ترک رفع یدین پر حدیث ابن مسعودؓ اور سفیان ثوریؒ کی تدلیس

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

دوسرا شبہ: حدیث ابن مسعود رضی الله عنه

سفيان (الثوري) عن عاصم بن كليب عن عبد الرحمن بن الأسود عن علقمة قال قال عبد الله بن مسعود: ألا أصلي بكم صلوة رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلم يرفع يديه إلا فى أول مرة
( کہا جاتا ہے کہ) سیدنا عبد الله بن مسعود رضی الله عنهما نے فرمایا: میں تمھیں رسول الله صلى الله عليه وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ پھر آپ نے نماز پڑھی اور ہاتھ نہیں اٹھائے سوائے پہلی دفعہ کے۔
(سنن ترمذي 1/59 ح 257 وقال: حدیث حسن، محلى لابن حزم 87/4،88 مسئلہ: 444 وقال: إن هذا الخبر صحیح)
تحقیق: یہ حدیث علت قادحہ کے ساتھ معلول ہے اور سند ومتن دونوں طرح سے ضعیف ہے۔ درج ذیل أئمہ (اور علمائے حدیث) نے اسے ضعیف و معلول قرار دیا ہے:
پہلا جواب:
محدثین کی اکثریت نے اس روایت کو ضعیف و معلول قرار دیا ہے:
① شیخ الإسلام المجاهد الشقي عبد الله بن المبارك (متوفی 181ھ) نے کہا:
لم يثبت حديث… ابن مسعود
ابن مسعود رضی الله عنهما کی طرف منسوب یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔ (سنن ترمذي 1/59 ح 256 و أسناده صحیح)
بعض لوگوں نے ابن المبارك رحمہ الله کی جرح کو عصر جدید میں اس حدیث سے ہٹانے کی کوشش کی ہے مگر درج ذیل أئمہ حدیث وعلمائے کرام نے ابن المبارك کی جرح کو ابن مسعود رضی الله عنهما سے منسوب اس متنازعہ روایت کے متعلق قرار دیا ہے۔
➊ ترمذي (سنن 59/1 ح 256)
➋ ابن الجوزي وقال: وقال فيه عبدالله بن المبارك: لا يثبت هذا الحديث (التحقيق 1/278 دوسرا نسخہ ج 1 ص 335)
➌ ابن عبدالہادي (التنقيح 278/1)
➍ نووی (المجموع شرح المهذب 403/3)
➎ ابن قدامہ (المغني ج 1 ص 295 مسئلہ: 690)
➏ابن حجر (التلخيص الحبير 222/1 ح 328)
➐ الشوكاني (نيل الأوطار 2/180 دوسرا نسخہ ج 1 ص 696 تحت ح 668)
➑ البغوي (شرح السنة 3/35 ح 561)
➒ بيهقي (السنن الكبرى 79/2 و معرفة السنن والآثار 1/551)
حدیث کے کسی إمام نے یہ نہیں کہا کہ ابن المبارك کی جرح حدیث ابن مسعود سے متعلق نہیں ہے۔
② الإمام الشافعي (متوفی 204ھ) نے ترک رفع اليدين کی احادیث کو رد کر دیا کہ یہ ثابت نہیں ہیں۔ (دیکھئے كتاب الأم ج 2 ص 201 باب رفع اليدين في الصلاة والسنن الكبرى للبيهقي 81/2 و فتح الباري 220/2)
③ أحمد بن حنبل (متوفی 241ھ) نے اس روایت پر کلام کیا۔ (دیکھئے جزء رفع اليدين: 32، و مسائل أحمد رواية عبد الله بن أحمد 1/240 فقرہ: 326)
④ أبو حاتم الرازي (277ھ) نے کہا:
هذا خطأ يقال: وهم الثوري فقد رواه جماعة عن عاصم وقالوا كلهم: أن النبى صلى الله عليه وسلم افتتح فرفع يديه ثم ركع فطبق وجعلهما بين الركبتين ولم يقل أحد ما روى الثوري
یہ حدیث خطا ہے، کہا جاتا ہے کہ (سفیان) ثوري کو اس (کے اختصار) میں وہم ہوا ہے۔ کیونکہ ایک جماعت نے اس کو عاصم بن كليب سے ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے نماز شروع کی، پس ہاتھ اٹھائے، پھر رکوع کیا اور تطبیق کی اور اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان رکھا۔ کسی دوسرے نے ثوري والی بات بیان نہیں کی ہے۔ (علل الحديث 1/96 ح 258)
⑤ الإمام الدار قطني (متوفی 385ھ) نے اسے غیر محفوظ قرار دیا۔ (دیکھئے العلل للدارقطني ج 5 ص 173 مسئلہ: 804)
⑥ حافظ ابن حبان (متوفی 354ھ) نے (كتاب) الصلاة میں کہا:
هو فى الحقيقة أضعف شي يعول عليه لأن له عللا تبطله
یہ روایت حقیقت میں سب سے زیادہ ضعیف ہے، کیونکہ اس کی علتیں ہیں جو اسے باطل قرار دیتی ہیں۔ (تلخيص الحبير 222/1 ح 328، البدر المنير 494/3)
⑦ إمام أبو داود السجستاني (متوفی 275ھ) نے کہا:
هذا حديث مختصر من حديث طويل وليس هو بصحيح على هذا اللفظ
(سنن أبي داود نسخہ جمعیت ج 1 ص 478 ح 748 مسجد بیت الأفكار الدولية ص 102 نسخہ مكتبة المعارف / الرياض ص 121 مشکوۃ المصابيح، 1326ھ ص 77 ح 809)

إمام أبو داود اور حدیث ابن مسعود رضی الله عنهما

چودہویں صدی میں بعض لوگوں نے إمام أبو داود کی اس حدیث پر جرح کا انکار کیا ہے اور صاحب مشکوۃ کے بعض أوہام جمع کر کے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ أبو داود سے اس قول کا انتساب بھی ان کا وہم ہے۔ حالانکہ درج ذیل علماء نے اس قول کو إمام أبو داود سے منسوب کیا ہے:
① ابن الجوزي (متوفی 597ھ)
وقال أبو داود: ليس بصحيح (التحقيق في اختلاف الحديث 278/1)
② ابن عبد البر الأندلسي (متوفی 463ھ)
وقال أبو داود فى حديث عاصم بن كليب عن عبدالرحمن بن الأسود عن علقمة عن ابن مسعود قال: ألا أصلي بكم صلوة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فصلى فلم يرفع يديه إلا مرة واحدة، هذا حديث يختصر من حديث طويل وليس بصحيح على هذا اللفظ (التمهيد 220/3)
③ ابن عبدالهادي (متوفی 744ھ) (التنقيح 278/1)
④ ابن حجر العسقلاني (متوفی 852ھ) (التلخيص الحبير ج 1 ص 222)
⑤ ابن الملقن (البدر المنير ج 3 ص 493)
⑥ ابن القطان الفاسی (بیان الوہم والا یہام فی کتاب الاحکام 365/3،366 فقرہ:1109)
⑦ شمس الحق عظيم آبادي (متوفی 1329ھ) نے کہا:
واعلم أن هذه العبارة موجودة فى نسختين عتيقتين عندي وليست فى عامة نسخ أبى داود الموجودة عندي (عون المعبود ج 3 ص 449)
معلوم ہوا کہ یہ عبارت إمام أبو داود ہی کی ہے اور اسی حدیث پر ہے۔
⑧ يحيى بن آدم (متوفی 203ھ) (دیکھئے جزء رفع اليدين:32 والتلخيص الحبير 222/1)
⑨ أبو بكر أحمد بن عمر (و) البزار (متوفی 292ھ) نے اس حدیث پر جرح کی۔ (البحر الزخارج 5 ص 47 ح 1608 نیز دیکھئے التمهيد 220/9-221)
⑩ محمد بن وضاح (متوفی 289ھ) نے ترک رفع يدين کی تمام احادیث کو ضعیف کہا۔ (التمهيد 221/9 وسنده قوی)
⑪ إمام بخاري (متوفی 256ھ) دیکھئے جزء رفع اليدين (32) والتلخيص الحبير (222/1) المجموع شرح المهذب (403/3)
⑫ ابن القطان الفاسي (متوفی 628ھ) سے زیلعی حنفی نے نقل کیا کہ انھوں نے اس زیادت (دوبارہ نہ کرنے) کو خطا قرار دیا۔ (نصب الراية 1/395)
مجھے یہ کلام ”بيان الوهم والإيهام“ میں نہیں ملا (ج 3 ص 365 تا 367 فقرہ 1109) تاہم اشارہ ضرور ملتا ہے۔ (ص 366)
⑬ عبد الحق الإشبيلي نے کہا: لا يصح (الأحكام الواسطي ج 1 ص 367)
⑭ ابن الملقن (متوفی 804ھ) نے اسے ضعیف کہا۔ (البدر المنير 492/3)
⑮ الحاكم (متوفی 405ھ) (الخلافيات للبيهقي بحوالہ البدر المنير 493/3)
⑯ النووي (متوفی 676ھ) نے کہا: اتفقوا على تضعيفه (خلاصة الأحكام 354/1 ح 180) یعنی إمام ترمذي کے علاوہ سب متقدمین کا اس حدیث کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔
⑰ الدارمي (متوفی 280ھ) (بحوالہ تہذیب السنن للحافظ ابن قيم الجوزية 449/2) (یہ حوالہ مجھے باسند صحیح نہیں ملا!)
⑱ البيهقي (متوفی 458ھ) (بحوالہ تہذیب السنن 449/2 وشرح المهذب للنووي 403/3) (یہ حوالہ بھی باسند صحیح نہیں ملا)
⑲ محمد بن نصر المروزي (متوفی 294ھ) (بحوالہ نصب الراية 395/1 والأحكام الواسطى لعبد الحق الإشبيلي 367/1)
⑳ ابن قدامة المقدسي (متوفی 620ھ) نے کہا: ”ضعيف“ (المغني ج 1 ص 295 مسئلہ: 690)
(21) قرطبي نے بھی حدیث ابن مسعود و حدیث براء کو غیر صحیح کہا۔ (المفہم 19/2)
یہ سب امت مسلمہ کے مشہور علماء تھے۔ ان کا اس روایت کو متفقہ طور پر ضعیف و معلول قرار دینا ترمذي و ابن حزم کی تصحیح پر ہر لحاظ سے مقدم ہے، لہذا یہ حدیث بلا شک وشبہ ضعیف ہے۔ علل حدیث کے ماہر علماء اگر ثقہ راویوں کی روایت کو ضعیف کہیں تو ان کی تحقیق کو تسلیم کیا جائے گا کیوں کہ وہ اس فن کے ماہر ہیں اور فن حدیث میں ان کی تحقیق حجت ہے۔
دوسرا جواب:
اس روایت کا دارو مدار إمام سفیان ثوري رحمہ الله پر ہے جیسا کہ اس کی تخریج سے ظاہر ہے۔ سفیان ثوري ثقہ حافظ، عابد ہونے کے ساتھ مدلس بھی تھے۔( دیکھئے تقريب التهذيب: 2245)
ان کو درج ذیل أئمہ حدیث نے مدلس قرار دیا ہے:
➊ يحيى بن سعيد القطان (كتاب العلل و معرفة الرجال لأحمد 1/207 رقم 1130، الكفاية للخطيب ص362 وسنده صحیح)
➋ بخاري (العلل الكبير للترمذي 966/2، التمهيد 34/1)
➌ يحيى بن معين (الجرح والتعديل 225/4 وسنده صحیح)
➍ أبو محمود المقدسي (قصيدة في المدلسين ص 47 شعر ثاني)
➎ ابن التركماني حنفي( الجوهر النقي ج 8 ص 262 وقال: الثوري مدلس و قد عنعن)
➏ ابن حجر العسقلاني (طبقات المدلسين المرتبة الثانية ص 32، تقريب التهذيب: 2445)
➐ الذهبي (ميزان الاعتدال 169/2) وقال: إنه كان يدلس عن الضعفاء ولكن له نقد وذوق ولا عبرة لقول من قال يدلس ويكتب عن الكذابين
اور کہا: وربما دلس عن الضعفاء (سير اعلام النبلاء 242/7) اور کہا: لأنه كان يحدث عن الضعفاء (إيضاً 274/7)
