مضمون کے اہم نکات
تدفین کا بیان
تدفین کی اہمیت:
❀میت کی تدفین انسانی فطرت میں سے ہے۔ پہلے انسان کی موت پر اللہ تعالیٰ نے یوں تدفین کا طریقہ سکھایا:
فَبَعَثَ اللَّهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ
(المائدة: 31)
”تو اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کو کرید رہا تھا، تا کہ قابیل کو دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کیسے دفن کرے۔“
❀مسلمان کو قبر کھود کر دفن کرنا فرض ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کے متعلق فرمایا:
ادفنوهم فى دمائهم
”ان کو خون سمیت دفن کر دو۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب من لم ير غسل الشهداء: 1346)
❀کافر کی میت کو بھی زمین میں دبانا چاہیے۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن چوبیس قریشی سرداروں کو بدر کے کنوؤں میں سے ایک گندے و ناپاک کنویں میں پھینکنے کا حکم دیا۔“
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب قتل أبي جهل: 3976 – صحیح مسلم: 2875)
قبر کھودنے والے کی فضیلت:
❀رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حفر له فأجنه أجره عليه كأجر مسكن أسكنه إياه إلىٰ يوم القيامة
”جس نے میت کے لیے قبر کھودی اور اسے اس میں دفن کیا، تو اس کے لیے اتنا ثواب ہے کہ جیسے اس نے کسی کو قیامت تک کے لیے رہائش فراہم کر دی۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 395/3، ح: 6655 – مستدرك حاکم: 362/1، ح: 1340، 1307 و صححه الحاكم و الذهبي على شرط مسلم)
تدفین کے ممنوع اوقات:
❀ جن اوقات میں نماز جنازہ پڑھنا ممنوع ہے، ان میں تدفین بھی جائز نہیں۔
❀ ان کے علاوہ رات کے وقت بھی تدفین سے بچنا چاہیے، ہاں! مجبوری ہو تو اور بات ہے۔
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب في تحسين كفن الميت: 943)
تدفین کہاں کرنی چاہیے؟:
❀بہتر اور پسندیدہ عمل یہ ہے کہ میت کو اس کے قریبی قبرستان میں دفن کیا جائے، بلا عذر شرعی دوسری جگہ منتقل کرنے سے بچنا چاہیے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ہم احد کے دن شہدا کو (نقیع میں دفن کرنے کے لیے) اٹھا کر لا رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی آیا اور اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں حکم دیتے ہیں کہ شہدا کو ان کی قتل گاہوں میں دفن کرو۔ تو ہم انھیں واپس لے گئے۔“
(سنن أبو داود، کتاب الجنائز، باب في الميت يحمل من أرض إلى أرض وكراهة ذلك: 3165 – صحیح)
❀عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہما کی نعش حبشہ سے لائی گئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: اللہ تعالیٰ میرے بھائی پر رحم فرمائے، مجھے سب سے زیادہ دکھ یہ ہے کہ اسے اس کے مقام وفات پر دفن نہیں کیا گیا۔
(مستدرك حاکم: 375/3، ح: 6007 – السنن الكبرى للبيهقي: 6865 – صحیح)
❀کسی بھی میت کو عام قبرستان میں دفن کرنا چاہیے، کسی خاص جگہ دفن کرنا ثابت نہیں، بلکہ خلاف سنت اور شرک کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یہ صرف انبیائے کرام علیہم السلام کی خصوصیت تھی کہ انھیں اس جگہ دفن کیا جاتا تھا جہاں وہ فوت ہوتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما قبض الله نبيا إلا فى الموضع الذى يحب أن يدفن فيه
”اللہ تعالیٰ انبیاء کو وہیں فوت کرتا ہے جہاں ان کی تدفین پسند کرتا ہے۔“
(طبقات ابن سعد: 223/2 و إسناده صحیح – طبرانی کبیر: 257/7، ح: 6367 و إسناده صحیح – ترمذی، کتاب الجنائز، باب: 1018 – واللفظ له)
❀شہدا کو مقام شہادت پر دفن کرنا چاہیے، جیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں گزر چکا ہے، یعنی قبرستان سے باہر تدفین انبیاء اور شہدا کی خصوصیت ہے۔ لہذا ان سے استدلال کر کے قبرستان کے علاوہ کسی کی قبر بنانا جائز نہیں۔
