سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منسوب اثر
أبو بكر بن عياش عن حصين عن مجاهد قال: صليت خلف ابن عمر رضي الله عنهما فلم يكن يرفع يديه إلا فى التكبيرة الأولى من الصلوة
مجاہد سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ صرف تکبیر اولیٰ میں ہاتھ اُٹھاتے تھے۔[معانی الآثار ج 1 ص 225، نصب الرایۃ ج 1 ص 409]
پہلا جواب:
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا: حديث أبى بكر عن حصين إنما هو توهم منه لا أصل له ابو بکر کی حصین سے روایت اس کا وہم ہے، اس روایت کی کوئی اصل نہیں ہے۔ [جزء رفع الیدین: 16 و نصب الرایۃ 1/392]
اس روایت پر امام ابن معین کی جرح خاص اور مفسر ہے۔ اس کے مقابلے میں منکرین رفع یدین لاکھ جتن کریں، یہ حدیث بہرحال باطل و مردود ہے۔ ابن معین کا مقام حدیث کے ابتدائی طالب علموں پر بھی پوشیدہ نہیں ہے۔
اس روایت کے بارے میں امام احمد بن حنبل نے فرمایا: رواه أبو بكر بن عياش عن حصين عن مجاهد عن ابن عمر وهو باطل اسے ابو بکر بن عیاش نے حصین عن مجاہد عن ابن عمر کی سند سے روایت کیا ہے اور یہ باطل ہے۔ [مسائل احمد روایت ابن ہانی ج 1 ص 50]
امام دارقطنی نے فرمایا: قاله أبو بكر بن عياش عن حصين وهو وهم منه أو من حصين [العلل ج 13 ص 16 اس 2902]
ائمہ حدیث نے ابوبکر بن عیاش کی اس روایت کو وہم و خطا بھی قرار دیا ہے، لہذا ان کی یہ روایت باطل و بے اصل ہے۔
تنبیہ بلیغ: راقم الحروف کی قدیم تحقیق یہ تھی کہ ابو بکر بن عیاش رحمہ اللہ جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہیں۔ بعد میں جب دوبارہ تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ تو جمہور محدثین کے نزدیک صدوق و موثق راوی ہیں لہذا میں نے اپنی سابقہ تحقیق سے علانیہ رجوع کیا۔ دیکھیے ماہنامہ الحدیث حضرو: 28 ص 54 (تحریر 22 ربیع الثانی 1427ھ)
ابوبکر بن عیاش کی توثیق و تقویت درج ذیل علماء سے ثابت ہے:
① البخاری [أخرج عنه في صحيحه]
② ابن خزیمہ [أخرج عنه في صحيحه]
③ الترمذی [قال فی حدیث (456): «حدیث حسن صحیح»]
④ حاکم [المستدرک 200/3 ح 4903]
⑤ الذہبی [ و صحح له فی السیر 1/ 465]
⑥ الہیثمی [ دیکھئے مجمع الزوائد (180/9) کشف الاستار (2623) الاحسان ، طبعه جدیده (6970) واصحیحه (2197)]
⑦ ابن الجارود (المنتقی : 331)
⑧ الضياء المقدسی [ المختارة 114/2/225/1]
⑨ ابوعوانہ [مسند ابی عوانہ 117/4،186/3]
⑩ البوصیری (حسن له حد ث عن ابی اسحاق عن صلا عن عمار/ و صحح له الصحیۃ 1596)
⑪ العجلی ثقہ [ معرفت اثقات ]
⑫ ابوحاتم الرازی: ثقۃ (علل الحدیث : 2233)
⑬ احمد بن حنبل ثقة وربما غلط [العلل : 3155، اقوال احمد 194/4]
⑭ ابن المبارک (اثنی علیه) [الجرح والتعدیل 349/9 وسندہ صحیح]
⑮ عبدالرحمن بن مہدی (کان حدث عنہ) (ایضا و سندہ صحیح)
⑯ ابن عدی
⑰ یحییٰ بن معین [ تاریخ عثمان بن سعید الدارمی ]
⑱ مسلم [ روی عنہ فی مقدمہ صحیحہ ]
⑲ ابن الجوزي: وكان ثقة متشددا فى السنة إلا أنه ربما أخطأ فى الحديث (المنتظم 232/9)
⑳ یزید بن ہارون [ تاریخ بغداد 380/14]
(21) ابن عمار [ تاریخ بغداد 380/14]
(22) ابونعیم الاصبہانی [ ذكره في الأولياء وصحح له، انظر حلية الأولياء 313/8]
(23) البغوى ( صحح لہ ) [ شرح السنہ 396/6 ح 1835]
(24) ابن حبان
(25) ابن حجر العسقلانی (تقریب التہذیب) وغیر ہم
خلاصہ تحقیق: محدثین کرام کی صراحت کے مطابق ابوبکر بن عیاش کو جن روایات میں غلطیاں لگی ہیں، اخطاء و اوہام ہوئے ہیں، ان کو چھوڑ کر وہ باقی تمام روایات میں صدوق وحسن الحدیث ہیں۔ والحمد للہ
ابوبکر بن عیاش کی روایت ترک رفع الیدین کو یحییٰ بن معین اور احمد بن حنبل وغیرہما نے بے اصل اور باطل وغیرہ قرار دیا ہے لہذا یہ روایت ضعیف و مردود ہی ہے۔
دوسرا جواب:
ابوبکر بن عیاش آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے۔
[الكواكب النيرات في معرفة من اختلط من الرواة الثقات لابن الكيال ص 439-444، نصب الرایۃ 1/409، الانتباه بمعرفة من رمی بالاختلاط ص 26]
حافظ ابن حبان نے بھی کتاب الثقات میں اس کی تصریح کی ہے کہ ابن عیاش جب بڑی عمر کے ہوئے تو ان کا حافظہ خراب ہو گیا تھا۔ جب وہ روایت کرتے تو ان کو وہم ہو جاتا تھا۔ صحیح بات یہ ہے کہ جس بات میں انھیں وہم ہوا ہے اسے چھوڑ دیا جائے اور غیر وہم والی روایت میں اس سے حجت پکڑی جائے۔ [التہذیب ج 12 ص 39]
امام بخاری نے تفصیل سے بتایا ہے کہ قدیم زمانے میں ابوبکر بن عیاش اس روایت کو عن حصین عن ابراہیم عن ابن مسعود مرسل (منقطع) موقوف بیان کرتے تھے اور یہ بات محفوظ ہے۔ پہلی بات (یہ متنازعہ حدیث) خطاء فاحش ہے کیونکہ اس نے اس میں ابن عمر کے اصحاب کی مخالفت کی ہے۔ [نصب الرایۃ ج 1 ص 409]
امام بخاری کا یہ قول جرح مفسر ہے جو مندمل نہیں ہوسکتی۔ اب آپ حصین سے اس روایت کی تخریج ملاحظہ فرمائیں :

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ابو بکر بن عیاش نے آخری عمر میں حافظہ خراب ہونے کے بعد جو روایت بیان کی ہے اس میں انھوں نے بہت سے ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے، لہذا ان کی روایت شاذ ہوئی اور شاذ مردود کی ایک قسم ہے۔ اس وجہ سے ان کی اس روایت کو امام یحیی بن معین اور امام احمد وغیر ہما نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اس تفصیل کے باوجوداگر کوئی شخص اس حدیث کی صحت پر اصرار کرتا ہے تو اس کا علاج کسی دماغی ہسپتال میں کرانا چاہیے۔
◈ایک دوسری سند
محمد بن الحسن الشیبانی نے کہا:
أخبرنا محمد بن أبان بن صالح عن عبد العزيز بن حكيم قال: رأيت ابن عمر يرفع يديه حذاء أذنيه فى أول تكبيرة افتتاح الصلوة ولم يرفعهما فيما سوى ذلك
محمد بن ابان بن صالح نے عبدالعزیز بن حکیم سے روایت کیا کہ میں نے ابن عمر (رضی اللہ عنہ) کو دیکھا ہے وہ نماز کی تکبیر میں کانوں تک ہاتھ اُٹھاتے تھے اور اس کے علاوہ نہیں اُٹھاتے تھے۔ [موطا محمد بن الحسن الشیبانی ص92]
جواب:
یہ سند سخت ضعیف ہے۔
① محمد بن الحسن الشیبانی تلمیذ امام ابی حذیفہ سخت ضعیف ہے۔
جمہور محدثین نے اس پر جرح کی ہے۔ امام یحییٰ بن معین نے فرمایا: جهـمـي كـذاب (محمد بن الحسن الشیبانی ) جہمی کذاب ہے۔ (کتاب الضعفا ليل عفا للعقیلی 52/4 وسنده صحیح)
نسائی نے کہا: ”ضعیف“ [ جزء فی آخر كتاب الضعفاء والمتر وكين ص 266]
ابن عدی نے کہا : اہل حدیث ( محدثین کرام اور متبعین حدیث ) اس کی بیان کردہ حدیثوں سے بے نیاز ہیں ۔ [ الکامل 2184/6]
ابوزرعہ الرازی نے کہا: محمد بن الحسن جہمی تھا۔ (کتاب الضعفاء لابی زر ص570]
عمرو بن علی الفلاس نے کہا: ضعیف [ تاریخ بغداد 181/2 اوسندہ صحیح]
محمد بن الحسن الشیبانی پر تفصیلی جرح کے لئے دیکھئے میرا تحقیقی مضمون ”النصر الربانی فی ترجمہ محمد بن الحسن الشیبانی“ شائع شده در(ماہنامہ الحدیث حضرو :7 ص 11 تا 20)
② محمد بن ابان بن صالح الجعفی ضعیف راوی ہے۔ جمہور محدثین نے اس پر جرح کی ہے [ دیکھئے لسان المیزان 122/5]
امام نسائی نے کہا: ضعيف كوفي [كتاب الضعفاء والمتروكين :512]
امام بخاری نے کہا: وليس بالقوي [كتاب الضعفاء حقيقي :512]
غرض یہ سند بھی موضوع ، باطل اور مردود ہے۔
اس تحقیق سے امام بخاری کی یہ بات صحیح ثابت ہوئی کہ کسی ایک صحابی سے بھی ترک رفع الیدین ثابت نہیں ہے۔