ترک رفع یدین پر آصف دیوبندی کی کتاب کا جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

آصف دیوبندی اور آل دیوبند کی شکست فاش

الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله الأمين و رضي الله عن أصحابه و أزواجه و آله أجمعين و رحمة الله على من تبعهم باحسان إلى يوم الدين ، أما بعد :
اہل سنت یعنی اہل حدیث کا یہ دعوی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے تھے اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے تو رفع یدین کرتے تھے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے سمع الله لمن حمده کہتے تو رفع یدین کرتے تھے۔
اور اسی پر تمام اہل حدیث کا عمل ہے۔ والحمد لله
اس دعوے کی دلیل کے لیے دیکھیے صحیح بخاری (باب رفع اليدين إذا كبر و إذا ركع و إذا رفع ح736)
امیر المومنین فی الحدیث و امام الدنیا فی فقہ الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ (متوفی 256ھ) نے رفع یدین کے ثبوت و دفاع پر اپنی مشہور کتاب جزء رفع الیدین لکھی ہے۔
تنبیہ : یہ دعوی ہر نماز (مثلاً ایک رکعت نماز وتر ، دورکعت نماز فجر ، تین رکعت نماز مغرب، چار رکعت نماز ظہر و عصر وعشاء اور نو رکعت صلوۃ اللیل وغیرہ سب) پر فٹ اور جاری وساری ہے۔
مذکورہ تین مقامات کے علاوہ جس مقام پر (مثلاً چار رکعتوں والی نماز میں دورکعتیں پڑھنے کے بعد اٹھ کر) رفع یدین ثابت ہے تو اس پر بھی عمل کرنا چاہیے اور جس مقام پر رفع یدین ثابت نہیں یا اس کی صریح صحیح نفی موجود ہے تو وہاں رفع یدین نہیں کرنا چاہیے۔
اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ آصف احمد دیوبندی حیاتی نے ”سنت رسول الثقلین صلی اللہ علیہ وسلم ترک رفع الیدین ترک رفع الیدین پر 327 صحیح احادیث و آثار کا مجموعہ“ لکھ کر ایک کتاب شائع کی ہے اور اسے کسی دیوبندی ”مفتی“ محمد حسن (؟) نے پسند فرمایا ہے۔
فائدہ: آل دیوبند، آل بریلی اور حنفیہ کے نزدیک معتبر کتاب فتاوی عالمگیری میں لکھا ہوا ہے: أجمع الفقهاء على أن المفتي يجب أن يكون من أهل الاجتهاد فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ مفتی کا اہل اجتہاد میں سے ہونا واجب (ضروری) ہے۔ (الفتاوی الہندیہ 3/308)
یعنی مفتی ہونے کے لیے مجتہد ہونا ضروری ہے اور امین اوکاڑوی دیوبند نے صاف لکھا ہے: خیر القرون کے بعد اجتہاد کا دروازہ بھی بند ہو گیا اب صرف اور صرف تقلید رہ گئی۔ (دیکھیے الکلام المفید کی تقریظ ص س ، اور تجلیات صفدر 412/3)
تجلیات صفدر میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ اب اجتہاد کی راہ ایسی بند ہوئی کہ اگر آج کوئی اجتہاد کا دعویٰ لے کر اٹھے تو اس کا دعوی اس کے منہ پر مار دیا جائے۔ (44/5)
ثابت ہوا کہ کوئی دیوبندی بھی مفتی نہیں ، کیونکہ کوئی دیوبندی بھی مجتہد نہیں ، لہذا آل دیوبند کو اپنے لیے مفتی کا لقب کبھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
آصف صاحب کے چہیتے عبدالغفار دیوبندی نے لکھا ہے: جناب زبیر علی زئی نے تو نام نہاد اہلحدیث ہونے کا دعوی و عمل بھی مکمل نہیں لکھا۔ کیونکہ غیر مقلدین چار رکعات نماز میں چار مقامات پر رفع الیدین کرتے ہیں جو دس مرتبہ بنتی ہے۔ اور علی زئی نے تین مقام کا یہاں ذکر کیا ہے اور چوتھے مقام ”اذا قام من الركعتين“ کی رفع الیدین کا اپنے دعوئی و عمل کو اس مقام پر ذکر نہ کرنا عجیب طفلانہ حرکت ہے یا بیہوش ہونے کی دلیل ہے۔ (آصف کی کتاب ص 16)
عرض ہے کہ ہر نماز چار رکعتوں والی نہیں ہوتی بلکہ فجر کی نماز دورکعتیں مغرب کی نماز تین رکعتیں اور وتر کی نماز ایک رکعت بھی ہوتی ہیں ، لہذا اوکاڑوی کی اندھی تقلید میں چار رکعتوں کی رٹ لگانا کون سی حرکت ہے اور کیا ہونے کی دلیل ہے؟!