❀مسلمان اور کافر کو الگ الگ قبرستان میں دفن کیا جائے۔ سیدنا بشیر بن معبد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:
”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ مشرکین کے قبرستان کے قریب سے گزرے پھر مسلمانوں کے قبرستان سے گزرے۔“
(سنن أبو داود، کتاب الجنائز، باب المشى بين القبور في النعل: 3230 – سنن نسائی: 2050 – حسن)
تو ثابت ہوا کہ دور نبوی میں مسلمانوں اور کافروں کے قبرستان الگ الگ ہوتے تھے۔
قبر بنانے کا طریقہ:
❀رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
احفروا وأعمقوا وأوسعوا وأحسنوا
”قبر گہری، کشادہ، وسیع اور صاف ستھری بنائی جائے۔“
(سنن نسائی، کتاب الجنائز، باب ما يستحب من إعماق القبر: 2012، 2013 – صحیح)
❀لحد قبر بنانا افضل ہے۔ لحد یہ ہے کہ ایک صندوق نما مستطیل شکل کا گڑھا کھودنے کے بعد اس کے اندر قبلہ کی طرف ایک بغلی قبر کھودی جاتی ہے، جس میں میت رکھی جاتی ہے۔
❀اگر زمین نرم ہونے کی وجہ سے، یا کسی اور وجہ سے لحد بنانا مشکل ہو تو شق بنانا بھی جائز ہے۔ شق یہ ہے کہ ایک صندوق نما مستطیل شکل کا گڑھا کھود کر اس کے اندر پھر اسی طرح کا ایک چھوٹا گڑھا کھودا جاتا ہے، بعض علاقوں میں زمین زیادہ نرم ہونے کی وجہ سے چھوٹے گڑھے کی بجائے اس میں دیواریں کی جاتی ہیں، تاکہ اس کے اندر میت رکھ کر اسے بند کیا جا سکے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی کیفیت کے بارے میں فرماتے ہیں:
شق لحده رجل من الأنصار وهو الذى يشق لحود قبور الشهداء
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لحد کو ایک انصاری صحابی نے کھودا جو شہیدوں کے لیے لحد قبریں کھودتا تھا۔“
(المنتقى لابن الجارود: 143/1، ح: 547 و إسناده حسن لذاته – ابن حبان: 6633 – نیز دیکھیے ابن ماجه: 1557، 1558)
تدفین کے آداب:
❀ اگر ضرورت ہو تو میت کے سر کے نیچے نرم پتھر یا مٹی وغیرہ بطور تکیہ رکھی جا سکتی ہے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے سر کے نیچے نرم پتھر رکھا تھا۔
(الطبقات الكبرى لابن سعد: 110/8، إسناده صحیح)
❀قبر میں کوئی چادر وغیرہ بچھانا بھی جائز ہے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں سرخ چادر بچھائی گئی۔
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب جعل القطيفة في القبر: 967)
بعض کا کہنا ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا، لیکن میرے علم میں خاصہ کی کوئی دلیل نہیں۔ (واللہ اعلم)
❀میت کو قبر کے پاؤں والی جانب سے قبر میں داخل کریں، یعنی پہلے میت کا سر داخل کریں، پھر پاؤں۔ سیدنا عبد اللہ بن یزید الخطمی رضی اللہ عنہ نے الحارث کو قبر کے پاؤں والی جانب سے قبر میں داخل کیا اور فرمایا: ”یہ سنت ہے۔“
(سنن أبو داود، كتاب الجنائز، باب كيف يدخل الميت قبره؟: 3211 – صحيح)
❀محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک جنازہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انھوں نے میت کو قبر میں اتارنے کے بارے میں کہا تو اس میت کو قبر کے پاؤں کی جانب سے قبر میں داخل کیا گیا۔
(مسند احمد: 429/1، ح: 4080 – إسناده صحیح)
❀میت کو اس طرح قبر میں لٹائیں کہ اس کا چہرہ قبلہ کی طرف ہو اور اس کا سر قبلہ کی دائیں اور پاؤں قبلہ کی بائیں طرف ہوں، عہد نبوت سے آج تک اہل اسلام کا اسی پر عمل ہے۔
(مختصر أحكام الجنائز: 183)
❀میت کو قبر میں اتارنے والا شخص یہ دعا پڑھے:
بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
”میں میت کو اللہ کے نام سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر (قبر میں داخل کرتا ہوں)۔“
(سنن ترمذی، کتاب الجنائز، باب ما جاء ما يقول إذا أدخل الميت القبر: 1046 – سنن أبو داود: 3213 – صحیح)
