ترک رفع یدین اور علماء
آخر میں انوار خورشید صاحب نے چند علماء کے حوالے پیش کیے ہیں جن سے ترک رفع یدین مروی ہے:
➊ سفیان ثوری ➋ اسحاق بن ابی اسرائیل ➌ امام ابو حنیفہ ➍ امام مالک ➎ امام نووی ➏اہل مدینہ ➐ اہل کوفہ ➑ اجماع فقہاء حالانکہ ان اقوال میں سے کوئی ایک قول بھی ثابت نہیں ہے سوائے اسحاق بن ابی اسرائیل یا سفیان ثوری کے۔

① امام ترمذی (جو کہ سفیان ثوری کی وفات کے بہت بعد پیدا ہوئے) نے یہاں سند بیان نہیں کی۔ اگر کتاب العلل کی عبارت کو مد نظر رکھا جائے تو سفیان ثوری رحمہ اللہ کا یہ قول مرفوع احادیث اور آثار صحابہ کے مقابلے میں مردود ہے۔

② اسحاق بن ابی اسرائیل اگر چہ صدوق راوی ہے لیکن مسلمانوں کے بڑے اماموں میں سے نہیں ہے۔ امام بغوی کہتے ہیں: كان ثقة مامونا إلا أنه كان قليل العقل امام ابو زرعہ نے کہا: عندي أنه لا يكذب وحدث بحديث منكر امام احمد نے کہا واقفي مشئوم إلا أنه صاحب حديث كيس [تہذیب التہذیب 196/1]
ایک قلیل العقل (کم عقل) شخص کا کوئی کام کرنا یا نہ کرنا دین اسلام میں کیا وزن رکھتا ہے؟

③ امام ابوحنیفہ کے قول کا راوی محمد بن الحسن الشیبانی ہے۔ اس کے بارے میں امام یحیی بن معین نے اپنی تاریخ (ج 2 ترجمہ 1770) میں کہا ہے ليس بشئ، بلکہ ان کا ایک دوسرا قول یہ ہے کہ جهمي كذاب [کتاب الضعفاء للعقیلی 52/4 وسندہ صحیح]
(لہذا ایسے شخص کی نقل کا محدثین کے نزدیک کیا مقام ہو سکتا ہے؟) اور اگر اس نقل کو صحیح بھی تسلیم کیا جائے تو بھی دیوبندی کو مفید نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں وتر اور عیدین کی تخصیص موجود نہیں۔ جب امام ابوحنیفہ (بشرط صحت) نماز میں کسی جگہ بھی رفع یدین نہ کرنے کے قائل و فاعل تھے تو پھر ان کا نام لینے والے حضرات نماز وتر اور عیدین میں رفع الیدین کیوں کرتے ہیں؟

④ امام مالک کا حوالہ موطا سے نہیں بلکہ سحنون کی کتاب المدونۃ الکبری (دیکھئے: 2/1 کے ص 68 وفی نسخننا ص 71) سے رفع الیدین کی مخالفت میں نقل کیا گیا ہے۔ حالانکہ موطا امام مالک میں امام مالک رفع الیدین کرنے کی حدیث لائے ہیں۔ (روایت عبدالرحمن بن القاسم ص 113 ح 59) جب امام مالک کی اپنی کتاب میں رفع الیدین کا ثبوت موجود ہے تو پھر سحنون کے بے سند حوالہ کی کیا ضرورت ہے؟
سحنون کی اگرچہ بہت سے اماموں نے تعریف و توثیق کی ہے اور وہ صدوق راوی ہیں لیکن امام ابویعلی الخلیلی فرماتے ہیں:
لم يرض أهل الحديث حفظه
یعنی محدثین کرام اس کے حافظہ پر خوش نہیں ہوئے۔ [الارشاد: 269/1ت 112]
تنبیہ: کتاب المدونہ بحنون سے باسند صحیح ثابت نہیں ہے۔
امام مالک سے درج ذیل ثقہ راویوں نے رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع الیدین نقل کیا ہے:
➊ اشہب ➋ ولید بن مسلم ➌ سعید بن ابی مریم ➍ ابو مصعب ➎ ابن عبد الحکم ➏ ابن وہب رحمہم اللہ [حوالوں کے لیے دیکھئے نور العینین ص174]
بلکہ امام اشہب فرماتے ہیں کہ امام مالک وفات تک رفع الیدین کرتے رہے ہیں۔ (التمهيد 222/9)
امام ابوالعباس القرطبی رحمۃ اللہ علیہ، امام خطابی اور امام بغوی نے تصریح کی ہے کہ امام مالک کا آخری عمل رفع الیدین کرنا تھا۔ [طرح التثریب 254/1، معالم السفن 193/1 شرح النت 23/3] مزید تفصیل کے لیے دیکھئے نور العینین [ص174،173]

➎ امام نووی رفع الیدین کے قائل و فاعل ہیں لہذا ان کا قول دیوبندیہ کو مفید نہیں۔ دوسرے یہ کہ اگر تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کوئی شخص جان بوجھ کر چھوڑ دے تو اس «مستحب» کے ترک پر اس شخص پر کوئی گناہ ہے یا نہیں؟ چلئے بسم اللہ کیجئے تکبیر تحریمہ، وتر اور عیدین والا رفع الیدین اپنے گھر میں ختم کیجئے بعد میں فقہائے محدثین کے خلاف لکھیں!
دوسروں کو نصیحت، خود میاں فضیحت !!

⑥ اس دعوی کی بنیاد سحنون کی بلا سند روایت ہے جس کا شذوذ وضعف ہم بیان کر چکے ہیں لہذا یہ دعوی ختم۔

⑦ اہل کوفہ کے اجماع کے ثبوت کے لیے محمد بن نصر المروزی رحمہ اللہ کی اصل کتاب پیش کریں جو کہ انھوں نے رفع الیدین کے ثبوت پر لکھی تھی۔ اِدھر اُدھر کے بے سند حوالوں کی ضرورت نہیں ہے۔ امام ترمذی نے اجماع کا دعوی نہیں کیا بلکہ اثبات رفع الیدین کی حدیث کو صحیح کہا ہے اور متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین و ائمہ مسلمین رحمہم اللہ کا عمل قراردیا ہے۔
دوسرے یہ کہ یہ ثابت کریں کہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے اہل کوفہ کا اجماع شرعی حجت ہے!؟ ودونه خرط القتاد

⑧ انوار خورشید صاحب نے ابوبکر بن عیاش کی روایت پر بعض فقہاء کا اجماع بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ [حدیث اور اہلحدیث ص 418]
عرض ہے کہ بعض فقہاء کا یہ باطل اجماع اگر حجت ہے تو پھر دیوبندی حضرات وتر اور عیدین میں رفع یدین کیوں کرتے ہیں؟
متعدد صحابہ مثلاً ابوبکر، عمر، ابن عمر، ابن زبیر اور ابو ہریرہ وغیر ہم رضی اللہ عنہم اور متعدد تابعین مثلاً محمد بن سیرین، سالم، ابوبکر، وہب، عطاء اور سعید بن جبیر وغیر ہم رحمہم اللہ رفع الیدین کے قائل و فاعل تھے۔
کیا یہ سب فقہاء کی فہرست سے خارج ہیں؟
فقہاء کا یہ کیسا جعلی اجماع ہے جس سے بڑے بڑے صحابہ اور جلیل القدر تابعین و غیر ہم خارج ہیں۔ إنا لله وإنا إليه راجعون
اب ان چند ائمہ مسلمین کے حوالے پیش خدمت ہیں جو کہ رفع الیدین کے قائل و فاعل تھے:
ائمة مسلمين اور رفع اليدين
➊ امام مالک [ديكهئے سنن الترمذي 255]
➋ امام شافعی [کتاب الام ص 104 ج 1]
