ترک رفع یدین پر حدیث البراء بن عازب بحوالہ معاني الآثار للطحاوي و ابوداود

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

تیسرا شبہ: حدیث البراء بن عازب رضی الله عنه

يزيد بن أبى زياد عن ابن أبى ليلى عن البراء بن عازب رضى الله عنه قال: كان النبى صلى الله عليه وسلم إذا كبر لإفتتاح الصلاة رفع يديه حتى يكون ابهامه قريبا من شحمة أذنيه ثم لا يعود
يزيد بن أبي زياد نے (عبد الرحمن) بن أبي ليلى عن البراء بن عازب رضی الله عنه کی سند سے روایت کیا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم شروع نماز میں رفع اليدين کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کے انگوٹھے کانوں کی لو تک ہو جاتے تھے پھر آپ دوبارہ نہیں کرتے تھے۔ (معاني الآثار للطحاوي 224/1 و سنن أبي داود: 749-752)
ترک رفع یدین پر حدیث البراء بن عازب بحوالہ معاني الآثار للطحاوي و ابوداود – Noor-ul-Enain-Rafa-ul-Yadain-144
پہلا جواب: اس حدیث کا دارو مدار یزید بن ابی زیاد القرشی الہامی الکوفی پر ہے جو کہ ضعیف اور شیعہ تھا۔

ترک رفع یدین پر حدیث البراء بن عازب بحوالہ معاني الآثار للطحاوي و ابوداود – Noor-ul-Enain-Rafa-ul-Yadain-145معلوم ہوا کہ اسماء الرجال کے اماموں کی اکثریت کے نزدیک یزید بن ابی زیاد الہاشمی ضعیف ہے۔ اس کے ضعف کی وجہ اس کا سوء حفظ اور کثرت خطا ہے۔ جن ائمہ نے اسے ثقہ یا صدوق کہا وہ محدثین کی اکثریت کے مقابلے میں مردود ہے۔
بوصیری نے یزید بن ابی زیاد کے بارے میں کہا: وضعفه الجمهور
اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے۔ (زوائد ابن ماجہ: 2116)
حافظ ابن حجر نے کہا: والجمهور على تضعيف حديثه
اور جمہور اس کی حدیث کو ضعیف کہتے ہیں، الخ (بدی الساری ص 459)
سنن ابی داود (93/2 ح 3153) والی حدیث کے بارے میں اشرف علی تھانوی دیوبندی لکھتے ہیں: یزید بن زیاد کی وجہ سے ضعیف کہا ہے۔ (نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب ص 244)
تنبیہ: ائمہ حدیث نے بالا اتفاق یہ تصریح کر دی ہے کہ یزید نے یہ متنازعہ روایت حالت اختلاط واقع ہونے کے بعد بیان کی ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
دوسرا جواب:
یہ روایت یزید بن ابی زیاد نے اختلاط کے بعد بیان کی ہے۔
سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یزید بن ابی زیاد نے مکہ میں حدیث سنائی:
عن عبد الرحمن بن أبى ليلى عن البراء بن عازب قال: رأيت النبى عليه الصلوة والسلام إذا افتتح للصلوة رفع يديه
(کتاب الحجر وحین لابن حبان 100/3 و سندہ صحیح الی سفیان، مسند الحمیدی: 724 دوسرا نسخہ: 741)
یعنی اس قدیم روایت میں رفع یدین کے نہ کرنے (لا یعود وغیرہ) کا ذکر نہیں ہے۔
سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں:
ثم قدمت الكوفة فلقيت يزيد بها فسمعته يحدث بهذا وزاد فيه: ثم لم يعد إذا هم لقنوه
یعنی پھر میں کوفہ آیا اور یزید سے ملاقات کی۔ میں نے اسے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا اور اس نے اس حدیث میں لم يعد کے الفاظ بڑھا دیے تھے۔ میرا خیال ہے کہ کوفیوں نے اسے تلقین کی تھی یعنی یہ الفاظ اس کی زبان میں ڈال دیے تھے۔ (کتاب الام للشافعی ج 1 ص 104)
امام دارقطنی نے بھی یہی کہا ہے کہ یزید نے آخری عمر میں تلقین قبول کر کے یہ الفاظ بڑھا دیے تھے۔ (سنن الدار قطنی 294/1 ح 118)
حافظ ابن حبان نے کہا:
لهذا خبر عول عليه أهل العراق فى نفي رفع اليدين فى الصلوة عند الركوع وعند رفع الرأس منه وليس فى الخبر ثم لم يعد وهذه الزيادة لقنها أهل الكوفة يزيد بن أبى زياد فى آخر عمره فتلقن كما قال سفيان بن عيينة أنه سمعه قديما بمكة يحدث بهذا الحديث باسقاط هذه اللفظة ومن لم يكن العلم صناعته لا يذكر له الإحتجاج بما يشبه هذا من الأخبار الواهية
اس روایت کو عراقیوں نے رکوع کو جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت کے رفع الیدین کی نفی کے لیے (اعتماد) پیش کیا ہے اور اس روایت میں ثم لم يعد (پھر نہ کرتے تھے) کی زیادتی نہیں تھی اور کوفیوں نے یزید بن ابی زیاد کی آخری عمر میں (جب کہ ان کا حافظہ متغیر ہو چکا تھا) یہ اضافہ بطور تلقین رٹا دیا تھا۔ پس یزید نے اس تلقین کو قبول کر لیا جیسا کہ سفیان بن عیینہ نے بیان فرمایا کہ انھوں نے مکہ میں پہلے اسے یہ حدیث ان الفاظ کے بغیر بیان کرتے ہوئے سنا تھا اور جس شخص کا مشغلہ علم ہو (اس عبارت میں ”لم“ زائد ہے، واللہ اعلم) وہ اس طرح کمزور ترین احادیث کو احتجاج کے طور پر کبھی ذکر نہیں کرتا۔ (المجر وحین ج 3 ص 100)
محدثین کی ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ یزید بن ابی زیاد الکوفی الشیعی اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں اس روایت کو ولا يعود کی زیادتی کے بغیر بیان کرتا تھا۔ بعد میں جب اس کا حافظہ بڑھاپے کی وجہ سے خراب ہو گیا تو اس نے ”یار لوگوں“ کی تلقین قبول کر کے اس حدیث میں نہ کرنے کے (ثم لم يعود والے) الفاظ بڑھا دیے لہذا اس روایت سے استدلال کرنا حلال نہیں ہے۔
تیسرا جواب:
یزید بن ابی زیاد مدلس تھا۔
[جامع التحصیل فی احکام المراسیل للحافظ العلائی (ص 113، رقم 62) علوم الحدیث للحاکم (ص 105) قصیدہ فی المدلسین لابی محمود المقدی شعر 6، رسالہ السیوطی فی المدلسین (67) وابو زرعہ ابن العراقی (71) والذہبی فی ارجوزته، طبقات المدلسین لابن حجر (المرتبة الثالث 3/112) ]
اسے امام دار قطنی اور حاکم وغیرہما نے مدلس قرار دیا ہے۔
یزید بن ابی زیاد سے رفع الیدین نہ کرنے کی یعنی ثم لم يعود وغیرہ کے مختلف الفاظ کے ساتھ جتنی روایات بھی ملتی ہیں کسی میں بھی سماع کی تصریح نہیں ہے۔ شعبہ کی روایت میں سماع کی تصریح ہے، مگر اس میں رفع الیدین نہ کرنے کا ذکر نہیں ہے۔
لہذا معلوم ہوا کہ یہ روایت یزید مدلس کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔
یاد رہے کہ مدلس کا عنعنہ صحت حدیث کے منافی ہوتا ہے۔
چوتھا جواب:
