چوتھا شبہ: حدیث محمد بن جابر السحیمی
محمد بن جابر عن حماد عن إبراهيم عن علقمة عن عبدالله قال: صلى الله صليت مع النبى صلى الله عليه وسلم ومع أبى بكر و مع عمر رضي الله عنهما فلم يرفعوا أيديهم إلا عند التكبيرة الأولى فى افتتاح الصلوة
محمد بن جابر نے (اپنی من گھڑت سند کے ساتھ) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی ہے وہ شروع نماز میں تکبیر تحریمہ کے سوا ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔
امام دارقطنی نے کہا: اس حدیث کو صرف محمد بن جابر نے بیان کیا ہے اور وہ ضعیف تھا۔ (سنن الدار قطنی ج 1 ص 295، وقال: تفرد به محمد بن جابر وكان ضعيفاً)
پہلا جواب:
یہ حدیث موضوع ہے۔ اسے کسی امام نے بھی صحیح نہیں کہا بلکہ بے شمار ائمہ نے اسے صاف طور پر ضعیف و موضوع قرار دیا ہے:
➊ امام احمد بن حنبل نے کہا: یہ حدیث منکر ہے اور انھوں نے اس حدیث کا سخت انکار کیا ہے۔ (کتاب العلل ج 1 ص 144 رقم 701)
➋ امام حاکم نے کہا: هذا إسناد ضعيف (معرفة السنن والآثار البیہقی 220/1)
یعنی یہ سند ضعیف ہے اور اسے مقلوب و غیر محفوظ قرار دیا۔ (الخلافيات للبیہقی بحوالہ البدر المنیر 494/3)
➌ الدار قطنی (السنن 1/ 295)
➍ البیہقی (السنن الكبرى 2 /80)
➎ ابن الجوزی نے موضوع قرار دیا۔ (الموضوعات 96/2)
➏ ابن القیسرانی (تذكرة الموضوعات ص 78)
➐ الشوكانی (الفوائد المجموعة في الاحاديث الموضوعة ص 29)
➑ ابن القیم (المنار المنيف ص 138)
➒ ابن عراق (تزيد الشريعة 101/2)
دوسرا جواب:
اس کا راوی محمد بن جابر ضعیف ہے۔
اس جم غفیر اور سیل جرار کے مقابلے میں صرف دو اشخاص نے اس کی تعدیل کی ہے:
● الذہبی وقال لا بأس فيه (تہذیب التہذیب)
● اسحق بن ابی اسرائیل (نصب الراية بحوالہ ابن عدی)
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ائمہ مسلمین و مومنین کی عظیم اکثریت نے اسے اس کے برے حافظے، اختلاط اور تلقین گیری اور الحاق فی الکتب کی وجہ سے ضعیف و متروک قرار دیا ہے۔ انتہائی معتدل امام ابو زرعہ الرازی نے کہا: محمد بن جابر ساقط الحديث عند أهل العلم علماء کے نزدیک محمد بن جابر ساقط الحدیث ہے۔ (الجرح والتعدیل 220/7)
حافظ نور الدین الہیثمی نے کہا: ”وفيه محمد بن جابر اليمامي وهو ضعيف عند الجمهور وقد وثق“ اس سند میں محمد بن جابر الیمامی ہے جو کہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے۔ (یہ توثیق مردود ہے۔ غالباً اس لیے حافظ ہیثمی نے اس کے لیے صیغہ تمریض استعمال کیا ہے۔) (مجمع الزوائد 191/5)
تیسرا جواب:
آخری عمر میں محمد بن جابر اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔
(ملاحظہ ہو الکواکب النیرات فی معرفة من اختلط من الرواة الثقات لابن الکیال ص 495 والجرح والتعدیل و سیر اعلام النبلاء 238/8)
اس سے یہ حدیث اس کے قدیم شاگرد روایت نہیں کرتے، بلکہ ایک متاخر راوی اسحق بن ابی اسرائیل بیان کرتے ہیں جو کہ 151ھ میں پیدا ہوئے۔ (تہذیب التہذیب ج 1 ص 196)
محمد بن جابر تقریباً 170ھ کے چند سال بعد فوت ہوئے۔ (النبلاء 238/8)
یعنی اس کی وفات کے وقت اسحق مذکور تقریباً بیس یا کچھ زیادہ برس کے نوجوان تھے لہذا انھوں نے یہ حدیث محمد بن جابر کے اختلاط کے بعد سنی ہے۔
چوتھا جواب:
حماد بن ابی سلیمان آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے۔ ابن سعد نے کہا:
اختلط فى آخر أمره (تہذیب التہذیب 15/3)
حافظ نور الدین ہیثمی نے کہا: ولا يقبل من حديث حماد إلا مارواه عنه القدماء شعبة وسفيان الثوري والدستوائي و من عدا هولاء رووا عنه بعد الإختلاط
حماد کی صرف وہ روایت قبول کی جاتی ہے جو اس سے اس کے قدیم شاگردوں شعبہ، سفیان الثوری اور الدستوائی نے بیان کی ہے۔ ان کے علاوہ سارے لوگوں نے اس سے اختلاط کے بعد سماع کیا ہے۔ (مجمع الزوائد ج 1 ص 119 120)
لہذا معلوم ہوا کہ محمد بن جابر کا حماد سے سماع بعد از اختلاط ہے۔
ان علل قادحہ کی وجہ سے معلوم ہوا کہ یہ حدیث ضعیف و باطل ہے اور اس کے ساتھ استدلال مردود ہے۔