تجارت کے مسائل: بیع کی شرائط، ناجائز صورتیں اور خیار کے احکام

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل کتاب البیوع:جلد 02: صفحہ 16
مضمون کے اہم نکات

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
تجارت کے مسائل

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآنِ مجید میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنتِ مطہرہ میں معاملات کے مسائل کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے، کیونکہ لوگوں کو ان کی سخت ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر: انسان کو غذا درکار ہوتی ہے جو اس کے جسم کو قوت دے، اسی طرح لباس، رہائش، سواری وغیرہ کی حاجت بھی رہتی ہے، کیونکہ یہ چیزیں زندگی کی بنیادی اور تکمیلی ضروریات میں شامل ہیں۔

 بیع (خرید و فروخت) کے مشروع ہونے کی دلیلیں

 کتاب، سنت، اجماع اور قیاس سے بیع کی مشروعیت

کتاب اللہ سے دلیل
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ”
"اور اللہ نے بیع(تجارت) کو حلال کیا ہے۔” [البقرۃ 2/275۔]

نیز فرمایا: ﴿ لَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ أَن تَبتَغوا فَضلًا مِن رَبِّكُم…﴿١٩٨﴾… سورة البقرة
"تم پر اپنے رب کا فضل تلاش کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔” [البقرۃ:2:198۔]

سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دلیل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا قَالَ هَمَّامٌ وَجَدْتُ فِي كِتَابِي يَخْتَارُ ثَلَاثَ مِرَارٍ فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا فَعَسَى أَنْ يَرْبَحَا رِبْحًا وَيُمْحَقَا بَرَكَةَ بَيْعِهِمَا "
"خریدوفروخت کرنے والے دونوں آدمیوں کو تب تک اختیار ہے جب تک(مجلس سے اٹھ کر) الگ الگ نہیں ہوجاتے۔اگر دونوں سچ بولیں اور(سودے کی حقیقت) واضح کردیں تو دونوں کی بیع میں برکت ہوگی اور اگر دونوں جھوٹ بولیں گے اور(حقیقت کو) چھپائیں گے تو ان کی بیع سے برکت اٹھ جائے گی۔” [صحیح البخاری ،البیوع،باب اذا بین البیعان۔۔۔حدیث:2079،وصحیح مسلم،البیوع ،باب الصدق فی البیع والبیان ،حدیث:1532۔]

اجماعِ امت
خریدوفروخت کی مشروعیت پر امت کے علماء کا اجماع ہے۔

قیاس
قیاس کی جہت یہ ہے کہ لوگوں کی حاجت اور ضرورت بیع کے جواز کا تقاضا کرتی ہے، کیونکہ انسان کی ضرورت بعض اوقات ایسی قیمت یا ایسی قیمتی چیز سے وابستہ ہوتی ہے جو دوسرے انسان کی ملکیت اور دسترس میں ہو، اور وہ اسے کسی عوض کے بغیر نہیں دے گا۔ لہٰذا حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ بیع کو جائز رکھا جائے تاکہ مطلوب چیز تک رسائی ممکن ہو۔

 بیع کے منعقد ہونے کی صورتیں

 بیع قول یا فعل سے قائم ہوتی ہے

قول (ایجاب و قبول) کے ذریعے
قول میں ایجاب اور قبول ہوتا ہے، یعنی بیچنے والا کہے: “میں نے یہ چیز فروخت کر دی” اور خریدار کہے: “میں نے یہ چیز خرید لی” تو بیع ثابت ہوجاتی ہے۔

فعل (معاطات) کے ذریعے
کبھی لین دین یوں ہوتا ہے کہ ایک شخص گفتگو کے بغیر چیز دے دے اور دوسرا اس کی معروف قیمت ادا کر دے۔

قول اور فعل دونوں کے ساتھ
بعض اوقات بیع میں قول بھی ہوتا ہے اور تعامل (فعل) بھی۔

شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ نے بیع بالمعاطاۃ (فعل کے ساتھ بیع) کی متعدد صورتیں ذکر فرمائی ہیں:

صرف بائع کی طرف سے لفظی ایجاب ہو اور مشتری خاموشی سے چیز لے لے۔ مثال: بائع کہے: “یہ کپڑا ایک دینار کے عوض لے لو” اور مشتری اسے لے لے۔ اسی طرح اگر قیمت نقدی کے سوا کوئی چیز ہو تو بائع کہے: “یہ کپڑا اپنے کپڑے کے عوض لے لو” اور مشتری اسے اپنے قبضے میں لے لے۔

صرف مشتری بولے اور بائع چیز دے دے، خواہ قیمت فوراً متعین ہو یا بعد میں ادا کرنے کی یقین دہانی ہو۔

بائع اور مشتری میں سے کوئی بھی الفاظ استعمال نہ کرے بلکہ عرف یہ ہو کہ مشتری قیمت رکھ دے اور مطلوب چیز اٹھا لے۔

 بیع کی صحت کی شرائط

 بائع اور مشتری سے متعلق شرائط

بیع کے درست ہونے کے لیے چند شرائط ہیں: کچھ شرائط کا تعلق بائع اور مشتری سے ہے، اور کچھ کا تعلق مبیع (فروخت ہونے والی چیز) سے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو بیع صحیح نہیں ہوگی۔

① باہمی رضامندی

بیع کا دونوں کی رضا مندی سے ہونا ضروری ہے۔ اگر دونوں میں سے کسی پر ناحق جبر اور زبردستی ہو تو بیع درست نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِلّا أَن تَكونَ تِجـٰرَةً عَن تَراضٍ مِنكُم …﴿٢٩﴾… سورة النساء
"مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے خریدوفروخت ہو۔” [النساء:4۔29۔]

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِنَّمَا الْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ”
"بیع رضا مندی ہی سے ہوتی ہے۔” [سنن ابن ماجہ التجارات باب بیع الخیار،حدیث:2185 وصحیح ابن حبان(ابن بلبان)البیوع باب ذکر العلۃ التی من اجلھا زجر عن ھذا البیع،حدیث:4967۔]

✔ البتہ جب جبر و اکراہ حق اور درست ہو تو بیع معتبر ہوگی، مثال کے طور پر: اگر حاکم یا قاضی کسی شخص کو اس کی چیز بیچنے پر اس وجہ سے مجبور کرے کہ اس کے ذمے قرض ہے اور ادائیگی لازم ہے، تو یہ اکراہ درست ہے۔

② فریقین کا اہل ہونا

صحتِ بیع کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ معاملہ کرنے والے دونوں بیع کی اہلیت رکھتے ہوں، یعنی ہر ایک آزاد، عاقل اور بالغ ہو۔ اس بنا پر بچے، بے وقوف، مجنون اور غلام (جسے اپنے آقا کی اجازت نہ ہو) کی بیع معتبر اور صحیح نہیں ہوگی۔

③ بائع کا مالک ہونا یا قائم مقام ہونا

یہ بھی شرط ہے کہ فروخت کرنے والا اس چیز کا مالک ہو یا مالک کا قائم مقام ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:
"لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ”
"جو شے تیری ملکیت میں نہیں اسے فروخت نہ کر” [جامع الترمذی البیوع باب ما جاء فی کراھیۃ بیع مالیس عندہ حدیث:1232وسنن ابن ماجہ التجارات باب النھی عن بیع ما لیس عندک۔۔۔حدیث 2187۔]

علامہ وزیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اہل علم کا اتفاق ہے کہ کسی ایسی شے کی فروخت جائز نہیں جو اس کے پاس نہیں یا اس کی ملکیت میں نہیں کیونکہ پھر وہ اس غیر مملوکہ چیز کو خریدنے جائےگا(اورممکن ہے اس نہ ملے)،اس لیے اس قسم کی بیع باطل ہے۔”

فروخت ہونے والی چیز (مبیع) سے متعلق شرائط

① نفع شرعاً جائز ہو

مبیع ایسی چیز ہو جس سے فائدہ اٹھانا شرعاً جائز ہو۔ جس چیز سے فائدہ اٹھانا حرام ہو اس کی خرید و فروخت درست نہیں۔ مثالیں: شراب، خنزیر، لہو و لعب کے آلات، مردار وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الخَمْرِ وَالمَيْتَةِ وَالخِنْزِيرِ والأَصْنَامِ”
"اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب،مردار،سُور اور بتوں کی خریدوفروخت حرام قراردی ہے ۔” [صحیح البخاری البیوع ،باب بیع الميتة والاصنام حدیث:2236 وصحیح مسلم المساقاۃ باب تحریم بیع الخمر والميتة والخنزیر والاصنام حدیث:1581۔]

ایک روایت میں ہے:
"اللہ تعالیٰ نے شراب اور اس کی قیمت،مردار اور اس کی قیمت ،خنزیر اور اس کی قیمت ان سب کو حرام قراردیاہے۔” [سنن ابی داود البیوع باب فی ثمن الخمر والميتة حدیث 3485۔]

"إن الله تعالى حرم الخمر وثمنها وحرم الميتة وثمنها وحرم الخنزير وثمنه”

اسی طرح نجس تیل اور بدبودار اشیاء کی بیع بھی ناجائز ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إنَّ الله إِذَا حَرَّمَ شَيْئاً حَرَّمَ ثَمَنَهُ”
"اللہ تعالیٰ نے جب کسی چیز کو حرام کیا تو اس کی قیمت کو بھی حرام قراردیا۔ [مسند احمد 1/322۔وسنن دارقطنی 3/7 حدیث :2791 واللفظ لہ۔]

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مردار کی چربی کے بارے میں پوچھا گیا جسے کشتیوں کو چکنا کرنے، چمڑوں کو نرم کرنے اور گھروں میں چراغ جلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تو آپ نے فرمایا: "لَا، هُوَ حِرَامٌ”
"اسے استعمال کرنے کی اجازت نہیں یہ حرام ہے ۔” [صحیح البخاری البیوع باب بیع الميتة والاصنام حدیث 2236 وصحیح مسلم المساقاۃ باب تحریم بیع الخمر والميتة والخنزیر والاصنام حدیث 1581۔]

② بائع کے لیے حوالہ کرنا ممکن ہو

فروخت ہونے والی چیز ایسی ہو کہ بائع اسے مشتری کے حوالے کر سکے، ورنہ وہ معدوم کے حکم میں ہوگی اور اس کی بیع جائز نہیں۔ مثال: بھاگا ہوا غلام، بے قابو اونٹ، یا فضا میں اڑتے ہوئے پرندے کی بیع۔ اسی طرح غصب شدہ چیز کو غاصب کے علاوہ کسی اور کے ہاتھ بیچنا بھی جائز نہیں، کیونکہ خریدار اسے حاصل نہیں کر پائے گا۔ البتہ جو شخص اسے واپس لینے کی قدرت رکھتا ہو، اس کے ہاتھ بیچنا درست ہے۔

③ مبیع اور قیمت واضح ہو

بیع کی صحت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ مبیع اور اس کی قیمت فریقین کے نزدیک واضح اور متعین ہو، کیونکہ جہالت دھوکے میں داخل ہے اور یہ ممنوع ہے۔
جس چیز کو دیکھا ہی نہ ہو، یا دیکھا تو ہو مگر اس کے اچھے بُرے ہونے کی حقیقت معلوم نہ ہو، اسے خریدنا درست نہیں۔ اسی لیے مادہ کے پیٹ میں حمل کی بیع اور جانوروں کے تھنوں میں دودھ کی بیع جائز نہیں۔
اسی بنا پر بیعِ ملامسہ (جس کپڑے کو ہاتھ لگ گیا وہ لازماً اتنی قیمت کا) اور بیعِ منابذۃ (جو کپڑا پھینکا گیا وہ اتنی قیمت کا) جائز نہیں۔ سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"نهى الرسول صلى الله عليه وسلم عن الملامسة والمنابذة "
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ اور بیع منابذہ سے منع فرمایا ہے۔” [صحیح البخاری البیوع باب بیع المنابذۃ حدیث 2146،2147۔وصحیح مسلم البیوع باب ابطال بیع الملامسۃ والمنابذۃ حدیث 1511،1512۔]

اسی طرح کنکری پھینک کر بیع منعقد کرنا بھی جائز نہیں، مثلاً: یہ کہنا کہ “تم کنکری پھینکو، جس کپڑے پر پڑے وہ اتنی قیمت کے عوض تمہارا ہے۔”

④ بیع کی ناجائز صورتوں کا بیان

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے خرید و فروخت کو جائز رکھا ہے، مگر یہ اس شرط کے ساتھ ہے کہ اس سے کسی زیادہ اہم اور مفید شرعی حکم کی خلاف ورزی لازم نہ آئے۔ مثلاً ایسی بیع جو فرض عبادت کی ادائیگی میں رکاوٹ بنے، یا ایسی تجارت جس میں دوسرے مسلمان کو نقصان پہنچتا ہو، وہ ممنوع اور ناجائز ہے۔

① اذانِ جمعہ کے بعد تجارت

اس قاعدے کے مطابق جس شخص پر جمعہ فرض ہے، اس کے لیے اذان کے بعد خرید و فروخت جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا نودِىَ لِلصَّلو‌ٰةِ مِن يَومِ الجُمُعَةِ فَاسعَوا إِلىٰ ذِكرِ اللَّهِ وَذَرُوا البَيعَ ذ‌ٰلِكُم خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ ﴿٩﴾… سورة الجمعة
"اے وه لوگو جو ایمان لائے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو” [الجمعۃ:62/9۔]

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اذانِ جمعہ ہوتے ہی خریدوفروخت سے روک دیا، تاکہ تجارت میں مشغولیت جمعہ سے غیر حاضری کا ذریعہ نہ بن جائے۔ اگرچہ اس وقت دیگر دنیاوی امور میں مشغول ہونا بھی ممنوع ہے، لیکن تجارت کو خاص طور پر اس لیے ذکر کیا گیا کہ اسبابِ معاش میں تجارت ایسی اہم چیز ہے جس میں لوگ زیادہ مشغول رہتے ہیں۔
پس آیت میں وارد ممانعت اذانِ جمعہ کے بعد کی بیع کو حرام اور ناجائز قرار دیتی ہے۔

اسی طرح دیگر فرض نمازوں کی اذان کے وقت بھی تجارت میں مشغول رہنا اور مسجد میں حاضر نہ ہونا ناجائز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فى بُيوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَن تُرفَعَ وَيُذكَرَ فيهَا اسمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فيها بِالغُدُوِّ وَالءاصالِ ﴿٣٦﴾رِجالٌ لا تُلهيهِم تِجـٰرَةٌ وَلا بَيعٌ عَن ذِكرِ اللَّهِ وَإِقامِ الصَّلو‌ٰةِ وَإيتاءِ الزَّكو‌ٰةِ يَخافونَ يَومًا تَتَقَلَّبُ فيهِ القُلوبُ وَالأَبصـٰرُ ﴿٣٧﴾ لِيَجزِيَهُمُ اللَّهُ أَحسَنَ ما عَمِلوا وَيَزيدَهُم مِن فَضلِهِ وَاللَّهُ يَرزُقُ مَن يَشاءُ بِغَيرِ حِسابٍ ﴿٣٨﴾… سورة النور
"ان گھروں میں جن کے بلند کرنے، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے وہاں صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے اور زکوٰة ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی (37) اس ارادے سے کہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلے دے بلکہ اپنے فضل سے اور کچھ زیادتی عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بےشمار روزیاں دیتا ہے” [النور۔24/34۔36۔]

② گناہ میں استعمال کرنے والے کو چیز بیچنا

کسی چیز کو ایسے شخص کے ہاتھ فروخت کرنا جو اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور حرام کام میں استعمال کرے، ناجائز ہے۔ مثال: پھل کا جوس اس شخص کو بیچنا جو اسے شراب بناتا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
﴿وَلا تَعاوَنوا عَلَى الإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ …﴿٢﴾… سورة المائدة
"ایک دوسرے کی گناہ اور ظلم وزیادتی میں مدد نہ کرو۔” [المائدۃ۔2:5۔]

یقیناً یہ صورت گناہ اور زیادتی میں تعاون کے ضمن میں آتی ہے۔

مسلمانوں کے درمیان لڑائی اور فتنہ کے وقت اسلحہ بیچنا بھی ناجائز ہے، تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کو قتل نہ کیا جائے۔ ایسے حالات میں دیگر سامانِ جنگ کی فروخت بھی درست نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا، اور اللہ تعالیٰ نے بھی اسی اصول کے تحت منع فرمایا ہے: ﴿وَلا تَعاوَنوا عَلَى الإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ …﴿٢﴾… سورة المائدة
"ایک دوسرے کی گناہ اور ظلم وزیادتی میں مدد نہ کرو۔” [المائدۃ۔2:5۔]

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "دلائلِ شرعیہ اس امر پر واضح ہیں کہ تجارت میں مقصد کا اعتبار ضروری ہے، اور یہی مقصد بیع کے جائز یا ناجائز، اور حلال یا حرام ہونے میں اثر انداز ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر: اگر معلوم ہو کہ کوئی شخص کسی مسلمان کو قتل کرے گا تو اسے اسلحہ فروخت کرنا حرام ہے کیونکہ یہ ظلم و زیادتی میں تعاون ہے۔ اور اگر اس شخص کو اسلحہ دیا جائے جس کے بارے میں علم ہو کہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد و قتال کرے گا تو یہ باعثِ اجر اور اطاعت ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کو اسلحہ بیچنا جو مسلمانوں سے لڑتے ہوں یا ڈاکہ ڈالتے ہوں، حرام اور ناجائز ہے کیونکہ اس میں معصیت میں تعاون لازم آتا ہے۔” [ اعلام الموقعین:3/99۔100 بتغیر۔]

③ مسلمان غلام کو کافر کے ہاتھ بیچنا

کسی مسلمان غلام کو کافر شخص کے ہاتھ فروخت کرنا جائز نہیں (سوائے اس کے کہ وہ اس کی ملکیت میں آکر قانوناً آزاد ہورہا ہو) [اسلامی قانون یہ ہے کہ جب کوئی غلام اپنے محرم رشتے دار کی ملکیت بن جائے،مثلاً:اس کا باپ بھائی وغیرہ خرید لے تو وہ اس کی ملکیت میں آتے ہی آزاد شمار ہوگا۔(صارم)]
کیونکہ اس صورت میں مسلمان کو کافر کے سامنے جھکانا اور ذلیل کرنا لازم آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ وَلَن يَجعَلَ اللَّهُ لِلكـٰفِرينَ عَلَى المُؤمِنينَ سَبيلًا ﴿١٤١﴾… سورة النساء
"اور اللہ کافروں کو ایمان والوں پر ہرگز راہ نہ دے گا۔” [النساء:141۔4۔]

