عبد الله بن عون الخراز کی روایت
بعض لوگوں نے درج ذیل روایت کو پیش کیا ہے:
عن عبدالله بن عون الخراز: ثنا مالك عن الزهري عن سالم عن ابن عمر أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه إذا افتتح الصلوة ثم لا يعود
حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رفع الیدین اس وقت کرتے جب شروع کرتے پھر رفع الیدین کرنے کے لیے نہ لوٹتے تھے۔ (الخلافیات للبیہقی بحوالہ نصب الرایة 404/1، نور الصباح، تصنیف حبیب اللہ ڈیروی دیو بندی ص 61 62)
اول:
● امام ابو عبد الله الحاکم نے (اس روایت کے بارے میں) کہا:
هذا باطل موضوع ولا يجوز أن يذكر إلا على سبيل القدح فقد روينا بالأسانيد الصحيحة عن مالك بخلاف هذا
یہ (روایت) باطل موضوع ہے۔ اس کا ذکر سوائے اسے بُرا کہنے (جرح کرنے) کے جائز نہیں ہے۔ تحقیق یہ ہے کہ صحیح اسانید کے ساتھ امام مالک سے اس کے خلاف (اثبات رفع الیدین) ہم تک روایت کیا گیا ہے۔ [نصب الرایۃ 1/404]
(امام حاكم كے بارے ميں) حافظ ذهبي نے كها:
الإمام الحافظ الناقد العلامة شيخ المحدثين (سیر اعلام النبلاء163/17)
اور کہا: وصنف وخرج وجرح وعدل وعلل وكان من بحور العلم على تشيع قليل فيه [ایضاً ص 165]
خطیب بغدادی نے کہا: وكان ثقة [تاریخ بغداد 473/5]
امام حاکم صدوق ہیں، لیکن مستدرک میں وہ ساقط (موضوع وضعیف) احادیث کی تصحیح کرتے ہیں۔ [میزان الاعتدال 608/3]
(نیز دیکھئے توضیح الاحکام 572/1-578)
امام حاکم متساہل تھے۔
( ذكر من يعتمد قوله في الجرح والتعديل المذہبی 159٫2، المتكلمون في الرجال للسخاوی ص 137)
متساہل جس روایت کو باطل و موضوع کہہ دے وہ (روایت عام طور پر) انتہائی پر لے درجے کی موضوع و باطل ہوتی ہے۔
حافظ ذہبی نے امام حاکم کو الحافظ الكبير اور ”إمام المحدثين“ کہا۔
(تذکرة الحفاظ 227/3 بحوالہ احسن الکلام ج 1 ص 104 طبع بار دوم مصنف سرفراز خان صفدر دیوبندی)
● حافظ ابوعبدالله حمد بن ابی بکر الدمشقی المعروف بابن القیم الجوزیۃ (751۔691ھ) نے کہا:
ومن شم روائح الحديث على بعد: شهد بالله أنه موضوع
جس نے حدیث کی خوشبو دور سے بھی سونگھی ہے وہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہے کہ یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔ (المنار المنيف في اصحیح والضعیف ص 138)
حافظ ابن قیم کے بارے میں علماء کی چند آراء ملاحظہ فرمائیں:
➊ ابن رجب الدمشقی نے کہا:
وكان عارفا بالتفسير لا يجارى فيه، وبأصول الدين، وإليه فيهما المنتهى. والحديث ومعانيه وفقهه ودقائق الإستنباط منه لا يلحق فى ذلك (كتاب الذيل على طبقات الحنابله 448/2)
➋ ابن کثیر الدمشقی نے کہا:
صاحبنا الشيخ الإمام العلامة… وبرع فى علوم متعددة، لا سيما علم التفسير والحديث والأصلين [البدايه والنهایه 246/14]
➌ ابن ناصر الدین الدمشقی نے کہا:
الشيخ الإمام العلامة شمس الدين أحد المحققين (الرد الوافر 119)
➍ ابن العماد الحنبلی نے کہا:
الفقيه الحنبلي بل المجتهد المطلق المفسر النحوي الأصولي المتكلم [شذرات الذہب 168/6]
نیز ملاحظہ فرمائیں: الدرر الكامنة للعسقلانی (400/3) والبدر الطالع للشوکانی (143/2) سرفراز خان صفدر دیوبندی لکھتے ہیں کہ
نوٹ: اکثر اہل بدعت حافظ ابن تیمیہ اور ابن قیم کی رفیع شان میں بہت ہی گستاخی کیا کرتے ہیں مگر حضرت ملا علی قاری الخفی ان کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں: وكانا من أكابر أهل السنة والجماعة ومن أولياء هذه الأمة (جمع الوسائل ج 1 ص 208 طبع مصر) اور حافظ ابن القیم کی تعریف کرتے ہوئے امام جلال الدین السیوطی المتوفی 911ھ پھولے نہیں سماتے (بغیة الوعاة) [المنهاج الواضح یعنی راه سنت ص 187]
● حافظ ربانی ابن حجر العسقلانی نے اس حدیث کے بارے میں کہا:
وهو مقلوب موضوع( التلخيص الحبير 1/222)
حافظ ابن حجر کے بارے میں عبدالحی لکھنوی حنفی نے کہا: هو إمام الحفاظ (غيث الغمام مع امام الکلام ص 28)
