مضمون کے اہم نکات
انوار خورشيد صاحب اور آثار صحابہ
قول نمبر ➊ :

اقول: محولہ بالا دونوں کتابوں (دار قطنی اور بیہقی) میں لکھا ہوا ہے:
تفرد به محمد بن جابر وكان ضعيفا (ایضاً) یعنی اس روایت میں محمد بن جابر کا تفرد ہے اور وہ ضعیف تھا۔ (اس محمد بن جابر کو جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے)
قول نمبر ➋ :

اقول: یہ من گھڑت روایت کا سانی حنفی نے بغیر کسی سند کے نقل کی ہے۔ دنیا میں حدیث کی کسی کتاب میں یہ روایت با سند موجود نہیں ہے۔ (فيما أعلم)
لہذا ایسی موضوع و من گھڑت روایات پیش کر کے اہل حدیث کو صحیح حدیث سے کس طرح ہٹایا جا سکتا ہے؟!
قول نمبر ➌ :

اقول: اس میں ابراہیم (نخعی) مدلس ہیں۔ [اسماء المدرسين للسیوطی ص 93 ت نمبر 1] اور عن سے روایت کر رہے ہیں لہذا یہ سند ضعیف ہے۔ مزید تحقیق کے لیے دیکھئے ص 163 ،164
خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے رفع الیدین کا اثبات مروی ہے۔ مسند الفاروق للحافظ ابن کثیر 164/1 تا 166 الجامع لاخلاق الراوی و آداب السامع 118/1 او غیر هما
قول نمبر ➍ :

اقول: ہمارے نسخہ میں امام بیہقی کی السنن الکبری کے ص80 (ج2) پر یہ روایت موجود ہے اور اس پر امام عثمان بن سعید الدارمی کی جرح بھی درج ہے۔ سفیان ثوری نے اس روایت کا انکار کیا اور امام بخاری وغیرہ نے ضعیف کہا ہے۔ (دیکھئے نور العینین ص161]
یہ روایت اور اس سے پہلے والی روایت دونوں اپنے مدعا پر واضح نہیں ہیں کیوں کہ ان میں قنوت اور عیدین والے رفع الیدین کی تخصیص موجود نہیں ہے۔
قول نمبر ➎ :

اقول: یہ روایت سخت منقطع ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ 32ھ یا 33ھ میں فوت ہوئے اور ابراہیم نخعی 37ھ کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ نیز دیکھئے ص 167 امام شافعی رحمہ اللہ نے اس سند پر مضبوط جرح کی ہے۔
قول نمبر ➏ :

اقول: اس روایت پر بحث حدیث نمبر 30 کے تحت گزر چکی ہے۔ اور صاف صاف یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع الیدین کے قائل و فاعل تھے۔
قول نمبر ➐ :

اقول: جابر جعفی (کذاب) اور محارب بن دثار (ثقہ) کی دونوں روایتیں رفع الیدین کرنے کی زبردست دلیلیں ہیں۔ رہا بعض شاگردوں کا تحصیل علم کے لیے دلیل کا پوچھنا تو یہ اعتراض کی دلیل نہیں ہے۔ خود سالم رحمہ اللہ وغیرہ سے باسند صحیح رفع الیدین کا کرنا ثابت ہے۔ لہذا جابر جعفی جیسے کذاب و غیر ثقہ راویوں کی روایت کی بنیاد پر امام ابن عمر رضی اللہ عنہما پر کیوں کر اعتراض ہو سکتا ہے اور اگر ہو بھی تو بات صحابی کی مانی جائے گی نہ کہ بعد میں آنے والے کسی شخص کی، جس کا قول و فعل بلکہ اس کی پوری ذات کسی صحابی کے قدموں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہے۔
قول نمبر ➑ :

اقول: قاری ابوبکر بن عیاش کی اس روایت کو انوار خورشید صاحب نے نمبر 1 اور نمبر 2 نمبر4 تین دفعہ بیان کیا ہے جبکہ روایت ایک ہی ہے۔ ہمارے مکتبہ میں معرفتہ السنن والآثار کا جو نسخہ موجود ہے (ط دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان) اس کی جلد نمبر 1 ص 556 پر یہ روایت موجود ہے۔ امام بیہقی نے اس پر امام بخاری کی جرح نقل کی ہے۔ امام بخاری کی یہ تحقیق ہے کہ ابوبکر بن عیاش نے یہ روایت اختلاط کے بعد بیان کی ہے۔ (ص 557 ایضا) امام ابن معین فرماتے ہیں کہ یہ روایت ابوبکر بن عیاش کا وہم ہے۔ اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ [جزء رفع الیدین ص 56 ح16]
اس قسم کی ضعیف روایات سے نسخ کشید کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اثبات رفع الیدین صحیح بخاری وغیرہ میں صحیح سندوں کے ساتھ ثابت ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔
قول نمبر ➒ :

اقول: موطا کے ہمارے نسخہ میں یہ روایت ص 94،93 پر موجود ہے۔ اس کی سند کا ایک راوی محمد بن ابان بن صالح ہے۔ جس کے بارے میں اسی موطا کے حاشیہ (التعلیق الممجد ص 74 حاشیہ نمبر 5) پر عبدالحئی لکھنوی صاحب لکھتے ہیں:
محمد بن أبان بن صالح .. وهو ممن ضعفه جمع من النقاد
یعنی محمد بن ابان بن صالح کو ناقدین حدیث کی ایک جماعت نے ضعیف کہا ہے۔
اس کے بعد انھوں نے محمد بن ابان مذکور پر ابو داود، ابن معین، بخاری اور نسائی وغیر ہم کی جرح نقل کی ہیں۔
قول نمبر ➓ :

اقول: اس روایت کے راوی میمون المکی کے بارے میں خلیل احمد سہارنپوری انبیٹھوی صاحب لکھتے ہیں: مجهول (بذل الحمود 411/3، ص 459)
اور فرماتے ہیں: في سنده عبد الله بن لهيعة وهو ضعيف
(ص 411) اس روایت میں مختلط کا اختلاط اور مدلس کا عنعنہ بھی موجود ہے۔ لہذا اس سے استدلال کرنا بڑی مذموم حرکت ہے۔
قول نمبر ⓫ :

اقول: اس روایت کی سند ضعیف اور مرسل ہے۔ جیسا کہ ص 9 حدیث نمبر 35 پر گزر چکا ہے۔ انوار خورشید صاحب کے پیش کردہ آثار صحابہ ختم ہوئے۔
ان آثار کے بارے میں امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ کا عام اعلان ہے:
”کسی صحابی سے بھی رفع الیدین کا نہ کرنا ثابت نہیں ہے۔“ (جزء رفع الیدین ص 110 ح 40 ص 152 ح 76، المجموع 405/3)
اب آپ کی خدمت میں ان صحابہ کرام کے نام مع حوالہ پیش کئے جاتے ہیں جو کہ رفع الیدین کے قائل و فاعل تھے۔
آثار صحابہ اور رفع الیدین کا اثبات
① ابن عمر رضی اللہ عنہما [صحیح بخاری 739]
② مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ (صحیح بخاری 737 و صحیح مسلم 391]
③ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ [سنن الدار قطنی 292/1 ح 1111 وسندہ صحیح]
④ عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما [السنن الکبری للبیہقی 73/2]
⑤ ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ [ ایضاً 73/2]
⑥ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ [جزء رفع الیدین للبخاری:22 وسندہ صحیح]
⑦ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما [مصنف ابن ابی شیبه ج 1ص 235 وسندہ صحیح]
⑧ انس رضی اللہ عنہ [جزء رفع الیدین: 20 وسندہ صحیح]
⑨ جابر رضی اللہ عنہ [مسند السراج:92 وسندہ حسن]
⑩ عمر رضی اللہ عنہ [مسند الفاروق:165/1،166 وسندہ حسن]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ (تابعی مشہور) فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم اجمعین) شروع نماز میں، رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع الیدین کرتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی 2/75) اس کی سند بالکل صحیح ہے۔
ان کے علاوہ اور بھی بہت سی روایات ہیں۔ دیکھئے جزء رفع الیدین وغیرہ لہذا ثابت ہوا کہ صحابہ کرام سے بھی رفع الیدین کا اثبات ہی ثابت ہے۔ نفی یا نسخ وغیرہ قطعاً ثابت نہیں ہے۔