سوال
اگر تراویح کی نماز کھڑی ہو اور ایک شخص آئے جس نے ابھی عشاء کے فرض نہیں پڑھے، تو کیا وہ تراویح میں شامل ہو سکتا ہے یا اسے پہلے فرض نماز پڑھنی چاہیے؟
جواب
اس معاملے میں دونوں صورتیں جائز ہیں:
اگر وہ شخص تراویح چھوڑ کر پہلے عشاء کے فرض نماز پڑھ لے، تو یہ بھی درست ہے کیونکہ اس وقت جماعت نفل نماز (تراویح) کی ہو رہی ہے، اور فرض نماز الگ پڑھنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ وہ شخص تراویح میں شامل ہو جائے، اور جب امام چار رکعات تراویح کے بعد وقفہ کرے تو وہ اس وقفے کے دوران اپنے عشاء کے فرض نماز ادا کر لے۔
(اہل حدیث سوہدرہ، جلد نمبر 5، شمارہ نمبر 48)