➌ امام احمد [مسائل احمد لابی داود السجستانی ص 23]
➍ امام علی بن عبد اللہ المدینی (نسخه من نسخ صحیح البخاری ج1 ص 102)
➎ امام اسحق بن راہویہ (معرفه السن والآثار للبیہقیی قلمی ج1ص 225 جزء رفع اليدين ص 29 ح 1]
➏ امام اوزاعی (التمهيد ج 9 ص 226)
➐ امام ابن المبارک (تاویل مختلف الحدیث ص 166 لا بن قتیبه واسنادہ صحیح)
➑ محمد بن یحیی الذہلی (صحیح ابن خزیمہ ج 1ص 298 ح 589)
➒ عبدالرحمن بن مهدی (جزء رفع الیدین 121 وسندہ صحیح)
➓ ابوالولید الطیالسی (المعجم لا بن الاعرابی ج 2 ص 411،410)
⓫ عبد اللہ بن الزبير الحمیدی [جزء رفع الیدین ص 28 ح 1]
⓬ یحیی بن معین (ايضاح 121)
⓭ علی بن الحسن [جزء رفع الیدین ص 27 ح 75]
⓮ عبد اللہ بن عثمان (ايضا ح 75)
⓯ یحیی بن یحیی (ايضاً: 75)
⓰ عیسی بن موسیٰ (ايضاً: 75)
⓱ کعب بن سعید (ايضا: 75)
⓲ محمد بن سلام (ايضاً: 75)
⓳ عبد اللہ بن محمد المسندی (ایضاً: 75]
(20)محمد بن نصر المروزی (مقدمة اختلاف العلماء ص 15)
(21)ابو احمد الحاکم (شعار اصحاب الحدیث ص 47)
(22)امام بخاری و غیر ہم رحمہم اللہ اجمعین۔
خلاصہ یہ کہ ائمہ مسلمین کی گنتی میں بھی اہل الرائے حضرات بہت پیچھے ہیں۔ ایک دو اماموں سے (غیر صریح) ترک رفع الیدین کا ثابت ہو جانا رفع الیدین کے منسوخ ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔
عجیب شرطیں:
دلائل کے میدان میں تہی دامن ہونے کے بعد انوار خورشید صاحب لکھتے ہیں:
کسی بھی صحیح و صریح حدیث سے ثابت نہیں کہ آپ نے رکوع والے رفع الیدین کا حکم دیا ہے۔“ [حدیث اور اہلحدیث ص 423]
خورشید صاحب اور ان کی پارٹی کی خدمت میں مودبانہ عرض ہے کہ اہل حدیث کے لیے صرف یہی کافی ہے کہ رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع الیدین صحیح بخاری، صحیح مسلم صحیح ابن خزیمہ صحیح ابن حبان اور صحیح ابن الجارود و غیرہ کتابوں میں متواتر اسانید کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور کسی ایک روایت میں بھی باسند صحیح اس کا ترک یا نسخ قطعا ثابت نہیں ہے۔ رہا یہ کہ حکم ثابت کریں تو یہ ایک مناظرانہ مغالطہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ دیوبندی و بریلوی حضرات کی یہ عادت ہے کہ اگر فعل ثابت ہو تو قول کا مطالبہ کرتے ہیں جیسا کہ مسئلہ رفع الیدین اور اگر قول ثابت ہو تو فعل کا مطالبہ کرتے ہیں جیسا کہ مسئلہ وتر (دیکھئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز ص 257) اگر قول و فعل دونوں ثابت ہوں (جیسے مسئلة إذا أقيمت الصلوة فلا صلاة إلا المكتوبة) تو آثار صحابہ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر اہل حدیث کتاب و سنت و آثار صحابہ بھی پیش کر دیں جیسے مسئلہ وتر تو یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ مگر ان (صحابہ کرام) کا اپنا اجتہاد تھا۔ جو احادیث مرفوعہ کثیرہ کے مقابلے میں حجت نہیں (رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز ص 259) یہ تلاعب بالدین نہیں تو اور کیا ہے؟
