سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منسوب اثر
إبراهيم عن الأسود قال: رأيت عمر بن الخطاب يرفع يديه فى أول تكبيرة ثم لا يعود
ابراہیم عن اسود کی سند سے روایت ہے کہ میں نے (سیدنا )عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہ) کو دیکھا کہ وہ شروع تکبیر میں رفع الیدین کرتے پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے۔ [معانی الآثار للطحاوی 1/227]
امام ابو عبد اللہ الحاکم نیشاپوری نے اس روایت پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ روایت شاذ ہے، اس کے ساتھ حجت قائم نہیں ہوتی۔ صحیح احادیث میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع الیدین کرتے تھے۔ [نصب الرایۃ ج 1 ص 405 و البدر المنیر 501/3]
امام ابوزرعہ رازی نے الحسن بن عیاش کے مقابلے میں سفیان الثوری کی اس روایت کو اصح قرار دیا ہے جس میں پھر نہ کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ [اعلال الحدیث لابن ابی حاتم ج 1 ص 95]
ابن جوزی نے کہا کہ یہ اثر صحیح (ثابت) نہیں ہے۔ [البدر المنیر 501/3، لتحقیق فی اختلاف الحدیث ج 1 ص 1282 مع التنقیح]
امام ابوزرعہ، امام حاکم اور جمہور کی تحقیق امام طحاوی کی تحقیق پر مقدم ہے۔
دوسرے یہ کہ اس روایت میں ابراہیم نخعی کوفی مدلس ہیں۔ [طبقات المدلسین لابن حجر ص 28 رقم 35، جامع التحصیل فی احکام المراسیل للمحافظ صلاح الدین بن کیکلدی العلائی ص 104، معرفة علوم الحدیث للحاکم ص 108، المدلسین لابی زرعہ ابن العراقی (2) والمدلسین للسيوطي (1) التبین الحلمی (14)]
اور یہ روایت معنعن ہے۔
حدیث ابن مسعود کے تحت بیان کر دیا گیا ہے کہ مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ علامہ نووی نے کہا: والمدلس إذا عنعن لا يحتج به بالاتفاق اگر مدلس عن کے ساتھ روایت کرے تو وہ روایت بالاتفاق حجت نہیں ہوتی۔ [نصب الرایۃ ج 2 ص 34]
ایک علت یہ بھی ہے کہ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رفع الیدین نہ کرنے والے ہوتے تو ان کا جلیل القدر اور فقیہ بیٹا عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی رفع الیدین نہ کرتا، حالانکہ معاملہ برعکس ہے۔ ابن عمر رفع الیدین کرتے تھے بلکہ نہ کرنے والوں کو مارتے تھے لہذا یہ روایت صحیح نہیں ہے۔
ایک جواب یہ بھی ہے کہ اس روایت سے منکرین رفع یدین کا استدلال صحیح نہیں ہے۔ یہ لوگ قنوت، وتر اور عیدین میں رفع الیدین کرتے ہیں۔ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منسوب یہ اثر صحیح ہوتا تو پھر استدلال کیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے تکبیر تحریمہ کے بعد (قنوت، وتر اور عیدین) میں بھی رفع الیدین نہیں کیا ہے (!) تو پھر یہ لوگ کیوں کرتے ہیں؟ اگر قنوت وتر اور عیدین کی تخصیص دیگر دلائل سے ثابت ہے تو رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع الیدین کی تخصیص بھی دیگر دلائل سے ثابت ہے۔ منکرین رفع یدین کو چاہیے کہ کوئی ایسا صریح صحیح اثر پیش کریں جس میں صاف ہو کہ فلاں صحابی نے رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع الیدین نہیں کیا یا نہیں کرتے تھے۔ اصل تنازعہ تو رکوع والے رفع الیدین کا ہے۔ جب دعویٰ خاص ہے تو پھر دلیل بھی خاص ہونی چاہیے۔