ترجمہ سے ناواقف شخص اور ریکارڈ شدہ دم کی شرعی حیثیت

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ ارکان اسلام

ترجمہ سے جہالت میں دم اور ٹیپ ریکارڈ پر دم کی حیثیت

کتاب و سنت کی روشنی میں مکمل وضاحت

1. دم کے لیے قرآن کی آیات کے ترجمہ سے واقفیت کی شرط نہیں

  • قرآن کی آیات کو دم کے طور پر پڑھنے کے لیے ان کے ترجمہ یا مفہوم سے واقف ہونا ضروری نہیں ہے۔
  • دم کرنا دراصل الفاظ کی روحانی تاثیر کو مریض یا متاثرہ شخص تک پہنچانا ہوتا ہے۔
  • اگر کوئی شخص ان آیات کا ترجمہ نہ بھی جانتا ہو، تب بھی ان کے الفاظ میں تاثیر ہوتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

"إن من البیان لسحرا۔”
(سنن ابوداؤد: 5007)
"بعض بیانات میں جادو ہوتا ہے۔”

  • عملی مشاہدہ بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ:
    • بعض عاملین یا جادوگر منتر پڑھتے ہیں جن کی زبان انہیں معلوم نہیں ہوتی (مثلاً ہندی، بنگالی یا دیگر غیر مانوس زبانیں) مگر ان کا اثر دیکھا گیا ہے۔
    • بعض افراد قرآن کی آیات کا تلفظ درست نہیں پڑھ سکتے، مگر آیات رٹ کر دم کرتے ہیں، پھر بھی مریض پر اثر ظاہر ہوتا ہے۔
  • اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دم کے اثر کا تعلق صرف الفاظ کے مفہوم سے نہیں ہوتا، البتہ اگر الفاظ میں شرک یا خرافات شامل ہوں تو جانچ ضروری ہے۔

حدیث مبارکہ:

حضرت مالک بن اشجعی فرماتے ہیں:
"ہم جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"اپنے دم مجھ پر پیش کرو، دم کرنے میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک کا شائبہ نہ ہو۔”
(صحیح مسلم: 2200)

  • لہٰذا، جب دم کے الفاظ قرآن یا جائز دعا پر مبنی ہوں، ان کے مفہوم سے ناواقف ہونا اثر پر اثرانداز نہیں ہوتا۔
  • شریعت میں ایسی کوئی نص نہیں ملی جس سے انکارِ تاثیر ثابت ہو۔

2. ٹیپ ریکارڈ پر دم سننے سے اثر ہونے کی شرعی حیثیت

  • جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ دم کی تاثیر الفاظ سے ہوتی ہے، نہ کہ صرف پڑھنے والے سے۔
  • جب الفاظ ادا ہو جائیں تو ان کا اثر قائم ہو جاتا ہے، اس کے لیے نیت شرط نہیں۔

مثال:

  • آج کل گھروں میں سورہ بقرہ یا دیگر قرآنی آیات کی ریکارڈنگ اونچی آواز میں چلائی جاتی ہے۔
  • اس ریکارڈنگ میں صرف آواز ہوتی ہے، پڑھنے والا جسمانی طور پر موجود نہیں ہوتا۔

اس کا فرق نماز سے واضح کیا گیا:

  • نماز میں امامت ایک عملی عبادت ہے جس کے لیے نیت اور امام کی موجودگی ضروری ہے۔
  • لہٰذا ٹیپ ریکارڈ کے ذریعے امامت کروانا درست نہیں۔

لیکن دم کے معاملے میں:

  • صرف الفاظ کی ادائیگی کافی ہے۔
  • نیت کی شرط نہیں، اس لیے ریکارڈ شدہ دم بھی اثر رکھتا ہے۔

دم کے اثر کے لیے:

  • مریض کا مسلمان ہونا ضروری نہیں۔
  • دم کے الفاظ کا مفہوم جاننا بھی ضروری نہیں۔
  • ان تمام صورتوں میں الفاظ کا اثر ہوتا ہے۔

وبالله التوفيق