سوال:
بے وضو نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
نماز کے لیے باوضو ہونا شرط ہے، اس کے بغیر نماز نہیں۔ اگر کوئی بھول کر یا بے خیالی میں بے وضو نماز پڑھ لے، تو معلوم ہونے پر اس پر نماز کا اعادہ ضروری ہے، البتہ اس پر گناہ نہیں اور اگر جانتے بوجھتے بے وضو نماز پڑھے، تو یہ گناہ کبیرہ ہے، نیز وضو کر کے نماز کا اعادہ بھی ضروری ہے۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مفتاح الصلاة الطهور وإحرامها التكبير وانقضاتها التسليم.
”وضو نماز کی چابی ہے، نماز صرف اللہ اکبر سے شروع ہوتی ہے اور صرف سلام پھیرنے سے پوری ہوتی ہے۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 2/16 ، 173 ، وسنده صحيح)
❀ امام بہیقی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
أجمعوا على أنها لا تصح منه سواء إن كان عالما بحدثه أو جاهلا أو ناسيا لكنه إن صلى جاهلا أو ناسيا فلا إثم عليه وإن كان عالما بالحدث وتحريم الصلاة مع الحدث فقد ارتكب معصية عظيمة.
”اہل علم کا اجماع ہے کہ بے وضو کی نماز صحیح نہیں، خواہ اسے اپنے بے وضو ہونے کا علم ہو یا بے خبری میں ایسا کرے یا وضو کرنا بھول گیا ہو، البتہ اگر انجانے میں یا بھول کر ایسا کرلے، تو اس پر گناہ نہیں، اگر اسے بے وضو ہونے اور بے وضو حالت میں نماز کے حرام ہونے کا علم تھا، تو اس نے بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔“
(المجموع: 67/2)