تجہیز و تکفین، غسلِ میت اور کفن کا مکمل طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔
مضمون کے اہم نکات

تجہیز و تکفین کی اہمیت:

❀ میت کی تجہیز و تکفین فرض ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اغسلوه بماء وسدر وكفنوه
”اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دو اور اسے کفن دو۔“
(بخاری، کتاب الجنائز، باب الكفن في ثوبين: 1265 – مسلم: 1206)

تجهیز و تکفین کرنے والوں کی فضیلت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من غسل مسلما فكتم عليه غفر الله له أربعين مرة ومن حفر له فأجنه أجري عليه كأجر مسكن أسكنه إياه إلىٰ يوم القيامة ومن كفنه كساه الله يوم القيامة من سندس وإستبرق الجنة
”جس نے کسی مسلمان میت کو غسل دیا اور اس کے عیبوں کو چھپایا، اللہ تعالیٰ اسے چالیس مرتبہ معاف فرماتا ہے اور جس نے قبر کھود کر میت کو دفن کیا، اس کے لیے اتنا ثواب ہے جیسے اس نے کسی کو قیامت تک رہائش فراہم کر دی اور جس نے اسے کفن پہنایا تو اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت کے ریشم کا لباس پہنائے گا۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 395/3، ح: 6655 – مستدرك حاکم: 362، 354/1، ح: 1307، 1340 – علامہ الالبانی نے تلخیص أحكام الجنائز: 31 میں اسے صحیح اور امام حاکم اور امام ذہبی نے اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے)

غسل میت کے آداب :

❀ انگوٹھی اور گھڑی وغیرہ ہو تو وہ اتار لی جائے۔
❀میت کے جسم پر ناف سے گھٹنوں تک کوئی کپڑا ڈال دیں، پھر اس کے کپڑے اتار دیں۔ دوران غسل میں سوائے مجبوری کے میت کی شرم گاہ پر نہ نظر پڑے اور نہ کپڑے کے بغیر ہاتھ لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا ينظر الرجل إلى عورة الرجل ولا المرأة إلى عورة المرأة
”مرد دوسرے مرد کی اور عورت دوسری عورت کی شرمگاہ نہ دیکھے۔“
(صحیح مسلم، کتاب الحيض، باب تحريم النظر إلى العورات : 338)
❀سب سے پہلے میت کا پیٹ دو تین دفعہ آہستہ آہستہ دبایا جائے (تاکہ کوئی گندگی ہو تو خارج ہو جائے) پھر ہاتھ پر کپڑے کا دستانہ وغیرہ چڑھا کر پانی سے استنجا کروائیں۔
❀ ناک، دانت، منہ اور کانوں کی گیلی روئی سے اچھی طرح صفائی کر لی جائے، تاکہ وضو کے دوران میں تین دفعہ سے زیادہ نہ دھونا پڑے۔
❀ میت کو غسل دیتے وقت دائیں جانب سے اور وضو کے اعضا سے ابتدا کرنی چاہیے۔
ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے وقت فرمایا:
ابدأن بميامنها ومواضع الوضوء منها
”میت کی دائیں جانب سے اور وضو کے اعضا سے غسل شروع کرو۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب يبدأ بميامن الميت : 1255 – صحیح مسلم : 939/42)
❀اس کے علاوہ غسل دیتے ہوئے مندرجہ ذیل چیزوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
➊ پانی میں بیری کے پتے ڈال کر ابالا جائے اور اس سے غسل دیا جائے (صابن یا شیمپو وغیرہ استعمال کرنا بھی جائز ہے)۔
➋ آخری مرتبہ غسل دیتے وقت کچھ خوشبو ملا لینی چاہیے، کافور ہو تو بہتر ہے۔
➌ عورت کی مینڈھیاں کھول کر اچھی طرح دھونی چاہییں۔
➍ بعد از غسل عورت کے بالوں کی تین مینڈھیاں بنا کر پیچھے ڈال دینی چاہییں۔
➎ غسل تین، پانچ، سات یا ضرورت کے تحت اس سے زیادہ بار بھی دیا جا سکتا ہے، لیکن طاق عدد میں۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب غسل الميت و وضوءه بالماء والسدر : 1253، 1263 – صحیح مسلم : 939)

میت کو غسل کون دے گا؟ :