❀ لحد کا منہ بند کرنے کے لیے کچی اینٹیں لگانی چاہییں۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے مرض الموت میں وصیت کی:
”میرے لیے لحد والی قبر بنانا اور مجھ پر کچی اینٹیں لگانا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں کیا گیا۔“
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب في اللحد ونصب اللبن على الميت: 966)
❀قبر پر تمام حاضرین کو تین تین مٹھی مٹی ڈالنی چاہیے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی، پھر قبر پر آئے اور سر کی جانب سے تین مٹھی مٹی ڈالی۔“
(سنن ابن ماجه، کتاب الجنائز، باب ما جاء في حثو التراب في القبر: 1565 – صحیح)
❀قبر زمین سے ایک بالشت اونچی کی جائے، تاکہ وہ زمین سے اونچی ہو کر نمایاں ہو جائے اور بے حرمتی نہ ہو۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لحد والی قبر بنائی گئی اور اس پر کچی اینٹیں نصب کی گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر زمین سے ایک بالشت اونچی کی گئی۔“
(ابن حبان: 6635، إسناده صحیح – السنن الكبرى للبيهقي: 6736 – حسن)
❀قبر کو اونٹ کی کوہان نما بنایا جائے۔ سفیان بن دینار التمار رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر دیکھی کہ وہ اونٹ کی کوہان کی طرح تھی۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب ما جاء في قبر النبي صلى الله عليه وسلم: 1390)
❀قبر پر پانی کا چھڑکاؤ کریں، تاکہ مٹی جم جائے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلة الصحيحة میں طبرانی اوسط کے حوالے سے روایت درج کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم کی قبر پر پانی چھڑکا۔
(السلسلة الصحيحة: 99/1/7، ح: 3045)
❀قبر پر کتبہ لگانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے ثابت نہیں، یہ بدعت ہے۔ ہاں پہچان کے لیے اس پر پتھر وغیرہ رکھنا جائز ہے۔ مطلب بن عبد اللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور ان کا جنازہ لایا گیا اور دفن کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو پتھر لانے کا حکم دیا، لیکن وہ اسے اٹھا نہ سکا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کھڑے ہوئے اسے اٹھایا اور قبر کے سر کے پاس رکھ دیا اور فرمایا: ”(تا کہ) میں اس کے ذریعے اپنے بھائی کی قبر پہچان سکوں اور اس کے ساتھ اپنے خاندان کی میتیں دفن کر سکوں۔“
(سنن أبو داود، کتاب الجنائز، باب في جميع الموتى في قبر والقبر يعلم: 3206 – حسن)
تدفین کے بعد دعا کرنا:
❀سب لوگ میت کی بخشش اور ثابت قدمی کے لیے دعا کریں۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تدفین سے فارغ ہو کر قبر پر کھڑے ہو جاتے اور فرماتے: اپنے بھائی کے لیے بخشش اور ثابت قدمی کی دعا کرو، بلاشبہ اب اس سے سوالات کیے جا رہے ہیں۔“
(سنن أبو داود، کتاب الجنائز، باب الاستغفار عند القبر…… الخ: 3221 – صحیح)
تدفین کے بعد سورۃ بقرہ کی تلاوت کرنا:
❀بعض لوگ تدفین کے بعد میت کے سر والی طرف سورۃ بقرہ کی ابتدائی آیات اور پاؤں والی جانب آخری آیات پڑھتے ہیں، یہ درست نہیں، کیونکہ جس روایت سے استدلال کیا جاتا ہے وہ بالکل ضعیف اور نا قابل اعتبار ہے۔
(دیکھیں مشکوۃ المصابیح بتحقيق علامہ الألباني: 223/2)
تدفین کے بعد میت کو کلمہ کی تلقین کرنا:
❀بعض لوگ قبر پر مٹی ڈال کر میت کو کلمہ کی تلقین کرتے ہیں، یہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ وہ جس روایت سے استدلال کرتے ہیں، اسے علامہ بیشمی نے مجمع الزوائد (38/3) میں، ابن قیم نے زاد المعاد (523/1) میں، صنعانی نے سبل السلام (773/2) میں، نووی نے المجموع (304/5) میں اور حافظ عراقی نے احیاء العلوم (420/4) میں ضعیف کہا ہے اور علامہ الالبانی نے سلسلة ضعیفة (599) میں منکر کہا ہے۔
دوسرا ان کا استدلال اس سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اپنے مردوں کو لا إله إلا الله کی تلقین کرو۔“
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب تلقين الموتى لا إله إلا الله: 916)
یہ حدیث مفصل صحیح ابن حبان (3004) میں ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کلمہ کی تلقین آدمی کو حالت نزع میں کرنی چاہیے نہ کہ تدفین کے بعد۔
(دیکھیں صحیح ابن حبان: تحت الحديث: 3002)
علمائے احناف میں سے علامہ علاء الدین الکاسانی حنفی نے بدائع الصنائع (443/1) میں، علامہ حنفی نے البناية في شرح الہدایہ (207/3) میں اور فتاوی عالمگیری (157/1) میں اسی کو ترجیح دی گئی ہے۔
عورت کو دفن کون کرے گا؟:
❀عورت کی میت کو قبر میں مرد ہی اتاریں گے، نہ کہ عورتیں۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب من يدخل قبر المرأة؟: 1342)
❀عورت کو قبر میں اس کا خاوند اتارے تو بھی جائز ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خود دفن کیا تھا۔
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوة خيبر: 4240، 4241)
❀عورت کی میت کو غیر محرم بھی قبر میں اتار سکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو غیر محرم نے قبر میں اتارا تھا۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب من يدخل قبر المرأة: 1342)
قبر میں روشنی کے لیے چراغ چلانا:
❀رات اندھیری ہو تو قبر کے اندر روشنی کے لیے چراغ وغیرہ لے جانا جائز ہے۔
(سنن ابن ماجه، کتاب الجنائز، باب ما جاء في الأوقات …… الخ: 1520 – سنن ترمذی: 1057 – مستدرك حاکم: 368/1، ح: 1361 و إسناده حسن لذاته – 345/2، ح: 3318 و إسناده حسن لذاته)
ایک خاندان کی اکٹھی قبریں:
قبرستان کے اندر ایک خاندان کے افراد کی ایک جگہ اکٹھی قبریں بنانا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی تدفین کے بعد ایک پتھر قبر کے سرہانے رکھا اور فرمایا:
”یہ اس لیے کہ میں اپنے بھائی کی قبر پہچان سکوں اور اس کے ساتھ اپنے خاندان کی میتیں دفن کر سکوں۔“
(سنن أبو داود، کتاب الجنائز، باب في جميع الموتى في قبر والقبر يعلم: 3206 – حسن)
اجتماعی تدفین:
❀میتیں زیادہ ہوں تو ایک قبر میں زیادہ لوگوں کو بھی دفنایا جا سکتا ہے، اس صورت میں قبر میں قبلہ کی سمت پہلے اس میت کو رکھا جائے گا جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے احد میں سے دو دو افراد کو اکٹھا کرتے، پھر پوچھتے: ان میں قرآن زیادہ جاننے والا کون ہے؟ جب کسی ایک کی طرف اشارہ کر دیا جاتا، تو اسے لحد میں پہلے (قبلہ کی طرف) رکھا جاتا۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب الصلاة على الشهداء: 1343)
قبر کشائی:
❀کسی شدید ضرورت کے تحت میت کو قبر سے نکالا جا سکتا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبد اللہ بن ابی کی قبر پر آئے، جبکہ اسے قبر میں رکھ دیا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باہر نکالنے کا حکم دیا، پھر اسے اپنے گھٹنے پر رکھا، اس کے منہ میں لعاب مبارک ڈالا اور اسے اپنی قمیص پہنائی۔“
اور اس سے اگلی روایت میں ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”میرے باپ کو (احد میں شہداء کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے) دوسرے آدمی کے ساتھ اکٹھا دفن کیا گیا، میرے دل کو اچھا نہ لگا تو میں نے (چھ ماہ کے بعد) اپنے باپ کو نکال کر دوسری قبر میں تنہا دفن کیا۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب هل يخرج الميت من القبر واللحد لعلة؟: 1350، 1351، 1352 – صحیح مسلم: 4277/3)
ثابت ہوا کہ میت کو کسی ضرورت کے پیش نظر قبر سے نکالا جا سکتا ہے، لیکن بغیر ضرورت ایسا کرنا درست نہیں ہے۔