سوال
(1) علمائے دین کی خدمت میں سوال ہے کہ محمد سلیمان نامی شخص فوت ہوگیا، جس کے ورثاء میں صرف:
◄ ایک بیوی
◄ ایک بھائی محمد حسن
ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے۔
(2) مرحوم نے اپنی زندگی میں یہ تحریر کر دی تھی کہ:
◄ اپنے پیسے، مال اور گھر کو اپنی بیوی کو دیتا ہوں۔
◄ میرے مرنے کے بعد یہ سب میری بیوی کو دیا جائے۔
◄ باقی زمین کو شریعت محمدی کے مطابق تقسیم کیا جائے۔
یہ دستاویزات تحریری صورت میں موجود ہیں۔
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ:
➊ سب سے پہلے مرحوم کی ملکیت میں سے کفن دفن کے اخراجات نکالے جائیں گے۔
➋ اس کے بعد اگر مرحوم پر کوئی قرض ہے تو اسے ادا کیا جائے گا۔
➌ اس کے بعد اگر اس نے وصیت کی ہے تو وہ کل ترکہ کے ایک تہائی حصے تک پوری کی جائے گی۔
➍ اس کے بعد باقی جائیداد (منقول اور غیر منقول دونوں) کو ایک رقم قرار دے کر ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔
وراثت کی تقسیم
◄ زمین میں سے بیوی کو 4 آنے ملیں گے۔
◄ زمین میں سے بھائی محمد حسن کو 12 آنے ملیں گے۔
جہاں تک مرحوم نے اپنی زندگی میں ہی اپنی بیوی کو ہبہ (گھر، پیسہ اور مال دینا) کر دیا تھا، تو وہ ہبہ معتبر اور برقرار رہے گا، کیونکہ وہ اس کی زندگی ہی میں دیا جا چکا تھا۔ لہٰذا وہ سب صرف بیوی ہی کی ملکیت رہے گا۔
موجودہ اعشاری نظام میں تقسیم
اگر مرحوم کا ترکہ 100 روپے ہے تو تقسیم یوں ہوگی:
◄ بیوی: ¼ = 25 روپے
◄ بھائی (عصبہ): 75 روپے
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب