مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

تبلیغی پروگرام سے قبل تلاوت اور نعت کا اہتمام حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

تبلیغی پروگرام سے قبل تلاوت اور نعت کا اہتمام کرنا کیسا ہے؟

جواب :

تبلیغی پروگرام یا تقریر و خطبہ سے پہلے تلاوت کرنا ایک صحیح اثر سے ثابت ہے، خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے اپنی ایک کتاب میں ابو نضرہ سے بیان کیا ہے:
كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا اجتمعوا تنادوا بالعلم وقرأوا سورة
(الجامع لأخلاق الراوی وآداب السامع 86/2، رقم: 1229)
”رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے اصحاب جب علم کے لیے جمع ہوتے تو کوئی سورت تلاوت کرتے۔“
اسی طرح خطیب کے خطاب سے قبل دین کی کچھ باتیں بیان کرنا اور حدیث رسول صلى الله عليه وسلم عوام کو سناتا بھی ثابت ہے، محمد بن زید فرماتے ہیں:
رأيت أبا هريرة رضى الله عنه يخرج يوم الجمعة فيقبض على رمانتي المنبر قائما ويقول حدثنا أبو القاسم رسول الله الصادق المصدوق صلى الله عليه وسلم فلا يزال يحدث حتى إذا سمع فتح باب المقصورة لخروج الإمام للصلاة على المنبر جلس
(المستدرك الحاكم 0512/3 ح: 6173)
”میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ جمعہ والے دن آتے اور منبر کی دونوں گولوں کو پکڑ کر کھڑے ہو جاتے اور کہتے ہیں صادق و مصدوق ابو القاسم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بیان کیا ہے اور کچھ نہ کچھ بیان کرتے رہتے یہاں تک کہ امام کے نماز کے لیے نکلنے کے وقت دروازہ کھلنے کی آواز سنتے تو بیٹھ جاتے۔“
امام حاکم رحمہ اللہ نے اس پر یوں باب باندھا ہے: تحديث أبى هريرة فى المسجد قبل الجمعة ”جمعہ سے پہلے مسجد میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا حدیث بیان کرنا“ اور طبع جدید (306/1) میں اس حدیث پر یوں باب باندھا گیا ہے: كان أبو هريرة يقوم يوم الجمعة إلى جانب المنبر فيحدث ”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جمعہ والے دن منبر کی ایک جانب کھڑے ہو کر حدیث بیان کرتے۔“ اس حدیث کو امام حاکم اور امام ذہبی نے صحیح قرار دیا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم مسجد میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لیے منبر رکھا کرتے تھے، وہ اس پر کھڑے ہو کر کفار کی مذمت میں اشعار کہتے۔ (فتح البارى 518/1)
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی تبلیغی پروگرام سے قبل تلاوت کی جا سکتی ہے اور خطیب و واعظ سے پہلے کوئی دوسرا شخص حدیث بیان کر سکتا ہے، اشعار کہہ سکتا ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ (واللہ اعلم!)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