سوال
اگر کوئی مرد غلطی سے اپنی بیوی کا دودھ پی لے تو کیا اس صورت میں رضاعی رشتہ قائم ہو جائے گا؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر کسی مرد سے یہ عمل غلطی سے سرزد ہو جائے، تو اس کے نتیجے میں رضاعی رشتہ قائم نہیں ہو گا۔ اس کی دلیل یہ حدیث ہے:
«فَاِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ»
(بخارى شريف – كتاب النكاح، باب من قال لا رضاع بعد حولين)
یعنی:
"رضاعت صرف بھوک کے وقت ہی معتبر ہوتی ہے۔”
اس حدیث کی روشنی میں اگر کوئی بالغ مرد محض غلطی یا کسی اور سبب سے اپنی بیوی کا دودھ پی لے، تو چونکہ وہ بھوک کی حالت میں دودھ پینے والا بچہ نہیں ہے، اس لیے اس پر رضاعت کے احکام لاگو نہیں ہوں گے اور نہ ہی کوئی رضاعی رشتہ ثابت ہو گا۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب