پانچواں شبہ: موضوع روایات
بعض کذابین نے رفع الیدین کے خلاف ایسی روایات پیش کی ہیں جو کہ بالاتفاق موضوع اور من گھڑت ہیں۔ مثلاً:
① ایک حدیث جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما یا ان سے منسوب کی گئی ہے، امام حاکم نے کہا: موضوع ہے، حافظ ابن حجر نے حاکم کی تائید کی ہے۔ (الدرایہ 152/1)
حافظ ابن قیم نے کہا: ”ومن شم روائح الحديث على بعد: شهد بالله أنه موضوع“ جس نے حدیث کی خوشبو دور سے سونگھی ہے وہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے۔ (المنار المنيف ص 138 رقم 314)
② ایک روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منسوب کی گئی ہے۔ (اللالی المصنوعة في الاحادیث الموضوعة ج 2 ص 19)
یہ سند موضوع ہے اور اس کا گھڑنے والا محمد بن عکاشہ ہے، محمد بن عکاشہ مشہور کذاب تھا۔ (ملاحظہ فرمائیں لسان المیزان ج 5 ص 324 و عامة کتب الضعفاء)
اس سے مامون بن احمد کذاب نے اس روایت کو چوری کیا ہے۔ (الدرایہ ج 1 ص 152)
③ اسی طرح عباد بن الزبیر نامی کسی شخص کی طرف ایک روایت منسوب کی گئی ہے، جس میں:
اول: انقطاع ہے۔ (بشرط توثیق راوی تسلیم ارسال الزاماً)
دوم: عباد بن الزبیر نا معلوم ہے (یاد رہے کہ یہ عباد بن عبداللہ بن الزبیر نہیں ہے)
سوم :اس کے بعض راویوں میں نظر بھی ہے۔ (الدرایہ ج 1 ص 152)
چہارم: اس کی سند میں حفص بن غیاث مدلس ہے اور روایت معنعن ہے۔
حافظ ابن قیم نے اس روایت کے بارے میں کہا:وهو موضوع یہ روایت موضوع ہے۔ (المنار المنيف فی الصحیح والضعیف ص 139 رقم 315)
جھوٹی روایت سے صرف وہی استدلال کرتا ہے جو خود جھوٹا ہوتا ہے۔
چھٹا شبہ: عدم ذکر
بعض لوگوں نے ترک رفع الیدین کے استدلال کی بھرتی میں ان روایات کو بھی درج کرنے کی ناکام کوشش کی ہے جن میں رفع الیدین کے کرنے یا نہ کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کی مکمل جہالت کی واضح دلیل ہے، ورنہ ان پر لازم آتا ہے کہ تکبیر تحریمہ، قنوت اور عیدین والا رفع الیدین بھی نہ کریں کیوں کہ بہت سی صحیح احادیث میں ان کا ذکر تک نہیں ہے۔
ہم شروع میں واضح کر آئے ہیں کہ (ثبوت ذکر کے بعد) عدم ذکر سے نفی ذکر لازم نہیں ہے لہذا یہ استدلال بالکلیہ مردود ہے۔
اسی طرح ”لا ترفع الأيدي“ والی روایت میں رکوع والے رفع الیدین کا ذکر نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کا بنیادی راوی محمد بن ابی لیلی ضعیف ہے جیسا کہ قوی دلائل کے ساتھ ثابت کر دیا گیا ہے۔ (کہا جاتا ہے کہ) امام عبد اللہ بن المبارک نے محمد بن ابی لیلی کی اس لا ترفع والی روایت کے بارے میں کہا: هذا من فواحش ابن أبى ليلى یعنی یہ ابن ابی لیلیٰ کی فحش غلطیوں میں سے ہے۔ (المجروحین لابن حبان 246/2)
اور اس میں دوسری بہت سی علتیں ہیں۔ تیسرے یہ کہ اس میں قنوت اور عیدین کے رفع الیدین کا ذکر نہیں ہے تو وہ کس دلیل سے کیا جاتا ہے؟