بیوی اور خاوند کے باہمی حقوق: قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

گزشتہ جمعہ کے بیان میں نکاح کی اہمیت، فوائد اور کامیاب ازدواجی زندگی کے چند اصول بیان کیے گئے تھے، اور یہ واضح کیا گیا تھا کہ زوجین کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں اور کوئی کسی کے حقوق سلب نہ کرے۔ نیز بتایا گیا تھا کہ حقوق تین قسم کے ہیں:
① مشترکہ حقوق
② بیوی پر خاوند کے حقوق
③ خاوند پر بیوی کے حقوق

مشترکہ حقوق پہلے بیان ہو چکے تھے، اب باقی دو اقسام بیان کی جاتی ہیں۔

بیوی پر خاوند کے حقوق

1) خاوند کی خدمت

عرف اور دستور کے مطابق خاوند کی خدمت کرنا بیوی پر خاوند کا حق ہے۔ حضرت حصین بن محصن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی پھوپھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ جب وہ فارغ ہو گئیں تو آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تمہارا خاوند موجود ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اس سے کیسا سلوک کرتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا: میں ہر طرح سے اس کی خدمت کرتی ہوں سوائے اس کے کہ میں عاجز آ جاؤں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:

(( فَانْظُرِیْ أَیْنَ أَنْتِ مِنْہُ،فَإِنَّمَا ہُوَ جَنَّتُکِ وَنَارُکِ))
(أحمد:341/6، الحمیدی : 355، الطبرانی فی الکبیر :183/25، الحاکم:189/2، وصححہ الألبانی فی آداب الزفاف :ص 118)
ترجمہ: “ذرا اچھی طرح دیکھ لو کہ تم اپنے خاوند کے معاملے میں کہاں کھڑی ہو، کیونکہ وہی تمہاری جنت ہے اور وہی تمہاری جہنم۔”

یعنی اگر عورت خاوند کی خدمت اور حقوق کا خیال رکھے تو یہ اس کے لیے جنت کا سبب ہے، اور اگر وہ لاپرواہی کرے تو سخت وعید ہے۔

صحابیات کا نمونہ

اس امت کی ابتدائی نیک خواتین اپنے شوہروں کی خدمت میں کوتاہی نہ کرتی تھیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا (نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت کرتیں، گھر کے کام میں اس قدر محنت کہ چکی پیسنے سے ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے۔ جب قیدی آئے تو وہ خادم مانگنے آئیں، مگر آپ ﷺ گھر میں نہ ملے۔ بعد میں آپ ﷺ ان کے گھر گئے اور فرمایا:

“کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو خادم سے بہتر ہے؟ جب تم بستر پر آؤ تو 34 مرتبہ اللہ اکبر، 33 مرتبہ سبحان اللہ اور 33 مرتبہ الحمد للہ پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔”
(صحیح البخاری:3113،3705، صحیح مسلم:2727)

اور حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس نہ جائیداد تھی نہ غلام، صرف ایک اونٹ اور ایک گھوڑا تھا۔ میں گھوڑے کو چارہ دیتی، اونٹ پر پانی لاد کر لاتی، ڈول خود سی لیتی، آٹا خود گوندھتی، البتہ روٹی نہیں پکانا جانتی تھی تو پڑوس کی انصاری خواتین پکا دیتی تھیں۔ اور جو زمین رسول اللہ ﷺ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو جاگیر میں دی تھی وہ تقریباً دو میل دور تھی، میں وہاں گٹھلیاں چنتی اور سر پر اٹھا کر لاتی…
(صحیح البخاری:5224، صحیح مسلم:2182)

یہ دونوں عظیم صحابیات تھیں، پھر بھی خاوند کی خدمت کرتی تھیں، لہٰذا آج کی خواتین—چاہے کتنے اچھے گھرانے یا مالدار کیوں نہ ہوں—ان سے افضل نہیں، انہیں بھی خدمت اور تعاون کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

2) خاوند کی فرمانبرداری

بیوی پر خاوند کا دوسرا حق یہ ہے کہ وہ اس کی فرمانبرداری کرے اور حکم عدولی نہ کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَۃُ خَمْسَہَا،وَصَامَتْ شَہْرَہَا،وَحَفِظَتْ فَرْجَہَا، وَأَطَاعَتْ زَوْجَہَا،قِیْلَ لَہَا: ادْخُلِیْ الْجَنَّۃَ مِنْ أَیِّ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ شِئْتِ ))
(أحمد:191/1، الطبرانی فی الأوسط:8805… وصححہ الألبانی فی آداب الزفاف: ص120)
ترجمہ: “جب عورت اپنی پانچوں نمازیں ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے تو اسے کہا جائے گا: جنت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہو جاؤ۔”

اور عورتوں میں افضل عورت کے بارے میں فرمایا:

(( اَلَّتِیْ تَسُرُّہُ إِذَا نَظَرَ،وَتُطِیْعُہُ إِذَا أَمَرَ،وَلَا تُخَالِفُہُ فِیْ نَفْسِہَا وَمَالِہَا بِمَا یَکْرَہُ))

“وہ (عورت) کہ جب وہ اس کی طرف دیکھے تو اسے خوش کر دے،
جب وہ اسے کوئی حکم دے تو اس کی اطاعت کرے،
اور اپنی ذات اور مال کے معاملے میں اس کی نافرمانی نہ کرے، کسی ایسے کام میں جو اسے ناپسند ہو۔”

(النسائی:3231، وصححہ الألبانی… والصحیحۃ:1838)

اور نافرمانی کی سخت وعید:

(( اِثْنَانِ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُہُمَا رُؤُوْسَہُمَا… وَامْرَأَۃٌ عَصَتْ زَوْجَہَا حَتّٰی تَرْجِعَ ))

“دو آدمیوں کی نماز ان کے سروں سے اوپر نہیں جاتی…
اور وہ عورت جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرے، یہاں تک کہ وہ (اطاعت کی طرف) لوٹ آئے۔”

(صحیح الترغیب والترہیب للألبانی:1948)

اہم قاعدہ: معصیت میں اطاعت نہیں

(( لَا طَاعَۃَ لِأَحَدٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ ،إِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِیْ الْمَعْرُوْفِ )) (متفق علیہ)

“اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے، اطاعت تو صرف نیکی (معروف) کے کاموں میں ہے۔”

3) خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے

(( لَا یَحِلُّ لِلْمَرْأَۃِ أَنْ تَصُوْمَ وَزَوْجُہَا شَاہِدٌ إِلَّا بِإِذْنِہٖ ))

“کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ (نفلی) روزہ رکھے جبکہ اس کا شوہر موجود ہو، مگر اس کی اجازت سے۔”

(صحیح البخاری:5195، صحیح مسلم:1026)

4) خاوند کے مال اور جائیداد کی حفاظت

(( لَا تُنْفِقِ الْمَرْأَۃُ شَیْئًا مِنْ بَیْتِ زَوْجِہَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِہَا… قَالَ : ذَاکَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا ))

“عورت اپنے شوہر کے گھر (یا اس کے مال) میں سے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ بھی خرچ نہ کرے۔”
(راوی نے کہا:) “یہی ہمارے اموال میں سب سے افضل مال ہے۔”

(أحمد:267/5، الترمذی:670، ابن ماجہ:2295، وحسنہ الألبانی:1873)

5) خاوند کی اجازت کے بغیر کسی کو گھر میں داخل نہ کرے

(( …وَلَا تَأْذَنَّ فِیْ بَیْتِہٖ إِلَّا بِإِذْنِہٖ ))

“اور وہ اس کے گھر میں (کسی کو داخل ہونے کی) اجازت نہ دے مگر اس کی اجازت سے۔”

(صحیح البخاری:5195، صحیح مسلم:1026)

(( …فَأَمَّا حَقُّکُمْ عَلٰی نِسَائِکُمْ فَلَا یُوْطِئْنَ فُرُشَکُمْ مَنْ تَکْرَہُوْنَ،وَلَا یَأْذَنَّ فِیْ بُیُوْتِکُمْ لِمَنْ تَکْرَہُوْنَ ))

“اور تمہارا حق اپنی عورتوں پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر اُن لوگوں کو نہ آنے دیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو،
اور تمہارے گھروں میں اُن لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت نہ دیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو۔”

(الترمذی:1163، ابن ماجہ:1851، قال الترمذی: حسن صحیح)

6) خاوند کی شکرگزاری

(صحیح البخاری:29، صحیح مسلم:907)

(( لَا یَنْظُرُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلَی امْرَأَۃٍ لَا تَشْکُرُ لِزَوْجِہَا ، وَہِیَ لَا تَسْتَغْنِیْ عَنْہُ ))

“اللہ تبارک و تعالیٰ اُس عورت کی طرف (نظرِ رحمت سے) نہیں دیکھتا جو اپنے شوہر کی ناشکری کرے، حالانکہ وہ اس کی محتاج بھی ہو۔”

(صحیح الترغیب والترہیب للألبانی:1944، والصحیحۃ:289)

(( لَا یَصْلُحُ لِبَشَرٍ أَنْ یَّسْجُدَ لِبَشَرٍ،وَلَوْ صَلَحَ… لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا لِعِظَمِ حَقِّہٖ عَلَیْہَا ))

“کسی انسان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی انسان کو سجدہ کرے،
اور اگر (کسی کے لیے کسی کو سجدہ کرنا) جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اس کے اس پر عظیم حق کی وجہ سے۔”

(احمد، البزار۔ صحیح الترغیب والترہیب للألبانی:1936)

(( اَلْمَرْأَۃُ لَا تُؤَدِّیْ حَقَّ اللّٰہِ حَتّٰی تُؤَدِّیَ حَقَّ زَوْجِہَا… ))

“عورت اللہ کا حق ادا نہیں کر سکتی، جب تک وہ اپنے شوہر کا حق ادا نہ کرے۔”

(صحیح الترغیب والترہیب للألبانی:1943)

(( حَقُّ الزَّوْجِ عَلٰی زَوْجَتِہٖ… ))

“شوہر کا اپنی بیوی پر حق …”

(صحیح الترغیب والترہیب للألبانی:1934)

خاوند پر بیوی کے حقوق

بیوی پر خاوند کے حقوق کے بعد اب وہ حقوق بیان کیے جاتے ہیں جو خاوند پر بیوی کے لازم ہیں، کیونکہ شریعت نے دونوں جانب حقوق و فرائض مقرر کیے ہیں تاکہ ظلم، زیادتی اور بے اعتدالی سے گھر محفوظ رہے۔

1) حق مہر

خاوند پر بیوی کا پہلا حق یہ ہے کہ وہ اسے حق مہر ادا کرے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ وَآتُوا النِّسَائَ صَدُقَاتِہِنَّ نِحْلَۃً فَإِن طِبْنَ لَکُمْ عَن شَیْْئٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوہُ ہَنِیْئًا مَّرِیْئًا﴾ (النساء4:4)
ترجمہ: “اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دے دو، ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے مہر میں سے کچھ تمہیں چھوڑ دیں تو اسے شوق سے خوش ہو کر کھا لو۔”

اس آیت سے واضح ہے کہ مہر ادا کرنا شوہر پر لازم ہے۔ اگر عورت اپنی خوشی سے کچھ معاف کر دے تو وہ مرد کے لیے حلال ہے، لیکن:
❀ مہر ادا کرنے سے سرے سے انکار کرنا
❀ یا زبردستی مہر معاف کروانا
یہ سخت جرم اور عورت پر ظلم ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( أَیُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً عَلٰی مَا قَلَّ مِنَ الْمَہْرِ أَوْ کَثُرَ، لَیْسَ فِیْ نَفْسِہٖ أَنْ یُّؤَدِّیَ إِلَیْہَا حَقَّہَا، خَدَعَہَا، فَمَاتَ وَلَمْ یُؤَدِّ إِلَیْہَا حَقَّہَا لَقِیَ اللّٰہَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَہُوَ زَانٍ))
(صحیح الترغیب والترہیب للألبانی:1807)
ترجمہ: “جو شخص کم یا زیادہ حق مہر پر کسی عورت سے شادی کرے اور دل میں اس کا حق ادا کرنے کا ارادہ ہی نہ ہو تو وہ اسے دھوکہ دیتا ہے، پھر اگر وہ مر جائے اور اس کا حق ادا نہ کر سکا ہو تو قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ زانی ہوگا۔”

حق مہر میں ایک اور ظلم

کبھی شوہر مہر ادا کر دیتا ہے مگر عورت کا والد قبضہ کر لیتا ہے، حالانکہ مہر خالصتاً بیوی کا حق ہے۔ ہاں اگر عورت اپنی خوشی سے والد کو دے دے تو جائز ہے۔

حق مہر کے متعلق چند ضروری مسائل

① مہر کی مقدار شریعت نے متعین نہیں کی

مہر کی مقدار نکاح کرنے والے کی مالی حیثیت کے مطابق ہے۔ ہر شخص اتنا ہی مہر مقرر کرے جو آسانی سے ادا کر سکے۔ بڑھا چڑھا کر مہر مقرر کر کے پھر:
❀ ادا نہ کرنا
❀ یا کچھ حصہ ہضم کر جانا
❀ یا دباؤ ڈال کر معاف کروا لینا
یہ سب ظلم ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ابتدا ہی میں اپنی حیثیت کے مطابق مہر رکھا جائے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَہَا﴾ (البقرۃ2:286)
ترجمہ: “اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔”

کم حیثیت والا کم قیمت چیز کے عوض بھی نکاح کر سکتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے:
(( اِلْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِیْدٍ))
(صحیح البخاری:5030،5120، صحیح مسلم:1425)
ترجمہ: “جاؤ، اگر لوہے کی انگوٹھی ہی ہو تو وہ ڈھونڈ لاؤ۔”
پھر جب انگوٹھی بھی نہ ملی تو قرآن کی چند سورتیں سکھانے کے بدلے نکاح کر دیا گیا۔
ترجمہ: “جاؤ، اسے یہ سورتیں سکھا دینا، میں نے اسی کے عوض تمہاری شادی کر دی ہے۔”
(صحیح البخاری:5030،5120، صحیح مسلم:1425)

اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زرہ کے بدلے مہر مقرر فرمایا:
(سنن أبی داؤد:2125، سنن النسائی:3375، وصححہ الألبانی:3160)
ترجمہ (مفہوم): “کچھ نہ کچھ دو… تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے؟… وہی اسے دے دو۔”

یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حق مہر تھا، اس سے بھی کم مہر کی گنجائش واضح ہوتی ہے۔

② کم مہر مستحب ہے

اگرچہ مقدار متعین نہیں، لیکن آسان اور کم مہر کی ترغیب ہے۔
(( خَیْرُ النِّکَاحِ أَیْسَرُہُ )) (ابن حبان، صحیح الجامع للألبانی:3300)
ترجمہ: “بہترین نکاح وہ ہے جو آسانی سے ہو جائے۔”

(( خَیْرُ الصَّدَاقِ أَیْسَرُہُ )) (الحاکم والبیہقی، صحیح الجامع للألبانی:3279)
ترجمہ: “بہترین حق مہر وہ ہے جو آسانی سے ادا ہو سکے۔”

اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا مہر:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے بیویوں کو ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی (پانچ سو درہم) مہر دیا۔
(صحیح مسلم:1426)
ترجمہ (بیانِ مقدار): “آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کو ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی بطور حق مہر ادا کی جو پانچ سو درہم کے برابر ہے۔”

(متن میں موجود حسابی تفصیل اسی طرح برقرار ہے:)
بعض اہلِ علم کے مطابق پانچ سو درہم چاندی کا وزن 1487.5 گرام بنتا ہے… بارہ درہم چاندی ایک دینار سونے کے برابر… ساڑھے اکتالیس دینار… ایک دینار تقریباً سوا چار گرام… یوں وزن 176.375 گرام… واللہ اعلم۔

اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گٹھلی کے وزن کے برابر سونے پر نکاح کیا، آپ ﷺ نے مبارکباد دی اور ولیمہ کا حکم دیا۔
(صحیح البخاری:5072،5155، صحیح مسلم:1427)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بیٹی کا مہر نبی ﷺ کی بیٹیوں اور بیویوں کے مہر سے زیادہ ہو، حالانکہ وہ دنیا کی سب سے افضل عورتیں تھیں، تو وہ شخص جاہل اور احمق ہے۔”
(الفتاویٰ:194/32)

③ بڑھا چڑھا کر مہر رکھنا مرغوب نہیں

ایک شخص نے انصاری عورت سے شادی کی، چار اوقیہ چاندی مہر رکھا، تو نبی ﷺ نے تعجب فرمایا:
(صحیح مسلم:1424)
ترجمہ (مفہوم): “چار اوقیہ! گویا تم اس پہاڑ کے دامن سے چاندی کریدتے ہو!”

