تدلیس سے متعلق محمد رفیق طاہر اور حافظ عبدالمنان نورپوری کا مباحثہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

تدلیس اور طبقات المدلسین

محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے پوچھا: مدلس راوی کی ہر معنعن روایت مردود ہے الا کہ کوئی قرینہ مل جائے ، اس اصول کے تحت طبقات المدلسین کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟
حافظ عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ نے جواب دیا: اصل تو یہی ہے کہ روایت مردود ہوگی ، طبقات تو بعد کی پیداوار ہیں۔ پہلے محدثین میں یہی طریق چلتا رہا ہے کہ سماع کی تصریح مل جائے یا متابعت ہو تو مقبول ، ورنہ مردود۔ یہ فلاں طبقہ اور فلاں طبقہ اسکی کوئی ضرورت نہیں، یہ تو بعد کے علماء کی اپنی تحقیقات ہیں، یہ کوئی وزنی اور پکا اصول نہیں ہے۔
محمد رفیق طاہر: کچھ مدلس رواۃ ایسے ہیں جنکے عنعنہ کو متقدمین محد ثین نے قبول کیا ہے۔
حافظ عبدالمنان نور پوری رحمہ اللہ: وہ تو ضعیف راویوں کو بھی قبول کیا ہے۔ پھر؟ متقدمین محدثین تو ضعیف راویوں کی (مرویات) بھی قبول کر لیتے ہیں، پھر ضعیف راوی بھی ثقہ بن جائے گا ؟
محمد رفیق طاہر : نہیں
حافظ عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ : قبول کرنا یا اس روایت کے مطابق فتوی دینا مسئلہ الگ ہے، اور روایت کا صحیح ہونا مسئلہ الگ ہے۔ مسئلہ وہ اجتہاد سے بیان کر رہا ہو، اور ضعیف روایت کے موافق آجائے ممکن ہے کہ وہ اسے دلیل ہی نہ بنا رہا ہو۔
محمد رفیق طاہر : پھر مسئلہ تو سیدھا سا ہی ہے۔
حافظ عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ: جی ہاں، یہی سیدھا اور پکا اصول ہے، طبقات سے پہلے والے محدثین والا ، کہ مدلس کا عنعنہ مردود ہے۔ (22 شعبان 1431ھ )
(سہ ماہی مجلہ المکرم شماره:13 ، اپریل تا جون 2012ء ص 37۔ 38)