کیا آل دیوبند میں سے آصفی حضرات صبح کی فرض نماز چار رکعتیں پڑھتے ہیں اور اگر نہیں تو پھر اس اعتراض میں کوئی وزن نہیں ہے۔
ہمارا دعویٰ اور عمل ہماری ہر نماز پر فٹ ہے۔ والحمد لله
آصف صاحب نے اپنے چہیتے عبد الغفار دیوبندی کی چھتری ”تلے“ اپنی اس کتاب میں” پہلی حدیث پہلی حالت سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت“ کے عنوان سے بحوالہ شرح مشکل الآثار للطحاوی (ج 2 ص 20 رقم الحدیث 24) شائع کی ہے، طرح التثریب للعراقی کا حوالہ بھی دیا ہے اور ابن القطان (الفاسی المغربی) سے اس کا صحیح ہونا بھی نقل کیا ہے۔ (ص 17)
آصف صاحب کے چہیتے کی پیش کردہ یہ روایت شاذ ہے۔
➊ خود طحاوی حنفی نے لکھا ہے: و كان هذا الحديث من رواية نافع شاذا لما رواه عبيد الله اور یہ حدیث نافع کی روایت سے شاذ تھی، جو عبید اللہ نے روایت کیا ہے۔ (شرح مشکل الآثار ج 15 ص 47 ح 5831، تحفۃ الاخیار ج 2 ص 20 ح 24)
اس جرح کو آصف صاحب نے چھپا لیا ہے۔
جس روایت کا محدثین کرام سے متفقہ طور پر یا اصول حدیث کی رُو سے شاذ ہونا ثابت ہو جائے تو وہ روایت مردود ہوتی ہے۔ (مثلاً دیکھیے تیسیر مصطلح الحدیث ص 119)
آل دیوبند کی پسندیدہ کتاب ”علوم الحدیث“ میں محمد عبید اللہ الاسعدی نے لکھا ہے:
”شاذ مردود ہے اور محفوظ مقبول“ (ص190)
اس کتاب پر حبیب الرحمن اعظمی دیوبندی کی نظر ثانی و تقریظ ہے، نیز عبدالرشید نعمانی دیوبندی نے بھی اس کی تائید کر رکھی ہے۔
محمد یوسف لدھیانوی دیوبندی نے ایک دیوبندی اصول لکھا ہے:
ان وجوہ کے پیش نظر سنت ثابتہ وہی ہے جس پر اکابر صحابہ کرام و تابعین کا تعامل رہا۔ اور جو روایت ان کے تعامل کے خلاف ہو وہ یا تو منسوخ کہلائے گی یا اس میں تاویل کی ضرورت ہو گی۔ ایسی روایات جو تعامل سلف کے خلاف ہوں صدر اول میں شاذ شمار کی جاتی تھیں۔ اور جس طرح متاخرین محدثین کی اصطلاحی شاذ روایت حجت نہیں۔ اسی طرح متقدمین کے نزدیک ایسی شاذ روایات حجت نہیں تھیں۔ (اختلاف امت اور صراط مستقیم حصہ دوم ص 32 ، دوسرا نسخه ص 43)
امین اوکاڑوی دیوبندی نے ایک حدیث کے بارے میں لکھا ہے:
حدیث کی صحت کے لیے صرف راویوں کا ثقہ ہونا کافی نہیں بلکہ شذوذ اور علت سے سلامتی بھی شرط ہے، اس حدیث کے ضعف کی بنیادی وجوہ دو ہیں:
● یہ روایت شاذ ہے کہ متواتر احادیث کے خلاف ہے ● معلول ہے کہ ظاہر قرآن پاک کے خلاف ہے۔ ایسی حدیث قابل عمل نہیں ہوتی۔ (تجلیات صفدر ج 2 ص 175)
اوکاڑوی نے مزید لکھا ہے:
مذہب حنفی جو ظاہر الروایت ہے جس پر ہر جگہ عمل ہے اس کے خلاف شاذ روایت بیان کی ، یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ عیسائی، یہودی، رافضی متواتر قرآن پاک کے متعلق وسوسہ ڈالنے کے لیے شاذ قراءتوں سے تحریف قرآن ثابت کر کے عوام اہل اسلام کے دلوں میں وسوسے ڈالا کرتے ہیں۔ (تجلیات صفدر ج 5 ص 191)
اس حوالے سے ظاہر ہے کہ ”امین اوکاڑوی کے نزدیک“ آصف لاہوری دیوبندی نے عیسائیوں، یہودیوں اور رافضیوں کی طرح استدلال کر کے اہل اسلام کے دلوں میں وسوسہ ڈالنے کے لیے شاذ روایت پیش کر دی ہے اور شاذ روایات کو اپنانا اپنا مشن بنالیاہے۔ (دیکھیے تجلیات صفدر ج 5 ص 122)