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی فرمایا کہ مہر بہت زیادہ نہ بڑھاؤ… اگر یہ عزت یا تقویٰ ہوتا تو نبی ﷺ اس کے زیادہ حق دار تھے، مگر آپ ﷺ نے بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر مقرر نہیں کیا۔
(سنن ابن ماجہ:1887، صححہ الألبانی:1532)
ترجمہ (مفہوم): “تم عورتوں کے مہر بڑھا چڑھا کر مقرر نہ کرو…”

2) نان و نفقہ اور رہائش

خاوند پر بیوی کا دوسرا حق یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت اور عرف کے مطابق بیوی کو نان و نفقہ، رہائش، لباس اور جائز ضروریات فراہم کرے۔

خطبہ حجۃ الوداع میں ارشاد ہوا:
(( وَلَہُنَّ عَلَیْکُمْ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ)) (صحیح مسلم:1218)
ترجمہ: “اور عورتوں کا تم پر حق ہے کہ تم انہیں عرف کے مطابق خوراک اور پوشاک مہیا کرو۔”

اور حضرت معاویہ القشیری رضی اللہ عنہ کی روایت:
(( أَنْ تُطْعِمَہَا إِذَا طَعِمْتَ،وَتَکْسُوَہَا إِذَا اکْتَسَیْتَ،وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْہَ وَلَا تُقَبِّحْ،وَلَا تَہْجُرْ إِلَّا فِیْ الْبَیْتِ ))
(أحمد:447/4، ابو داؤد:2142، ابن ماجہ:1850، صحیح الترغیب والترہیب:1929)
ترجمہ: “جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب تم پہنوں تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، گالی نہ دو، اور اگر چھوڑنا ہو تو گھر ہی میں چھوڑو۔”

اہل و عیال پر خرچ کا اجر

اگر شوہر نیت درست کر لے تو گھر والوں پر خرچ بھی صدقہ بن جاتا ہے:
(( …حَتّٰی مَا تَجْعَلُ فِیْ فِی امْرَأَتِکَ )) (متفق علیہ)
ترجمہ: “حتیٰ کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو اس پر بھی اجر دیا جاتا ہے۔”

(( إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلٰی أَہْلِہٖ… کَانَتْ لَہُ صَدَقَۃً )) (متفق علیہ)
ترجمہ: “جب آدمی اپنے گھر والوں پر خرچ کرے اور اجر کی نیت رکھے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔”

(( …أَعْظَمُہَا أَجْرًا الَّذِیْ أَنْفَقْتَہُ عَلٰی أَہْلِکَ)) (صحیح مسلم:995)
ترجمہ: “ان میں سب سے زیادہ اجر والا وہ دینار ہے جو تم اپنے اہل پر خرچ کرتے ہو۔”

تنبیہ: خرچ میں اعتدال

بخل مذموم ہے اور اسراف بھی حرام۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ وَالَّذِیْنَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ یُسْرِفُوا وَلَمْ یَقْتُرُوا وَکَانَ بَیْْنَ ذَلِکَ قَوَامًا﴾ (الفرقان25:67)
ترجمہ: “اور وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال رکھتے ہیں۔”

3) اچھے انداز سے بود و باش

خاوند پر بیوی کا ایک حق یہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارے:
﴿وَعَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن کَرِہْتُمُوہُنَّ فَعَسَی أَن تَکْرَہُوْا شَیْْئًا وَّیَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْْرًا کَثِیْرًا﴾ (النساء4:19)
ترجمہ: “اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو، اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اسی میں بہت خیر رکھ دے۔”

رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج کے ساتھ حسنِ سلوک، دل جوئی، گفتگو اور مزاح فرماتے، عشاء کے بعد سب کا حال پوچھتے، کھانا تناول فرماتے اور ہر ایک کے حق کے مطابق رہتے—یعنی بہترین نمونہ تھے۔

اسی بارے میں چند احادیث:
(( أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ… وَخِیَارُکُمْ خِیَارُکُمْ لِنِسَائِہِمْ )) (سنن الترمذی:1162)
ترجمہ: “سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں، اور تم میں بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہو۔”

(( لَا یَفْرَکْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَۃً… )) (صحیح مسلم:1469)
ترجمہ: “کوئی مومن اپنی مومنہ بیوی سے بغض نہ رکھے، اگر اس کی کوئی عادت ناپسند ہو تو کوئی دوسری پسندیدہ بھی ہوگی۔”

(( اِسْتَوْصُوْا بِالنِّسَائِ… )) (صحیح البخاری:5185،5186، صحیح مسلم:1468)
ترجمہ: “عورتوں کے بارے میں میری وصیت قبول کرو… عورت پسلی سے پیدا کی گئی… اگر سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دو گے… لہٰذا عورتوں سے اچھا برتاؤ کرو۔”

اور حجۃ الوداع میں:
(( فَاتَّقُوا اللّٰہَ فِی النِّسَائِ… )) (صحیح مسلم:1218)
ترجمہ: “عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو، کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ساتھ حلال کیا ہے۔”

نافرمان بیوی کی اصلاح کا شرعی طریقہ

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَاللَّاتِیْ تَخَافُونَ نُشُوزَہُنَّ فَعِظُوہُنَّ وَاہْجُرُوہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوہُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْغُواْ عَلَیْْہِنَّ سَبِیْلًا﴾ (النساء4:34)
ترجمہ: “اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں نصیحت کرو، پھر بستر میں ان سے علیحدگی اختیار کرو، پھر انہیں مارو، پھر اگر وہ اطاعت کریں تو ان پر زیادتی کا راستہ نہ ڈھونڈو۔”

اس میں تین ترتیب وار اقدامات ہیں: نصیحت، بستر کی علیحدگی، پھر آخر میں مار۔ مار کو پہلا طریقہ بنا لینا درست نہیں۔ اور مار بھی ایسی نہیں کہ چوٹ آئے یا ہڈی ٹوٹے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( لَا یَجْلِدْ أَحَدُکُمُ امْرَأَتَہُ جَلْدَ الْعَبْدِ… )) (صحیح البخاری:5204، صحیح مسلم:2855)
ترجمہ: “تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کی طرح نہ مارے، پھر دن کے آخر میں اس سے ہمبستری بھی کرے۔”

اور فرمایا:
(( …وَاضْرِبُوْہُنَّ ضَرْبًا غَیْرَ مُبَرِّحٍ )) (سنن الترمذی:1163)
ترجمہ: “اور اگر مارنا ہو تو ایسی مار مارو جو تکلیف دہ (چوٹ لگانے والی) نہ ہو۔”

حقِ خلع

شوہر پر بیوی کا ایک حق یہ ہے کہ اگر کسی شرعی عذر کی بنا پر بیوی شوہر کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو وہ حق مہر (پورا یا کچھ حصہ) واپس کر کے خلع لے سکتی ہے۔ شرعی عذر کی مثالیں:
❀ شوہر حقوقِ زوجیت ادا کرنے کے قابل نہ ہو
❀ بلا عذر بیوی کو تنگ کرتا ہو
❀ ناچاقی کے بعد صلح کی کوششیں ناکام ہوں
❀ شوہر نہ ساتھ رکھے، نہ طلاق دے

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ یُقِیْمَا حُدُودَ اللّٰہِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہِ﴾ (البقرۃ2:229)
ترجمہ: “اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت اگر کچھ دے دلا کر اپنی خلاصی کرا لے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔”

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے واقعہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کی بیوی نبی ﷺ کے پاس آئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس کا باغ واپس کر دو گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: باغ لے لو اور اسے طلاق دے دو۔
(صحیح البخاری:5273)
ترجمہ (مفہوم): “اپنا باغ واپس لے لو اور اسے طلاق دے دو۔”

بغیر عذر طلاق مانگنا سخت گناہ

عورت کو حق خلع ہے مگر شرعی عذر کے ساتھ۔ ورنہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( أَیُّمَا امْرَأَۃٍ سَأَلَتْ زَوْجَہَا الطَّلَاقَ،مِنْ غَیْرِ مَا بَأْسٍ،فَحَرَامٌ عَلَیْہَا رَائِحَۃُ الْجَنَّۃِ ))
(أحمد، ابو داؤد، الترمذی، ابن ماجہ، صحیح الجامع للألبانی:2706)
ترجمہ: “جو عورت بغیر کسی معقول عذر کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے، اس پر جنت کی خوشبو تک حرام ہو جاتی ہے۔”

نتیجہ

اسلام نے میاں بیوی دونوں پر حقوق کی ایسی متوازن تقسیم رکھی ہے جو گھر کو امن، محبت اور عدل کا مرکز بنا دیتی ہے۔ اگر زوجین ان احکام پر عمل کریں تو گھریلو جھگڑوں میں کمی، اعتماد میں اضافہ اور ازدواجی زندگی میں برکت پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دینِ حنیف کی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین