سوال:
اگر بیوی شوہر سے نفرت کرتی ہو اور اس سے زبان درازی کرتی ہو، تو کیا شوہر کے لیے طلاق دینا ضروری ہے؟
جواب:
اگر بیوی شوہر سے نفرت کرتی ہے اور بات بات پر زبان لڑاتی ہے، تو شوہر کو چاہیے کہ اسے سمجھائے، نصیحت کرے۔ اگر اصلاح کی امید ہو تو صبر کرے، ورنہ طلاق دے دے، یہی اس کے حق میں بہتر ہے۔
❀ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تین آدمیوں کی دعا قبول نہیں ہوتی: جس کی بیوی بد اخلاق اور بدتمیز ہو، وہ اسے طلاق نہ دے۔ جو کسی کو قرض دے لیکن اس پر گواہ نہ بنائے۔ جو اپنا مال (بغرض تجارت) کسی نا سمجھ کے حوالے کر دے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمْ﴾ (النساء : 5) اپنے مال نا سمجھ لوگوں کے سپرد مت کرو۔“
(المستدرك للحاكم : 331/2 ، السنن الكبرى للبيهقي : 146/10 ، وسنده صحيح)
اسے امام حاکم رحمہ اللہ نے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔
جس کی بیوی بد اخلاق ہے اور وہ اسے طلاق نہیں دیتا، تو اس کی دعا قبول نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بیوی اسے پریشان کرتی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ اللہ یہ پریشانی دور کر دے، تو اس کی یہ دعا قبول نہیں ہوتی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے رخصت دی ہے کہ وہ ایسی بداخلاق بیوی کو طلاق دے کر خلاصی پالے، لیکن وہ اسے طلاق نہیں دیتا۔ ایسا شخص اگر بیوی کی اذیتوں پر اللہ تعالیٰ سے دعا کرے، تو اس کی دعا رد ہو جاتی ہے۔ اس سے مطلق دعا مراد نہیں ہے۔