مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بیوی کی بھتیجی سے نکاح کا حکم – قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 434

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں: شاہ محمد اپنی بیوی کی بھتیجی سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ کیا شریعت کے مطابق اس طرح کا نکاح جائز ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیئے کہ ایسا نکاح درست نہیں ہوگا۔ شریعت کی رو سے کسی بھی نکاح میں پھوپھی اور اس کی بھتیجی یا خالہ اور اس کی بھانجی کو ایک ساتھ جمع نہیں کیا جاسکتا۔

قرآن کریم سے دلیل

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿حُرِّ‌مَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَـٰتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَ‌ٰتُكُمْ وَعَمَّـٰتُكُمْ وَخَـٰلَـٰتُكُمْ وَبَنَاتُ ٱلْأَخِ وَبَنَاتُ ٱلْأُخْتِ وَأُمَّهَـٰتُكُمُ ٱلَّـٰتِىٓ أَرْ‌ضَعْنَكُمْ وَأَخَوَ‌ٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّ‌ضَـٰعَةِ وَأُمَّهَـٰتُ نِسَآئِكُمْ وَرَ‌بَـٰٓئِبُكُمُ ٱلَّـٰتِى فِى حُجُورِ‌كُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّـٰتِى دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا۟ دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَـٰٓئِلُ أَبْنَآئِكُمُ ٱلَّذِينَ مِنْ أَصْلَـٰبِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا۟ بَيْنَ ٱلْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورً‌ۭا رَّ‌حِيمًا﴾ (النساء: ٢٣)

اس آیت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پھوپھی اور بھتیجی کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا جائز نہیں۔

حدیث مبارکہ سے دلیل

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

((عن ابى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن تنكح المرأة على عمتها ولا العمة على بنت أخيها.)) ابوداود، كتاب النكاح، باب ما يكره أن يجمع بينهن من النساء، رقم الحديث: ٦٥٢٠

یعنی:
"رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ یا عورت کو اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کیا جائے۔”

خلاصہ کلام

اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ شاہ محمد اپنی بیوی کی بھتیجی سے نکاح نہیں کرسکتا، کیونکہ یہ شریعت کے صریح خلاف ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