محدثین کا اجماع ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور ”نہ کرنے“ کے الفاظ اس میں یزید بن ابی زیاد نے اضافہ کر دیے ہیں۔
ابن الملقن نے کہا: فهو حديث ضعيف باتفاق الحفاظ اس حدیث کے ضعیف ہونے پر حفاظ حدیث کا اتفاق (اجماع) ہے۔ (البدر المنیر 487/3، نیز دیکھئے نیل الاوطار 180/2)
مثلاً درج ذیل محدثین نے خاص طور پر اس حدیث کے ضعیف ہونے کی صراحت کی ہے:
➊ سفیان بن عیینہ
➋ الشافعی
➌ الحمیدی
➍ احمد بن حنبل
➎ یحیی بن معین
(قال يحيي بن معين فى رواية الدوري (ج 3 ص 364) حديث البراء ان صلى الله عليه وسلم كان يرفع يد به لس واضح الا سنا)
➏ الدارمی
➐ البخاری
➑ ابن عبد البر
➒ البیہقی
➓ ابن الجوزی (البدر المنیر 487/3)
⓫ البزار (بحوالہ عمدة القاری للعینی 273/5 و التلخیص الحبیر 421/1)
کسی ایک محدث یا امام نے بھی اس حدیث کو صحیح یا حسن نہیں کہا۔
پانچواں جواب:
اس بات پر بھی ائمہ حدیث کا اجماع ہے کہ یزید الکوفی کی حدیث میں ”لم يعد“ کے الفاظ مدرج ہیں۔ حافظ ابن حجر نے کہا:
واتفق الحفاظ على أن قوله ثم لم يعد مدرج فى الخبر من قول يزيد بن أبى زياد و رواه عنه بدونها شعبة والثوري وخالد الطحان وزهير وغيرهم من الحفاظ.
حفاظ حدیث کا اس پر اتفاق ہے کہ اس حدیث میں ثم لم يعد کا قول یزید کا مدرج ہے اس سے شعبہ، ثوری، خالد اور زہیر وغیرہم نے اس قول کے بغیر اس روایت کو بیان کیا ہے۔ (تلخیص الحبیر 221/1)
نیز ملاحظہ فرمائیں چوتھا جواب اور ”المدرج إلى المدرج“ (السیوطی ص 19 حدیث نمبر 4)
چھٹا جواب:
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منسوب حدیث کا تیسرا، چوتھا، پانچواں اور چھٹا جواب دوبارہ ملاحظہ فرمائیں۔ اس حدیث پر بھی وہی اعتراضات قائم ہیں۔
خلاصہ یہ کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور اپنے مفہوم پر غیر صریح ہے۔
تنبیہ: محمد ابن ابی لیلی نے اس روایت کو عن أخيه عيسى عن الحكم عن عبدالرحمن بن أبى ليلى عن البراء بن عازب کی سند سے بیان کیا ہے۔ (سنن ابی داود 479/1 ح 752)
امام ابو داود نے کہا: ”هذا الحديث ليس بصحيح“ یعنی یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ اس میں علت قادحہ یہ ہے کہ محمد ابن ابی لیلیٰ نے یہ حدیث یزید بن ابی زیاد سے سنی تھی، امام احمد بن حنبل نے محمد بن عبداللہ بن نمیر (ثقہ امام) سے بیان کیا ہے کہ میں نے ابن ابی لیلی کی کتاب میں دیکھا تو وہ اس حدیث کو یزید بن ابی زیاد سے روایت کر رہا تھا۔ (کتاب العلل لاحمد بن حنبل ج 1 ص 143 رقم 293 دسندہ پیج معرفته الفن والآثار لیتی ج 1 ص 219 قلمی)
اس پر طرہ یہ کہ محمد ابن ابی لیلیٰ خود بھی ضعیف ہے۔ حتیٰ کہ طحاوی حنفی نے بھی اسے مضطرب الحفظ جدا قرار دیا ہے۔ (مشکل الآثار 226/3)
زیلعی نے کہا: ضعیف (نصب الرایہ 1/318)
انور شاہ کشمیری نے کہا:
فهو ضعيف عندي كما ذهب إليه الجمهور یعنی وہ جمہور محدثین کی طرح میرے نزدیک (بھی) ضعیف ہے۔ (فیض الباری 168/3)
لہذا یہ متابعت مردود ہے۔ اصل دارو مدار محمد ابن ابی لیلیٰ کے استاد یزید بن ابی زیاد ضعیف کوفی شیعہ مدلس پر ہے