تحیۃ المسجد کا کیا حکم ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

تحیۃ المسجد کا کیا حکم ہے؟

جواب:

تحیۃ المسجد بالاجماع مستحب ہے۔
❀ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
لا يختلف العلماء أن كل من دخل المسجد فى وقت يجوز فيه التطوع بالصلاة أنه يستحب له أن يركع فيه عند دخوله ركعتين قالوا: فيهما تحية المسجد وليس ذلك بواجب عند أحد.
”اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں کہ جو شخص بھی مسجد میں اس وقت داخل ہو جب نفل نماز جائز ہو، اس کے لیے دو رکعت پڑھنا مستحب ہے۔ اہل علم کہتے ہیں: یہ دو رکعت تحیۃ المسجد ہیں، اور یہ کسی عالم کے نزدیک واجب نہیں۔ “
(التمهید: 100/20)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
أجمع العلماء على استحباب تحية المسجد.
”اہل علم کا اجماع ہے کہ تحیۃ المسجد مستحب ہے۔“
(المجموع: 52/4)
❀ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (804ھ) فرماتے ہیں:
استحباب تحية المسجد بركعتين، وهى سنة بالإجماع.
”تحیۃ المسجد کی نیت سے دو رکعت ادا کرنا مستحب ہے، یہ بالاجماع سنت ہے۔ “
(التوضیح: 524/5)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
اتفق أئمة الفتوى على أن الأمر فى ذلك للندب.
”تمام ارباب فتویٰ کا اتفاق ہے کہ تحیۃ المسجد کا حکم استحباب پر محمول ہے۔ “
(فتح الباری: 537/1)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے