بیوی کا خرچہ خاوند پر واجب ہے
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

نفقات (اخراجات)
355-
بیوی کا نان، نفقہ، پہناوا اور رہائش خاوند پر واجب ہے، اسی طرح میاں بیوی کا خوش اسلو بی سے رہنا اور ایک دوسرے کے ساتھ بہترین انداز میں پیش آنا شریعت کا مطلو ب ہے۔ فرمان الہی ہے:
الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ [النساء: 34]
”مرد عورتوں پر نگران ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنے مالوں سے خرچ کیا۔“
نیز فرمایا:
«أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ» [الطلاق: 16]
”انھیں وہاں سے رہائش دو جہاں تم رہتے ہو۔“
مزید فرمایا:
«وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ» [النساء: 19]
”اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔“
نیز آنحضرت صلى اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”تمہارے ذمے معروف کے مطابق ان کا رزق اور پہناوا ہے۔“ [صحيح مسلم 1218/147]
[اللجنة الدائمة: 9258]

356- انسان کو اپنی ذات اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرنے کا اجر ملتا ہے
انسان جو کچھ رضاء الہی کے حصول کی خاطر اپنی ذات پر اور اپنے اہل خانہ پر خرچ کرتا ہے اس کا اس کو اجر ملتا ہے، جس طرح آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے کہا تھا: ”جان لو ! تم جو خرچ بھی اللہ کی رضا کے حصول کی خاطر کرو گے، تم کو اس کا اجر ملے گا حتی کہ اس لقے پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منھ میں ڈالتے ہو“، یعنی اس لقمے پر بھی تجھے اجر ملے گا جو تمھاری بیوی تمہارے اس پر خرچ کرنے کی وجہ سے کھاتی ہے۔
[ابن عثيمين: نورعلي الدرب: 13]

357- بیوی کا ماہانہ خرچہ
خاوند اگر بیوی کو شرعی طور پر مطلوبہ اشیا جیسے: اشیائے خورو نو ش اور لباس وغیرہ مہیا کرتا ہے تو پھر ضروری نہیں کہ وہ بیوی کو ماہانہ جیب خرچ بھی دے۔
[اللجنة الدائمة: 21239]

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

1