اگر وہ بہتر سمجھے تو نو مسلموں کی تالیفِ قلب کے لیے انہیں ترجیح دے
➊ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت قریش میں تقسیم کر دیا ، اس پر انصار نے کہا یہ تو انتہائی تعجب والی بات ہے کہ ہماری تلواریں ان کے خون کے قطرے ٹپکا رہی ہیں اور ہماری غنیمتیں ان میں واپس بھی کر دی گئی ہیں ۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان سب کو جمع کیا اور پوچھا مجھے جو تمہاری طرف سے بات پہنچی ہے وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا وہی ہے جو آپ تک پہنچ چکی ہے ۔ انہوں نے سچ ہی کہ دیا کیونکہ وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أما ترضون أن يرجع الناس بالدنيا إلى بيوتهم و ترجعون برسول الله إلى بيوتكم
”كيا تم پسند نہیں کرتے کہ لوگ تو دنیا (کا سامان ) لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے گھروں کو جاؤ ۔“
انہوں نے کہا کیوں نہیں؟ ۔
ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
إنى أعطى رجالا حديثى عهد بكفر أتألفهم أما ترضون أن يذهب الناس بالأموال وتذهبون بالنبي إلى رحالكم؟
”میں تو کچھ نو مسلموں میں الفت و محبت ڈالنے کے لیے انہیں دے رہا ہوں کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ لوگ (دنیاوی) اموال لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر ۔“
ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے اشراف میں تالیفِ قلب کے لیے غنائم کو تقسیم کر دیا اور انصار و مہاجرین کو چھوڑ دیا ۔
[بخاري: 3146 ، 3147 ، 3528 ، 3778 ، كتاب مناقب الأنصار: باب مناقب الأنصار ، كتاب فرض الخمس: باب ما كان النبى صلى الله عليه وسلم يعطى المؤلفة قلوبهم ، مسلم: 1059 ، احمد: 169/3]
➋ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو (غنائم کی ) تقسیم میں ترجیح دی تو اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ اور اس کی مثل عیینہ کو بھی دیے اور اشراف عرب کو بھی اس دن اسی طرح دوسروں پر تقسیم میں ترجیح دی ۔ تو ایک آدمی نے کہا اس تقسیم میں عدل نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس میں اللہ کی رضا مقصود ہے (راوی بیان کرتے ہیں کہ ) میں نے کہا میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دوں گا پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ کو بتلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے تو کون عدل کرے گا؟ ۔“
[احمد: 380/1 ، بخاري: 3405 ، مسلم: 1062]
جن عرب و قریش کو اُس دن تالیف قلب کے لیے ترجیح دی گئی تھی ان میں سے چند کے نام یہ ہیں ۔ ابو سفیان بن حرب ، سہیل بن عمرو ، حو يطلب بن عبد العزی ، حکیم بن حزام ، ابو السنابل بن بتکک ، صفوان بن اُمیه ، عبد الرحمن بن یربوع ، عینہ بن حصن فزاری ، اقرع بن حابس تیمی ، عمرو بن اہتم تمیمی ، عباس بن مرداس اسلمی ، مالک بن عوف النصری اور علاء بن حارثہ ثقفی وغیره –
[نيل الأوطار: 50/5 – 51 ، فتح الباري: 370/8 ، مغازي للواقدي: 935/3 ، سيرة ابن هشام: 150/4]
(شوکانیؒ ) ان احادیث میں یہ ثبوت موجود ہے کہ حکمران غنائم کی تقسیم میں بعض کو بعض پر تالیفِ قلب اور مصلحت کے تحت ترجیح دے سکتا ہے ۔
[نيل الأوطار: 51/5]