❀مردوں کو مرد اور عورتوں کو عورتیں غسل دیں۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب غسل الميت ووضوءه بالماء والسدر : 1253 – صحیح مسلم : 939)
❀میاں بیوی ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں، بلکہ یہ زیادہ بہتر ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
لو كنت استقبلت من أمري ما استدبرت ما غسل النبى صلى الله عليه وسلم غير نسائه
”اگر مجھے اس بات کا پہلے خیال آ جاتا جو بعد میں آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی بیویوں کے سوا کوئی غسل نہ دیتا۔“
(سنن ابن ماجه، کتاب الجنائز، باب ما جاء في غسل الرجل امرأته وغسل المرأة زوجها : 1464 – صحیح)
❀ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ بیوی کے مرنے سے خاوند کا اس سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے اس کا چہرہ سب دیکھ سکتے ہیں لیکن خاوند نہیں دیکھ سکتا۔ اسی طرح اسے قبر میں دوسرے رشتہ دار اتارتے ہیں، خاوند نہیں۔ یہ نظریہ بالکل غلط اور قرآن و سنت کے قطعاً خلاف ہے، بلکہ خاوند دوسروں کی نسبت زیادہ حقدار ہے۔
❀میت کو غسل وہ شخص دے جو زیادہ قریبی رشتہ دار ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریبی رشتہ داروں ہی نے غسل دیا تھا۔
❀ہمارے ہاں عام طور پر امام مسجد یا کسی دوسرے شخص کو غسل دینے کے لیے اجرت پر مقرر کیا ہوتا ہے، یہ درست نہیں۔
❀میت کو غسل وہ شخص دے جو اس کے مسائل اور طریقہ جانتا ہو، تا کہ صحیح طریقے سے غسل دے سکے۔ مجھے ایک عالم دین نے بتایا کہ انھوں نے خود ایک جگہ دیکھا کہ گاؤں والوں نے ایک عیسائی کو میت کو غسل دینے کے لیے مقرر کیا ہوا ہے۔ یہ جہالت اور دین سے دوری کا نتیجہ ہے، جو قطعاً جائز نہیں۔

غسل دینے والے کے فرائض:

❀میت کے عیوب لوگوں میں بیان کرنا حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من غسل مسلما فكتم عليه غفر الله له أربعين مرة
”جو شخص میت کو غسل دے اور اس کے عیبوں کو چھپائے، اللہ تعالیٰ اسے چالیس مرتبہ معاف فرماتا ہے۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 395/4، ح: 6655 – مستدرك حاکم: 362/1، 354/1، ح: 1307، 1340 – امام حاکم اور امام ذہبی نے اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے)
❀میت کو غسل دینے والا غسل کرے، جبکہ اٹھانے والا وضو کرے تو بہتر ہے۔ فرمان نبوی ہے:
من غسل الميت فليغتسل، ومن حمله فليتوضأ
”میت کو غسل دینے والا غسل کرے اور اسے اٹھانے والا وضو کرے۔“
(سنن أبو داود، کتاب الجنائز، باب في الغسل من غسل الميت: 3161 – صحیح)
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:
ليس عليكم فى غسل ميتكم غسل إذا غسلتموه، فإن ميتكم ليس بنجس، فحسبكم أن تغسلوا أيديكم
”میت کو غسل دینے والے پر غسل کرنا ضروری نہیں ہے، کیونکہ تمھارے مردے نجس نہیں ہوتے، بس اپنے ہاتھ دھولو، یہی کافی ہے۔“
(مستدرك حاکم: 286/1، ح: 1426 – امام حاکم اور امام ذہبی نے بخاری کی شرط پر صحیح، جبکہ حافظ ابن حجر اور الالبانی نے حسن کہا ہے)

حاجی کا غسل:

احرام میں فوت ہونے والے کے جسم یا کفن کو خوشبو نہ لگائی جائے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
اغسلوه بماء وسدر وكفنوه فى ثوبين ولا تحنطوه ولا تخمروا رأسه فإنه يبعث يوم القيامة ملبيا
”اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دو اور اسے دو کپڑوں میں کفن دو، اسے خوشبو نہ لگانا اور نہ اس کے سر کو ڈھانپنا، یہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا اٹھے گا۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب الكفن في ثوبين: 1265 – صحیح مسلم: 1206/94)

شہید کا غسل:

❀معرکہ کے شہدا کو غسل نہیں دیا جائے گا، بلکہ خون تک صاف نہیں کیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن فرمایا:
ادفنوهم فى دمائهم يعني يوم احد ولم يغسلهم
”شہدا کو ان کے خون سمیت دفن کر دو۔“یہ احد کے دن کا واقعہ ہے اور انھیں غسل نہیں دیا گیا۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب من لم ير غسل الشهداء: 1346)
❀ بعض علماء کا خیال ہے کہ اگر کسی شہید پر غسل جنابت فرض ہو تو اسے غسل دیا جائے گا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: ”تمھارے ساتھی کو فرشتے غسل دے رہے ہیں، اس کی بیوی سے اس کے متعلق دریافت کرو۔“ (پوچھنے پر اس نے کہا: یہ اعلان جہاد سنتے ہی نکل گئے تھے، حالانکہ وہ جنبی تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی لیے فرشتوں نے اسے غسل دیا ہے۔)
(ابن حبان: 7020، إسناده حسن لذاته – مستدرك حاکم: 204/3، 205 – السنن الكبرى للبيهقي: 15/4، ح: 6814)
ان کی یہ بات درست نہیں، کیونکہ فرشتوں کے غسل دینے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انسان بھی اسے غسل دیں گے۔ پھر صحیح حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہداء کو غسل نہ دو، کیونکہ روز قیامت ان کے ہر زخم (یا فرمایا زخم سے نکلنے والے) ہر خون سے مشک خوشبو پھوٹ رہی ہوگی۔
(مسند احمد: 2993، ح: 14199 – صحیح)

کفن کون دے گا؟:

❀کفن دفن کا انتظام میت کے مال سے کرنا چاہیے۔
(صحیح بخاری، کتاب جزاء الصيد، باب سنة المحرم إذا مات: 1851 – صحیح مسلم: 1206)
❀اگر کوئی شخص اپنی طرف سے میت کو کفن دے، تو بھی جائز ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے کفن کے لیے اپنی چادر عطا کی تھی۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب كيف الإشعار للميت؟: 1261 – صحیح مسلم: 4939)
لیکن ہمارے ہاں یہ رواج بن چکا ہے کہ عورت کو اس کے میکے والے ہی کفن دیں گے، یہ رسم غیر اسلامی، بلکہ ظلم ہے، کیونکہ شادی شدہ عورت کے تمام اخراجات اس کے خاوند اور پھر اس کی اولاد کے ذمہ ہیں۔

کفن کے اوصاف:

❀کفن اچھا اور جسم کو صحیح طرح چھپانے والا ہونا چاہیے۔ ایک مرتبہ ایک آدمی کو ہلکا کفن دے کر رات ہی کو دفن کر دیا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا:
إذا كفن أحدكم أخاه فليحسن كفنه
”جب تم اپنے مسلمان بھائی کو کفن دو تو اچھا کفن دو۔“
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب في تحسين كفن الميت: 943)
❀کفن سفید کپڑے میں دینا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
البسوا من ثيابكم البيض فإنها من خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم
”سفید کپڑا پہنو، یہ تمھارا بہترین لباس ہے اور اس میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔“
(سنن أبو داود، کتاب اللباس، باب في البياض: 4061 – ترمذی: 1010 – صحیح)
❀کفن میں تین کپڑے ہونے چاہییں، ایک شلوار کی جگہ، ایک قمیص کی جگہ اور ایک بڑی چادر دونوں کے اوپر لیٹنے کے لیے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا، ان میں قمیص اور پگڑی نہیں تھی۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب الثياب البيض للكفن: 1264 – صحیح مسلم: 941)
❀کپڑا کم ہو تو سر کی طرف ڈال دیں، باقی جسم کسی دوسری چیز سے چھپا دیں۔ سیدنا خباب بن الارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جنگ احد میں شہید ہوئے تو ترکہ میں صرف ایک چادر چھوڑی، جب ہم اس سے ان کا سر چھپاتے تو ان کے پاؤں ننگے ہو جاتے، پاؤں چھپاتے تو سر ننگا جاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم سر ڈھانپ دیں اور پاؤں پر گھاس ڈال دیں۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب إذا لم يجد كفنا …… الخ: 1276 – صحیح مسلم: 2177)
❀کفن زیادہ مہنگا نہیں ہونا چاہیے، یہ فضول خرچی ہے، جو حرام ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ‎﴿٢٦﴾‏ إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ
(17-الإسراء:26,27)
”فضول خرچی نہ کرو، کیونکہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔“
❀ پرانے کپڑوں میں بھی کفن دیا جا سکتا ہے۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پرانے کپڑوں میں کفن دینے کی وصیت فرمائی تھی۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب موت يوم الاثنين: 1387)

عورت کا کفن:

❀عورت کو بھی مرد والا کفن دیا جائے گا، کیونکہ عورت کے لیے علیحدہ کفن کا ذکر کسی صحیح واضح حدیث سے ثابت نہیں۔

اجتماعی کفن:

❀اگر فوت شدگان زیادہ ہوں اور کپڑا کم ہو تو ایک کفن میں زیادہ لوگوں کو بھی کفنایا جا سکتا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم يجمع بين الرجلين من قتلى أحد فى ثوب واحد
”دو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کے دو، دو آدمیوں کو ایک ایک کپڑے میں کفن دیا۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب الصلاة على الشهيد: 1343)

حرم کا کفن:

❀حالت احرام میں فوت ہونے والے کو اس کے احرام والے دو کپڑوں ہی میں کفن دیا جائے گا اور اس کے سر اور چہرے کو ننگا رکھا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كفنوه فى ثوبيه، ولا تمسوه بطيب ولا تخمروا رأسه وفي رواية: ولا تخمروا وجهه
”اس کے دونوں کپڑوں میں اسے کفن دو، خوشبو نہ لگانا اور نہ اس کے سر کو ڈھانپنا۔ اور دوسری روایت میں ہے: اس کا چہرہ نہ ڈھانپنا۔“
(صحیح بخاری، کتاب جزاء الصيد، باب سنة المحرم إذا مات: 1851 – صحیح مسلم: 1206 – سنن ابن ماجه: 3084 – صحیح)

شہید کا کفن:

شہید کو کفن دینے کی ضرورت نہیں، تن کے کپڑوں میں دفن کیا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
زملوهم فى ثيابهم
”انھیں انھی کے کپڑوں میں لپیٹ دو۔“
(مسند احمد: 431/5، ح: 24056 – شعیب الارنوط نے اسے صحیح، جبکہ شیخ الالبانی نے حسن کہا ہے)
اگر کفن میسر ہو تو شہید کو کپڑوں سمیت کفن دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کے دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں کفن دیا۔
(صحیح بخاری: 1343)