مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بیوی کو چار سال تک خرچ نہ دینا اور نکاح ختم کرنے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 438

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عبدالحکیم جو کہ پاگل ہے اس کی ایک بیٹی ہے، اس بیٹی کا نکاح عبدالحکیم کے دوسرے بھائی کے بیٹے سے کیا گیا۔ نکاح کے بعد شوہر نے اپنی بیوی کو گھر سے نکال دیا۔ اب وہ اپنی والدہ کے بھائی (ماموں) کے ہاں رہ رہی ہے۔ اس بات کو تقریباً چار سال ہو چکے ہیں اور اس دوران شوہر نے نہ تو بیوی کو بلایا اور نہ ہی کوئی خرچ وغیرہ دیا۔
شریعت محمدی کے مطابق بتائیں کہ کیا وہ لڑکی دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو خرچ نہ دے اور نہ ہی چار سال تک اس کی خبرگیری کرے، تو اس صورت میں عورت کو اختیار ہے کہ وہ اپنا نکاح ختم کروا لے۔

قرآن کریم کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَ‌ارً‌ۭا لِّتَعْتَدُوا﴾
(البقرة:٢٣١) ‘‘
عورتوں کو نقصان پہنچانے کی خاطر روکے مت رکھو۔’’

یہ بھی ظلم ہے کہ بیوی کو خرچ نہ دیا جائے، کیونکہ یہ بھی ایک قسم کا نقصان ہے۔

مزید ارشاد ہے:

﴿وَعَاشِرُ‌وهُنَّ بِالْمَعْرُ‌وفِ﴾
(النساء:١٩)
‘‘عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آؤ۔’’

تاکہ وہ خوشگوار زندگی گزار سکیں۔

دوسری جگہ فرمایا:

﴿فَإِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُ‌وفٍ أَوْ تَسْرِ‌يحٌۢ بِإِحْسَـٰنٍ﴾
(البقرة:٢٢٩)
‘‘یا تو انہیں بھلائی کے ساتھ روکے رکھو یا عمدگی کے ساتھ رخصت کر دو۔’’

حدیث مبارکہ کی روشنی میں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کی روشنی میں:

((عن سعيد بن المسيب رضى الله عنه فى الرجل لا يجد ما ينفق على أهله قال يفرق بينهما.)) (سنن سعيد بن منصور، جلد نمبر ١، صفحہ نمبر ٥٥)

یعنی حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر خرچ کرنے کی استطاعت نہ رکھے تو ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی جائے۔

نتیجہ

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنا نکاح ختم کروا کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
البتہ شوہر کا خرچ بند کرنا سراسر ظلم ہے اور ظلم شریعت میں ناجائز ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