور شافعی نے اسے رد کر دیا کہ بے شک یہ ثابت نہیں ہے۔ (ج 1 ص 158)
جو لوگ چار اماموں کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ چار مذاہب برحق ہیں۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ جس حدیث کو امام شافعی اور امام احمد (دو اماموں) نے ضعیف وغیرہ قرار دے کر رد کر دیا ہو اور باقی دو اماموں میں سے کسی ایک سے بھی اس حدیث کو صحیح کہنا ثابت نہ ہو تو آپ لوگ کس طرح اس روایت کو پیش کرتے ہیں؟
اگر ہمت ہے تو امام ابو حنیفہ سے ترک رفع یدین والی اس حدیث کا صحیح ہونا باسند صحیح ثابت کر دیں۔!!
➌ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے سفیان ثوری کی روایت مذکورہ پر کلام کیا ہے۔
یکھیے مسائل احمد (روایت عبد اللہ بن احمد 1/240 فقرہ: 326) اور نور العينين (ص 131)
اگر کوئی کہے امام احمد نے راویوں پر کوئی کلام نہیں کیا تو عرض ہے کہ انھوں نے روایت پر کلام کر کے اسے رد کر دیا اور رفع یدین کے عمل کو اختیار کیا ہے۔ امام ابو داود نے فرمایا:
میں نے (امام) احمد کو دیکھا ہے۔ وہ رکوع سے پہلے اور بعد میں شروع نماز کی طرح کانوں تک رفع یدین کرتے تھے اور بعض اوقات شروع نماز والے رفع یدین سے ذرا نیچے (یعنی کندھوں تک)
احمد سے کہا گیا: ایک شخص رفع یدین کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ احادیث سنتا ہے اور پھر بھی رفع یدین نہیں کرتا تو کیا اس کی نماز پوری ہو جاتی ہے؟ آپ نے فرمایا: پوری نماز ہونے کا تو مجھے علم نہیں ہے، ہاں وہ فی نفسہ ناقص نماز والا ہے ۔(مسائل ابی داود ص 33، نور العينين ص 179-180)
اگر امام احمد ترک رفع یدین والی روایت کو ضعیف و مردود نہ سمجھتے تو ترک رفع یدین والی نماز کو ناقص کبھی نہ کہتے۔
دوسرے یہ کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے علم میں ترک رفع الیدین والی نماز کا پورا ہونا نہیں تھا، گویا آپ ایسی نماز کو مشکوک اور خلاف سنت سمجھتے تھے۔
اگر کوئی کہے کہ (متاخرین میں سے) قاضی شوکانی نے کہا ہے: مسند احمد کی ہر حدیث مقبول ہے۔ (نیل الأوطار 2/20)
تو عرض ہے کہ قاضی شوکانی کی یہ بات باطل ہے اور یہ حنفیہ و آل تقلید کو بھی تسلیم نہیں ہے۔
مسند احمد (316، 322/5) کی ایک حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ صبح کی نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مقتدیوں سے فرمایا: سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھو کیونکہ جو شخص سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔ دیکھیے الکواکب الدریة (ص 58)
یہ روایت وہی ہے جو فاتحہ خلف الامام میں حنفیہ اور آل تقلید کے تمام” دلائل “و شبہات کو ختم کر دیتی ہے اور اس روایت سے تقلیدیوں کو بہت چڑ ہے لہذا کبھی محمد بن اسحاق بن بشار پر جرح کرتے ہیں اور کبھی مکحول کی تدلیس کا رجسٹر کھول بیٹھتے ہیں۔
ہم پوچھتے ہیں کہ اگر مسند احمد کی ہر حدیث مقبول ہے تو یہ حدیث کیوں غیر مقبول ہے؟
اگر کوئی کہے کہ نور العينين میں امام احمد کے سلسلے میں جزء رفع الیدین کا حوالہ پیش کرنا علمی زیادتی اور تحریف ہے تو عرض ہے کہ یہ معترض بذات خود محترف اور علمی زیادتی کا مرتکب ہے۔
اگر کوئی کہے کہ امام احمد کو اس حدیث کے جارحین میں شمار کرنا غلط اور مردود ہے۔ تو عرض ہے کہ کیوں؟ کیا وہ ترک رفع یدین والی اس روایت کو صحیح کہتے تھے؟ سبحان اللہ!
➍ روایت مذکورہ کے بارے میں امام ابو حاتم الرازی نے فرمایا: یہ خطأ (غلط) ہے…الخ (علل الحدیث 1/96 ح 258، نور العينين ص 131)
اگر کوئی کہے کہ ابو حاتم منتشر متعنت تھے اور جرح چند وجوہات کی بنا پر صحیح نہیں ہے۔ تو عرض ہے کہ یہ جرح کئی لحاظ سے صحیح ہے مثلاً:
اول: جمہور محدثین کے مطابق ہے لہذا تشدد کا یہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
دوم: سفیان ثوری مدلس تھے اور اس روایت کی کسی سند میں ان کے سماع کی تصریح موجود نہیں ہے۔
اگر کوئی کہے کہ ابو حاتم الرازی نے سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ کی اثبات رفع یدین والی روایت پر جرح کی ہے تو یہ جرح کیوں قبول نہیں ہے؟
عرض ہے کہ سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ کی روایت کو جمہور محدثین نے صحیح قرار دیا ہے اور اصول حدیث کی رو سے بھی صحیح ہے لہذا اس پر اگر ابو حاتم رحمہ اللہ نے کوئی جرح کی ہے تو جمہور کے خلاف ہونے کی وجہ سے قابل قبول نہیں ہے۔ رہی سفیان ثوری والی معنعن روایت تو اس پر جرح اصول حدیث اور جمہور محدثین کی موافقت کی وجہ سے مقبول ہے۔
اگر کوئی کہے کہ ابو حاتم الرازی نے سفیان کی تدلیس کا اعتراض نہیں اٹھایا تو عرض ہے کہ انھوں نے روایت مذکورہ کو خطأ قرار دیا ہے اور روایت پر محدثین کی جرح نقل کرنے میں یہی حوالہ کافی و شافی ہے۔
➎ امام دار قطنی نے ترک رفع یدین والی روایت مذکورہ کو غیر محفوظ قرار دیا۔ (کتاب العلل 5/173، نور العينين ص 131)
اگر کوئی کہے کہ امام دار قطنی نے اس حدیث کے بارے میں ”و إسناده صحيح“ کہا ہے۔ (دیکھیے کتاب العلل 5/172)
تو عرض ہے کہ امام دار قطنی نے عبد اللہ بن ادریس عن عاصم بن کلیب والی روایت کو ”و إسناده صحيح“ کہا ہے۔ (دیکھیے کتاب العلل ج 5 ص 172) اور اس روایت میں دوبارہ رفع یدین نہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
انھوں نے اس کے بعد ثوری والی روایت کو ”ليست بمحفوظة“ یعنی غیر محفوظ (ضعیف) قرار دیا ہے۔ (ایضاً ص 172-173)
لہذا یہ کہنا کہ امام دار قطنی ترک رفع یدین والی حدیث کو صحیح کہتے تھے، غلط ہے۔
اگر کوئی کہے کہ احناف کا دعویٰ ”ثم لا يعود“ کے بغیر بھی ثابت اور محفوظ ہے تو عرض ہے کہ ان الفاظ یا اس مفہوم کی نفی کے بغیر یہ دعویٰ سرے سے ہی ختم ہے لہذا نہ ثابت ہے اور نہ محفوظ ہے۔
➏ امام ابن حبان نے ترک رفع یدین والی روایت مذکورہ کو ضعیف اور باطل قرار دیا۔ دیکھیے نور العينين (ص 131)
اس کے جواب میں بعض الناس نے تین اعتراض کیے ہیں:
اول: جرح مبہم ہے۔
عرض ہے کہ یہ جرح اصول حدیث اور جمہور محدثین کے مطابق ہے لہذا مقبول ہے۔
دوم: حافظ ابن حجر اور حافظ ابن حبان کے درمیان سند موجود نہیں ہے۔
عرض ہے کہ یہ کتاب سے روایت ہے اور کتاب سے روایت اصول حدیث کی رو سے جائز ہے۔
سوم: حافظ ابن حبان سے کتاب الصلوٰة منقول نہیں ہے۔
عرض ہے کہ حافظ ابن حبان کی کتاب الصلوٰة (صفة الصلوة، وصف الصلوة بالسنة) کا ذکر درج ذیل کتابوں میں موجود ہے:
البدر المنیر لابن الملقن (3/494، 2/472، 1/283 وغیرہ)
طرح التثریب في شرح التقریب لأبي زرعة ابن العراقي (1/102)
تهذیب السنن لابن القيم ( 1/368 ح 719 )
اتحاف المهرة لابن حجر العسقلاني (1/235، 83 وغیرہ)
التلخیص الحبیر (1/216، 217، 323-324)
معجم البلدان لیاقوت الحموي (1/418)
مغنی المحتاج إلى معرفة معانی ألفاظ المنهاج للخطیب الشربینی (1/261 بحوالہ المكتبة الشاملة) وغیرہ
بلکہ حافظ ابن حبان نے اپنی صحیح ابن حبان میں اپنی کتاب: ”صفة الصلوة“ کا علیحدہ ذکر کیا ہے۔ دیکھیے الإحسان (ج 5 ص 184 ح 1867، دوسرا نسخہ ح 1864)
ان حوالوں کے باوجود کسی لاعلم شخص کا یہ قول: ”میری تحقیق میں حافظ ابن حبان رحمہ اللہ سے کتاب صلوٰة منقول نہیں ہے۔“ کیا حیثیت رکھتا ہے؟!
➐ امام ابو داود نے سفیان ثوری کی ترک رفع یدین والی حدیث کے بارے میں فرمایا: یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ (سنن ابی داود: 748 ملخصاً، نور العينين ص 131-132)
بعض دیوبندیوں اور بریلویوں نے اس جرح کے ثبوت میں شک و شبہ ڈالنے کی کوشش کی تھی، جس کا مسکت جواب نور العينين میں دے دیا گیا ہے۔
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”التنقیح في کتاب التحقیق فی احادیث التعلیق“ پر امام ابو داود رحمہ اللہ کی اس جرح کے الفاظ نقل نہیں کیے۔ (دیکھیے محققانہ تجریہ 21)
تو عرض ہے کہ حافظ ذہبی کا الفتح (1/218) میں یہ جرح نقل نہ کرنا اس کی دلیل نہیں کہ امام ابو داود سے یہ الفاظ ثابت ہی نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ حافظ ابن عبد الہادی نے امام ابو داود کی اس جرح کو اپنی کتاب التنقیح (ج 1 ص 278) میں نقل کر رکھا ہے اور عدم ذکر پر اثبات مقدم ہوتا ہے۔
اگر کوئی شخص مغلطائی کے حوالے سے یہ کہے کہ ابو داود کی اس جرح کو ابن العبد (قدیم شاگرد) نے نقل کیا ہے۔
تو عرض ہے کہ مغلطائی کا ثقہ ہونا معلوم نہیں ہے، بلکہ جلیل القدر حفاظ حدیث نے اس پر جرح کی ہے۔ دیکھیے نور العينين (طبع جدید ص 87)
دوسرے یہ کہ اس جرح کو حافظ ابن عبد البر نے کتاب التمہید میں نقل کیا ہے، اور المكتبة الشاملة کے مطابق انھوں نے امام ابو داود کی مرویات کو درج ذیل راویوں سے بیان کیا ہے:
⟐ محمد بن بکر التمار (ابن داسہ) عام روایات اسی راوی سے ہیں، گویا کہ ابن عبد البر نے سنن ابی داود انھی سے روایت کی ہے۔ واللہ اعلم
⟐ ابن الأعرابی
⟐ اسماعیل بن محمد الصفار
بعض اقوال مقطوعہ کے دوسرے راوی بھی ہیں، جن کا ہماری اس تحقیق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مجھے ابن العبد (راوی) کی ایک روایت بھی التمہید میں نہیں ملی، جسے انھوں نے ابو داود سے بیان کیا ہو۔
معلوم ہوا کہ حافظ ابن عبد البر نے امام ابو داود سے جو جرح نقل کی ہے، وہ ابن العبد کی سند سے نہیں ہے لہذا بعض الناس کا یہ کہنا کہ امام ابو داود نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ترک رفع یدین والی حدیث پر جرح سے رجوع کر لیا تھا، باطل اور مردود ہے۔
اگر ایک روایت یا قول بعض نسخوں میں موجود نہ ہو اور بعض یا ایک نسخے میں موجود ہو تو پھر یہ تحقیق کی جاتی ہے کہ یہ نسخہ قابل اعتماد ہے یا نہیں؟ اگر قابل اعتماد ہونا ثابت ہو جائے تو پھر ثقہ کی زیادت کے اصول سے اس روایت یا قول کو موجود تسلیم کیا جاتا ہے۔ امام ابو داود کی جرح کو ابن الجوزی، ابن عبد البر، ابن عبد الہادی اور ابن حجر العسقلانی وغیرہم متعدد علماء نے نقل کیا ہے لہذا اس جرح کے ثبوت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔
➑ حافظ ابن حجر نے سفیان ثوری والی حدیث ترک رفع الیدین کے بارے میں لکھا ہے کہ ”وقال أحمد بن حنبل و شيخه يحيى بن آدم: هو ضعيف“ احمد بن حنبل اور ان کے استاذ یحییٰ بن آدم نے کہا: وہ (حدیث) ضعیف ہے۔ (تلخیص الحبیر 222/1 ح 328)
اگر کوئی کہے کہ جرح کے الفاظ نقل کریں، تو عرض ہے کہ ہم نے الفاظ نقل کر دیے ہیں۔ نیز دیکھیے البدر المنیر (3/492)
➒ مشہور ثقہ و صدوق حسن الحدیث یخطی محدث البزار نے حدیث ترک پر جرح کی۔ دیکھیے التمہید (9/220-221) اور نور العينين (ص 133)
یہ ضروری نہیں ہے کہ جس وجہ سے محدث بزار نے جرح کی تھی، ہم بھی اس وجہ سے سو فیصد متفق ہوں، لیکن یہ بات تو ثابت ہے کہ انھوں نے روایت مذکورہ پر جرح کی ہے لہذا وہ اس روایت کے جارحین میں سے ہیں۔
بعض الناس نے میرے بارے میں یہ جھوٹ بولا ہے کہ میں محدث بزار کی توثیق کا قائل نہیں ہوں۔ یقیناً انھیں ایک دن اس جھوٹ کا حساب دینا پڑے گا۔ ان شاء اللہ
➓ ترک رفع یدین کی ضعیف و مردود روایات ”ثم لا يعود“ وغیرہ یا اس مفہوم کے الفاظ سے مروی ہیں، جنھیں محمد بن وضاح نے ضعیف کہا۔ (دیکھیے التمہید 9/221، نور العينين ص 133)
اگر کوئی کہے کہ محمد بن وضاح نے صرف ”ثم لا يعود“ کے الفاظ والی روایات کو ضعیف کہا تھا، دوسری روایات کو نہیں تو عرض ہے کہ ابن وضاح سے کسی ایک ایسی روایت کی تصحیح یا تحسین نقل کر دیں جس سے ترک رفع یدین ثابت ہوتا ہو۔!
اگر نہ کر سکیں تو عرض ہے کہ الفاظ جو بھی ہوں، ان کے نزدیک ترک رفع یدین کی تمام روایات ضعیف ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ فلاں شخص مارا گیا، دوسرا کہے: فلاں شخص قتل ہو گیا۔ تو کیا الفاظ کی تبدیلی سے مفہوم میں فرق ہے؟ کچھ تو غور کریں!
⓫ امام بخاری نے اعلان کیا کہ علماء کے نزدیک ترک رفع یدین کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ (جزء رفع الیدین: 40)
مزید فرمایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی ایک سے بھی یہ ثابت نہیں کہ وہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ الخ (جزء رفع الیدین: 72)
اسی طرح انھوں نے سفیان ثوری والی روایت پر کلام کیا اور ابن ادریس کی روایت کو محفوظ قرار دیا۔ دیکھیے جزء رفع الیدین (32-33)
ایسی تصریحات وغیرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے علامہ نووی شافعی وغیرہ نے کہا کہ بخاری نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ دیکھیے المجموع شرح المہذب (3/403)
اگر کوئی کہے کہ آپ نے امام بخاری کی جرح نقل نہیں کی لہذا امام بخاری کا نام جارحین میں نقل کرنا غلط اور باطل ہے۔!
تو مودبانہ عرض ہے کہ کیا امام بخاری کو ترک رفع یدین کی روایت کے مصحیحین میں شامل کرنا چاہیے (!) اور یہ بھی بتائیں کہ انھوں نے جزء رفع الیدین کیوں لکھی تھی؟!
⓬ ابن القطان الفاسی نے روایت مذکور کی زیادت (دوبارہ نہ کرنے کو) خطأ قرار دیا۔ (نصب الرایہ 1/395، نور العينين ص 133)
”ثم لا يعود“ وغیرہ الفاظ ترک کے بغیر (امام عبد اللہ بن ادریس کی) مطلق حدیث اگر صحیح ہو تو اس سے حنفیہ اور آل تقلید کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟
معلوم ہوا کہ جارحین میں ابن القطان الفاسی کا نام صحیح ہے۔
⓭ عبد الحق اشبیلی نے روایت مذکورہ کے بارے میں فرمایا: یہ صحیح نہیں ہے۔ (الأحکام الوسطی 1/367، نور العينين ص 133)
اگر کوئی کہے کہ یہ جرح مبہم ہے تو عرض ہے کہ یہ جرح دو وجہ سے بالکل صحیح ہے:
اول: روایت مذکورہ سفیان ثوری کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے۔
دوم: یہ جرح جمہور محدثین کے مطابق ہے لہذا اسے جرح مبہم کہہ کر رد کر دینا غلط اور باطل ہے۔
⓮ ترک رفع الیدین والی روایت مذکورہ کو حافظ ابن حجر کے استاذ ابن الملقن نے ضعیف کہا۔ (البدر المنیر 3/492، نور العينين ص 133)
جمہور محدثین کے مطابق اس جرح کو بعض الناس کا جرح مبہم کہہ کر رد کر دینا غلط ہے۔
⓯ حاکم نیشاپوری نے ”ثم لم يعد“ کے الفاظ کو غیر محفوظ (یعنی ضعیف) قرار دیا۔ (الخلافیات للمحبي بحوالہ البدر المنیر 3/494، نیز دیکھیے مختصر الخلافات للمحبي تالیف ابن فرح الاشبیلی ج 1 ص 378-379)
بعض الناس نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا: ”حافظ ابن القيم رحمہ اللہ نے دیگر علمائے کرام اور امام حاکم رحمہ اللہ کے تمام اعتراضات نقل کر کے اس کا تفصیلی رد لکھا ہے۔“ (دیکھیے محققانہ تجزیہ ص 120)
حالانکہ حافظ ابن القيم نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع یدین سے منع والی ساری احادیث باطل ہیں، ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے مثلاً حدیث ابن مسعود … فصلى فلم يرفع يديه إلا فى أول مرة … إلخ (المنار المنيف ص 137، فقرہ: 309-310)
⓰ علامہ نووی (شافعی) نے روایت مذکورہ کے بارے میں کہا:
اس حدیث کے ضعیف ہونے پر (ترمذی کے علاوہ تمام متقدمین کا) اتفاق ہے۔ دیکھیے خلاصة الأحکام (1/354 ح 180، نور العينين ص 133)
بعض الناس نے لکھا ہے کہ امام نووی رحمہ اللہ کا یہ دعویٰ اجماع صحیح نہیں جب کہ جمہور محدثین کرام اس حدیث کی تصحیح کے قائل ہیں۔
عرض ہے کہ یہ بات بالکل جھوٹ ہے۔ متقدمین میں سے امام ترمذی کے علاوہ کسی ایک محدث سے روایت مذکورہ کی تصحیح صراحتاً ثابت نہیں ہے۔
⓱ حافظ ابن القيم نے دارمی سے نقل کیا کہ انھوں نے روایت مذکورہ کو ضعیف قرار دیا۔ (تهذیب السنن 2/449، دوسرا نسخہ 1/368)
مجھے یہ حوالہ باسند صحیح نہیں ملا۔ (دیکھیے نور العينين ص 133)
جو لوگ کتابوں سے بے سند حوالے پیش کرتے رہتے ہیں مثلاً کتب فقہ سے امام ابو حنیفہ کے حوالے تو ان کی شرط پر درج بالا حوالہ پیش کرنا صحیح ہے۔
⓲ حافظ ابن القيم اور نووی نے محدث بہز سے نقل کیا کہ انھوں نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا۔ (دیکھیے تهذیب السنن 2/449، اور شرح المہذب 3/403)
مجھے یہ حوالہ بھی باسند صحیح نہیں ملا۔ دیکھیے نور العينين (ص 133)
ویسے اصل کتاب الخلافیات دیکھنے کے بعد ہی اس حوالے کو چیک کیا جا سکتا ہے لیکن افسوس ہے کہ یہ کتاب ابھی تک کامل حالت میں شائع نہیں ہوئی۔ نیز دیکھیے فقرہ نمبر 17
⓳ ”ثم لا يعود“ (وغیرہ) الفاظ کے ساتھ ترک رفع یدین کی جو حدیث مروی ہے، امام محمد بن نصر المروزي نے ان الفاظ کی تضعیف پر خاص توجہ دی۔ دیکھیے بیان الأوهام والإيهام (3/365-366)
اور ظاہر ہے کہ چار پائی پر جس طرف سے بھی لیٹا جائے، کمر درمیان میں ہی رہتی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ امام محمد بن نصر المروزي کا نام جارحین میں صحیح نہیں ہے۔ تو عرض ہے کہ کیوں؟ کیا وہ ترک رفع الیدین کی روایت مذکورہ کو صحیح کہتے تھے؟ حوالہ پیش کریں!!
(20) ابن قدامہ المقدسي نے ترک رفع یدین والی روایت مذکورہ کو ضعیف کہا۔ (المغنی 1/295 مسئلہ: 690، نور العينين ص 132)
ان کے علاوہ دوسرے حوالے بھی تلاش کیے جا سکتے ہیں مثلاً جو لوگ سکوت کو رضامندی کی دلیل سمجھتے ہیں، ان کے نزدیک وہ علماء بھی اس روایت کے جارحین میں شامل ہیں جنھوں نے روایت مذکورہ پر جرح نقل کر کے سکوت کیا ہے۔ مثلاً صاحب مشکوٰة وغیرہ۔
ان جارحین میں سے اگر بعض کے نام خارج کر دیے جائیں، تب بھی یہ جمہور محدثین وعلماء تھے جو روایت مذکورہ کو الفاظ ترک کے ساتھ ضعیف و غیر محفوظ وغیرہ سمجھتے تھے۔
ان کے مقابلے میں صرف امام ترمذی کا حسن کہنا اور پانچویں صدی کے حافظ ابن حزم کا صحیح کہنا دو وجہ سے غلط ہے:
اول: جمہور کے خلاف ہے۔
دوم: اصول حدیث کے خلاف ہے۔
اصول حدیث کا یہ مسئلہ ہے کہ غیر صحیحین میں مدلس کی معنعن روایت ضعیف ہوتی ہے۔ بہت سے علماء نے امام ترمذی اور حافظ ابن حزم دونوں کو متساہل قرار دیا ہے۔
مثلاً دیکھیے ذکر من يعتمد قوله في الجرح والتعديل للذہبی (ص 159، یا ص 2) المتكلمون في الرجال للسخاوي (ص 137) اور میری کتاب: توضیح الأحکام (1/572-582)
متعدد بریلوی و دیوبندی علماء نے بھی امام ترمذی کو متساہل قرار دیا ہے اور حافظ ابن حزم سے تو انھیں خاص دشمنی ہے۔
تعجب ہے کہ اصول حدیث اور جمہور محدثین کے خلاف صرف ترمذی کی تحسین اور ابن حزم کی تصحیح کو یہاں قبول کیا جاتا ہے۔! کیا کوئی ہے جو انصاف کرے؟!
رفع الیدین قبل الرکوع و بعدہ کے مسئلے پر تفصیل کے لیے امام بخاری کی کتاب: جزء رفع الیدین اور میری کتاب نور العينين في اثبات مسئلة رفع الیدين کا مطالعہ کریں۔ ان شاء اللہ حق واضح ہو جائے گا۔
وما علينا إلا البلاغ (17 ستمبر 2009ء)