امین اوکاڑوی نے اپنی مرضی کے خلاف ایک روایت کے بارے میں لکھا ہے:
تو وہ روایت مخالفت ثقات کی وجہ سے خود شاذ و مردود ہوئی۔ (تجلیات صفدر ج 2 ص 381)
سرفراز خان صفدر دیوبندی گکھڑوی کٹر منگی نے اپنی مرضی کے خلاف ایک عبارت کے بارے میں فرمایا ہے:
جب عام اور متدوال نسخوں میں یہ عبارت نہیں تو شاذ اور غیر مطبوعہ نسخوں کا کیا اعتبار ہوسکتا ہے؟ (خزائن السنن ص 347 حصہ دوم ص 97)
انگریزی دور میں (1857م کے بعد) پیدا ہو جانے والے دیوبندی فرقے کا عجیب طریقہ ہے کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی متفق علیہ احادیث کے مقابلے میں شاذ ، مدلس ، ضعیف اور مردود روایات پیش کرتے ہیں اور جب اپنی باری آئے تو شاذ کا دفاع شروع کر دیتے ہیں۔ والله من ورائهم محيط
➋ حافظ عراقی نے اس روایت کے بعد لکھا ہے: و ذكر الطحاوي أن هذه الرواية شاذة وصححها ابن القطان (طرح التثريب في شرح التقريب 262/2)
اس جرح کو بھی آصف صاحب نے چھپایا ہے۔
➌ حافظ ابن حجر العسقلانی نے لکھا ہے: و هذه رواية شاذة اور یہ روایت شاذ ہے۔ (فتح الباری 223/2 تحت ح 739)
ساتویں صدی کے ابن القطان الفاسی (متوفی 628ھ) نے اس روایت کو صراحتاً صحیح نہیں لکھا، لیکن ”قد صح فيهما الرفع من حديث ابن عباس و ابن عمر ومالك بن الحويرث“ لکھا ہے۔ (بیان الوهم والایہام ج 5 ص 612)
اس عبارت میں ابن القطان کو تین اوہام ہوئے ہیں:
⟐ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب روایت میں ابو سہل نضر بن کثیر الازدی العابد راوی ضعیف ہے۔ (دیکھیے تقریب التہذیب: 7147 وکتب الرجال)
⟐ طحاوی والی روایت بقول طحاوی شاذ ہے اور اصول حدیث کا مشہور مسئلہ ہے کہ شاذ ضعیف ہوتی ہے، لہذا یہ روایت صحیح کس طرح ہوئی؟!
⟐ سیدنا مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب روایت میں قتادہ مدلس ہیں اور روایت عن سے ہے۔ اصول حدیث کا مشہور مسئلہ ہے کہ غیر صحیحین میں مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ (مثلاً دیکھیے سرفراز خان صفدر دیوبندی کی دفائن السفن مقدمہ خزائن السنن ص1)
تنبیہ: ابن القطان نے قتادہ کی روایت مذکورہ میں ان کا شاگرد شعبہ ظاہر کیا ہے، حالانکہ محمد یوسف بنوری دیوبندی نے صاف لکھا ہے:
وقع فى نسخة النسائى المطبوعة بالهند شعبة عن قتادة بدل سعيد عن قتادة وهو تصحيف صرح عليه شيخنا أيضا فى نيل الفرقدين
ہند (و پاکستان) میں مطبوعہ نسائی کے نسخے میں سعید عن قتادہ کے بدلے میں شعبہ عن قتادہ چھپ گیا ہے اور یہ تصحیف (غلطی) ہے، ہمارے استاد (انور شاہ کاشمیری دیوبندی) نے بھی نیل الفرقدین میں اس کی صراحت کی ہے۔ (معارف السنن للبنوری ج 2 ص 456)
آصف صاحب نے طحاوی کے جس نسخے کا حوالہ دیا ہے، اس کے حاشیے میں بھی لکھا ہوا ہے کہ رجاله ثقات لكن هذه الرواية شاذة كما سيذكر الطحاوي
اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن یہ روایت شاذ ہے، جیسا کہ طحاوی (عنقریب) بیان کریں گے۔ (تحفۃ الاخیار ج 2 ص 20 تحت ح 24)
بطور اعلان اور اطلاع خاص و عام عرض ہے کہ سجدوں کے دوران میں ، سجدہ کرتے اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت حالت سجود میں رفع یدین کرنا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) ثابت نہیں ہے۔ (دلائل کے لیے دیکھیے میری کتاب نور العینین ص189-194)
سجدوں میں رفع یدین کی ضعیف و غیر صریح روایات کے مقابلے میں صحیح بخاری میں لکھا ہوا ہے: وكان لا يفعل ذلك فى السجود اور آپ یہ کام (رفع یدین) سجدوں میں نہیں کرتے تھے۔ (ح735)
ولا يفعل ذلك حين يسجد و لا حين يرفع رأسه من السجود اور آپ یہ کام (رفع یدین) سجدہ کرتے وقت نہیں کرتے تھے اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت نہیں کرتے تھے۔ (ح738)
آصف دیوبندی کے چہیتے نے ”بخاری و مسلم کے راویوں پر غیر مقلدین کی جرح“ کا عنوان لکھ کر درج ذیل نام گنوائے ہیں:
سفیان ثوری ، قتادہ ، سعید بن ابی عروبہ، یزید بن ابی زیاد ،حمید الطویل ، ابوالزبیر المکی ، ابراہیم، ابوبکر بن عیاش، اسماعیل بن ابی خالد، حکم بن عتیبہ ، اور حفص بن غیاث۔ (آصف کی کتاب ص 23-25)
ان مذکورہ راویوں میں ابوبکر بن عیاش راقم الحروف کی تحقیق ثانی میں صدوق حسن الحدیث تھے اور صحیح مسلم میں متابعات و شواہد کا راوی یزید بن ابی زیاد دستی طور پر جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔ (دیکھیے نور العینین ص 168-145،170-146)
باقی راویوں کا ثقہ و صادق ہونے کے بعد مدلس ہونا بخاری و مسلم کے راویوں پر جرح نہیں اور اب دوسرا رخ پیش خدمت ہے:
➊ سرفراز خان صفدر دیوبندی نے صحیحین کے بنیادی راوی امام ابو قلابہ الشامی رحمہ اللہ کے بارے میں غضب کا مدلس لکھا ہے۔ (احسن الکلام ج 2 ص 114، دوسرا نسخہ ج 2 ص 127)
سفیان ثوری کے بارے میں بحوالہ تقریب ربما دلس کے الفاظ لکھے ہیں۔ (خزائن السنن ج 2 ص 77)
امین اوکاڑوی دیوبندی نے سفیان ثوری کو مدلس لکھا ہے۔ (تجلیات صفدر ج 5 ص 470 فقره: 87)
➋ ۔ ➌ امین اوکاڑوی نے ایک روایت کے بارے میں لکھا ہے:
اولاً تو یہ سند سخت ضعیف ہے کیونکہ سند میں سعید بن ابی عروبہ مختلط ہے اور قتادہ مدلس ہے۔ نہ تحدیث ثابت ہے اور نہ ہی متابعت (جزء رفع الیدین ترجمہ و تشریح اوکاڑوی ص 289 ح 29 تا 31)
➍ سرفراز صفدر کے استاد عبدالقدیر دیوبندی حضروی نے لکھا ہے:
”اور حضرت زہری رحمہ اللہ مدلس ہیں“ (تدقیق الکلام ج 2 ص 131)
امین اوکاڑوی نے کہا: ابن شہاب مدلس ہے اور عن سے روایت کر رہا ہے۔ (فتوحات صفدر ج 2 ص 256)
امین اوکاڑوی نے ایک روایت کے بارے میں لکھا ہے: اور یہ بھی صحیح نہیں کیونکہ اول تو اس میں زہری کا عنعنہ ہے۔ (جزء القراءة للبخاری، ترجمہ تشریح امین اوکاڑوی ص 21 تحت ح1)
➎ یزید بن ابی زیاد جو صحیح مسلم کے اصول کا راوی نہیں بلکہ متابعات و شواہد کا راوی ہے، اس کے بارے میں محمد الیاس فیصل دیوبندی نے لکھا ہے:
● زیلعی فرماتے ہیں کہ اس کی سند میں یزید بن ابی زیاد ہے اور وہ ضعیف ہے۔
● حافظ بن حجر تقریب میں فرماتے ہیں کہ ضعیف ہے بڑھاپے میں اس کی حالت بدل گئی تھی اور وہ شیعہ تھا۔ (نماز پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ص 85)
یہ کتاب آل دیوبند اور الیاس گھمن کی پسندیدہ ہے۔ (دیکھیے فرقہ اہلحدیث پاک وہند کا تحقیقی جائزہ ص 395)
➏ حمید الطویل کے بارے میں امین اوکاڑوی نے کہا: صرف حمید الطویل اس کو مرفوع کرتا ہے جو مدلس ہے اور عن سے روایت کر رہا ہے۔ (تجلیات صفدر ج 2 ص 279)
➐ ابوالزبیر المکی کی ایک روایت کے بارے میں امین اوکاڑوی نے لکھا ہے:
یہ حدیث سنداً (سند کے اعتبار سے) ضعیف ہے کیونکہ ابو زبیر مدلس ہے اور عن سے روایت کر رہا ہے۔ (جزء رفع الیدین ترجمہ و تشریح امین اوکاڑوی ص 318 تحت ح56)
➑ ابراہیم بن یزید نخعی کو حاکم اور سیوطی وغیرہما نے بھی مدلس قرار دیا ہے۔ (دیکھیے معرفۃ علوم الحدیث ص 108، اسماء من عرف بالتدليس للسيوطي :1)
عبد القدیر دیوبندی حضروی نے حافظ ابن حجر کے نزدیک طبقہ ثانیہ کے مدلس امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کے بارے میں لکھا ہے: اس روایت کا راوی سفیان بن عیینہ بھی مدلس ہے۔ (تدقیق الکلام ج 2 ص 131)
➒ ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ کے بارے میں راقم الحروف کا اعلان رجوع چھپ چکا ہے۔ (دیکھیے نور العینین ص 168-169)
تنبیہ:
امام ابوبکر بن عیاش کے صدوق حسن الحدیث ہونے کے باوجود ان کی ترک رفع یدین والی خاص روایت باطل اور وہم ہے جیسا کہ امام احمد بن حنبل اور امام ابن معین وغیرہما کی تحقیقات سے ثابت ہے اور خاص و صریح دلیل عام و غیر صریح دلائل پر مقدم ہوتی ہے۔
➓ امام اسماعیل بن ابی خالد کے بارے میں سرفراز خان دیوبندی نے لکھا ہے: ”اور یہ صاحب مدلس بھی تھے۔ “(احسن الکلام ج 2 ص 135 مطبع دوم)
یاد رہے کہ یہ عبارت بعد والے نسخوں میں چپکے سے بغیر کسی اعلان رجوع و توبہ کے نکال دی گئی ہے۔ (مثلاً دیکھیے طبع جون 2006ء ج 2 ص 148)
⓫ ۔ ⓬ الحکم بن عتیبہ اور حفص بن غیاث دونوں کو سیوطی نے مدلسین میں ذکر کیا۔ (اسماء من عرف بالتدلیس: 14،15)
تنبیہ:
آل دیوبند کے نزدیک سیوطی کا بہت بڑا مقام ہے، بلکہ قافلہ باطل میں ”امام سیوطی“ لکھا ہوا ہے۔ (جلد 5 شماره 3 ص 22، جولائی تا ستمبر 2011ء، جلد 5 شماره 4 ص33، اکتوبر تا دسمبر 2011ء)
محدثین اور آل تقلید کے سابقہ حوالوں کے باوجود آصف صاحب کے چہیتے کا یہ کہنا:
بخاری و مسلم کے راویوں پر ”غیر مقلدین کی جرح“ کوئی معنی نہیں رکھتا اور تدلیس کا اعتراض رادی کی ذات و عدالت پر جرح نہیں بلکہ اس کی معنعن روایت پر جرح ہوتی ہے، بشرطی کہ یہ روایت صحیحین میں نہ ہو اور اس کے مقابلے میں کوئی خاص دلیل نہ ہو۔
آصف صاحب کے چہیتے اور آل دیوبند کو چاہیے کہ دوغلی پالیسی چھوڑ دیں اور اپنی چار پائیوں کے نیچے ذرہ اٹھی پھیر لیں۔
آصف لاہوری دیوبندی کے چہیتے عبد الغفار دیوبندی نے بغیر کسی صحیح سند کے لکھا ہے: ترک رفع الیدین بعد الافتتاح پر 1500 صحابہ سے زائد عامل تھے۔ (ص 25)
اس کا جواب یہ ہے کہ آصف کی یہ بات بالکل جھوٹ ہے اور اس کے مقابلے میں امام بخاری رحمہ اللہ کا اعلان درج ذیل ہے:
کسی صحابی سے بھی رفع الیدین کا نہ کرنا ثابت نہیں ہے۔( جزء رفع الیدین: 76،40، الجموع للنووی 3/405)