اس قسم کے خود ساختہ مطالبوں اور باطل شرطوں کی بنیاد پر دیو بندی و بریلوی حضرات کا یہ خیال ہے کہ وہ عامتہ المسلمین کو تحریک اہل حدیث کی کتاب و سنت کی دعوت سے دور ہٹا دیں گے حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ابھی تین چار دن پہلے کی بات ہے کہ ایک دیوبندی مولوی نے بعض نوجوانوں کو انوار خورشید صاحب کی کتاب ”حدیث اور اہلحدیث“ دی۔ دیو بندی نوجوان یہ کتاب اپنے گاؤں کے اہلِ حدیث عالم جناب رحمت الہی محمدی صاحب کے پاس لے آئے۔ یہ گاؤں جی ٹی روڈ گوندل سٹاپ ضلع (اٹک) کے قریب ہے اور اس کا نام” لنڈی“ (اعوان آباد) ہے۔ جب رحمت الہی محمدی صاحب نے ”حدیث اور اہلحدیث“ کے اندر پیش کردہ حوالوں میں انوار خورشید صاحب کی خیانتیں ثابت کر دیں تو تین نوجوان اہل حدیث ہو گئے اور علانیہ رفع الیدین کی سنت پر عمل شروع کر دیا۔ اللهم ثبت أقداهم ، آمين
ایک مکر وہ مغالطہ:
انوار خورشید صاحب نے جو ضعیف و موضوع یا صحیح غیر متعلق دلائل پیش کر کے لکھا ہے:
لیکن مندرجہ بالا احادیث و آثار اور اقوال ائمہ مجتہدین اور اجماع امت کے خلاف غیر مقلدین کا کہنا ہے کہ رکوع والا رفع الیدین سنت مؤکدہ سنت متواترہ بلکہ واجب بلکہ فرض ہے، نہ کرنے سے نماز ناقص ہو جاتی ہے بلکہ باطل ہو جاتی ہے۔ (حدیث اور اہلحدیث ص 424)
قارئین کرام!
آپ نے دیکھ لیا کہ انوار خورشید صاحب نے ضعیف و موضوع یا غیر متعلق احادیث اور اسی طرح ضعیف السند آثار اور غیر ثابت (سوائے معدودے چند) اقوال و افعال علماء پیش کئے ہیں۔ جبکہ ہم نے صحیح و متواتر مرفوع احادیث صحیح آثار صحابہ صحیح آثار تابعین اور صحیح و ثابت اقوال و افعال علماء پیش کئے ہیں۔ آپ خود فیصلہ کریں کہ حق کس طرف ہے؟
① رفع الیدین کا ثبوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر احادیث سے پیش کر دیا گیا ہے اور اس کا نسخ یا ترک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی میں کسی ایک دن کسی ایک نماز میں بلکہ کسی ایک رکعت میں بھی ثابت نہیں ہے۔ لہذا اگر اسے اہل حدیث علماء نے سنت مؤکدہ اور سنت متواترہ لکھا ہے تو اس میں ناراض ہونے کی کیا بات ہے؟
رفع الیدین کا سنت متواترہ ہونا خود دیوبندی علماء نے بھی تسلیم کیا ہے۔
مثلاً انور شاہ کشمیری دیوبندی فرماتے ہیں:
وليعلم أن الرفع متواتر إسنادا وعملا لا يشك فيه ولم ينسخ ولا حرف منه [نيل الفرقدين ص 22]
یعنی یہ جاننا چاہئے کہ رفع الیدین بلحاظ سند و عمل متواتر ہے اس میں کوئی شک نہیں اور رفع الیدین منسوخ نہیں ہوا (بلکہ) اس کا ایک حرف (بھی) منسوخ نہیں ہوا۔ تقریباً یہی عبارت حاشیہ فیض الباری (255/2) معارف السنن للبنوری (459/2) میں بھی موجود ہے۔
انور شاہ صاحب کی یہ گواہی معمولی گواہی نہیں بلکہ فرقہ دیوبندیہ پر ہمیشہ کے لیے حجت قاطعہ اور البرھان العظیم ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک ”مولوی“ صاحب مذکور کا بہت بڑا مقام ہے۔ یہ مولوی صاحب وہی شخصیت ہیں جنھوں نے وتر والی حدیث کو ”قوي“ تسلیم کرنے کے بعد چودہ (14) سال اس کا جواب سوچنے میں لگا دیئے۔ (دیکھئے فیض الباری 375/2، العرف الشذی 107، معارف السنن 264/4، درس ترمذی 224/2)
امام حمیدی رحمہ اللہ وغیرہ رفع الیدین کو واجب کہتے ہیں جیسا کہ گزر چکا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ کسی شخص کے لیے رفع الیدین کا ترک کرنا حلال نہیں ہے۔ [طبقات الشافعیة الکبری للسکی: 242/1]
علامہ سبکی اس پر حاشیہ لکھتے ہیں: هذا صريح فى أنه يوجب ذلك یہ عبارت اس پر صریح دلیل ہے کہ امام شافعی رفع الیدین کو واجب سمجھتے ہیں (یاد رہے کہ محدثین کے نزدیک فرض اور واجب ایک ہی چیز کے دو نام ہیں)
یہ وہی سبکی ہیں جن کے بارے میں ”د پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم مونح “(پشتو) کا مصنف لکھتا ہے۔ ”شیخ الاسلام“ (ص 403]
امام احمد رحمہ اللہ بھی اس شخص کی نماز کو ناقص سمجھتے ہیں جو رفع الیدین نہیں کرتا۔ (مسائل احمد روایتہ ابی داود ص 23 المنہج الاحمد 159/1)
اس قسم کے حوالوں اور سنت صحیحہ متواترہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور صلوا كما رأيتموني أصلي کے حکم کی بنیاد پر اگر کسی اہل حدیث نے رفع الیدین کو واجب، فرض اور اس کے ترک کو نقصان صلوۃ وغیرہ لکھ دیا ہے تو ناراض ہونے کی کیا بات ہے؟
بعض غیر اہلحدیث علماء نے بھی بغیر کسی دلیل کے رفع الیدین کرنے والے کی نماز کو فاسد قرار دیا ہے۔ [دیکھئے معارف السنن 451/2]
انوار خورشید صاحب ان نام نہاد مفتیوں پر اپنا غصہ کیوں نہیں اتارتے؟
دوسرے یہ کہ انوار صاحب کا کہنا ”غیر مقلدین کا کہنا ہے“ الخ بہت بڑا مکر وہ مغالطہ ہے کیونکہ رفع الیدین کا سنت ہونا تمام شوافع اور حنابلہ تسلیم کرتے ہیں اور عملا بھی اس سنت متواترہ پر قائم و دائم ہیں۔ دراصل انوار خورشید صاحب یہ مغالطہ دینا چاہتے ہیں کہ رفع الیدین کا اثبات صرف اہل حدیث ”غیر مقلدین“ کا مسلک ہے اور بس!
ہم پوچھتے ہیں کہ کیا شوافع و حنابلہ بھی ”غیر مقلدین“ کی صف میں شامل ہیں؟ یہ وہی شوافع ہیں جن کے ساتھ حنفیوں نے رے اور اصبہان میں طویل جنگیں لڑی ہیں اور آخر میں شکست کو اپنے سینے سے لگایا ہے۔ [دیکھنے معجم البلدان 209/1 ، 117/3]