حافظ ابن حجر کے بارے میں سرفراز صفدر صاحب لکھتے ہیں: ”حافظ الدنيا“ (راه سنت ص 39)
ابن العماد الحنبلی نے کہا: شيخ الإسلام عـلـم الأعـلام أميــر الـمـؤمـنـيـن فـي الحديث حافظ العصر [شذرات الذہب 270/7]
کہا جاتا ہے کہ العراقی، اتقی الفاس، البرہان الحلمی اور السخاوی وغیر ہم نے ان کی تعریف کی ہے۔ (ملاحظہ ہو تر جمعہ ابن حجر مطبوعہ مع المطالب العالیہ ج1 ص ک)
الحاکم، ابن قیم اور ابن حجر نے متفقہ طور پر اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔
حاکم سے (لے کر) ابن حجر تک کسی ایک محدث یا امام نے بھی اس حدیث کو صحیح نہیں کہا۔ حدیث کی تصحیح و تضعیف میں صرف محدثین کا قول ہی حجت ہے۔
(ثقة بالا جماع) عبد الرحمن بن مہدی نے کہا: معرفت حدیث الہام ہے۔
ابن نمیر نے کہا: ”ابن مہدی نے سچ کہا ہے۔ اگر میں ان سے پوچھتا کہ آپ نے یہ بات کہاں سے لی ہے تو ان کے پاس جواب نہ ہوتا۔“
(علل الحدیث لابن ابی حاتم ج 1 ص 9، وسندہ صحیح)
یہاں الہام سے مراد خاص پیشہ ورانہ تجربہ ہے، جس کی بدولت ایک جوہری وصراف فی البدیہ طور پر جو ہر یا زیورات کے بارے میں فیصلہ کر دیتا ہے کہ یہ اصلی ہیں یا جعلی۔ اس سے صوفیہ و مبتدعین کا الہام و کشف مراد نہیں جس سے وہ ”غیب کی خبریں“ اور قصص مکذوبہ لاتے ہیں، اس بات کو خوب سمجھ لیں۔
ابو حاتم نے کہا:
مثل معرفة الحديث كمثل فص ثمنه مائة دينار وآخر مثله على لونه ثمنه عشر دراهم
حدیث کی پہچان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک نگینہ ہے جس کی قیمت سو دینار ہے اور اسی جیسا اس کے رنگ پر ایک دوسرا نگینہ ہے جس کی قیمت دس درہم ہے۔
علل الحديث 1/9
امام ابو حاتم نے کچھ روایات کو کذب و باطل اور (کچھ کو) صحیح کہا اور دلیل نہ بتا سکے۔ ابو زرعہ نے انھی روایات کو باطل و کذب اور صحیح کہا تو سائل بڑا حیران ہوا۔ یہ پہچان ایسی ہے جیسے ایک جوہری بچے موتی اور جعلی موتی پہچان لیتا ہے۔
مفصل واقعہ کے لیے ملاحظہ فرمائیں: تقدمة الجرح والتعديل (ص351،349) غرض یہ کہ حدیث کی پہچان میں اس کے جو ہر یوں (محدثین) کا قول ہی حجت ہے۔
دوم:
امام بیہقی مصنف الخلافیات سے عبداللہ بن عون الخراز تک سند نا معلوم ہے۔ عبداللہ بن عون الخر از 232 ھ کو فوت ہوئے۔ [تاریخ بغداده 36/1 و تقریب التہذیب: 3520]
امام بیہقی 382 ھ کو پیدا ہوئے۔ [الانساب للسمعانی 1/ 439 سیر اعلام النبلاء 164/18]
اگر کہا جائے کہ اسے بقول مغلطائی، امام بیہقی نے الخلافیات میں ”محمد بن غالب عن أحمد بن محمد البرقي عن عبدالله بن عون الخراز“ سے روایت کیا ہے۔ (کمانی / ماتمس اليه الحاجة لمن يطالع سنن ابن ماجہ تصنیف محمد عبد الرشید نعمانی دیو بندی ص 48) تو جواب یہ ہے:
➊ مغلطائی بن قبیح الکبری کی عدالت نا معلوم ہے۔ بعض علماء نے اس کے اوہام شنیعہ اور سو فہم کی نشان دہی کی ہے۔ بعض شیوخ سے اس نے سماع کا دعوی کیا مگر کبار علماء نے اس کے دعوی کی تردید کی۔ (ملاحظہ ہولسان المیزان 74۔72/6)
ابن فہد المکی نے لحظ الالحاظ بذيل طبقات الحفاظ صفحہ 133 پر کہا: مغلطائي بن قليج بن عبدالله البكجري الحنفي اور صفحہ 136 پر کہا: وتكلم فيه الجهابذة من الحفاظ لأجل ذلك ببراهين واضحة
مختصر یہ کہ اس متکلم فیہ، صاحب اوہام شنیعہ ہی الفہم اور غیر موثق شخص کی نقل احادیث متواترہ کے مقابلے میں مردود ہے۔
➋ محمد بن غالب اگر تمتام ہیں تو 283 ھ کو فوت ہوئے۔ [تاریخ بغداد 146/3]
یعنی امام بیہقی کی ولادت سے 101 سال پہلے فوت ہوئے۔
لہذا یہ منقطع روایت مردود ہے۔
سوم:
شیخ الاسلام امام دارقطنی رحمہ الله نے ایک کتاب ”غرائب حدیث مالک“ لکھی ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے ہر قسم کی (موضوع و باطل وغیرہ) روایات بھی اکٹھی کی ہیں مگر وہ اپنی اس کتاب میں مغلطائی بجری کی روایت نہیں لائے ہیں۔
(ملاحظہ ہو نصب الرایة للزیلعی 404/1)
اس سے معلوم ہوا کہ یہ روایت امام دار قطنی کے بعد وضع کر کے محمد بن غالب کے سر تھوپ دی گئی ہے۔