حافظ ذہبي کی گواہی سے معلوم ہوا کہ سفیان رحمہ الله ضعیف لوگوں سے تدلیس کرتے تھے۔ یاد رہے کہ جو ضعفاء سے تدلیس کرے اس کی عن (بغیر تصریح سماع) والی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ أبو بكر الصيرفي (متوفی 330ھ) نے كتاب الدلائل میں کہا:
كل من ظهر تدليسه عن غير الثقات، لم يقبل خبره حتى يقول: حدثني أو سمعت
ہر راوی جس کی غیر ثقہ راویوں سے تدلیس ظاہر ہو جائے تو اس کی روایت اس وقت تک مقبول نہیں جب تک وہ” حدثني“ يا ”سمعت“ نہ کہے یعنی اس کے سماع کی تصریح کے بعد ہی اس کی روایت مقبول ہوتی ہے۔(دیکھئے النكت للزركشي ص184 شرح ألفية العراقي بالتبصرة والتذكرة 183-184/1)
➑ صلاح الدين العلائي (جامع التحصيل في أحكام المراسيل ص 99)
وقال:من يدلس عن أقوام مجهولين لا يدرى من هم كسفيان الثوري
یعنی سفیان ثوري ان مجہول لوگوں سے تدلیس کرتے تھے جن کا پتا بھی نہیں چلتا۔
➒ حافظ ابن رجب (شرح علل الترمذي 358/1)
وقال: وقد كان الثوري وغيره يدلسون عمن لم يسمعوا منه أيضا یعنی سفیان الثوري وغیرہ ان لوگوں سے بھی تدلیس کرتے تھے جن سے ان کا سماع نہیں ہوتا تھا۔
➓ أبو نعيم الفضل بن دكين الكوفي (تاريخ أبي زرعة الدمشقي 1193 وسنده صحیح)
⓫ أبو عاصم الضحاك بن مخلد النبيل (سنن الدار قطني 201/3 ح 3423 وسنده صحیح)
⓬ علی بن عبدالله المديني (الكفاية للخطيب ص 362 وسنده صحیح)
⓭ أبو زرعة ابن العراقي قال: مشهور بالتدليس (كتاب المدلسين: 21)
⓮ حاكم صاحب المستدرك (معرفة علوم الحديث للحاكم ص 105-106 ح 251-253)
⓯ العيني قال: وسفيان من المدلسين والمدلس لا يحتج بعنعنته إلا أن يثبت سماعه من طريق آخر (عمدة القاري ج 3 ص 112)
⓰ الكرماني (شرح صحیح البخاري 62/3 ح 213)
⓱ ابن حبان (الإحسان طبعہ جدیدہ 61/1)
⓲ السيوطي (أسماء من عرف بالتدليس: 24)
⓳ الحلبي (التبين في أسماء المدلسين ص 27)
20: قسطلاني: سفيان مدلس وعنعنة المدلس لا يحتج بها إلا أن يثبت سماعه بطريق آخر سفیان راوی مدلس ہیں اور مدلس کا عنعنہ قابل حجت نہیں ہوتا الا یہ کہ اس کے سماع کی تصریح (یا متابعت) ثابت ہو جائے۔ (إرشاد الساري شرح صحیح بخاري ج 1 ص 286)
سرفراز صفدر صاحب دیوبندی تقلیدی اپنی کتاب ”أحسن الكلام“ میں لکھتے ہیں:
أبو قلابة گوشتہ تھے مگر غضب کے مدلس تھے۔ أبو قلابة کی جن سے ملاقات ہوئی ان سے بھی اور جن سے نہیں ہوئی ان سے بھی سب سے تدلیس کرتے تھے۔ (ج 2 ص 11)
اگر حافظ ذہبي کے قول کی بنیاد پر أبو قلابة تابعی رحمہ الله ”غضب کے مدلس“ قرار دیئے جاسکتے ہیں تو حافظ ابن رجب کے قول پر سفیان ثوري کو غضب کا مدلس کیوں نہیں قرار دیا جاتا ہے.
؎ لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
حالانکہ أبو قلابة مدلس نہیں تھے۔ إمام أبو حاتم رازي نے ان پر تدلیس کے الزام کی تردید کی ہے۔ (ملاحظہ فرمائیں الجرح والتعديل 8/5)
أبو قلابة کی معنعن روایات کی تصحیح متعدد محدثین کرام مثلاً بخاري، مسلم، ترمذي اور ذہبي وغیرہم نے کی ہے۔
متقدمین کے مقابلے میں متاخرین کی بات کب قابل مسموع ہو سکتی ہے؟ کیا کسی محدث یا فقیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ أبو قلابة ضعفاء سے تدلیس کرتے تھے؟ أبو قلابة جو کہ مدلس نہیں تھے ان کے عنعنہ کو رد کرنا اور ثوري جو کہ ضعفاء سے تدلیس کرتے تھے ان کے عنعنہ کو قبول کرنا انصاف کا خون کرنے کے برابر ہے۔ الله تعالى ظالموں سے ضرور حساب لے گا۔ اس دن اس کی پکڑ سے کوئی نہ بچا سکے گا۔
تنبیہ: علامہ شیخ محمد ناصر الدین الألباني رحمہ الله نے ایک سند کو أبو قلابة کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف کہا۔ (حاشیہ صحیح ابن خزيمة ج 3 ص 268 تحت ح 2043)
قال: إسناده ضعيف لعنعنة أبى قلابة وهو مذكور بالتدليس
حالانکہ أبو قلابة کا مدلس ہونا صحیح نہیں ہے۔ جنھوں نے کئی سو سال کے بعد اسے مدلس کہا، انھوں نے اسے طبقہ أولى (جن کی معنعن روایات ان لوگوں کے نزدیک صحیح ہوتی ہیں) میں شمار کیا ہے۔ اس کا ضعفاء سے تدلیس کرنا بھی ثابت نہیں ہے۔ اس کی روایات کو تو علامہ الألباني نے ضعیف کہا ہے، مگر (أصول سے روگردانی کرتے ہوئے) سفیان ثوري مدلس عن الضعفاء (جو کہ بقول حاكم طبقہ ثالثہ کے مدلس ہیں) کی معنعن روایت ترک رفع اليدين کی تعليقات مشکوۃ میں تصحیح کر دی ہے۔
ہم دلائل سے ثابت کر چکے ہیں کہ علامہ الألباني رحمہ الله کی یہ تصحیح غلط ہے اور محدثین کے قواعد کے خلاف ہے لہذا مردود ہے۔
ذہبي عصر حقا الشيخ عبد الرحمان المعلمي اليماني نے بھی اس روایت کو سفیان ثوري کے عنعنہ کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے۔ (التشكيل بما في تانیب الكوثرى من الأباطيل 2 ص20)
خلاصہ یہ کہ سفیان ثوري مدلس تھے بلکہ یہ تحقیق سرفراز خان صفدر غضب کے مدلس تھے لہذا ان کی معنعن روایت متابعت کی غیر موجودگی میں ضعیف ہوتی ہے۔

ترک رفع یدین پر حدیث ابن مسعودؓ اور امام سفیان ثوری کی تدلیس

◈مدلس کا عنعنہ

حافظ ابن الصلاح (643ھ) فرماتے ہیں:
والحكم بأنه لا يقبل من المدلس حتى يبين قد أجراه الشافعي رضى الله عنه فيمن عرفناه دلس مرة، والله أعلم
حکم یہ ہے کہ مدلس کی صرف وہی روایت قبول کی جائے گی جس میں وہ سماع کی تصریح کرے۔ یہ بات إمام شافعي رضی الله عنه نے ہر اس شخص پر جاری فرمائی ہے جو ایک دفعہ ہی تدلیس کرے۔ (علوم الحديث عرف مقدمة ابن الصلاح ص 99 نیز دیکھئے الرسالة للشافعي ص380 فقرہ: 1035)
إمام يحيى بن معين (متوفی 233ھ) نے کہا: مدلس اپنی تدلیس (معنعن روایت) میں حجت نہیں ہوتا۔ (الكفاية 362 ولفظه لا يكون حجة فيما دلس، وسنده صحيح)
لہذا سفیان ثوري رحمہ الله (جو کہ ضعفاء اور مجاہیل سے تدلیس کرتے تھے) کی یہ معنعن (عن والی) روایت ضعیف ہے اور صحیح احادیث کے مقابلے میں ضعیف کا وجود اور عدم وجود دونوں برابر ہیں۔

◈طبقہ ثانیہ کی بحث

درج بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ جناب سفیان ثوري رحمہ الله غضب کے مدلس تھے، لہذا ان کو درجہ ثانیہ میں ذکر کرنا غلط ہے مگر حافظ ابن حجر رحمہ الله نے ان کو درجہ ثانیہ میں ذکر کیا ہے۔ (طبقات المدلسين ص32)
حاكم نيشاپوري نے حافظ ابن حجر سے پہلے ان کو طبقہ ثالثہ میں ذکر کیا ہے۔ (معرفة علوم الحديث ص 106 و جامع التحصيل ص 99)
حاكم نيشاپوري حافظ ابن حجر سے زیادہ ماہر اور متقدم تھے اور درج ذیل دلائل کی روشنی میں حاكم کی بات صحیح اور حافظ ابن حجر کی بات غلط ہے۔ (دیکھئے ص 346)

فائدہ نمبر 1:

سفیان ثوري درج ذیل شیوخ سے تدلیس نہیں کرتے تھے:
حبيب بن أبي ثابت سلمة بن كہيل اور منصور (وغیرہم) (العلل الكبير الترمذي 966/2، التمهيد لابن عبد البر 1/34 شرح علل الترمذي 751/2)

فائدہ نمبر 2:

سفیان ثوري سے يحيى بن سعيد القطان کی روایت سماع پر محمول ہوتی ہے۔ تحقیق کے لیے ملاحظہ فرمائیں كتاب العلل ومعرفة الرجال (207 رقم 1130) والكفاية (للخطيب ص 362 وسنده صحیح) وتہذیب التهذیب (192/11 ترجمہ يحيى بن سعيد القطان)

فائدہ نمبر 3:

مدلس کی اگر معتبر متابعت ثابت ہو جائے تو اس کی روایت قوی ہو جاتی ہے۔ سفیان ثوري اس روایت میں عاصم بن كليب سے منفرد ہیں اور ان کی کوئی معتبر متابعت نہیں ہے، لہذا یہ سند ضعیف ہے۔
تیسرا جواب:
سفیان ثوري کی اس حدیث میں رکوع سے پہلے اور بعد کے رفع اليدين کا ذکر نہیں ہے لہذا یہ روایت مجمل ہے۔ اگر اس کو عام تصور کیا جائے تو پھر تارکین رفع اليدين کا خود اس روایت پر عمل نہیں ہے۔
➊ وہ وتر میں تکبیر تحریمہ کے بعد رکوع سے پہلے رفع اليدين کرتے ہیں۔
➋ وہ عیدین میں تکبیر تحریمہ کے بعد رفع اليدين کرتے ہیں۔
اگر وتر اور عیدین کی تخصیص دیگر روایات سے ثابت ہے تو رکوع سے پہلے اور بعد کی تخصیص بھی صحیحین کی روایات سے ثابت ہے۔
اس حدیث سے استدلال کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حدیث کے عموم سے وتر اور عیدین کے رفع اليدين کو بچانے کی کوشش کریں جو ان لوگوں کا جواب ہے، وہی ہمارا جواب ہے۔
تنبیہ: رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع اليدين کی ممانعت یا ترک کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ تارکین کی پیش کردہ سب احادیث باطل، ضعیف و مردود ہیں۔( مزید تحقیق کے لیے حافظ بن القيم کی المنار المنيف ص 137 کا مطالعہ کریں۔)
چوتھا جواب:
جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، اس حدیث میں رکوع سے پہلے اور بعد کے رفع اليدين کا ذکر نہیں ہے۔ إمام فقیہ محدث أبو داود رحمہ الله نے اس ضعیف حدیث پر یہ باب باندھا ہے۔” باب من لم يذكر الرفع عند الركوع“ یعنی باب اس کا جس نے رکوع سے پہلے رفع اليدين کا ذکر نہیں کیا۔ (سنن أبي داود ج 1 ص 747 قبل ح 748)
اور یہ بات عام طلباء کو بھی معلوم ہے کہ (ثبوت ذکر کے بعد) عدم ذکر سے نفی ذکر لازم نہیں ہے۔
ابن التركماني حنفي (متوفی 745ھ) نے فرمایا: ومن لم يذكر الشي ليس بحجة على من ذكره جو کسی چیز کو ذکر نہ کرے وہ اس پر حجت نہیں ہے جو کسی چیز کو ذکر کرے۔ (الجوهر النقي ج 2 ص 317)
مشہور محدث حافظ ابن حجر العسقلاني (متوفی 852ھ) نے فرمایا: ولا يلزم من عدم ذكر الشي عدم وقوعه کسی چیز کے عدم ذکر سے اس کا عدم وقوع لازم نہیں آتا۔ (الدراية ج 1 ص 225 حدیث 292 باب الاستسقاء)
لہذا إمام سفیان الثوري کی عدم ذکر والی اس ضعیف حدیث سے بھی ترک رفع اليدين عند الركوع و بعدہ ثابت نہیں ہوسکتا۔
پانچواں جواب: سفیان کی حدیث میں نفی ہے اور صحیحین وغیرہما کی متواتر احادیث میں اثبات ہے۔
یہ بات عام طلباء کو بھی معلوم ہے کہ اثبات نفی پر مقدم ہوتا ہے۔
علامہ نووی نے کہا:
إن أحاديث الرفع أولى لأنها اثبات وهذا نفي فيقدم الإثبات لزيادة العلم
رفع اليدين کی (صحیح) احادیث پر عمل کرنا أولى ہے کیونکہ وہ اثبات ہیں اور یہ (سفیان ثوري کی ضعیف حدیث) نفی ہے۔ پس اثبات کو زیادت علم کی وجہ سے نفی پر مقدم کیا جائے گا۔ (المجموع شرح المهذب 403/3)
حنفی یہ کہتے ہیں کہ كرخي حنفي (متوفی 317ھ) نے بھی مثبت کو نفی پر أولى بالعمل قرار دیا ہے۔ (دیکھئے نور الأنوار ص 197)
مزید تحقیق کے لیے ملاحظہ فرمائیں نصب الراية (359/1) وفتح الباري (333/1)
چھٹا جواب:
بعض علماء نے کہا ہے کہ اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ تکبیر تحریمہ کے ساتھ صرف ایک دفعہ رفع يدين کیا بار بار نہیں کیا۔ (ملاحظہ فرمائیں مشکوۃ المصابيح ص 77 ح 809)
نووی (المتوفی 676ھ) فرماتے ہیں:
ذكره أصحابنا قالوا: لو صح وجب تأويله على أن معناه لا يعود إلى الرفع فى ابتداء استفتاحه ولا فى أوائل باقي ركعات الصلاة الواحدة ويتعين تأويله جمعا بين الأحاديث
ہمارے ساتھیوں نے ذکر کیا ہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو اس کا مفہوم یہ ہوتا کہ شروع نماز میں اور باقی رکعات کے شروع میں دوبارہ رفع اليدين نہیں کرتے تھے۔ (اس کا رکوع والے رفع اليدين سے کوئی تعلق نہیں ہے) اس تاویل کے ساتھ تمام احادیث (بلحاظ جمع و تطبیق) پر عمل ہو جاتا ہے۔ (المجموع 403/3)
ساتواں جواب:
یہ حدیث اگر بفرض محال صحیح ہوتی (1) تو بھی منسوخ ہوتی۔
إمام أحمد بن الحسین البيهقي نے فرمایا:
وقد يكون ذلك فى الإبتداء قبل أن يشرع رفع اليدين فى الركوع ثم صار التطبيق منسوخا وصار الأمر فى السنة إلى رفع اليدين عند الركوع ورفع الرأس منه و خفيا جميعا على عبدالله بن مسعود
ہوسکتا ہے کہ ابتدا میں ترک رفع يدين رہا ہو جس وقت رفع اليدين کی مشروعیت نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد (ابن مسعود رضی الله عنهما کی) تطبیق منسوخ ہوگئی اور سنت میں رفع اليدين رکوع سے پہلے اور بعد کا شروع ہوگیا اور یہ دونوں باتیں (تطبیق اور بعد کا شروع ہونے والا رفع اليدين) سیدنا ابن مسعود رضی الله عنهما پر مخفی رہ گئے۔ (معرفة السنن والآثار قلمی ج 1 ص 220، اتحقیق الرايخ في أن أحاديث رفع اليدين ليس لها ناسخ ص 118 الشيخ الإمام حافظ محمد گوندلوی)
تنبیہ: یہ الزامی جواب ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت سیدنا ابن مسعود رضی الله عنهما سے ثابت ہی نہیں۔
إمام بيهقي کے دعوى کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ إمام حافظ عبدالله بن إدريس (ثقہ بالا جماع) نے اس حدیث کو بعینہ اسی سند کے ساتھ عاصم بن كليب سے روایت کیا ہے۔ (مسند أحمد ج 1 ص 418 و أسناده صحیح)
اس میں رکوع میں تطبیق کا ذکر ہے جو کہ بالاتفاق منسوخ ہے۔

◈آخری بات

حافظ ابن حزم رحمہ الله عبدالله بن مسعود رضی الله عنهما کی اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں:
ولو لا هذا الخبر لكان رفع اليدين عند كل رفع وخفض وتكبير و تحميد فى الصلاة فرضا
اگر یہ حدیث نہ ہوتی تو ہر جھکنے، بلند ہونے تکبیر اور تحمید کے وقت رفع اليدين فرض ہوتا۔ (المحلى ج 4 ص 88)
درج بالا تحقیق کی رو سے ابن حزم کی پیش کردہ حدیث متعدد علل کی وجہ سے ضعیف اور نا قابل استدلال ہے۔
لہذا قارئین فیصلہ کریں کہ ابن حزم کے نزدیک رفع اليدين کا کیا مقام ٹھہرتا ہے؟ کیا وہ ابن حزم کے نزدیک فرض نہیں ہو جاتا؟

اس موضوع سے متعلق یہ تحقیقی مضمون بھی ملاحظہ کریں۔, نیز اسی کتاب کا یہ دوسرا مضمون بھی جس میں ابن مسعودؓ سے ترک رفع یدین کے متعلق ایک دوسرے اثر کی تحقیق پیش کی گئی ہے۔