مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

تاجروں کی گری اشیاء اٹھانے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

راستے میں سامان تجارت لے جانے والے تاجروں کی گاڑیوں سے گرنے والی اشیا اٹھانے کا حکم

اکثر گاڑیوں سے کوئی برتنوں کا کارٹون، یا پھلوں کا کریٹ یا اس طرح کی کوئی چیز گر جاتی ہے، اگر انسان کو ایسی کوئی چیز ملے تو یہ لقطہ شمار ہوگی، کیونکہ یہ مالک کا گم ہونے والا مال ہے اور یہ لقطہ ہوتا ہے۔ اگر انسان سمجھتا ہو کہ وہ اس کا اعلان کرنے پر قدرت رکھتا ہے تو اسے اٹھائے اور اعلان کرے۔ اگر وہ پھل ہوں جو ایک سال تک نہیں رہ سکتے تو ان کے اوصاف کا اعلان کر کے انہیں بیچ دے اور اس کی قیمت اپنے پاس محفوظ رکھے، اگر اس کا مالک آجائے تو وہ قیمت اس کی ہوگی اور اگر انسان کو اپنی ذات پر اعتماد نہ ہو اور وہ جانتا ہو کہ وہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہنے کی قدرت نہیں رکھتا تو اسے چھوڑ دے۔
[ابن عثيمين: لقاء الباب المفتوح: 14/127]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