مرکزی مواد پر جائیں
15 شعبان، 1447 ہجری

تحفے میں دی گئی چیز کو آگے دینے کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ علمائے حدیث، کتاب الصلاۃ، جلد 1

سوال

کیا تحفے میں دی گئی چیز کو آگے کسی اور کو تحفے میں دینا جائز ہے؟

الجواب

تحفے میں دی گئی چیز کو آگے کسی اور کو تحفے میں دینا بالکل جائز ہے، اس میں کوئی شرعی ممانعت نہیں۔ جب کوئی چیز تحفے کے طور پر دی جاتی ہے تو وہ اس شخص کی ملکیت بن جاتی ہے جسے تحفہ دیا گیا ہے، اور وہ اس میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کر سکتا ہے، خواہ وہ اسے اپنے پاس رکھے یا کسی اور کو تحفہ دے دے۔

صحابہ کرام کی مثال:

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعدد واقعات سے یہ عمل ثابت ہے:

ایک روایت کے مطابق، ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے بکرے کی سری کسی کو تحفے میں دی۔ جس شخص کو سری دی گئی، اس نے وہ سری کسی اور کو تحفہ دے دی۔ یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ وہ سری گھومتی گھماتی پہلی مرتبہ دینے والے صحابی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آگئی۔

خلاصہ:

تحفے میں دی گئی چیز آگے کسی اور کو تحفے میں دینا جائز ہے اور یہ عمل اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ اس میں کسی قسم کی شرعی قباحت نہیں ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