مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بیماری میں بیوی کو دیا گیا ہبہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 585

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سلیمان نے بیماری کی حالت میں اپنی ملکیت اپنی بیوی کو ہبہ کر دی تھی اور اسی بیماری میں سلیمان کا انتقال ہوگیا۔ وضاحت فرمائیں کہ شریعتِ محمدی کے مطابق یہ ہبہ (بخشش) درست ہے یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات جان لینی چاہیے کہ بیماری کی حالت میں کیا گیا ہبہ وصیت کے حکم میں بدل جاتا ہے۔ یعنی وہ ہبہ نہیں رہتا بلکہ وصیت شمار ہوتا ہے۔

وصیت وارث کے حق میں جائز نہیں ہوتی۔
◄ غیر وارث کے لیے کی گئی وصیت صرف ترکہ کے ایک تہائی (ثلث) حصے تک نافذ ہوتی ہے۔

لہٰذا، سلیمان کی طرف سے بیوی کو بیماری کے دوران دیا گیا یہ ہبہ ہبہ شمار نہیں ہوگا اور نہ ہی بیوی اس کی مالک بنے گی، کیونکہ بیوی وارث ہے۔

حدیث مبارکہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((لا وصية لوارث.))
(ترمذي، كتاب الوصايا، باب ما جاءك لا وصية لوارث، رقم الحديث: 2120)
(نسائي، كتاب الوصايا، باب إبطال الوصية للوارث، رقم الحديث: 3671)

ترجمہ:
’’وارث کے حق میں وصیت نہیں ہے۔‘‘

خلاصہ

اس لیے شرعی حکم یہ ہے کہ سلیمان کا اپنی بیوی کے لیے بیماری میں کیا گیا ہبہ باطل ہے اور وہ مال بیوی کو نہیں ملے گا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