سوال:
بیوی سے لواطت کا کیا حکم ہے؟
جواب:
لواطت ایسا قبیح فعل ہے جو شرعا ناجائز وحرام اور کبیره گناہ ہے، الله تعالى کی سخت ناراضی کا باعث ہے۔ لہذا اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں۔
❀ علامه مظهری زیدانی حنفی رحمه الله (727ھ) فرماتے ہیں:
عورت کے ساتھ غیر فطری مجامعت تمام ادیان میں حرام ہے۔
(المفاتيح في شرح المصابيح: 54/4)
❀ علامہ ابن قیم رحمه الله (751ھ) فرماتے ہیں:
عورت سے غیر فطری مجامعت کسی نبی کی شریعت میں روا نہیں تھی، بعض سلف کی طرف اس کا جواز منسوب کرنے والا جھوٹا ہے۔
(زاد المعاد: 257/4)
❀ حافظ بغوی رحمه الله (510ھ) فرماتے ہیں:
اما الاتيان في الدبر فحرام، فمن فعله جاهلا بتحريمه، نهي عنه، فان عاد عزر.
بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں جماع حرام ہے، جو اس کی حرمت سے ناواقفیت کی بنا پر ایسا کرے، اسے روکا جائے گا، دوبارہ کرے تو اسے تعزیری سزا دی جائے گی۔
(شرح السنه: 6/9)
❀ حافظ ابن کثیر رحمه الله (774ھ) فرماتے ہیں:
عورتوں سے غیر فطری مجامعت کرنا قوم لوط کے عمل سے ملتا جلتا کام ہے، اس کے حرام ہونے پر علما کا اجماع ہے، سوائے سلف میں سے ایک شاذ قول کے، حالانکہ اس فعل سے ممانعت کے بارے میں کئی احادیث مروی ہیں۔
(تفسیر ابن کثیر: 183/3)
❀ علامہ ابن نجیم حنفی رحمه الله (970ھ) لکھتے ہیں:
بیوی سے غیر فطری مجامعت کو حلال سمجھنا جمہور علما کے نزدیک کفر ہے۔
(الأشباه والنظائر، ص 191)
معزز قارئین! آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ برا کام شیعه مذہب میں جائز ہے۔
❀ خمینی شیعه نے لکھا ہے:
الاقوى والاظهر جواز وطئ الزوجه مع الدبر على كراهيه شديده.
قوی ترین اور راجح بات یہ ہے کہ شدید کراہت کے باوجود بیوی سے غیر فطری مجامعت کرنا جائز ہے۔
(تحریر الوسيله: 241/2)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیه رحمه الله (728ھ) فرماتے ہیں:
عورت کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرنا کتاب وسنت کی رو سے حرام ہے۔ جمہور سلف وخلف کا قول بھی یہی ہے، بلکہ یہ لواطت سے ملتا جلتا فعل بد ہے۔
(مجموع الفتاوى: 266/32-267)
عطاء رحمه الله سے عورتوں سے غیر فطری مباشرت کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا:
تلك كفر، ما بدأ قوم لوط الا بذاك، اتوا النساء في ادبارهن، ثم اتى الرجال الرجال.
یہ کفر ہے۔ قوم لوط نے اس فعل سے ابتدا کی تھی، پہلے وہ عورتوں کی دبر میں جماع کرتے تھے، پھر مردوں سے کرنے لگے۔
(مساوي الأخلاق للخرائطي: 425، وسنده حسن)
طاؤس رحمه الله کہتے ہیں کہ سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنه سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:
ذلك الكفر.
یہ کفر ہے۔
(السنن الكبرى للنسائي: 9004، وسنده صحيح)
ایک روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیه وسلم سے ایسے انسان کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا:
هذا يسألني عن الكفر؟
یہ شخص مجھ سے کفر کے بارے میں پوچھتا ہے؟
(مصنف عبد الرزاق: 442/11، ح: 20953، وسنده صحيح)
حافظ ابن کثیر رحمه الله نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
(تفسیر ابن کثیر: 593/1)
حافظ ابن حجر رحمه الله نے اس کی سند کو قوی کہا ہے۔
نیز فرماتے ہیں:
(التلخيص الحبير: 390/3)
انتحرثك من حيث نباته.
اپنی کھیتی (بیوی) سے اس جگہ پر جماع کیجئے جہاں سے کچھ اگ سکے۔
(السنن الكبرى للبيهقي: 196/7، وسنده صحيح)
طاؤس رحمه الله سے ایسے انسان کے بارے میں پوچھا گیا، تو فرمایا:
تلك كفر.
یہ کفر ہے۔
(السنن الكبرى للنسائي: 9022، وسنده صحيح)
سیدنا ابو ہریره رضی الله عنه فرماتے ہیں:
من اتى ادبار الرجال والنساء فقد كفر.
مردوں یا عورتوں سے غیر فطری عمل کا مرتکب، کفر کا مرتکب ہے۔
(السنن الكبرى للنسائي: 9021، وسنده حسن)
سیدنا ابو درداء رضی الله عنه فرمایا:
هل يفعل ذلك الا كافر؟
بھلا کافر کے علاوہ بھی کوئی ایسا کر سکتا ہے؟
(زوائد مسند الإمام أحمد: 210/2، وسنده صحيح)
ائمه طاؤس، سعید بن مسیب، مجاہد اور عطاء بن ابی رباح رحمهم الله کے بارے میں ہے:
انهم كانوا ينكرون اتيان النساء في ادبارهن ويقولون: هو كفر.
یہ تابعین عورتوں کی دبر میں جماع سے منع کرتے تھے اور کہتے کہ یہ کفر ہے۔
(سنن الدارمي: 1185، وسنده حسن)
امام عکرمه رحمه الله سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنه سے روایت کرتے ہیں:
انه كان يكره اتيان الرجل امراته في دبرها، ويعيبه عيبا شديدا.
آپ رضی الله عنه مرد کے عورت کی دبر میں جماع کرنے کو ناپسند کرتے تھے اور اس کو سخت برا جانتے تھے۔
(سنن الدارمي: 1178، وسنده صحيح)
امام مجاہد رحمه الله فرمان باری تعالى:
يحب التوابين ويحب المتطهرين
(سوره البقره: 222)
الله بہت توبه کرنے والوں اور بہت پاک رہنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔
کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
من اتى امراته في دبرها، فليس من المتطهرين.
جو بیوی سے دبر میں جماع کرے، وہ پاکیزه خصلت نہیں۔
(السنن الكبرى للنسائي: 9022، تفسير الطبري: 743/3، وسنده حسن)
❀ امام مالک رحمه الله (179ھ) فرماتے ہیں:
ما علمته حراما.
میرے علم کے مطابق یہ حرام ہے۔
(السنن الكبرى للنسائي: 9128، وسنده صحيح، طبع دار التأصيل)
تحفه الاشراف للمزی (7314) میں ما علمت حراما کے الفاظ ہیں۔ یہ نسخه کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