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "الإسلام يعلو ولا يعلى عليه”
"اسلام غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں۔” [السنن الکبریٰ للبیہقی :6/205۔وصحیح البخاری الجنائز باب اذا اسلم الصبی فمات۔۔۔بعد حدیث:1353 معلقاً۔]

④ مسلمان بھائی کی بیع پر بیع کرنا

اپنے مسلمان بھائی کی بیع پر بیع کرنا حرام ہے۔ مثال: ایک شخص نے دس روپے میں کوئی چیز خریدی، دوسرا کہے: “تو یہ چیز واپس کر دے، میں تجھے یہی چیز نو روپے میں دیتا ہوں۔” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ”
"تم میں کوئی ایک دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے۔” [صحیح البخاری البیوع باب النھی عن تلقی الرکبان۔۔۔حدیث۔2165،وصحیح مسلم البیوع باب تحریم یبیع الرجل علی بیع اخیہ۔۔۔حدیث (7)۔1412۔]

اور دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: "لا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ”
"کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پربیع نہ کرے۔” [صحیح البخاری،البیوع باب لا یبیع علی یبع اخیہ۔۔۔حدیث:2140،وصحیح مسلم،البیوع باب تحریم یبیع الرجل علی یبیع اخیہ۔۔۔حدیث:(8) 1412۔]

اسی طرح اپنے مسلمان بھائی کی خریداری پر خریداری کرنا بھی جائز نہیں۔ مثال: کسی نے نو روپے میں چیز بیچ دی، دوسرا کہے: “میں تم سے یہ چیز دس روپے میں خریدنے کو تیار ہوں۔”

افسوس کہ آج مسلمانوں کے بازاروں میں تجارت اور لین دین کی متعدد حرام صورتیں چل رہی ہیں۔ ہر مسلمان کو ان سے بچنا چاہیے، اور اگر کوئی اس پر مجبور کرے تو صاف انکار کر دینا چاہیے۔

⑤ شہری کا دیہاتی کے لیے بیع کرنا

تجارت کی حرام صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے کہ شہری، دیہاتی کے لیے بیع کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ”
"کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے۔” [صحیح البخاری البیوع باب ھل یبیع حاضر لبادبغیر اجر؟۔۔۔حدیث 2158وصحیح مسلم البیوع باب تحریم بیع الحاضر للبادی حدیث 1525۔]

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
"اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کاسامان فروخت کرتے وقت”دلال” نہ بنے۔” [صحیح مسلم البیوع باب تحریم بیع الحاضر للبادی حدیث 1521۔]

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ ‏”‏
"تم لوگوں کو تجارت کے لیے آزاد چھوڑدو۔اللہ تعالیٰ بعض کو بعض سے رزق دیتا ہے۔” [صحیح مسلم البیوع باب تحریم بیع الحاضر للبادی،حدیث 1522۔]

جس طرح شہری کے لیے دیہاتی کے مال کی فروخت میں “دلال” بننا جائز نہیں، اسی طرح خریداری میں بھی شہری کو دیہاتی کا دلال نہیں بننا چاہیے۔ البتہ اگر دیہاتی شہری کے مال میں دلال بنے تو اس کی ممانعت نہیں۔

⑥ بیعِ عینہ

ناجائز تجارت کی صورتوں میں ایک بیعِ عینہ بھی ہے۔ اس کی شکل یہ ہے کہ کوئی چیز کسی شخص کو ادھار بیچی جائے، پھر اسی مشتری سے کم قیمت پر نقد خرید لی جائے۔ مثال: ایک گاڑی بیس ہزار درہم میں ادھار بیچ کر، پھر اسی سے پندرہ ہزار درہم نقد میں خرید لی جائے، اور بیس ہزار درہم مدت پوری ہونے پر لازم الادا ہوں۔
یہ سود اور حرام ہے، کیونکہ یہ سود حاصل کرنے کی ایک چال ہے، گویا اس نے ادھار درہم، نقد دراہم کے بدلے زیادتی کے ساتھ بیچے، اور گاڑی کو سود کے لیے حیلہ بنایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : (إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ ، وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ ، وَتَرَكْتُمْ الْجِهَادَ ، سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ”
"جب تم بیع عینہ کرنے لگ جاؤگے،بیلوں کی دُمیں پکڑ لوگے(زراعت میں مشغول ہوجاؤ گے)،کھیتی باڑی پر ر اضی ہوجاؤگے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت ورسوائی مسلط کردے گا اور اسے تم سے دور نہیں کرےگا حتیٰ کہ تم اپنے دین کی طرف پلٹ آؤ۔” [(ضعیف) سنن ابی داود،البیوع،باب فی النھی عن العینۃ ،حدیث:3462۔]

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَسْتَحِلُّونَ الرِّبَا بِالْبَيْعِ "
"لوگوں پر ایک ایساوقت آئے گا ج وہ سود کو بیع کا نام دے کر حلال قراردیں گے۔” [(ضعیف) غایۃ المرام فی تخریج احادیث الحلال والحرام حدیث 13 واغائۃ اللھفان من مصائد الشیطان:1/486۔]

⑤ بیع میں شرائط کا بیان

بیع میں شرائط کا لگ جانا بکثرت ہوتا ہے۔ کبھی بائع اور مشتری دونوں کو، اور کبھی کسی ایک کو، بیع میں کوئی شرط رکھنی پڑتی ہے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر یہاں چند شرائط بیان کی جاتی ہیں، اور یہ واضح کیا جاتا ہے کہ کون سی شرط صحیح و جائز ہے اور کون سی فاسد و باطل۔

فقہاء رحمۃ اللہ علیہ بیع میں شرط کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ بائع یا مشتری میں سے کوئی ایک، بیع کے دوران دوسرے پر ایسی بات لازم کرے جس میں اس کا ذاتی فائدہ ہو۔ اسی لیے فقہاء کے نزدیک وہی شرط معتبر ہے جو لین دین کے وقت رکھی جائے؛ جو شرط بیع سے پہلے یا بعد میں ہو، اس کا اعتبار نہیں۔

بیع میں شرائط کی دو بڑی قسمیں ہیں:

① شرائطِ صحیحہ

یہ وہ شرائط ہیں جو صحتِ بیع کے خلاف نہیں ہوتیں، اور ان کی پابندی لازم ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"المُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ”
"مسلمان باہمی شرائط کے پابند رہیں۔” [جامع الترمذی الاحکام باب ماذکر عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الصلح بین الناس،حدیث :1352۔]

✔ اصول یہ ہے کہ ہر شرط جائز ہے، سوائے اس شرط کے جسے شارع نے باطل اور ناجائز قرار دیا ہو۔ شرائطِ صحیحہ کی دو قسمیں ہیں:

(1) وہ شرط جو عقدِ بیع کے مفاد اور مضبوطی کے لیے ہو
یہ شرط شرط لگانے والے کے فائدے کے لیے ہوتی ہے۔ مثالیں:
◈ گروی (رہن) کی شرط رکھ کر توثیق کرنا، یا ضامن مقرر کرنے کی شرط لگانا—اس سے بائع مطمئن ہوتا ہے۔
◈ اسی طرح کسی متعین مدت تک پوری رقم یا کچھ حصے کی ادائیگی مؤخر کرنے (ادھار) کی شرط—اس کا فائدہ مشتری کو ہوتا ہے۔
جب یہ شرط پوری ہو جائے تو بیع نافذ ہو جاتی ہے۔

اسی طرح اگر مشتری بیع کے وقت مبیع میں کوئی وصف شرط کر دے، مثلاً: فلاں معیار کی ہو، فلاں کمپنی کی ہو، یا فلاں ماڈل ہو—تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ لوگوں کی پسند اور طلب مختلف ہوتی ہے، اور یہ ان کا حق ہے۔ اگر چیز طے شدہ شرط کے مطابق نہ نکلے تو مشتری کو اختیار ہے کہ بیع کو فسخ کر دے، یا مطلوب چیز کی قیمت اور موجود چیز کی قیمت کے فرق کو ملحوظ رکھ کر قیمت ادا کرے۔

(2) وہ شرط جس میں بائع یا مشتری کا ذاتی فائدہ ہو
جائز شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ بائع یا مشتری فروخت شدہ چیز میں ایسی شرط رکھ دے جس میں اس کا ذاتی فائدہ ہو۔ مثالیں:
◈ گھر بیچنے والا ایک متعین مدت تک اسی گھر میں رہائش کی شرط کر دے۔
◈ جانور یا گاڑی بیچنے والا ایک متعین جگہ تک اس پر سواری کی شرط رکھ دے۔
جیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ: "انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا اونٹ بیچا اور مدینہ منورہ تک اس پر بیٹھنے کی شرط لگادی۔” [صحیح البخاری الوکالۃ باب اذا وکل رجل رجلا۔۔۔حدیث 2309 وصحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب تحیۃ المسجد۔۔۔حدیث 715۔وجامع الترمذی المناقب باب مناقب جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما حدیث 3852 واللفظ لہ۔]

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ جانور فروخت کرتے وقت مقررہ جگہ تک سواری کی شرط رکھنا جائز ہے، اور اسی پر دیگر ملتے جلتے مسائل کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح اگر مشتری کی طرف سے شرط رکھی جائے تو بائع کو اس کی پاسداری کرنی چاہیے۔ مثال:
◈ لکڑی خریدتے وقت کسی جگہ تک پہنچانے کی شرط۔
◈ کپڑا خریدتے وقت اس کی سلائی کی شرط۔
یہ سب جائز ہیں۔

② شرائطِ فاسدہ

اس کی متعدد قسمیں ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

1) ایسی فاسد شرط جو بیع کو ہی باطل کر دے

مثال: بیع کرتے وقت دوسری بیع یا کسی اور عقد کی شرط لگانا، جیسے کوئی کہے:
◈ “میں تجھے فلاں چیز اس شرط پر بیچتا ہوں کہ تم مجھے اپنا گھر کرائے پر دو۔”
◈ “میں تجھے یہ چیز اس شرط پر بیچتا ہوں کہ تم مجھے اپنے فلاں کام میں یا اپنے گھر میں شریک کرو۔”
◈ “میں تجھے یہ سامان اس شرط پر فروخت کرتا ہوں کہ تم مجھے اتنی رقم بطور قرض دو۔”
یہ تمام فاسد شرائط ہیں جو بیع کو ابتدا ہی سے باطل کر دیتی ہیں، کیونکہ حدیث میں ہے:
"نَهَى رَسُولُ اَللَّهِ – صلى الله عليه وسلم – عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیعوں سے منع فرمایا:” [جامع الترمذی ، البیوع ، باب ماکاء فی النھی عن بیعتین فی بیعۃ ،حدیث 1231،ومسند احمد 2/432و475۔]

امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اسی حدیث کی وہی تشریح کی ہے جو اوپر بیان کی گئی۔

2) وہ شرط جو خود فاسد ہو مگر بیع کو فاسد نہ کرے

مثال:
◈ مشتری یہ شرط لگا دے کہ اگر اسے نقصان ہوا تو وہ مال واپس کر دے گا۔
◈ یا بائع یہ شرط لگا دے کہ مشتری اسے کسی دوسرے کے ہاتھ فروخت نہیں کر سکتا۔
یہ شرطیں فاسد ہیں، کیونکہ یہ مقتضائے عقد کے خلاف ہیں۔ بیع کا تقاضا یہ ہے کہ مشتری اپنے خریدے ہوئے مال میں تصرف کا مطلق اختیار رکھتا ہو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"ما كان من شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرط”
"جس نے ایسی شرط لگائی جو اللہ کی کتاب میں نہیں تو وہ باطل ہے اگرچہ سو شرطیں ہی لگالے۔” [صحیح البخاری ،البیوع ، باب الشراء والبیع مع النساء حدیث:2155،وصحیح مسلم،العتق ،باب بیان ان الولاء لمن اعتق ،حدیث :1504۔]

تاہم شرط باطل ہونے کے باوجود اصل بیع باطل یا فاسد نہیں ہوتی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مالکوں کی وہ شرط باطل قرار دی کہ “اگر وہ آزاد ہو گئی تو اس کی ولاء انہیں ملے گی”، لیکن عقد و بیع کو باطل نہیں کیا۔ اور آپ نے فرمایا: "إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ”
"ولاء اسے ملے گی جو آزاد کرے گا۔” [صحیح البخاری ،البیوع ، باب الشراء والبیع مع النساء حدیث:2155،وصحیح مسلم،العتق ،باب بیان ان الولاء لمن اعتق ،حدیث :1504۔]

مسلمان تاجر کے لیے ضروری ہے کہ خرید و فروخت کے مسائل سیکھے، اور صحیح و فاسد شرائط کو پہچانے، تاکہ اسے معاملات میں پوری بصیرت حاصل ہو اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑا اور تنازع پیدا نہ ہو۔ عام طور پر جو نزاعات پیدا ہوتے ہیں ان کی وجہ بائع و مشتری (یا دونوں میں سے کسی ایک) کا مسائل سے ناواقف ہونا اور دوسرے کو فاسد شرائط کا پابند بنانا ہوتا ہے۔

⑥ بیع میں خیار (اختیار) کے احکام

اسلام خیر خواہی کا دین ہے، جو لوگوں کی مصلحتوں اور فائدوں کی حفاظت کرتا ہے، اور ان کی مشقت و تکلیف کو دور کرتا ہے۔ اسی لیے شریعت نے بیع میں فریقین کو ایک حد تک اختیار دیا ہے تاکہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر سکیں اور خریدی ہوئی چیز کے نفع و مصلحت پر دوبارہ غور کر سکیں: اگر فائدہ ہو تو بیع باقی رکھیں، اور اگر نقصان کا اندیشہ ہو تو فسخ کر دیں۔

بیع میں اختیار سے مراد یہ ہے کہ دو صورتوں میں سے بہتر صورت منتخب کی جائے:
◈ بیع کو برقرار رکھنا، یا
◈ بیع کو فسخ کرنا۔

بیع میں اختیار کی آٹھ اقسام بیان کی گئی ہیں، جن میں سے یہاں وہی تفصیل درج ہے جو متن میں آئی ہے:

① خیارِ مجلس

جس جگہ بیع ہوئی ہے، جب تک بائع اور مشتری اسی مجلس میں موجود رہیں، دونوں میں سے ہر ایک کو اختیار ہے کہ چاہے تو بیع کو قائم رکھے اور چاہے تو ختم کر دے۔ دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلاَنِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَكَانَا جَمِيعًا”
"جب دو شخص بیع کریں تو ہرایک کو اس وقت تک بیع میں اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں،یعنی وہ اکھٹے ہوں۔” [صحیح البخاری البیوع باب اذا خیر احدھما صاحبہ بعد البیع فقد وجب البیع حدیث 2112۔]

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "شارع نے مجلس میں خیار دے کر بائع اور مشتری دونوں کے حق میں حکمت اور مصلحت رکھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ بیع میں دونوں کی پوری رضامندی حاصل ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان: "عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ "
‘تمہاری آپس کی رضا مندی سے(خریدوفروخت ہو۔) [النساء:29/4۔]
کو بیع کی شرط قرار دیا ہے۔ عام طور پر بیع جلد بازی میں ہو جاتی ہے، اس لیے شریعت کے محاسن کا تقاضا ہوا کہ بیع میں ایک حد مقرر کی جائے جس میں دونوں غور و فکر کر لیں اور اگر کوئی کمی ہو تو اسے پورا کر لیں۔ اس حدیث کی رو سے اختیار اسی وقت تک رہے گا جب تک دونوں بیع والی جگہ میں موجود رہیں اور جدا نہ ہوں۔”

اگر دونوں نے یا دونوں میں سے کسی ایک نے بیع کرتے وقت خیار ختم کر دیا تو جس نے خیار ختم کیا، اس کا اختیار ختم ہو جائے گا، اور بیع لازم ہو جائے گی؛ کیونکہ خیار کی شرط لگانا عقد کرنے والے کا حق تھا، تو اس کے ساقط کرنے سے ساقط ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَكَانَا جَمِيعًا ، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ”
"جب تک جدا نہ ہوں،یعنی وہ اکھٹے ہوں یا ایک دو سرے کو اختیار نہ دے دیں۔” [صحیح البخاری البیوع باب اذا خیر احدھما صاحبہ بعدالبیع فقد وجب البیع،حدیث 2112۔]

اور ہر شخص کے لیے یہ حرام ہے کہ وہ اپنے بھائی کی مجلس سے صرف اس نیت سے الگ ہو کہ دوسرے کو بیع فسخ کرنے کا اختیار باقی نہ رہے۔ عمرو بن شعیب رحمۃ اللہ علیہ کی مرفوع روایت میں ہے: "وَلاَ يَحِلّ لَهُ أنْ يُفَارِقَهُ خَشْيةَ أنْ يَسْتَقِيلَهُ”
"کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے ساتھی سے بیع کے بعد اس ڈر سے الگ ہو کہ وہ اسے سودا واپس نہ کردے۔” [سنن ابی داود البیوع باب فی خیار المتبایعین حدیث 3456 وجامع الترمذی البیوع باب ماجاء البیعان بالخیار مالم یتفرقا حدیث 1247۔]

② شرطِ اختیار

اگر بائع اور مشتری مجلسِ بیع میں یا بیع کے بعد ایک متعین مدت تک اختیار کی شرط لگائیں تو اس مدت کے اندر دونوں کو بیع برقرار رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"المُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ”
"مسلمان باہمی شرائط کے پابند رہیں۔” [جامع الترمذی الاحکام باب ماذکر عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الصلح بین الناس،حدیث :1352۔]

اور اللہ تعالیٰ کا عمومی حکم بھی ہے: ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَوفوا بِالعُقودِ …﴿١﴾… سورة المائدة
"اے ایمان والو! عہد وپیمان پورے کرو۔” [المائدۃ:1:5۔]

اگر اختیار کی شرط ایک فریق کے لیے ہو اور دوسرے کے لیے نہ ہو، تب بھی بیع درست ہے، کیونکہ اختیار کا حق دونوں کو تھا، اور وہ جیسے بھی باہمی رضامندی سے طے کریں درست ہے۔

③ اختیار بسببِ نقصان

اگر کسی شخص کو سودے میں معمول کے خلاف غیر معمولی نقصان دے دیا گیا ہو تو اسے بھی اختیار ہے کہ وہ بیع کو قائم رکھے یا واپس کر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ”
"نہ نقصان اٹھاؤ اور نہ نقصان پہنچاؤ۔” [سنن ا بن ماجہ الاحکام باب من بنی فی حقہ مایضر بحارہ حدیث:2341،ومسند احمد:1/313۔]

نیز ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: "لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه”
"خبردار کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے مال میں سے کچھ لے مگر جو اس کی خوش دلی کے ساتھ ہو۔” [سنن دارقطنی :3/25،حدیث:2861۔]

یہ ظاہر ہے کہ جسے نقصان ہو اس کا دل خوش نہیں ہوتا۔ البتہ اگر نقصان معمولی ہو، یعنی عرف کے مطابق ہو، تو اختیار ثابت نہیں ہوگا۔

نقصان کی بنا پر اختیار حاصل ہونے کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں:

1) قافلوں سے ملاقات (تلقی الجلب)

یعنی جو قافلے اپنا سامان فروخت کرنے شہر (منڈی) کی طرف آتے ہیں، ان کے شہر میں داخل ہونے سے پہلے کوئی ان سے مل کر سامان خرید لے، پھر بعد میں ظاہر ہو کہ انہیں اندھیرے میں رکھ کر بہت زیادہ نقصان دیا گیا تھا، تو انہیں بیع فسخ کر کے سامان واپس لینے کا اختیار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لاَ تَلَقَّوْا الْجَلَبَ، فَمَنْ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرَى مِنْهُ، فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ”
"تم قافلوں کو (منڈی میں آنے سے پہلے ہی) نہ ملو جس نے انھیں مل کر کوئی سامان خریدلیا،پھر اس کا مالک منڈی میں آگیا تو اسے(زیادہ نقصان کی صورت میں) اختیارحاصل ہے(چاہے بیع قائم رکھے اور چاہے تو اسے فسخ قراردے۔” [صحیح مسلم البیوع باب تحریم تلقی الجلب حدیث 1519۔]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جو لوگ قافلوں کو منڈی میں آنے سے پہلے ملتے ہیں اور ان سے بیع کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا ہے کیونکہ اس میں ایک قسم کا دھوکا اور فراڈ ہے۔” [مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ 28/102 بتصرف۔]

اسی مفہوم کی وضاحت علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی بیان کی ہے۔

2) محض قیمت بڑھانے والی بولی (نجش)

وہ نقصان جو ایسے شخص کے باعث ہو جو خریدنا نہیں چاہتا، بلکہ صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی میں شریک ہو—یہ حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وَلا تَنَاجَشُوا”
"محض قیمت بڑھانے کے لیے”بولی” نہ دو۔” [صحیح البخاری البیوع باب لا یبیع علی یبیع اخیہ۔۔۔حدیث 2140۔]

اس میں مشتری کو دھوکا دینا بھی شامل ہے، اور دھوکا ممنوع ہے۔

اسی طرح قیمت بڑھوانے کے لیے بائع کا جھوٹ بولنا بھی حرام ہے: مثلاً یہ کہنا کہ “مجھے فلاں قیمت مل رہی ہے”، یا “میں نے یہ سامان اتنی قیمت میں خریدا ہے”، یا کسی چیز کی قیمت پانچ روپے ہو اور گاہک کو کہنا کہ “میں اسے دس روپے کی بیچ رہا ہوں” تاکہ وہ قریب قریب اسی پر خرید لے—یہ سب حرام ہیں، اور ایسی صورت میں بھی سودا واپس کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔

3) سادہ لوح/ناواقف کو دھوکا دینا

یعنی کوئی شخص دوسرے پر اعتماد کر کے معاملہ کرے اور وہ اسے دھوکا دے۔ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حدیث شریف میں ہے:
"غَبْنُ الْمُسْتَرْسِلِ رِبًا "
"ناواقف سے دغا کے ذریعے سے جو مال کمایا وہ سود کی طرح حرام ہے۔” [(ضعیف) السنن الکبری للبیہقی 5/349۔]

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کو قیمت کا علم نہیں ہوتا، اور وہ کم کرانے کے لیے بائع سے اچھی طرح بحث بھی نہیں کر سکتا، بلکہ اخلاص اور سادگی کی وجہ سے بائع کی بات کو سچ مان لیتا ہے۔ ایسے میں اگر مشتری کو غیر معمولی نقصان ہو تو اسے اختیار ہوگا کہ بیع کو برقرار رکھے یا رد کر دے۔

مزید یہ کہ بازاروں میں بعض لوگ یہ چال چلتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنا مال بیچنے لاتا ہے تو دکاندار آپس میں طے کر لیتے ہیں کہ اس کے مال کی قیمت نہ لگائیں، اور خفیہ طور پر ایک شخص کو اس کے پیچھے بھاؤ لگانے کے لیے لگا دیتے ہیں۔ جب بیچنے والا تھک کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ کوئی بھی اس کے پیچھے لگے شخص سے زیادہ قیمت نہیں دے رہا، تو وہ مجبور ہو کر سستے داموں مال بیچ دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ پیچھے لگنے والا خریدار اپنا نفع باقی دکانداروں میں بھی شریک کر دیتا ہے۔ یہ دھوکا، فراڈ، ظلم اور حرام ہے۔ اگر بائع کو اس کا علم ہو جائے تو اسے ایسی بیع میں اختیار ہوگا، یعنی وہ اپنا فروخت شدہ مال واپس لے سکتا ہے۔

جو لوگ ایسی دھوکا دہی کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ اس حرکت کو چھوڑ دیں اور توبہ کریں۔ اور جس شخص کو اس کا علم ہو، اس پر لازم ہے کہ ناراضی ظاہر کرے اور ذمہ دار لوگوں تک شکایت پہنچائے تاکہ وہ انہیں روکے۔

④ اختیار بسببِ تدلیس

تدلیس کا معنی “کسی کو اندھیرے میں رکھنا” ہے۔ بیع میں تدلیس سے مراد یہ ہے کہ بائع عیب دار چیز کا عیب ظاہر نہ کرے، حقیقت واضح نہ کرے، بلکہ مشتری کو اندھیرے میں رکھ کر اسے درست و سالم بتا کر بیچ دے۔ تدلیس کی دو صورتیں ہیں:
① عیب کو چھپا کر بیچنا۔
② چیز کو اس طرح بنا سنوار کر پیش کرنا کہ زیادہ قیمت ملے۔

تدلیس حرام ہے۔ شریعت نے تدلیس کی صورت میں مشتری کو مال واپس کرنے کا اختیار دیا ہے، کیونکہ مشتری نے بائع کی بات کے مطابق چیز کو صحیح سمجھ کر پوری قیمت پر خریدا تھا۔ اگر اسے وقت پر حقیقت معلوم ہو جاتی تو وہ اتنی قیمت نہ دیتا۔

تدلیس کی ایک مثال یہ ہے کہ بکری، گائے یا اونٹنی کے تھنوں میں دودھ جمع کر کے بیچنا تاکہ خریدار سمجھے کہ جانور ہمیشہ زیادہ دودھ دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “لَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمَنْ ابْتَاعَهَا بَعْدُ فَإِنَّهُ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْتَلِبَهَا إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعَ تَمْرٍ”.
"اونٹ اور بکری کا دودھ بند نہ کرو اگر کوئی اسے خرید لیتا ہے تو اسے دوہنے کے بعد اختیار ہے چاہے تو اسے اپنے پاس رکھے اور چاہے تو واپس کردے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے۔” [صحیح البخاری البیوع باب النھی للبائع ان لا یحفل الابل والبقر والغنم وکل محفلۃ حدیث 2148۔]

تدلیس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ عیب دار گھر کو بناوٹ اور سجاوٹ سے ایسا دکھایا جائے کہ خریدار یا کرائے دار دھوکے میں آ جائے۔ اسی طرح پرانی گاڑیوں کو رنگ روغن کر کے فروخت کے لیے رکھ دینا تاکہ غیر استعمال شدہ معلوم ہوں—یہ بھی تدلیس ہے۔ اس کے علاوہ تدلیس کی اور بھی بہت سی شکلیں ہیں۔

مسلمان پر لازم ہے کہ سچائی اختیار کرے اور حقیقت کھول کر بیان کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا قَالَ هَمَّامٌ وَجَدْتُ فِي كِتَابِي يَخْتَارُ ثَلَاثَ مِرَارٍ فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا فَعَسَى أَنْ يَرْبَحَا رِبْحًا وَيُمْحَقَا بَرَكَةَ بَيْعِهِمَا "
"خریدوفروخت کرنے والے دونوں آدمیوں کو تب تک اختیار ہے جب تک(مجلس سے اٹھ کر) الگ الگ نہیں ہوجاتے۔اگر دونوں سچ بولیں اور(سودے کی حقیقت) واضح کردیں تو دونوں کی بیع میں برکت ہوگی اور اگر دونوں جھوٹ بولیں گے اور(حقیقت کو) چھپائیں گے تو ان کی بیع سے برکت اٹھ جائے گی۔” [صحیح البخاری ،البیوع،باب اذا بین البیعان۔۔۔حدیث:2079،وصحیح مسلم،البیوع ،باب الصدق فی البیع والبیان ،حدیث:1532۔]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو متنبہ فرمایا کہ خرید و فروخت میں سچ بولنا برکت کا سبب ہے، اور جھوٹ کے ساتھ تجارت کرنا برکت کو ختم کر دیتا ہے۔ سچ کے ساتھ کم نفع میں بھی اللہ تعالیٰ برکت ڈال دیتا ہے، جبکہ جھوٹ کے ساتھ حاصل کیا ہوا زیادہ نفع بھی بے برکت ہو جاتا ہے۔

⑤ عیب کی وجہ سے اختیار

مشتری کو بیع واپس کرنے کا اختیار اس وقت ہوگا جب خریدی ہوئی چیز میں عیب ہو اور بائع نے اس کی خبر نہ دی ہو، یا خود بائع کو علم نہ ہو مگر بعد میں واضح ہو جائے کہ یہ عیب بیع سے پہلے ہی موجود تھا۔
وہ عیب جس کی بنا پر مشتری کو اختیار ملتا ہے وہ ہے جس سے مبیع کی قیمت کم ہو جائے یا اس کی ذات میں کمی آتی ہو۔ اس کا فیصلہ معتبر تاجر کریں گے: جس چیز کو وہ عیب شمار کریں گے اس میں اختیار ثابت ہوگا، اور جسے عیب نہ سمجھیں اس میں اختیار نہ ہوگا۔
اگر عقد کے بعد عیب معلوم ہو تو مشتری کو حق ہے کہ یا تو بیع قائم رکھے، یا جائز قیمت اور ادا شدہ قیمت کا فرق وصول کرے، اور اسے یہ حق بھی حاصل ہے کہ بیع فسخ کر کے چیز واپس لوٹا دے اور ادا شدہ قیمت لے لے۔

⑥ قیمت بتانے میں جھوٹ

اگر بائع فروخت کے وقت یہ دعویٰ کرے کہ وہ صرف قیمتِ خرید وصول کر رہا ہے، پھر بعد میں یہ بات خلافِ حقیقت ثابت ہو جائے؛ یا بائع کہے کہ “میں تمہیں اس مال میں راس المال کے ساتھ شریک کر رہا ہوں”، یا کہے کہ “میں نے راس المال پر اتنے فیصد نفع کے ساتھ فروخت کیا ہے”، یا کہے کہ “میں نے قیمتِ خرید سے اتنی رقم کم کر کے دی ہے”—تو اگر ان صورتوں میں یہ واضح ہو کہ اس نے راس المال بتانے میں جھوٹ کہا ہے تو (ایک قول کے مطابق) مشتری کو اختیار ہوگا کہ بیع قائم رکھے یا لوٹا دے۔ اہلِ علم کا دوسرا قول یہ ہے کہ ان صورتوں میں مشتری کو اختیار حاصل نہیں ہوگا، بلکہ مشتری اصل قیمت ادا کرے گا اور زائد رقم ساقط ہو جائے گی۔ واللہ اعلم۔

⑦ اختلاف کی صورت میں اختیار

بیع کے بعد اگر بائع اور مشتری میں بعض امور میں اختلاف ہو جائے تو بیع فسخ ہو جائے گی، مثلاً قیمت کی مقدار میں اختلاف ہو، یا چیز کی نوعیت میں اختلاف ہو، اور کسی کے پاس فیصلہ کن دلیل بھی نہ ہو۔ ایسی صورت میں دونوں اپنے دعوے کی تصدیق کے لیے قسم اٹھائیں گے۔ قسم کے بعد، جب کوئی دوسرے کی بات ماننے پر آمادہ نہ ہو، تو دونوں میں سے ہر ایک کو فسخ کا حق ہوگا۔

⑧ تبدیلیِ حالت کی صورت میں اختیار

اگر مشتری نے ایسی چیز خریدی ہو جسے اس نے وقتِ بیع سے بہت پہلے دیکھا تھا، اور بیع کے بعد جب اسے وصول کیا تو معلوم ہوا کہ اس کی حالت بدل چکی ہے، تو مشتری کو اختیار ہوگا کہ بیع فسخ کر دے یا قائم رکھے۔ واللہ اعلم۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب