بیہقی میں موجود قبر سے مردے کے نکلنے اور عذاب دیکھنے کا قصہ

مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

اس مقالے کا مقصد اس اعتراض کا تحقیقی جائزہ لینا ہے جو بعض حضرات شیخ زبیر علی زئیؒ پر کرتے ہیں کہ انہوں نے امام بیہقی کی کتاب "اثبات عذاب القبر” کا ترجمہ کیا اور اس میں ابن عمرؓ سے مروی ایک "منکر روایت” (قبر سے مردے کے نکلنے اور عذاب دیکھنے کا قصہ) کی توثیق کر دی۔

ہم اس مضمون میں پہلے اصل روایت اور اس پر اعتراضات مخالف فریق کے الفاظ میں پیش کریں گے، پھر ہر نکتے کے تحت «الجواب» کے عنوان کے ساتھ اس کا تحقیقی ردّ پیش کریں گے۔ اس دوران محدثین کے اقوال، اصولِ حدیث کے قواعد، اور آسان زبان میں توضیحات شامل کی جائیں گی تاکہ عام قارئین بھی بات کو سمجھ سکیں۔

دعویِٰ مخالف

  • امام بیہقی نے اپنی کتاب اثبات عذاب القبر میں یہ روایت نقل کی کہ سیدنا ابن عمرؓ نے قبر سے ایک مردہ نکلتے دیکھا جسے عذاب قبر ہو رہا تھا۔

  • شیخ زبیر علی زئی نے اس کا ترجمہ کرتے ہوئے گویا اس کی توثیق کر دی۔

  • حالانکہ یہ روایت "منکر” ہے اور اس کے تمام طرق میں سخت ضعیف یا متروک راوی موجود ہیں۔

  • صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق، قبر کا عذاب صحابہ یا دیگر لوگوں کو نظر نہیں آتا، ورنہ آپ ﷺ دعا کرتے کہ سب کو دکھا دیا جائے۔

◈ الجواب (اجمالی وضاحت)

یہ کہنا درست نہیں کہ شیخ زبیر علی زئیؒ نے "توثیق” کی۔ حقیقت یہ ہے کہ:

  • انہوں نے صرف امام بیہقی کے کلام کا اردو ترجمہ کیا۔

  • امام بیہقی نے کہا: "اس روایت کے شواہد موجود ہیں”۔

  • اصل علمی خطا یہ ہے کہ بیہقی (جو توثیق میں قدرے متساہل تھے) نے اس منکر روایت کے ساتھ صحیح آثار کو ملا دیا۔

📌 لہٰذا اعتراض کا رخ شیخ زبیر کی طرف نہیں بلکہ امام بیہقی کی "سہو” کی طرف ہونا چاہیے۔

✿ سوال:

کیا کسی صحابی کو براہِ راست عذاب قبر نظر آ سکتا ہے؟

◈ الجواب

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

النص (صحیح مسلم، حدیث 2867):

«إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَدَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ»

اردو ترجمہ:
"یقیناً اس امت کو قبر میں آزمایا جاتا ہے۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا ہی چھوڑ دیں گے تو میں دعا کرتا کہ اللہ تمہیں وہ عذاب قبر سنا دے جو میں سنتا ہوں۔”

📌 وضاحت:

  • اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عام انسانوں کو قبر کا عذاب نہ سنایا جاتا ہے اور نہ دکھایا جاتا ہے۔

  • اگر ابن عمرؓ نے واقعی ایسا منظر دیکھا ہوتا تو یہ صحیح سند سے ثابت ہوتا، جبکہ صحیح مسلم میں خود نبی ﷺ نے وضاحت فرما دی کہ یہ چیز عام لوگوں سے پوشیدہ رکھی گئی ہے۔

  • لہٰذا ابن عمرؓ کی طرف منسوب "قبر سے مردے کے نکلنے” والی روایت منکر اور ضعیف ہے۔

مذکورہ روایت کی مختلف اسناد کا تحقیقی جائزہ

① پہلی سند: امام بیہقی کی روایت

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ … ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ … ثَنَا عَبَاءَةُ بْنُ كُلَيْبٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ …

(اثبات عذاب القبر، ص183)

اردو ترجمہ (خلاصہ):
سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک قبر کے پاس سے گزرے تو ایک شخص قبر سے نکل کر آیا، اس پر آگ جل رہی تھی، گردن میں زنجیر تھی اور پانی مانگ رہا تھا۔ پھر ایک دوسرا شخص آیا، اس کو زنجیر سے پکڑا اور دوبارہ قبر میں گھسیٹ کر لے گیا۔

◈ الجواب (اسناد پر تحقیق)

اس روایت کا مرکزی راوی عباءة بن کلیب (عباد بن کلیب) ہے، جو سخت ضعیف و متروک ہے۔

✿ محدثین کے اقوال:

① حافظ ذہبی:

«متروك» میزان الاعتدال

② امام عقیلی:

«لا يُتابع عليه» — یعنی جو روایت وہ جویرۃ سے بیان کرتا ہے، اس پر کوئی اور شاگرد متابعت نہیں کرتا۔ (الضعفاء الكبير)

③ امام ابو حاتم رازی:

«صدوق وفى حديثه إنكار» — یعنی بظاہر سچا ہے لیکن اس کی حدیث میں انکار پایا جاتا ہے۔ (الجرح والتعديل)

④ امام بخاری:

ابن ابی حاتم نے لکھا کہ امام بخاری نے بھی اسے "کتاب الضعفاء” میں ذکر کیا ہے۔

◈ وضاحت برائے عام قارئین

  • جب کسی روایت کے راوی پر اتنی سخت جروح ہوں — کبھی متروک، کبھی منکر الحدیث — تو اس کی روایت دین میں دلیل نہیں بن سکتی۔

  • خاص طور پر عقیدہ جیسے بڑے معاملے میں ایسی منکر روایت کو بنیاد بنانا سخت گمراہی ہے۔

  • امام بیہقی چونکہ بعض مواقع پر توثیق میں قدرے نرمی برتتے تھے، اس لیے انہوں نے اسے نقل کر دیا، مگر محدثین کی تصریحات سے صاف ظاہر ہے کہ یہ روایت غیر قابلِ حجت ہے۔

✅ نتیجہ:
پہلی سند (عباءة بن کلیب والی) سخت ضعیف ہے، لہٰذا اس پر عقیدہ بنانا درست نہیں۔

② دوسری سند: عمرو بن دینار قهرمان آل الزبیر

… عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانِ آلِ الزُّبَيْرِ قَالَ: "كُنْتُ مَعَ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ … فَرَأَيْتُ رَجُلًا قَدْ خَرَجَ مِنْ قَبْرٍ … فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ اسْقِنِي … ثُمَّ خَرَجَ رَجُلٌ آخَرُ … فَأَخَذَهُ وَضَرَبَهُ حَتَّى أَعَادَهُ فِي الْقَبْرِ.”

(شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة)

◈ الجواب (اسناد پر تحقیق)

اس روایت کا مرکزی راوی عمرو بن دینار قهرمان آل الزبیر ہے، جس پر محدثین نے سخت جرح کی ہے۔

✿ محدثین کے اقوال:

① اسماعیل بن علیہ:

«ضعيف»(الجرح والتعديل)

② امام یحییٰ بن معین:

«لا شيء» — یعنی اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ (الجرح والتعديل)

③ امام ابو حاتم رازی:

«ضعيف الحديث … عامة حديثه منكر» — اس کی اکثر احادیث منکر ہیں۔

④ امام ابو زرعہ رازی:

«واهي الحديث» — اس کی روایت نہایت کمزور ہے۔

⑤ امام احمد بن حنبل:

«منكر الحديث» — اس کی روایتیں منکر ہیں۔

⑥ حافظ ابن حبان:

«ينفرد بالموضوعات … لا يحل كتابة حديثه إلا على جهة التعجب» — یہ ثقہ راویوں سے بھی موضوعات نقل کرتا ہے، اس کی حدیث صرف عبرت کے طور پر لکھی جا سکتی ہے۔ (المجروحين)

◈ وضاحت برائے عام قارئین

  • جب محدثین متفق ہو کر کسی راوی کو ضعیف الحدیث، منکر الحدیث اور واہی قرار دے دیں، تو اس کی روایت پر اعتبار کرنا سخت غلطی ہے۔

  • اس سند میں عمرو بن دینار کے علاوہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں، مگر صرف اسی کی کمزوری حدیث کو ناقابلِ حجت بنا دیتی ہے۔

  • لہٰذا یہ دوسرا طریق بھی ضعیف اور ناقابلِ اعتماد ہے۔

✅ نتیجہ:
ابن عمرؓ کی قبر والے مردے کے قصے کی دوسری سند (عمرو بن دینار قهرمان آل الزبیر) بھی منکر الحدیث راوی کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔

③ تیسری سند: عبداللہ بن محمد بن مغیرہ

… ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ …
کہ ابن عمرؓ نے ایک قبر سے مردے کو نکلتے دیکھا، جس کی گردن میں زنجیر تھی، وہ پانی مانگ رہا تھا، پھر ایک دوسرا شخص آیا اور اس کو زنجیر سے کھینچ کر واپس قبر میں لے گیا۔

(المعجم الأوسط للطبرانی)

◈ الجواب (اسناد پر تحقیق)

اس روایت کا مرکزی راوی عبداللہ بن محمد بن مغیرہ ہے، جو سخت ضعیف اور متروک ہے۔

✿ محدثین کے اقوال:

① امام ابو زرعہ رازی:

«منكر الحديث» — یہ منکر روایات بیان کرتا تھا۔

② حافظ ذہبی:

«متروك … روى الطامات» — یہ متروک ہے اور عجیب و غریب جھوٹی روایات بیان کرتا تھا۔ (تاریخ الإسلام)

③ ابن یونس المصری:

«منكر الحديث» — یہ کوفی راوی تھا، مصر میں مقیم رہا، مگر حدیث میں منکر تھا۔ (تاریخ ابن يونس)

④ ابن الجوزی:

«كذاب» — اس کو جھوٹا قرار دیا۔ (تلخیص الموضوعات)

⑤ نور الدین ہیثمی:

«متروك» — اسے متروک کہا۔ (مجمع الزوائد)

◈ وضاحت برائے عام قارئین

  • جب کسی راوی کو ایک سے زیادہ محدثین نے کذاب، متروک، منکر الحدیث کہا ہو، تو اس کی روایت کو عقیدہ یا دین میں دلیل کے طور پر لینا ممکن نہیں۔

  • یہ تیسرا طریق بھی اتنا ہی کمزور ہے جتنا پہلے دو طریقے تھے۔

  • اس میں راوی کی سخت کمزوری اور جھوٹ کی شہرت کی وجہ سے یہ روایت بالکل ناقابلِ حجت ہے۔

✅ نتیجہ:
تیسری سند (عبداللہ بن محمد بن مغیرہ) سخت ترین ضعیف ہے، کیونکہ اس کے مرکزی راوی کو محدثین نے جھوٹا، متروک اور منکر الحدیث قرار دیا۔

④ چوتھی سند: اللالكائي کی روایت

… إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ بْنِ الْحَسَنِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصُّورِيُّ، نا الْفِرْيَابِيُّ، نا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ …
کہ قبر سے ایک مردہ نکلا، آگ میں جل رہا تھا، پھر ایک اور شخص آیا اور اس کو واپس قبر میں دھکیل دیا۔

(شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة)

◈ الجواب (اسناد پر تحقیق)

اس سند میں کئی راوی سخت مجروح ہیں:

إبراهيم بن عبد الرزاق الأزدي — مجہول الحال ہے۔
محمد بن إبراهيم الصوري — متروک الحدیث اور غالی شیعہ تھا۔
مالک بن دینار — اگرچہ معروف عابد ہیں لیکن سالم بن عبداللہ سے ان کا سماع ثابت نہیں۔

✿ حافظ ابن رجب کی وضاحت:

«…وهذا خطأ إنما سمعه مالك عن عمرو بن دينار قهرمان آل الزبير…»أهوال القبور لابن رجب

یعنی اس روایت میں یہ غلطی ہے کہ مالک بن دینار نے براہِ راست سالم سے نہیں سنا بلکہ عمرو بن دینار (قهرمان آل الزبیر) سے سنا تھا، اور وہ راوی پہلے ہی "منکر الحدیث” ثابت ہو چکا ہے۔

◈ وضاحت برائے عام قارئین

  • اس سند میں ایک راوی مجہول، دوسرا متروک، اور تیسرے کا سماع ہی ثابت نہیں۔

  • اس طرح یہ سند کئی حوالوں سے منقطع اور ضعیف ہے۔

  • محدثین نے واضح کر دیا کہ اس روایت میں سخت غلطی (وہم) ہوا ہے۔

✅ نتیجہ:
چوتھی سند بھی ناقابلِ اعتماد ہے، اور اس کے مرکزی راویوں کی وجہ سے یہ قصہ مزید کمزور ہو جاتا ہے۔

⑤ پانچویں سند: کلثوم بن جوشن

… خالد بن حیان نے کلثوم بن جوشن سے روایت کیا، وہ یحییٰ المدینی سے، وہ سالم بن عبداللہ سے، اور وہ اپنے والد (ابن عمرؓ) سے بیان کرتے ہیں کہ: ابن عمرؓ ایک قبر کے پاس سے گزرے تو ایک مردہ نکل آیا، اس کی گردن میں زنجیر تھی، وہ پانی مانگ رہا تھا، پھر ایک اور شخص آیا اور اس کو زنجیر سے کھینچ کر واپس قبر میں ڈال دیا۔

(أهوال القبور لابن رجب)

◈ الجواب (اسناد پر تحقیق)

اس روایت کا مرکزی راوی کلثوم بن جوشن ہے، جس پر محدثین نے سخت جرح کی ہے۔

✿ محدثین کے اقوال:

① امام ابو داود:

«منكر الحديث» (سؤالات الآجري)

② حافظ ابن حبان:

«يروي عن الثقات المقلوبات وعن الأثبات الموضوعات… لا يحل الاحتجاج به بحال» (المجروحين)
یعنی یہ ثقہ راویوں سے بھی الٹی پلٹی اور موضوع روایات بیان کرتا تھا، کسی بھی حالت میں اس کی روایت سے حجت نہیں پکڑی جا سکتی۔

③ امام ابو حاتم رازی:

«ضعيف الحديث»(الجرح والتعديل)

◈ وضاحت برائے عام قارئین

  • جب ایک راوی کو محدثین نے منکر الحدیث اور ضعیف الحدیث قرار دے دیا، اور یہ بھی کہا کہ یہ موضوع روایات نقل کرتا ہے، تو اس کی روایت کو دین میں دلیل بنانا خطرناک ہے۔

  • اس پانچویں سند میں بھی پہلے کی طرح سخت مجروح راوی موجود ہیں، اس لیے یہ بھی ناقابلِ اعتماد ہے۔

✅ نتیجہ:
کلثوم بن جوشن کی سند بھی انتہائی کمزور ہے۔ اس طرح ابن عمرؓ کے قصے کی پانچوں اسناد (عباءة بن کلیب، عمرو بن دینار، ابن مغیرہ، محمد بن ابراہیم الصوری، اور کلثوم بن جوشن) سب کی سب ضعیف اور ناقابلِ حجت نکلتی ہیں۔

✿ امام بیہقی کا تسامح

امام بیہقیؒ ایک جلیل القدر محدث ہیں، لیکن اہلِ علم نے یہ بات لکھی ہے کہ وہ روایت کی توثیق میں قدرے متساہل (نرم مزاج) تھے۔

◈ حافظ ذہبی کی وضاحت:

«وأبو عيسى الترمذي، وأبو عبد الله الحاكم، وأبو بكر البيهقي متساهلون.»
— (ذكر من يعتمد قوله في الجرح والتعديل للذهبي)

📌 مطلب: امام ترمذی، امام حاکم اور امام بیہقی جیسے حضرات روایت کی صحت بیان کرنے میں کبھی نرمی کر جاتے تھے۔

◈ وضاحت برائے عام قارئین

  • بیہقی نے ابن عمرؓ والی روایت نقل کرتے ہوئے لکھا کہ "اس کے شواہد موجود ہیں”۔

  • حقیقت یہ ہے کہ ان "شواہد” میں سبھی اسناد سخت ضعیف یا منکر ہیں۔

  • بیہقی کی نرمی (تسامح) کی وجہ سے انہوں نے ان روایات کو آثارِ صحیحہ کے ساتھ ذکر کر دیا۔

✅ نتیجہ:
شیخ زبیر علی زئیؒ نے صرف امام بیہقی کے کلام کا ترجمہ کیا۔
لہٰذا یہ کہنا کہ "انہوں نے منکر روایت کی توثیق کی” درست نہیں؛ یہ اصل میں امام بیہقی کی تسامح پسندی کا نتیجہ تھا۔

اہم حوالاجات کے سکین

بیہقی میں موجود قبر سے مردے کے نکلنے اور عذاب دیکھنے کا قصہ – 01 بیہقی میں موجود قبر سے مردے کے نکلنے اور عذاب دیکھنے کا قصہ – 02 بیہقی میں موجود قبر سے مردے کے نکلنے اور عذاب دیکھنے کا قصہ – 03 بیہقی میں موجود قبر سے مردے کے نکلنے اور عذاب دیکھنے کا قصہ – 04 بیہقی میں موجود قبر سے مردے کے نکلنے اور عذاب دیکھنے کا قصہ – 05 بیہقی میں موجود قبر سے مردے کے نکلنے اور عذاب دیکھنے کا قصہ – 06 بیہقی میں موجود قبر سے مردے کے نکلنے اور عذاب دیکھنے کا قصہ – 07 بیہقی میں موجود قبر سے مردے کے نکلنے اور عذاب دیکھنے کا قصہ – 08 بیہقی میں موجود قبر سے مردے کے نکلنے اور عذاب دیکھنے کا قصہ – 09

 

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

2 Responses

    1. ترمذی کی حدیث نمبر 1039 میں ذکر ہے کہ نبیﷺ نے نجاشی کا غائبانہ جنازہ پڑھا۔۔۔ یہ دلیل ہے کہ غائبانہ نماز جنازہ پڑھا جا سکتا ہے۔

      کسی بھی مسلمان کا غائبانہ نماز جنازہ پڑھا جا سکتا ہے، خاص کر ایسی صورت میں جب وہ دوسرے شہر یا ملک میں ہو اور فزیکل طور پر اس کے جنازہ میں شامل ہونا ممکن نہ ہو۔

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے