تراویح اور اعتکاف کے احکام صحیح احادیث کے روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ناصر الدین البانی کی کتاب "تراویح اور اعتکاف” سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ ابو عدنان اشفاق سجاد سلفی نے کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

قیام رمضان

◈ قیام رمضان کی فضیلت:

قیام رمضان کی بڑی فضیلت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کی پابندی فرماتے تھے، اور اپنے اہل و عیال، صحابہ کرام اور مسلمانوں کو اس پر ابھارتے تھے، البتہ اسے واجب قرار نہیں دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیام رمضان پر ابھارتے ہوئے فرماتے تھے: ”جو شخص ایمان و اخلاص کے ساتھ قیام کرے گا اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے“۔ [بخاری و مسلم، ارواء الغلیل: 4/14، حدیث نمبر 906 ،صحیح ابی داؤد: 1241]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ نبوت، عہد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع زمانے تک قیام رمضان میں جماعت قائم نہیں ہوئی۔
قیام رمضان کے متعلق ایک دوسری حدیث ہے، عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ قضاعہ کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر میں لا إله إلا الله کی گواہی دوں، آپ کو اللہ کا رسول مانوں، پنج وقتہ نمازوں کی ادائیگی کروں، رمضان کا روزہ رکھوں اور قیام کروں، اور زکوٰۃ ادا کروں، تو آپ کی (میرے متعلق) کیا رائے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس حالت پر قائم ہو اور اس کی موت ہوئی تو وہ شہداء اور صدیقوں میں سے ہوگا۔“ [ابن خزیمہ مع تعلیقات للابانی، حدیث نمبر: 2262، و صحیح الترغیب: 993]

◈ لیلة القدر اور اس کی تحدید :

رمضان مبارک کی جملہ راتوں میں سب سے زیادہ فضیلت کی حامل رات قدر کی رات ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”جو شخص ایمان و اخلاص کے ساتھ قدر کی رات میں قیام کرے گا (اور وہ رات اسے نصیب ہو جائے) تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے“۔ [بخاری و مسلم عن ابی ہریرہ، واحمد: 318/5 من حدیث عبادة بن الصامت]
راجح قول کے مطابق قدر کی رات رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔ اکثر حدیثوں سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر زر بن حبیش کی حدیث ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہتے ہوئے اس وقت سنا جب ان سے کہا گیا کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص سال بھر قیام کرے گا وہ قدر کی رات پالے گا، تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ عبد اللہ بن مسعود پر رحم فرمائے، ایسا انہوں نے صرف اس وجہ سے کہا تا کہ لوگ (کسی ایک رات پر) بھروسہ کر کے بیٹھ نہ جائیں۔ اللہ کی قسم وہ رات رمضان میں ہوتی ہے۔ پھر انہوں نے بلا استثناء قسم کھا کر کہا کہ میں جانتا ہوں کہ وہ رمضان کی کون سی رات ہے؟ یہ وہی رات ہے جس میں قیام کرنے کا حکم ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے، اس کی علامت یہ ہے کہ اس رات کے بعد صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے تو سفید ہوتا ہے اس میں شعاع نہیں ہوتی“۔
ایک دوسری روایت میں اس کو مرفوعاً بھی بیان کیا گیا ہے۔ [مسلم صحیح ابی داؤد، حدیث نمبر: 1247]

◈ قیام رمضان میں جماعت:

قیام رمضان میں جماعت کا اہتمام والتزام شریعت مطہرہ سے ثابت ہے، بلکہ انفرادی قیام سے با جماعت قیام افضل و بہتر ہے، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کا اہتمام کیا ہے، اور اپنی زبان مبارک سے اس کی فضیلت بیان کی ہے۔ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ ”ہم لوگوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کا روزہ رکھا، مہینہ گزر جانے تک آپ نے ہم لوگوں کے ساتھ قیام نہیں کیا، یہاں تک کہ (ماہ رمضان کے) سات روز باقی رہ گئے تو آپ نے ہم لوگوں کے ساتھ ایک تہائی رات تک قیام فرمایا، جب دوسری رات آئی تو آپ نے قیام نہیں فرمایا، پھر جب تیسری رات آئی تو آپ نے ہم لوگوں کے ساتھ آدھی رات تک قیام کیا، (ابوذر غفاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! رات (قیام ہی میں) ختم کر دیجئے، تو آپ نے فرمایا: ”آدمی جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اور اس کے ساتھ نماز پوری کرتا ہے تو اسے پوری رات قیام کرنے کا اجر و ثواب ملتا ہے“۔
اور جب چوتھی رات آئی تو آپ نے پھر قیام نہیں کیا، اور جب پانچویں رات آئی تو آپ نے اپنے اہل و عیال اور دیگر لوگوں کو جمع کیا اور اتنا لمبا قیام فرمایا کہ ہمیں ”فلاح“ کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہوا، راوی حدیث نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے ”فلاح“ کا معنی و مراد پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ”فلاح“ سے مراد سحری کھانا ہے، پھر آپ نے مہینہ کے بقیہ دنوں میں قیام نہیں فرمایا۔ [صحیح ابو داؤد: 1245، و ارواء الغلیل: 447]
یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل قیام رمضان با جماعت کیوں نہیں کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دنوں کے سوا باقی دنوں میں مسلسل تراویح کی نماز نہیں پڑھائی، اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوف و اندیشہ لاحق تھا کہ کہیں امت محمدیہ پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے، جس کی ادائیگی لوگوں کے لیے مشکل ہو جائے، جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے جو بخاری و مسلم اور دیگر احادیث کی کتابوں کے اندر موجود ہے۔ اور اب جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی اور شریعت کو اللہ تعالیٰ نے مکمل فرمادیا تو فرض ہو جانے کا خوف و اندیشہ ختم ہو گیا اور تراویح کو با جماعت ادا کرنے کا حکم باقی رہا، اور یہی وجہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانے میں اس کا احیاء و اہتمام کیا، جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ کے اندر موجود ہے۔

◈ خواتین کی شمولیت:

قیام رمضان کی جماعت کی مسنونیت و افضلیت ثابت ہونے کے بعد یہ جاننے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ عورتیں مردوں کے ساتھ با جماعت تراویح کی نماز پڑھ سکتی ہیں یا نہیں؟ تراویح کی جماعت میں عورتوں کا شریک و حاضر ہونا جائز ہے، جیسا کہ اس کا ثبوت ابوذر رضی اللہ عنہ کی سابق حدیث کے اندر موجود ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ عورتوں کے لیے الگ امام مقرر ہو اور مردوں کے سوا خاص ان کی جماعت کا اہتمام ہو۔ اس لیے کہ یہ بات ثابت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جب اپنے دور خلافت میں باجماعت تراویح پڑھنے کو رائج کیا تو مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ امام مقرر فرمایا۔ مردوں کے لیے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو، اور عورتوں کے لیے سلیمان بن ابی حشمہ رضی اللہ عنہ کو۔ نیز عرفجہ ثقفی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز تراویح باجماعت پڑھنے کا حکم دیتے تھے، اور مردوں کے لیے الگ اور عورتوں کے لیے الگ امام مقرر کرتے تھے، (عرفجہ ثقفی کہتے ہیں کہ) میں عورتوں کا امام ہوا کرتا تھا۔ [بیہقی: 492/2 و مصنف ابن ابی شیبہ: 258/4، حدیث نمبر: 8722]
میرے خیال میں ایسا اس وقت ممکن ہے جب مسجد وسیع وعریض اور کشادہ ہو، تا کہ ایک جماعت دوسری جماعت کو تشویش میں نہ ڈالے۔ (اور اگر عورتوں کے لیے کسی دوسری جگہ انتظام ہو تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ (مترجم)

◈ رکعات کی تعداد:

قیام رمضان میں رکعات کی تعداد کے متعلق جو اختلاف نظر آتا ہے، وہ ہم سے مخفی نہیں، اس بناء پر یہ بتلانا ضروری ہے کہ قیام رمضان (تراویح) میں وتر سمیت گیارہ رکعات ہیں، اس سے زیادہ پڑھنے کا ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، آپ نے پوری زندگی اس سے زیادہ نہیں پڑھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں کتنی رکعت (نماز تراویح) پڑھا کرتے تھے، تو ان کا جواب تھا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے، پہلے چار رکعت پڑھتے، پس نہ پوچھو کہ وہ کتنی حسین اور کتنی لمبی ہوتی تھیں، پھر چار رکعت پڑھتے تھے، پس ان کے حسن اور لمبی ہونے کے متعلق نہ پوچھو پھر تین رکعتیں (وتر کی) پڑھتے تھے۔ [بخاری و مسلم صحیح ابو داؤد حدیث نمبر 1212]
اگر آدمی مکمل گیارہ رکعات نہ پڑھ کر بعض رکعتیں ہی پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے، بلکہ اگر کوئی شخص صرف وتر کی ایک ہی رکعت پر اکتفاء کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ اس لیے کہ اس کا ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل دونوں میں موجود ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کے متعلق جب عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کتنی رکعت وتر پڑھا کرتے تھے؟ تو ان کا جواب تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں (ان رکعتوں میں سے دو رکعت نماز عشاء کے بعد والی سنت، یا وہ ہلکی دو رکعتیں ہوتی تھیں جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز کا آغاز کیا کرتے تھے۔ حافظ ابن حجر نے بھی اسی بات کو راج قرار دیا ہے)، تین رکعتیں، نو رکعتیں، اور تیرہ رکعتیں، پڑھا کرتے تھے۔ البتہ تین رکعتوں سے کم اور تیرہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ [صحیح ابی داؤد، حدیث نمبر: 12333، حافظ عراقی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے]۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی حدیث ہے کہ: ”وتر حق ہے، جو چاہے پانچ رکعت پڑھے، جو چاہے تین رکعت پڑھے، اور جو چاہے صرف ایک رکعت پڑھے“۔

◈ قراءت قرآن:

تراویح کی نمازوں میں قراءت کے متعلق نہایت ہی افراط و تفریط پائی جاتی ہے، بعض غیر جماعتی مساجد کے متعلق سننے میں آتا ہے کہ تین ہی دن میں پورا قرآن سنا دیا جاتا ہے، تو بعض مسجدوں میں تراویح پڑھنے اور پڑھانے کا کوئی خاص اہتمام نہیں ہوتا، بلکہ ایسے اشخاص بھی تراویح پڑھاتے ہیں جو سورہ تراویح (مروجہ اصطلاح میں) پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ بعض جگہوں میں تراویح میں پورا قرآن پڑھنے پڑھانے کو لازم وضروری سمجھا جاتا ہے، اور حافظ کا باضابطہ انتظام ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ بھی ہوتا ہے کہ حافظوں کے لمبی لمبی سورتوں کو پڑھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ نماز تراویح ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
اس صورت حال میں قراءت کے متعلق صحیح جانکاری بھی ضروری ہے ۔ (مترجم) قیام رمضان یا غیر رمضان میں قراءت کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی حد متعین نہیں کی ہے کہ اس سے زیادہ یا کم پڑھنا جائز نہ ہو۔ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءتیں مختلف ہوا کرتی تھیں کبھی مختصر، اور کبھی لمبی کبھی آپ ہر رکعت میں يا أيها المزمل کی مانند و مقدار کی سورتیں پڑھا کرتے تھے، جس میں بیسں آیتیں ہیں، اور کبھی پچاس آیتوں کی مقدار والی سورتیں پڑھا کرتے تھے، اور آپ فرماتے تھے کہ: ”جو شخص ہر رات نماز میں سو آیتیں پڑھ لے تو وہ غفلت میں رہنے والوں میں شمار نہیں ہوگا“۔
اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ دوسو آیتیں پڑھنے والا شخص مخلص اور عبادت گزاروں میں شمار کیا جائے گا“۔
ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار ہونے کے باوجود ”سبع طوال“ یعنی سورۃ البقرة، سورۃ آل عمران، سورۃ النساء، سورۃ المائدہ، سورۃ الانعام، سورۃ الاعراف اور سورۃ التوبہ پڑھی۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے نماز پڑھنے کے واقعہ میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رکعت میں سورۃ البقرة، سورۃ النساء اور سورۃ آل عمران انتہائی ٹھہر ٹھہر کر اور سکون و اطمینان کے ساتھ پڑھی۔ [مذکورہ ساری حدیثیں صحیح ہیں تخریج کے لیے دیکھیں: صفۃ الصلاۃ ص: 117-122]
صحیح ترین سند سے ثابت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جب ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو رمضان میں گیارہ رکعات لوگوں کو پڑھانے کا حکم دیا، تو وہ سو آیتوں پر مشتمل سورتیں پڑھا کرتے تھے، یہاں تک کہ جو لوگ آپ کی اقتداء میں نماز پڑھا کرتے تھے وہ طول قیام کی وجہ سے لاٹھیوں کا سہارا لے کر کھڑے ہوتے تھے، اور وہ لوگ فجر کے ابتدائی اوقات میں نماز سے فارغ ہوتے تھے۔ [امام مالک نے ایسا ہی روایت کی ہے، دیکھیں: صلاة التراویح: 52]
عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق صحیح طور پر مروی ہے کہ انہوں نے رمضان میں قاریوں کو بلایا اور سب سے تیز پڑھنے والے کو سو آیتیں، درمیانی رفتار میں پڑھنے والے کو پچیس آیتیں اور سست رفتار میں پڑھنے والے کو بیسں آیتیں پڑھنے کا حکم دیا۔ [مصنف عبدالرزاق: 261/4، حدیث نمبر: 7731، بیہقی: 497/2]
مذکورہ نصوص سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جو آدمی خود قیام کرے، یا اس کی رفتار میں چلنے کے لائق لوگ اس کے ساتھ نماز پڑھیں تو جتنا لمبا چاہے قیام کرے، اور واضح رہے کہ قیام جس قدر لمبا ہو بہتر ہے، مگر کبھی کبھار کے سوا پوری رات قیام کرنا خلاف سنت ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع و پیروی کے خلاف ہے، جن کا فرمان ہے: ”اور بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے“۔ [مسلم و نسائی، ارواء الغلیل، حدیث نمبر 608]
جو شخص امام ہو، اس کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ اتنا لمبا قیام کرے، جو مقتدی لوگوں پر شاق گزرے۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرائے تو چاہئے کہ وہ ہلکی نماز پڑھائے، اس لیے کہ لوگوں میں بچے، بوڑھے، کمزور مریض اور صاحب ضرورت ہوتے ہیں، اور اگر کوئی تنہا نماز پڑھے تو جتنی بھی نماز پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے“۔ [بخاری و مسلم، ارواء الغلیل، حدیث نمبر 512، صحیح ابی داؤد، حدیث نمبر: 759و760]

◈ قیام الليل کا وقت:

صلاة اللیل کا وقت نماز عشاء کے بعد سے فجر تک رہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: ”اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو ایک اضافی نماز عطا کی ہے، اور وہ وتر کی نماز ہے، یہاں وتر سے مراد ”صلاة اللیل“ ہے، اس لیے کہ اس کی تعداد طاق ہے) لہذا اسے نماز عشاء اور نماز فجر کے درمیان پڑھا کرو“۔ [احمد وغیرہ، حدیث صحیح ہے، دیکھیں: الصحیحہ، حدیث نمبر: 108، الارواء: 158/1]
صلاة اللیل کو آخر رات میں پڑھنا افضل ہے، بشرطیکہ آخری شب میں پڑھنا میسر ہو، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”جسے اس بات کا اندیشہ ہو کہ وہ آخر رات میں قیام اللیل نہیں کر سکے گا تو اسے چاہئے کہ رات کے اول حصہ ہی میں وتر (صلاة اللیل) پڑھ لے، اور جسے امید ہو کہ وہ رات کے آخر حصہ میں اٹھ کر پڑھ لے گا تو اسے آخر شب میں پڑھنا چاہئے، اس لیے کہ اس وقت رحمت و برکت کے فرشتے حاضر رہتے ہیں، اور وہ وقت افضل بھی ہے۔ [مسلم وغیرہ، صحیحہ، حدیث نمبر: 2610]
اور جب ایسا ہو کہ رات کے اول حصہ میں جماعت کے ساتھ ادا ہو رہی ہو، اور رات کے آخر حصہ میں پڑھنے کی صورت میں تن تنہا پڑھنا پڑتا ہو، تو ایسی صورت میں جماعت کے ساتھ پڑھ لینا افضل ہے، اس لیے کہ ایسی صورت میں اسے پوری رات قیام کرنے کا ثواب ملے گا، جیسا کہ پہلے ایک مرفوع حدیث میں گزر چکا ہے۔
عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طرز عمل یہی تھا، جیسا کہ عبدالرحمن بن عبد قاری بیان کرتے ہیں کہ ”میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رمضان کی ایک رات مسجد نبوی پہنچا تو دیکھا کہ لوگ مختلف ٹولیوں میں منقسم ہیں، کوئی تنہا نماز پڑھ رہا ہے، تو کچھ دوسرے لوگ جماعت کے ساتھ پڑھ رہے ہیں، یہ دیکھ کر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں ان لوگوں کو ایک قاری (امام) کے پیچھے جمع کر دوں تو زیادہ اچھا ہوگا، پھر انہوں نے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا تہیہ کر لیا، پھر تمام لوگوں کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے جمع کر دیا، راوی کہتے ہیں کہ میں ایک دوسری رات جب عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد پہنچا تو اس وقت تمام لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، یہ دیکھ کر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ نیا سسٹم کیا ہی اچھا ہے، اور جس نماز کو لوگ سونے کی وجہ سے نہیں پڑھتے (یعنی آخر شب میں تہجد کی نماز) وہ اس نماز سے بہتر ہے، لوگ شروع رات ہی میں نماز پڑھ لیتے تھے (اور آخر شب میں سوتے تھے)۔ [بخاری وغیرہ تخریج کے لیے دیکھیں: صلاة التراویح: 48]
اور زید بن وہب کہتے ہیں کہ ”عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہم لوگوں کو رمضان میں نماز پڑھاتے تھے اور رات کے وقت فارغ ہو جاتے تھے“۔ [مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر: 7741، اس کی سند صحیح ہے، امام احمد سے جب تراویح کو آخر وقت تک مؤخر کرنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے اس اثر اور اس سے قبل گزرے اثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا نہیں، مسلمانوں کا جو طرز عمل ہے، وہی میرے نزدیک پسندیدہ ہے، مسائل امام ابی داؤد: 62]

◈ نماز تراویح پڑھنے کا طریقہ:

میں نے نماز تراویح پڑھنے کے کئی طریقے اپنی کتاب ”صلاة التراویح“ (ص: 101 تا 115) کے اندر بیان کیا ہے، قاری کی آسانی اور تذکیر کی غرض سے ان طریقوں کو یہاں مختصر بیان کرتا ہوں:
پہلا طریقہ: تیرہ (13) رکعتیں پڑھی جائیں، پہلے دو رکعت ہلکی پڑھی جائیں، یہ دونوں رکعتیں راجح قول کے مطابق نماز عشاء کے اخیر میں پڑھی جانے والی سنت ہوں گی، یا وہ دو مخصوص رکعتیں، جن سے صلاة اللیل کا آغاز کیا جاتا ہے، پھر دو لمبی رکعتیں پڑھی جائیں، پھر ان دو رکعتوں کے بالمقابل ہلکی دو رکعتیں پڑھی جائیں، پھر سابقہ چاروں رکعتوں کے بالمقابل دو ہلکی رکعتیں پڑھی جائیں، پھر کچھ اور ہلکی دو رکعتیں پڑھی جائیں، پھر ان سب سے بھی مزید ہلکی دو رکعتیں پڑھی جائیں، پھر ایک رکعت وتر پڑھی جائے۔
دوسرا طریقہ: تیرہ (13) رکعتیں پڑھی جائیں، جن میں آٹھ رکعتیں ایسی پڑھی جائیں کہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جائے، پھر پانچ رکعتیں وتر کی پڑھی جائیں، ایک تشہد اور ایک سلام سے (یعنی درمیان میں نہ تشہد میں بیٹھا جائے اور نہ ہی پانچویں رکعت کی تکمیل سے پہلے سلام پھیرا جائے)۔
تیسرا طریقہ: گیارہ (11) رکعتیں پڑھی جائیں، ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جائے، اور اخیر میں ایک رکعت وتر پڑھی جائے۔
چوتھا طریقہ: گیارہ (11) رکعتیں پڑھی جائیں، چار رکعتیں ایک سلام سے اور پھر چار رکعتیں ایک سلام سے، پھر وتر کی تین رکعتیں پڑھی جائیں۔
ان چار رکعتوں اور تین رکعتوں میں کیا ہر دو رکعت کے بعد تشہد میں بیٹھا جائے یا نہیں؟ مجھے اس سلسلہ میں کسی تشفی بخش جواب کا علم نہ ہو سکا، البتہ تین رکعتوں والی نماز میں دو رکعت کے بعد تشہد میں بیٹھنا سنت سے ثابت نہیں ہے۔
پانچواں طریقہ: گیارہ (11) رکعت پڑھی جائیں، ان میں سے آٹھ رکعتیں پڑھنے کے دوران نہ بیٹھا جائے، صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھا جائے، اور اس میں تشہد اور درود پڑھ کر سلام پھیرے بغیر کھڑا ہو جائے، پھر ایک رکعت وتر کی پڑھی جائے، اور اس کے بعد سلام پھیرا جائے، تو اس طرح کل نو رکعتیں ہوں گی، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھی جائیں (تو گیارہ رکعتیں ہو جائیں گی)۔
چھٹا طریقہ: نو (9) رکعتیں پڑھی جائیں، ان میں سے چھ رکعتوں کے درمیان نہ بیٹھا جائے، جب چھٹی رکعت مکمل ہو جائے تو بیٹھا جائے اور تشہد و درود پڑھا جائے، اور سلام پھیرے بغیر کھڑا ہو جائے اور وتر کی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھی جائے۔
قیام اللیل (تراویح) کے یہ وہ چند طریقے اور کیفیات ہیں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منصوص طریقہ پر ثابت ہیں، ممکن ہے ان طریقوں میں مزید کچھ طریقوں کا اضافہ ہو۔ مثلاً مذکورہ ہر طریقہ میں مذکورہ رکعتوں کے اندر جتنی رکعتوں کی تخفیف کر کے پڑھنا چاہے، پڑھ سکتا ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی تخفیف کر کے صرف ایک ہی رکعت پڑھنے پر اکتفاء کرنا چاہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی روشنی میں کر سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے، جو چاہے تین رکعت وتر پڑھے، اور جو چاہے صرف ایک رکعت وتر پڑھے۔
اس حدیث کے اندر مذکور پانچ رکعتوں اور تین رکعتوں کے پڑھنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ اگر چاہے تو ان کو ایک ہی قعدہ (تشہد) اور ایک ہی سلام سے پڑھے، جیسا کہ دوسرے طریقہ میں بیان ہوا، اور اگر چاہے تو ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جائے، جیسا کہ تیسرے طریقہ وغیرہ میں ذکر ہوا، اور یہی طریقہ افضل ہے۔
پانچ اور تین رکعتوں والی نماز کو اس طور پر ادا کرنا کہ ہر دو رکعت کے بعد قعدہ کیا جائے، اور سلام نہ پھیرا جائے (اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے) تو یہ طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، البتہ جائز ہے۔ لیکن (یاد رہے کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رکعت وتر پڑھنے سے منع فرمایا ہے، اور اس کی علت یہ بتلائی ہے کہ اسے نماز مغرب ہی کی طرح نہ بنا دو۔ [طحاوی و دارقطنی وغیرہما، دیکھیں: صلاة التراویح: 99-110]
لہذا جو شخص تین رکعت پڑھنا چاہے تو اس کے لیے مغرب کی نماز کی مشابہت سے بچنے کے دو طریقے ہیں:
● دو رکعت کے بعد سلام پھیر دے اور ایک رکعت وتر پڑھ لے، یہ طریقہ زیادہ ٹھوس اور بہتر ہے۔
● دو رکعت کے بعد نہ بیٹھا جائے، بلکہ تینوں رکعتیں بیچ میں قعدہ کئے بغیر ایک سلام سے پڑھی جائیں۔

◈ نماز وتر میں قراءت:

تین رکعت والی نماز وتر میں قراءت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سبح اسم ربك الاعلي، دوسری رکعت میں قل يا أيها الكافرون اور تیسری رکعت میں قل هو الله أحد پڑھی جائے۔ اور کبھی کبھی مزید قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس پڑھ لی جائے۔ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ وتر کی ایک رکعت میں سورہ نساء کی سو آیتیں پڑھیں۔ [نسائی واحمد سند صحیح]

◈ دعاء قنوت اور اس کے مسائل:

دعا قنوت قراءت سے فارغ ہونے کے بعد اور رکوع سے پہلے پڑھی جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعاء قنوت اپنے نواسہ عزیز حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو سکھائی تھی، وہ یہ ہے: اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ , وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ , وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ , وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ , وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ , وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ , تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ (اے اللہ! ہدایت دے مجھے ان لوگوں میں جن کو تو نے ہدایت دی، اور عافیت دے مجھے ان لوگوں میں جن کو تو نے عافیت دی، اور دوست بنا مجھے ان لوگوں میں جنہیں تو نے دوست بنایا، اور برکت ڈال میری ان چیزوں میں جو تو نے دی ہیں، اور بچا مجھے اس چیز کے شر سے جس کا تو نے فیصلہ کر دیا، اس لیے کہ فیصلہ کرنے والا تو ہی ہے، تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، بلا شبہ وہ ذلیل نہیں ہو سکتا جس کو تو دوست بنا لے، اور وہ معز نہیں ہو سکتا جس کا تو دشمن ہو جائے، بہت برکتوں والا ہے تو اے ہمارے رب! اور بہت بلند اور تیرے سوا کوئی اور پناہ گاہ نہیں)۔ [ابو داؤد و نسائی وغیرہما بسند صحیح صفۃ الصلاۃ: 95-96]
رکوع کے بعد دعاء قنوت پڑھنے، اس میں کافروں پر لعنت بھیجنے کے کلمات کا اضافہ کرنے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے اور رمضان کے نصف آخر میں مسلمانوں کے حق میں دعائیں کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس لیے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جوائمہ قیام رمضان کی امامت کرنے کے لیے مامور تھے، ان سے یہ چیزیں ثابت ہیں۔ عبدالرحمن بن عبد قاری کی گزر چکی حدیث کے آخری ٹکڑوں میں وارد ہے کہ وہ لوگ رمضان کے نصف ثانی میں کافروں پر لعنت بھیجا کرتے تھے، اور کہتے تھے: اے اللہ! تو ان کافروں کو ہلاک فرما جو تیرے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور اے معبود برحق! تو ان کی باتوں میں اختلاف ڈال دے، ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب قائم کر دے، اور ان پر تو اپنا عذاب و خواری مسلط کر دے۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجتے تھے اور مسلمانوں کے لیے بساط بھر دعائیں کرتے تھے، پھر مؤمنوں کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے تھے۔
ان چیزوں سے فارغ ہونے کے بعد کہا کرتے تھے:” اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تیرے ہی لیے نمازیں پڑھتے اور سجدے کرتے ہیں، اور تیری ہی طرف کوشش اور جلدی کرتے ہیں، اور تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں، اے ہمارے پروردگار! اور تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں، یقیناً تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے“ ۔ پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدہ میں چلے جاتے تھے۔ [صحیح ابن خزیمہ: 155/2-156 حدیث نمبر 1100]

◈ وتر کے بعد کی دعائیں:

وتر کے آخر میں، سلام سے پہلے یا سلام کے بعد یہ دعائیں پڑھنا مسنون ہے: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَبِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ (اے اللہ میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں، اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ چاہتا ہوں، میں تیری حمد و ثنا کا شمار نہیں کر سکتا، تو تو ویسے ہی ہے جیسا کہ تو نے اپنی حمد و ثنا بیان کی ہے)۔ [صحیح ابی داؤد، حدیث نمبر: 1282 رواء، حدیث نمبر: 430]
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کا سلام پھیر کر تین مرتبہ یہ کلمات پڑھتے: ”سبحان الملك القدوس“ (نہایت پاک بادشاہ پاک ہے)، تیسری مرتبہ یہ کلمات بآواز بلند پڑھتے تھے۔ [صحیح ابی داؤد، حدیث نمبر: 1284]

◈ وتر کے بعد کی دو رکعتیں:

وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھنا جائز ہے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ صرف فعلی طور پر ثابت ہے بلکہ آپ نے اپنی امت کو اس کا حکم دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”بے شک یہ سفر جہد و مشقت کا نام ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی وتر پڑھے، تو چاہئے کہ وہ (اس کے ساتھ مزید) دو رکعت پڑھے، اگر وہ بیدار ہو گیا تو بہتر ورنہ یہ دونوں رکعتیں اس کے لیے کافی ہوں گی۔ [ابن خزیمہ و دارمی وغیرہما، میں ایک لمبے زمانے تک ان دونوں رکعتوں کے سلسلے میں پس و پیش میں تھا، مگر جب مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی جانکاری ہوئی تو فوراً اس پر عمل کرنا شروع کر دیا، اور مجھے اس بات کا علم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا (تم لوگ رات میں وتر کی نماز کو سب سے اخیر میں ادا کیا کرو) اختیار پر محمول ہوگا، وجوب پر نہیں، یہ قول ابن نصر کا ہے]۔
ان دونوں رکعتوں میں: ”إذا زلزلت الأرض“ اور ”قل يا أيها الكافرون“ پڑھنا مسنون ہے۔ [ابن خزیمہ، حدیث نمبر: 1104-1105، دیکھیں بصفته الصلاة: 124]

اعتکاف

◈ اعتکاف کی مشروعیت:

ماہ رمضان اور اس کے سوا سال کے دیگر دنوں میں اعتکاف کرنا مسنون ہے۔ اس کی دلیل اللہ رب العالمین کا یہ فرمان ہے: ﴿وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ﴾ (اور جب تم مسجدوں میں حالت اعتکاف میں ہو) [البقرة: 187] نیز صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے، اسی طرح ”مصنف“ ابن ابی شیبہ اور ”مصنف“ عبدالرزاق میں سلف صالحین کے اعتکاف کرنے سے متعلق بکثرت آثار موجود ہیں۔
یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کیا۔ [صحیح ابی داؤد، حدیث نمبر: 2127]
اور عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں مسجد حرام کے اندر ایک رات اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی (تو کیا اسے پوری کر سکتا ہوں)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لو“۔ چنانچہ انہوں نے ایک رات اعتکاف کیا۔ [صحیح ابی داؤد حدیث نمبر: 2136، 2137]
ماہ رمضان میں اعتکاف کرنا سنت مؤکدہ ہے، اس کی دلیل ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان میں دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے، اور جس سال آپ کا انتقال ہوا، اس سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔ [بخاری وابن خزیمہ، صحیح ابی داؤد، حدیث نمبر 2130، 2126]
اعتکاف کرنے کا افضل وقت رمضان کے آخری ایام ہیں، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ (دس دنوں) میں اعتکاف کرنے کی پابندی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔ [بخاری مسلم، صحیح ابی داؤد حدیث نمبر 2125]

◈ اعتکاف کی شرطیں:

پہلی شرط: مسجد کا ہونا، مساجد کے سوا دوسری جگہوں میں اعتکاف جائز نہیں ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ﴾ (اور جب تم مسجدوں میں حالت اعتکاف میں ہو تو اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو) البقرة: 187( اس آیت سے ہم نے جو استدلال کیا ہے یہی استدلال امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی کیا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس آیت سے یوں استدلال کیا گیا ہے کہ اگر اعتکاف مساجد کے سوا دوسری جگہوں میں بھی جائز ہوتا تو مباشرت کی حرمت و ممانعت کی تخصیص مساجد کے ساتھ نہ ہوتی۔ اس لیے کہ اس بات پر اجماع ہے کہ مباشرت اعتکاف کے منافی ہے۔ لہذا آیت میں مساجد کے ذکر سے یہ معلوم ہوا کہ اعتکاف اس کے سوا کہیں دوسری جگہ درست نہیں ہے)۔
اور عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ اعتکاف کرنے والے کے لیے سنت یہ ہے کہ بلا کسی شدید ضرورت کے وہ (مسجد سے) باہر نہ نکلے، کسی مریض کی عیادت نہ کرے، اپنی بیوی کو نہ چھوئے اور نہ اس سے جماع کرے، جامع مسجد کے سوا دوسری مسجد میں اعتکاف صحیح نہیں ہے، اور معتکف کے لیے یہ بھی سنت ہے کہ وہ روزے سے ہو۔ [بیہقی، ابو داؤد صحیح ابی داؤد، حدیث نمبر: 2135، ارواء الغلیل: حدیث نمبر: 966]
دوسری شرط: جس مسجد میں اعتکاف کیا جائے وہ جامع مسجد (جس میں جمعہ کی نماز ہوتی ہے) ہو، تا کہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے دوسری مسجد میں جانے کی نوبت نہ آئے۔ اس لیے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گزشتہ فرمان میں یہ موجود ہے کہ جامع مسجد کے سوا دوسری مسجد میں اعتکاف کرنا صحیح نہیں ہے۔ (بیہقی میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے مبغوض اور نا پسندیدہ چیز بدعت ہے، اور (جامع مسجدوں کو چھوڑ کر) محلات و گھروں کی مسجدوں میں اعتکاف کرنا بدعت ہے)
بعد میں مجھے ایک صریح صحیح حدیث کی جانکاری حاصل ہوئی، جو آیت میں مذکور مساجد کو صرف تین مسجدوں مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے ساتھ خاص کرتی ہے۔ اور وہ حدیث یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف تین مسجدوں ہی میں اعتکاف درست ہے۔ [طحاوی، اسماعیلی بیتی، صحیحیہ، حدیث نمبر: 2787]
میرے علم کی حد تک اس بات کے قائل حذیفہ بن یمان، سعید بن مسیب اور عطاء ہیں، البتہ عطاء نے مسجد اقصیٰ کا ذکر نہیں کیا ہے (گویا ان کے نزدیک دو مساجد میں اعتکاف درست ہے)۔ ان تینوں اشخاص کے سوا (پوری امت) کا کہنا ہے کہ اعتکاف کے لیے صرف جامع مسجد ہونا ضروری ہے (مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کی کوئی قید نہیں ہے)، بلکہ بعض لوگوں نے تو اپنے گھر کی مسجد میں بھی اعتکاف کرنا درست مانا ہے۔ بلا شبہ وہی بات قابل اخذ و عمل ہوگی جو حدیث کے موافق ہو۔ واللہ اعلم جمہور امت کا قول ہی راجح ہے (مترجم)
تیسری شرط: اعتکاف کرنے والے کا روزہ دار ہونا مسنون ہے، جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں اس بات کا ذکر موجود ہے۔ (امام ابن قیم نے ”زاد المعاد“ کے اندر لکھا ہے کہ کسی نے اس بات کا ذکر نہیں کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کے بغیر اعتکاف فرمایا ہے، بلکہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ اعتکاف بغیر روزہ کے درست نہیں ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اعتکاف کا ذکر بغیر روزہ کے نہیں کیا ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بغیر روزہ کے اعتکاف نہیں کیا ہے۔ لہذا جمہور سلف کی دلیل کی روشنی میں راجح قول یہ ہے کہ اعتکاف میں روزہ شرط ہے، اور اسی کو شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ نے راجح قرار دیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہیں سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جو شخص نماز یا کسی دوسرے کام سے مسجد جائے اور وہاں جو وقت گزارے، اس میں وہ اعتکاف کی نیت کر لے تو یہ جائز نہیں ہے، اس کی صراحت شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب ”الاختیارات“ میں کی ہے۔)

◈ معتکف کے لیے جائز امور :

⟐ اعتکاف کرنے والے کا قضائے حاجت کے لیے مسجد سے نکلنا، اور دھلوانے اور کنگھی کرانے کی غرض سے سر کو مسجد سے باہر نکالنا جائز ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب معتکف ہوتے تو مسجد کے اندر ہی سے اپنا سر میرے قریب کر دیتے اور میں (اپنے کمرے سے) آپ کے بالوں میں کنگھی کر دیتی (اور ایک روایت میں ہے کہ میں آپ کا سر دھو دیتی، اور آپ کے اور میرے درمیان دروازے کے چوکھٹ کے سوا کچھ نہ ہوتا اور میں اس وقت حیض سے ہوتی) اور آپ اپنی انسان کی (طبعی) ضرورت کے سوا کسی اور کام سے گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے۔ [بخاری، مسلم، ابن ابی شیبہ، احمد صحیح ابی داؤد، حدیث نمبر: 2132 2131]
⟐ معتکف اور غیر معتکف کے لیے مسجد کے اندر وضو کرنا جائز ہے، اس لیے کہ اس آدمی کا فرمان ہے جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ہلکا وضو فرمایا“۔ [بیہقی بسند جید، احمد: 364/5 بسند صحیح]
⟐ معتکف کے لیے مسجد کے کسی گوشے میں چھوٹا سا خیمہ لگانا جائز ہے۔ اس لیے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ کے لیے خیمہ لگا دیتی تھیں جب آپ اعتکاف کرتے۔ [بخاری و مسلم]
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک چھوٹے سے خیمے میں اعتکاف فرمایا، جس کے دروازے پر چٹائی کا پردہ لگا ہوا تھا۔ [صحیح ابی داؤد، حدیث نمبر: 1251]
⟐ عورت کے لیے اپنے اعتکاف کرنے والے شوہر کی زیارت کرنا اور شوہر کا اسے مسجد کے گیٹ تک چھوڑنے کے لیے جانا جائز ہے۔ اس لیے کہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (رمضان کے آخری عشرہ میں مسجد کے اندر) معتکف تھے، تو میں رات کے وقت آپ کے پاس آپ کی زیارت کے لیے آئی، آپ کے پاس اس وقت دیگر ازواج مطہرات موجود تھیں (جو مجھے دیکھ کر) چلی گئیں، میں نے کچھ دیر آپ سے گفتگو کی، پھر میں واپس آنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی، تو آپ نے فرمایا: جلدی نہ کرو، میں تمہیں چھوڑ آتا ہوں، اور آپ مجھے چھوڑنے کے لیے میرے ساتھ ہو لیے، اس وقت میرا مسکن اسامہ بن زید کے گھر میں تھا، آپ جب مسجد کے اس دروازے تک پہنچے جو ام سلمہ کے دروازے سے قریب تھا، تو انصار کے دو آدمیوں کا گذر ہوا، جب ان کی نگاہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی تو وہ تیزی سے نکل گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رک جاؤ، (دیکھو یہ میری بیوی) صفیہ بنت حیی ہے، یہ سن کر دونوں نے کہا: سبحان اللہ، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”شیطان انسان (کی رگوں) میں خون کی طرح دوڑتا ہے، اور مجھے اس بات کا اندیشہ ہوا کہ وہ تمہارے دلوں میں کوئی شر نہ ڈال دے، یا کوئی ایسی ویسی بات نہ ڈال دے“۔ [بخاری و مسلم صحیح ابی داؤد، حدیث نمبر: 2133 ،2134]
اتنا ہی نہیں، بلکہ عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ، یا تن تنہا اعتکاف کرنا بھی جائز ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی ازواج مطہرات میں سے ایک مستحاضہ بیوی (جسے رگ کا خون آرہا تھا) نے اعتکاف کیا، (ایک روایت میں ہے کہ وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں)، وہ خون میں سرخی اور زردی دیکھتی تھیں، بسا اوقات ہم ان کے نیچے طشت رکھ دیا کرتی تھیں اور وہ نماز پڑھتی رہتی تھیں۔ [بخاری، صحیح ابی داؤد، حدیث نمبر: 2138، ایک دوسری روایت سعید بن منصور کی فتح الباری: (281/4) کے اندر ہے، امام دارمی (22/1) نے آپ کی اس بیوی کا نام ”زینب“ بتایا ہے]
نیز عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی، پھر آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا۔ [بخاری و مسلم]
اس حدیث میں بھی اس بات کی دلیل موجود ہے کہ (مردوں کی طرح) عورتیں بھی اعتکاف کر سکتی ہیں۔ لیکن بعض دوسری حدیثوں سے پتہ چلتا ہے کہ عورتوں کا اعتکاف کرنے کے لیے اپنے ولیوں سے اجازت لینا، فتنہ سے مامون ہونا اور اختلاط مردوزن سے محفوظ ہونا ضروری ہے۔ اور فقہی قاعدہ بھی ہے: درء المفاسد مقدم على جلب المصالح (مفاسد کا ازالہ مصالح کی تحصیل پر مقدم ہے)۔
⟐ ہم بستری سے اعتکاف باطل ہو جاتا ہے، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ﴾ (اور جب تم مسجدوں میں حالت اعتکاف میں ہو تو اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو)، اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ اعتکاف کرنے والا شخص جب مباشرت کر لے تو اس کا اعتکاف باطل ہو جاتا ہے، اور اسے از سر نو اعتکاف کرنا ہوگا۔[ ابن ابی شیبہ: 92/3، وعبدالرزاق: 362/4، بسند صحیح]
البتہ اس پر کوئی کفارہ عائد نہیں ہوگا، اس لیے کہ اس کا ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے نہیں ملتا ہے۔