مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بے وضو ہونے پر نمازی کا عمل – سنت نبوی ﷺ کی رہنمائی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری کی کتاب صف بندی کے احکام و مسائل سے لیا گیا ہے۔

نماز میں بے وضو ہو جائے ، تو ؟

اللہ تعالیٰ کے ہاں مومن کتنا محترم ہے، اسلام نے جہاں کہیں بھی مسلمان کی عزت و وقار کو ٹھیس پہنچنے کا خدشہ محسوس کیا، وہاں اس کا بھر پور دفاع کیا ہے۔ غور کریں! کہ اگر کوئی شخص صف میں کھڑا ہے اور اس کا وضوٹوٹ گیا ہے، تو ناک پکڑ کر صف سے خارج ہو جائے، لوگ یہی سمجھیں گے کہ اس کی نکسیر پھوٹ پڑی ہے، کسی کے ذہن میں خیال تک نہیں جائے گا کہ اس کی ہوا خارج ہو گئی ہے، یہ محاسن اسلام میں سے ہے۔
سیدہ عائشہ رضی الله عنه بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إذا أحدث أحدكم في صلاته، فليأخذ بأنفه، ثم لينصرف».

’’دوران نماز بے وضو ہو جائیں ، تو ناک پکڑ کر صف سے نکل جائیں۔‘‘
🌿(سنن أبي داود : 1114؛ سنن ابن ماجه : 1222، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن الجارود (۲۲۲) ، امام ابن خزیمہ (۱۰۱۹) اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ (۲۲۳۹) نے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔ امام حاکم رحمتہ اللہ (۱۸۴/۱۔۲۶۰) نے اسے امام بخاری ومسلم کی شرط پر ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے، حافظ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔

حافظ بوصیری کہتے ہیں کہ اس کی سند ’’صحیح‘‘ اور راوی ’’ثقہ‘‘ ہیں۔

🌿(مصباح الزجاجة : 145/1)

🌸علامہ خطابی رحمتہ اللہ (۳۸۸ھ) لکھتے ہیں:
إنما أمره أن يأخذ بأنفه ليوهم القوم أن به رعافا، وفي هذا باب من الأخذ بالأدب في ستر العورة وإخفاء القبيح من الأمر والتورية بما هو أحسن منه، وليس يدخل في هذا الباب الرياء والكذب، وإنما هو من باب التجمل واستعمال الحياء وطلب السلامة من الناس .

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازی کو ناک پکڑ کر صف سے نکلنے کا حکم اس لیے دیا کہ لوگوں کو یہ خیال گزرے کہ اس کی نکسیر پھوٹی ہے۔ اس نبوی تعلیم سے عیوب کی پردہ پوشی کے حوالے سے ادب کو اختیار کرنا، ناپسندیدہ معاملات کو خفیہ رکھنا اور مکروہ کاموں کا احسن انداز میں تو ریہ کرنا ثابت ہوتا ہے۔ اس معاملے میں ریا کاری و جھوٹ کو کوئی دخل نہیں۔ یہ تو احسن انداز، حیا داری اور لوگوں سے سلامتی کی راہ ہے۔‘‘

🌿(معالم السنن : 249/1)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