بیعِ صرف کے احکام: نقدی کا تبادلہ قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل کتاب البیوع:جلد 02: صفحہ 41
مضمون کے اہم نکات

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بیعِ صرف، یعنی نقدی کا باہمی تبادلہ کرنا، جنس متحد ہو یا مختلف

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

◈ نقدی سونے کی ہو یا نوٹوں کی صورت میں، سب کا حکم ایک ہی ہے، کیونکہ اس میں علتِ سود (ثمنیت) پائی جاتی ہے۔

بیعِ صرف کی مختلف صورتیں

① ہم جنس کرنسی کا تبادلہ

✔ جب کسی کرنسی کی بیع (ہم جنس) کرنسی کے ساتھ ہو، مثلاً:
❀ سونے کی سونے کے ساتھ بیع
❀ چاندی کی چاندی کے ساتھ بیع
❀ یا ایک ہی ملک کے نقدی نوٹوں کی بیع (مثلاً: ڈالر کی بیع ڈالر سے، یا سعودی ریال کا تبادلہ سعودی ریال سے)
تو لازم ہے کہ:

* دونوں طرف مقدار برابر ہو، اور
* مجلس میں لین دین نقد ہو (فوری قبضہ)

② مختلف کرنسی/جنس کی تبدیلی کی صورت

✔ اگر ایک ملک کی کرنسی کا تبادلہ دوسرے ملک کی کرنسی کے ساتھ ہو، یا جنس و قسم تبدیل ہو جائے، مثلاً:
❀ سعودی ریال کا تبادلہ امریکی ڈالروں سے
❀ یا سونے کا لین دین چاندی کے عوض
تو:

* مجلس میں نقد لین دین (قبضہ) ضروری ہے،
* البتہ کمی بیشی (تفاضل) جائز ہے۔
اسی طرح:
* سونے کے زیورات کی بیع چاندی کے دراہم کے عوض یا کاغذی نوٹ کے عوض جائز ہے، بشرطیکہ مجلس میں لین دین نقد ہو۔
* چاندی کے زیورات سونے کے بدلے میں کمی بیشی کے ساتھ خریدنا جائز ہے۔

③ زیورات/ہم جنس کرنسی میں دو شرطیں

✔ جب:

* سونے کے زیورات کی بیع سونے کے عوض ہو، یا
* چاندی کے زیورات کی بیع چاندی کے عوض ہو، یا
* ایک ہی ملک کی کرنسی کا تبادلہ ہو
تو ضروری ہے کہ:
* وزن میں برابری ہو، اور
* بیع کی مجلس میں نقد لین دین ہو۔

سود کی سنگینی اور اس سے بچنے کی تاکید

◈ سود نہایت خطرناک ہے۔ اس سے بچنا اسی وقت ممکن ہے جب اس کے مسائل کا علم ہو۔ جو مسلمان سود کے مسائل جاننے کی طاقت نہیں رکھتا، اسے چاہیے کہ اہلِ علم سے اس بارے میں معلومات حاصل کرے۔ وہ بیع کا کوئی معاملہ اس وقت تک طے نہ کرے جب تک اسے یقین نہ ہو جائے کہ اس میں سود کی آمیزش نہیں، تاکہ اس کا دین سلامت رہے اور اللہ تعالیٰ کے اس عذاب سے بچ جائے جس کی اس نے سود خوروں کو دھمکی دی ہے۔
◈ لوگ بیع کے معاملات میں عقل و بصیرت سے کام لیے بغیر جو کچھ کر رہے ہیں، وہ ان کی اندھی تقلید نہ کرے، بالخصوص اس دور میں لوگ کمائی کے ذرائع کی پروا اور خیال نہیں رکھتے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "يأتي على الناس زمان يأكلون الربا ، فمن لم يأكله أصابه من غباره”
"لوگوں پر ایسا وقت آئے گا کہ وہ سود کھائیں گے تو جس نے سود نہ بھی کھایا اسے اس کا گردوغبار پہنچے گا۔” [(ضعیف) سنن ابی داود، البیوع، باب فی اجتناب الشبھات، 3331؛ وسنن النسائی، البیوع، باب اجتناب الشبھات فی الکسب، حدیث 4460 واللفظ لہ]

زمانۂ جاہلیت والا سود اور قرآن کی وعید

◈ موجودہ دور میں سودی کاروبار کی ایک مشکل شکل یہ ہے کہ اگر تنگ دست آدمی قرض کی رقم واپس کرنے سے قاصر ہو تو مدت و مہلت کی مناسبت سے قرض کی رقم بڑھا دی جاتی ہے۔ یہ سود زمانۂ جاہلیت سے چلا آ رہا ہے، اور اس کے حرام ہونے پر اہلِ اسلام کا اجماع ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَروا ما بَقِىَ مِنَ الرِّبو‌ٰا۟ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ﴿٢٧٨﴾ فَإِن لَم تَفعَلوا فَأذَنوا بِحَربٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسولِهِ وَإِن تُبتُم فَلَكُم رُءوسُ أَمو‌ٰلِكُم لا تَظلِمونَ وَلا تُظلَمونَ ﴿٢٧٩﴾وَإِن كانَ ذو عُسرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلىٰ مَيسَرَةٍ وَأَن تَصَدَّقوا خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ ﴿٢٨٠﴾… سورة البقرة [البقرۃ: 2/278-280]
"اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو (278) اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ، ہاں اگر توبہ کرلو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے، نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے گا (279) اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہئے اور صدقہ کرو تو تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے، اگر تم میں علم ہو”

اس آیتِ کریمہ میں سود کی اس قسم سے متعلق تنبیہات

① اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے بندوں کو اہلِ ایمان کہہ کر پکارا، مقصد یہ ہے کہ سود کا لین دین ایک مومن کی شان نہیں۔
"اتَّقُوا اللَّـهَ” سے واضح ہے کہ سود کا لین دین کرنے والے کے دل میں اللہ کا خوف نہیں ہوتا۔
③ اللہ تعالیٰ کا فرمان: (وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا) یعنی "جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑدو”—یہ حکم وجوب کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا سودی معاملہ کرنے والا اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔
④ جو شخص سودی لین دین ختم نہیں کرتا، اس کے خلاف اللہ کی طرف سے اعلانِ جنگ ہے: ﴿فَإِن لَم تَفعَلوا فَأذَنوا بِحَربٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسولِهِ…﴿٢٧٩﴾… سورةالبقرة
"اگر تم(سود) نہیں چھوڑتے تو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے کے لیے تیارہوجاؤ۔” [البقرۃ: 2/279]
⑤ اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿ فَلَكُم رُءوسُ أَمو‌ٰلِكُم لا تَظلِمونَ وَلا تُظلَمونَ ﴿٢٧٩﴾… سورةالبقرة
"چنانچہ تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے،نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے۔” [البقرۃ: 2/279]
اس سے صراحت ہوتی ہے کہ سود خور ظالم ہے۔

قرض پر منافع/زیادہ رقم لینا سود ہے

◈ قرضہ دے کر اس پر منافع لینا بھی سودی معاملات میں شامل ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ کسی کو اس شرط پر قرض دیا جائے کہ واپسی پر اصل سے زیادہ دے گا، یا اتنے فیصد بڑھا کر ادا کرے گا، جیسا کہ آج کل بینکوں میں ہوتا ہے۔

◈ بینک کا وجود اس نظام پر قائم ہے کہ بینک ضرورت مندوں، تاجروں، کارخانوں اور فیکٹریوں کے مالکان، ہنر مندوں اور پیشہ وروں کو اس شرط پر قرض دیتا ہے کہ قرض لینے والا قرض کی رقم پر اتنے فیصد نفع بھی ادا کرے گا۔ اگر مدت معینہ کے اندر قسط ادا نہ کرے تو اتنے فیصد نفع مزید بڑھ جائے گا۔ یہ سراسر سود ہے جس میں سود کی دونوں صورتیں جمع ہو جاتی ہیں۔

◈ بینکوں کے سودی نظام میں سے ایک شکل بچت کھاتہ (سیونگ اکاؤنٹ) بھی ہے، یعنی اگر کوئی شخص اپنی رقم مقررہ مدت کے لیے بینک میں رکھتا ہے تو بینک اسے پوری مدت تک استعمال کرتا ہے اور کھاتہ دار کو دس یا پانچ فیصد نفع (سود) دیتا ہے۔

سودی کاروبار کی ایک شکل: بیعِ عینہ

◈ سودی کاروبار میں سے ایک صورت "بیع عینہ” ہے: اس کی شکل یہ ہے کہ کسی کو اپنی چیز ادھار بیچ دیتا ہے، پھر اسی کو کم رقم دے کر نقد خرید لیتا ہے۔ اس معاملہ کو "بیع عینہ” کہتے ہیں، کیونکہ ادھار سامان خریدنے والا اس کے بدلے میں عین (نقد) مال وصول کر لیتا ہے۔ یہ سود کمانے کا حیلہ ہے، اور بہت زیادہ احادیث میں اس کی نہی وارد ہوئی ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جب تم ‘بیع عینہ’ کرنے لگ جاؤ گے اور بیلوں کی دُمیں پکڑ لوگے(زراعت میں مشغول ہوجاؤ گے) اور کھیتی باڑی پر راضی ہوجاؤ گے اور جہاد چھوڑدوگے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت ورسوائی مسلط کردےگا حتیٰ کہ تم اپنے دین کی طرف پلٹ آؤ۔” [سنن ابی داود، البیوع، باب فی النھی عن العینۃ، حدیث 3462]

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
” لوگ پر ایک ایسا وقت آئے گا جب وہ بیع کا نام دے کر سود کو حلال قراردیں گے۔” [(ضعیف) غایۃ المرام فی تخریج احادیث الحلال والحرام، حدیث 13؛ اغاثۃ اللھفان من مصائد الشیطان، 1/486]

سود کے دنیاوی و اخروی نقصانات کی نصیحت

◈ مسلمانو! اپنے معاملات میں سود کو داخل نہ ہونے دو۔ اپنے مال کو سود کی ملاوٹ سے بچاؤ، کیونکہ سود لینا اور دینا کبیرہ گناہ ہے۔
◈ جس قوم میں سود اور زنا ظاہر ہوتے ہیں، ان میں فقر و محتاجی اور مختلف ناقابل علاج بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر ظالم حکمران مسلط کر دیتا ہے۔
◈ سود مال کو تباہ کرتا ہے اور خیر و برکت کو مٹا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سود کھانے پر سخت وعید بیان فرمائی ہے، سود کھانے کو شرمناک اور کبیرہ گناہ شمار کیا ہے، دنیا و آخرت کی سزا بیان کر دی ہے، اور سود خور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کرتا ہے۔
◈ اسی سود کی وجہ سے مال کی برکت اٹھ جاتی ہے، اور سود کا مال عموماً ہلاک و برباد ہوتا رہتا ہے۔ کتنے ہی واقعات ایسے ہیں کہ سود خوروں کا بڑا مال جل جاتا ہے، تباہ ہو جاتا ہے، یا سمندروں اور سیلابوں کی نذر ہو جاتا ہے، اور سود خور کنگال ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ مال ان کے پاس رہ بھی جائے تو اس میں خیر و برکت نہیں ہوتی۔
◈ اس مال سے وہ کوئی فائدہ نہیں اٹھا پاتا، جبکہ وہ اسی کے حساب و کتاب میں پھنس کر اسی کے دکھ میں مبتلا رہتا ہے۔
◈ سودی کاروبار کرنے والے اللہ کے ہاں اور مخلوق کے ہاں ناپسندیدہ ہوتے ہیں، کیونکہ وہ لوگوں سے مال چھینتے ہیں، دیتے نہیں، جمع کر کے روکے رکھتے ہیں، نہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور نہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ وہ انتہائی حریص و لالچی ہوتے ہیں، بہت زیادہ مال جمع کرنے اور روکنے والے ہوتے ہیں۔ دل ان سے متنفر رہتے ہیں اور یہ معاشرے کے دھتکارے ہوتے ہیں۔ یہ دنیاوی سزا ہے، جبکہ اخروی سزا بہت سخت اور دائمی ہے، جس کی وضاحت اللہ نے قرآن میں کر دی ہے۔
◈ یہ سب اس لیے کہ سود کی کمائی ناپاک، حرام اور نقصان دہ ہے، اور انسانی معاشرے پر بھاری بوجھ ہے۔

اصول کی بیع کے احکام

◈ اصول سے مراد مکانات، زمینیں اور درختوں کی بیع ہے۔ ان چیزوں کی خرید و فروخت کے وقت جو اشیاء ان سے ملحق ہوں گی وہ بھی مشتری کو ملیں گی، اور جو اشیاء ملحق نہ ہوں گی وہ (بیع کے بعد بھی) بائع کی ملکیت میں رہیں گی۔ اس باب میں مشتری اور بائع ہر ایک کے لیے ضروری ہے کہ وہ جان لے کہ اس کا حق کیا ہے اور کیا نہیں، تاکہ اختلاف و جھگڑا نہ ہو۔

◈ واضح رہے کہ جن امور میں ہمارے لیے مصلحت یا نقصان ہے، دینِ اسلام نے ہمیں ان کے متعلق اندھیرے میں نہیں رکھا، بلکہ وضاحت کے ساتھ راہنمائی کر دی ہے۔ جب کوئی قوم اسلامی احکام پر عمل کرے گی تو ان کے جھگڑے اور اختلافات ختم ہو جائیں گے۔ انہی احکامات میں بیع کے احکام بھی ہیں۔

◈ بسا اوقات آدمی ایک چیز فروخت کرتا ہے تو کچھ اشیاء اس میں شامل نہیں ہوتیں، پھر بائع و مشتری میں متعلقات پر اختلاف ہو جاتا ہے جو لڑائی جھگڑے کا سبب بنتا ہے۔ اسی لیے فقہائے کرام اسلامی فقہ میں "اصول کی بیع کے مسائل” کے عنوان سے باب قائم کرتے ہیں۔ ہم یہاں انہی مسائل کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔

گھر (مکان) کی بیع میں کیا شامل ہے؟

✔ اگر کوئی شخص گھر بیچے تو اس بیع میں:

* دیواریں اور چھت شامل ہیں، کیونکہ انہی کو گھر کہا جاتا ہے۔
* گھر کی تکمیل کرنے والی اشیاء بھی شامل ہیں، مثلاً:
◈ بجلی کے لگے ہوئے دروازے
◈ سیڑھیاں
◈ میخوں کے ساتھ لگائی ہوئی شیلفیں
* گھر کا ضروری سامان بھی شامل ہے، مثلاً:
◈ بجلی کی لگی ہوئی اشیاء
◈ لٹکتے ہوئے فانوس
◈ پانی کی ٹینکی
◈ پانی پہنچانے والے پائپ
◈ ایگزاسٹ فین
◈ گیزر
◈ گھر میں لگے ہوئے درخت اور پودے
◈ سایہ کے لیے بنی ہوئی اشیاء وغیرہ
* نیز گھر کی زمین کے نیچے اگر جامد معدنیات ہوں تو وہ بھی مشتری کی ملکیت میں آ جائیں گی۔

✿ جو اشیاء گھر میں شامل نہیں بلکہ الگ سمجھی جاتی ہیں، وہ گھر کی بیع میں شامل نہ ہوں گی، مثلاً:

* پڑی ہوئی لکڑی
* رسیاں
* برتن
* قالین/کارپٹ
* گھر کی وہ چیز جو حفاظت کے لیے زمین میں دفن کی گئی ہو (مثلاً قیمتی پتھر، خزانہ وغیرہ)
البتہ چابی/تالا بیع میں شامل ہوگا۔

زمین/باغ کی بیع میں کیا شامل ہے؟

✔ جب کسی نے زمین فروخت کی تو جو چیزیں زمین سے متصل ہوں گی وہ بھی بیع میں شامل ہوں گی، مثلاً:

* پودے
* درخت
* عمارت

✔ اگر کسی نے باغ فروخت کیا تو یہ بیع:

* باغ کی زمین
* درخت
* باڑیں
* اور باغ میں موجود کمرے
سب کو شامل ہوگی۔

زمین میں موجود فصل کا حکم

① اگر زمین میں ایسی فصل ہو جو سال میں ایک مرتبہ کٹتی ہے (مثلاً: گندم، جو وغیرہ) تو وہ فصل بائع کی ہوگی، لہٰذا بیع کا اطلاق فصل پر نہ ہوگا۔
② اگر ایسی فصل ہو جو سال میں ایک سے زیادہ مرتبہ کٹتی ہو (مثلاً: سبز چارہ) یا جس کا سال میں کئی مرتبہ چناؤ ہوتا ہو (مثلاً: ککڑیاں، بینگن وغیرہ) تو زمین کے ساتھ وہ فصل بھی مشتری کی ہوگی، البتہ جو سبزی/پھل بیع کے وقت چنے جانے کے قابل ہے، اسے ایک بار بیچنے والا چنے گا، اس کے بعد خریدنے والے کی ہوگی۔

شرط کی صورت میں حکم

◈ اوپر جو تفصیل بیان ہوئی کہ بعض اشیاء بائع کے پاس رہیں گی اور بعض مشتری کے حوالے ہوں گی، یہ اس وقت ہے جب بائع و مشتری کے درمیان کوئی شرط نہ ہو۔ اگر کسی چیز کے بارے میں شرط طے ہو جائے تو وہ چیز اسی کو ملے گی جس کے لیے شرط لگائی گئی ہے، دوسرے کو نہیں ملے گی، اور شرط پوری کرنا لازم ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "المُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ”
"مسلمان باہمی شرائط کے پابند رہیں۔” [جامع الترمذی، الاحکام، باب ما ذکر عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الصلح بین الناس، حدیث 1352]

کھجور کے درخت، تآبیر اور پھل کا حکم

◈ جو شخص کھجور کا درخت بیچے اور اس کی تآبیر ہو چکی ہو تو پھل بائع کو ملے گا، الا یہ کہ مشتری شرط کر لے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ”
"جس نے تآبیر کے بعد کھجور کے درخت کی بیع کی تو اس کا پھل بائع کے لیے ہے الایہ کہ مشتری اس کی شرط کرلے۔” [صحیح البخاری، المساقاۃ، باب الرجل یکون لہ ممر او شرب فی حائط او فی نخل، حدیث 2379؛ صحیح مسلم، البیوع، باب من باع نخلا علیھا تمر، حدیث 1543 واللفظ لہ]

[6]۔کھجوروں میں ایک درخت نر ہوتا ہے ایک مادہ،نر کے پھول(بارآور ہونے کی غرض سے) مادہ پر چڑھانے (چھڑکنے) کو تآبیر کہتے ہیں(اردو لغت کراچی)

◈ انگور، شہتوت اور انار کے درختوں میں اگر پھل پک جائے تو حکم وہی ہے جو کھجور کے درخت کا ہے، یعنی وہ بائع ہی کا ہے۔
◈ اگر کھجور کے درخت کی تآبیر اور انگور وغیرہ کی بیل پر پھل کے ظہور سے پہلے بیع ہو تو پھل مشتری کا ہے۔ کھجور کے درخت والی روایت کا یہی مفہوم ہے، نیز قیاس بھی اسی کا تقاضا کرتا ہے۔

شریعت کی حکمت اور اختلافات کا حل

◈ اس تفصیل سے شریعتِ اسلامیہ کا کمال واضح ہوتا ہے کہ یہ لوگوں کی مشکلات کو کس طرح حل کرتی ہے۔ ہر حق والے کو اس کا حق دیتی ہے، اور دوسروں پر ظلم و زیادتی نہیں ہوتی۔ یہ شریعت حکیم و حمید ذات کی طرف سے ہے جو جانتی ہے کہ ہر زمان و مکان میں بندوں کا نفع و نقصان کس میں ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَأُولِى الأَمرِ مِنكُم فَإِن تَنـٰزَعتُم فى شَىءٍ فَرُدّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسولِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ذ‌ٰلِكَ خَيرٌ وَأَحسَنُ تَأويلًا ﴿٥٩﴾… سورة النساء [النساء: 59]
"اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے”

◈ لوگوں کے درمیان اختلاف و نزاع کا خاتمہ، مصالح کا تحقق اور ایمان دار نفوس کا اطمینان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم و فیصلے پر عمل کیے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا، کیونکہ انسانی نظام انسانی مسائل کے حل سے قاصر ہے اور اس میں خواہشات و نزاعات کا دخل ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الحَقُّ أَهواءَهُم لَفَسَدَتِ السَّمـٰو‌ٰتُ وَالأَرضُ وَمَن فيهِنَّ… ﴿٧١﴾… سورة المؤمنون [المؤمنون: 23/71]
"اگر حق ہی ان کی خواہشوں کا پیروکار ہوجائے تو زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہرچیز درہم برہم ہوجائے۔”

◈ ان اذہان و قلوب کے لیے تباہی ہے جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کو چھوڑ کر انسانوں کا بنایا ہوا قانون اختیار کرتے ہیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ أَفَحُكمَ الجـٰهِلِيَّةِ يَبغونَ وَمَن أَحسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكمًا لِقَومٍ يوقِنونَ ﴿٥٠﴾… سورة المائدة [المائدۃ: 5/50]
"کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں،یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہوسکتا ہے؟”

◈ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنے دین کی مدد فرمائے اور اپنے کلمے کو بلند کرے، مسلمانوں کو دشمنوں کے مکروفریب سے محفوظ رکھے۔ بے شک وہی سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔

پھلوں وغیرہ کی بیع

◈ پھلوں سے مراد وہ پھل ہیں جو درختوں پر لگے ہوں اور کھائے جاتے ہوں۔ ان کے احکام درج ذیل ہیں:

درخت پر لگے صرف پھل کی بیع کی شرط

✔ جب صرف درختوں پر لگا ہوا پھل بیچا جائے (درخت شامل نہ ہوں) تو عقد کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ پھل کی صلاحیت ظاہر ہو چکی ہو، ورنہ بیع جائز نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کی درستی ظاہر ہونے سے پہلے اس کی بیع سے منع فرمایا، اور بائع و مشتری دونوں کو منع کر دیا۔ [صحیح البخاری، البیوع، باب بیع الثمر قبل ان یبدو صلاحہا، حدیث 2194؛ صحیح مسلم، البیوع، باب النھی عن بیع الثمر قبل بدو صلاحہا بغیر شرط القطع، حدیث 1534]

◈ صحیحین میں روایت ہے: "أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا وَعَنْ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ قِيلَ وَمَا يَزْهُو قَالَ يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ "
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کی درستی ظاہر ہونے تک اور کھجور کے بڑھنے تک سودا کرنے سے منع کیا۔ پوچھا گیا:بڑھنے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: وہ سرخ یا زرد ہو جائے۔” [صحیح البخاری، البیوع، باب بیع النخل قبل ان یبدو صلاحہا، حدیث 2197؛ صحیح مسلم، البیوع، باب وضع الجوائح، حدیث 1555]

◈ ان دونوں احادیث سے واضح ہے کہ درستی ظاہر ہونے سے پہلے پھل کی بیع درست نہیں۔

کھیتی/بالیاں: دانہ سخت ہونے سے پہلے بیع کی ممانعت

✔ کھیتی کی بیع بھی دانہ سخت ہونے سے پہلے جائز نہیں، کیونکہ صحیح مسلم میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: "لأن النبي صلّى الله عليه وسلّم نهى عن بيع النخل حتى يزهو، وعن بيع السنبل حتى يبيض ويأمن العاهة نهى البائع والمشتري”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا الایہ کہ وہ بڑی ہو جائیں اور گندم وغیرہ کی بالیوں کی بیع سے منع کیا الایہ کہ وہ سفید ہو جائیں اور ان پر آفت آنے کا خطرہ نہ رہے ۔ اس بارے میں آپ نے بائع اور مشتری دونوں کو منع کیا۔” [صحیح مسلم، البیوع، باب النھی عن بیع الثمر قبل ان یبدو صلاحہا بغیر شرط القطع، حدیث 1534؛ صحیح البخاری، البیوع، باب اذا باع الثمر قبل ان یبدو صلاحہا، حدیث 2198]

ممانعت کی حکمت اور مال کے تحفظ کی تعلیم

◈ درستی ظاہر ہونے یا دانہ سخت ہونے سے پہلے بیع کی ممانعت کی حکمت یہ ہے کہ اس دوران عموماً آندھیاں اور آفتیں آتی ہیں اور اکثر پھل ضائع ہو جاتا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: "أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ، بِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ”
"بتاؤ تو سہی ! اگر اللہ تعالیٰ نے پھل روک دیا تو تم میں سے کوئی چیز کے بدلے اپنے بھائی کا مال لے گا؟ [صحیح البخاری، البیوع، باب اذا باع الثمر قبل ان یبدو صلاحہا۔۔۔، حدیث 2198]

◈ اس ارشادِ نبوی میں لوگوں کے ساتھ ہمدردی و شفقت ہے، اموال کا تحفظ ہے، اور باہمی اختلاف و نزاع کا خاتمہ ہے جو عداوت و بغض تک پہنچا دیتا ہے۔
◈ اس روایت میں ان لوگوں کے لیے زجر و تنبیہ ہے جو حیلوں سے لوگوں کے مال پر قبضہ کرتے ہیں، نیز مسلمان کو ترغیب ہے کہ اپنے مال کی حفاظت کرے اور ضائع نہ ہونے دے۔
◈ اس سے اصولِ فقہ کا مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ حکم کا دارومدار عمومی و اکثری حالات پر ہوتا ہے؛ چونکہ درستی سے پہلے عموماً تلف کا اندیشہ زیادہ ہے، اس لیے فروخت ممنوع ہے، اور درستی کے بعد عام طور پر سلامت رہتا ہے، اس لیے بیع جائز ہوتی ہے۔
◈ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مال کو خطرے میں ڈالنا جائز نہیں، اگرچہ مال کے بدلے مال ہی کیوں نہ ہو، جب نتیجہ غیر یقینی ہو۔

درستی سے پہلے بیع کی جائز صورتیں

◈ یہ حکم (عدمِ جواز) اس وقت ہے جب صرف درخت پر لگے پھل کی بیع ہو اور یہ شرط ہو کہ ابھی پھل نہیں اتارا جائے گا۔ البتہ اگر پھل کی بیع درخت سمیت ہو یا مذکورہ شرط نہ ہو تو (درستی سے پہلے بھی) جائز ہے۔ فقہاء نے تین صورتیں بیان کی ہیں:

① درخت سمیت پھل کی بیع

✔ درستی ظاہر ہونے سے پہلے درخت سمیت پھل کی بیع جائز ہے، کیونکہ پھل درخت کے ضمن میں فروخت ہوگا۔ اسی طرح سرسبز کھیتی بمع زمین فروخت کرنا بھی جائز ہے؛ کھیتی زمین کے ضمن میں فروخت ہوگی۔

② اصل کے مالک کو فروخت کرنا

✔ اگر درستی/دانہ پڑنے سے پہلے درخت یا کھیتی کو اصل (درخت/زمین) کے مالک کو فروخت کیا جائے تو یہ بھی جائز ہے، کیونکہ خریدار کو ادائیگی مکمل ہو گئی کہ وہ اصل کا مالک بن گیا، اور موجود چیز (پھل/غلہ) بھی اسی کے ضمن میں آ گئی۔
◈ واضح رہے کہ اس صورت کے جواز/عدمِ جواز میں اہلِ علم کا اختلاف ہے؛ بعض اسے ممانعت کے عموم میں شامل کرتے ہیں۔

③ فوراً کاٹنے/اتارنے کی شرط کے ساتھ

✔ اگر درستی سے پہلے اس شرط پر فروخت کیا جائے کہ پھل فوراً کاٹ/اتار لیا جائے گا تو یہ جائز ہے، مگر اسی وقت جب فوراً کٹائی کے بعد اس سے فائدہ لینا ممکن ہو، کیونکہ منع کی علت تلف کا خوف تھا۔
✿ اگر معلوم ہو کہ فوری کٹائی کے بعد بھی پھل فائدہ مند نہیں ہوگا تو بیع ناجائز ہوگی، کیونکہ مال کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مال ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔

سال میں متعدد بار چنے جانے والی پیداوار

✔ جو پھل/سبزی سال میں متعدد بار چنی جاتی ہو، اس کی موجودہ اور آئندہ چنائی کو ایک ساتھ فروخت کرنا جائز ہے، مثلاً: ترکاری، ککڑی، بینگن وغیرہ۔ اگرچہ علماء کا اختلاف ہے، مگر ہمارے نزدیک صحیح قول جواز کا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ دونوں جواز کے قائل ہیں۔ [مجموع الفتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ 29/484؛ اعلام الموقعین 2/29]

آسمانی آفت کے سبب پھلوں کا نقصان

◈ اگر بیع کی جائز صورت میں درخت پر لگا پھل فروخت کر دیا گیا، پھر مشتری کے اتارنے سے پہلے ایسی آفت آ گئی جس میں انسان کا عمل دخل نہیں (مثلاً: آندھی، شدید گرمی، خشک سالی، کثرتِ بارش، شدید سردی، ٹڈی دل وغیرہ) اور اتنا پھل ضائع ہو گیا کہ مشتری کچھ حاصل نہ کر سکا، تو مشتری بائع سے قیمت کی واپسی کا مطالبہ کرے گا، کیونکہ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے: "أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِوَضْعِ الجَوَائِحِ”
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانی آفت کے سبب نقصان معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔” [صحیح مسلم، المساقاۃ، باب وضع الجوائح، حدیث 1554 (بعد حدیث 1555)]

◈ اس سے معلوم ہوا کہ ضائع ہونے والا پھل بائع کی ملکیت میں ہے، لہٰذا اس کی قیمت مشتری کے ذمے نہیں۔
✔ اگر سارا پھل تلف ہو تو پوری قیمت واپس ہوگی۔
✔ اگر کچھ تلف ہو تو جس قدر تلف ہوا، اتنی رقم واپس ہوگی، کیونکہ حدیث میں عموم ہے۔

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ”
"تم اپنے بھائی کا مال نا حق کیوں لیتے ہو؟” [صحیح مسلم، المساقاۃ، باب وضع الجوائح، حدیث 1554]

◈ اگر معمولی نقصان ہو تو وہ بائع کی بجائے مشتری کے ذمے ہوگا، کیونکہ یہ عموماً ہوتا رہتا ہے اور عرفاً آفت نہیں کہلاتا (مثلاً: پرندوں کا کھا جانا یا زمین پر گر جانا وغیرہ)۔ بعض علماء نے معمولی نقصان کی حد "تہائی سے کم” مقرر کی ہے، لیکن مناسب و صحیح یہی ہے کہ اس کی کوئی مقرر حد نہ ہو، بلکہ عرف معتبر ہو، کیونکہ تحدید کے لیے دلیل چاہیے جو وارد نہیں۔

◈ بعض علماء کے نزدیک بائع پر ذمہ داری کی وجہ یہ ہے کہ درخت پر لگے پھل پر مشتری کا قبضہ ناقص ہے، گویا قبضہ ہوا ہی نہیں، اس لیے نقصان کا ذمہ دار بھی نہیں۔

◈ اوپر کی صورت آسمانی آفت کی تھی۔ اگر پھل کا ضیاع کسی انسان کے عمل/کوتاہی سے ہو (مثلاً آگ لگانا) تو مشتری کو اختیار ہے:
① بیع فسخ کر کے بائع سے رقم لے، اور بائع نقصان کرنے والے سے معاوضہ مانگے۔
② یا بیع قائم رکھے، اور مشتری خود نقصان کرنے والے سے معاوضہ طلب کرے۔

پھل کے تیار ہونے کی علامتیں

◈ کھجور کے علاوہ دیگر پھلوں میں صلاح/تیاری کی علامت مختلف ہے:

* انگور: پکنے کے لیے تیار ہو کر سیاہ ہو جائیں۔ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت: "أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع العنب حتى يسود”
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوروں کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو جائیں۔” [سنن ابی داؤد، البیوع، باب فی الثمر قبل ان یبدو صلاحہا، حدیث 3371؛ مسند احمد 3/221]

* سیب، تربوز، انار، خوبانی، اخروٹ: پک جانا اور ذائقہ درست ہونا۔ حدیث میں ہے: "أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع العنب حتى يسود”
"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ خوش ذائقہ ہو جائے۔” [صحیح البخاری، البیوع، باب بیع الثمر علی رؤوس النخل بالذھب اوالفضہ، حدیث 2189؛ صحیح مسلم، البیوع، باب النھی عن بیع الثمر قبل بدو صلاحها بغیر شرط القطع، حدیث 1536]

* ککڑیاں: کھانے کے قابل ہو جانا۔

* اناج: دانہ سخت و سفید ہو جانا؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی معیار مقرر فرمایا۔

فروخت شدہ مال سے ملحق اشیاء

◈ یہاں ان اشیاء کا ذکر ہے جو فروخت شدہ شے کے ساتھ ملحق ہوتی ہیں، یعنی ان پر مشتری کا حق ہوتا ہے، الا یہ کہ بائع شرط لگا کر انہیں مستثنیٰ کر دے۔

✔ جس نے غلام یا جانور فروخت کیا تو:

* غلام کی بیع کے ساتھ اس کے جسم کے وہ کپڑے شامل ہوں گے جو عادۃً پہنے جاتے ہیں۔
* جانور کی بیع میں لگام، نکیل، اور اسے لگی ہوئی کھریاں بھی شامل ہوں گی، کیونکہ عرف میں یہ چیزیں شامل سمجھی جاتی ہیں۔
✿ جو چیز عرف میں ملحق نہ ہو اور فروخت شدہ شے کی ضرورت میں سے نہ ہو، وہ شامل نہیں ہوگی، مثلاً: غلام کا مال یا زیب و زینت کے کپڑے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "مَنْ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ”
"جس نے ایسا غلام خریدا جس کے پاس مال ہے تو اس کا مال بائع کے لیے ہوگاالایہ کہ مشتری اس کی شرط کر لے۔” [صحیح البخاری، المساقاۃ، باب الرجل یکون لہ معراً او شرب فی حائط او فی نخل، حدیث 2379؛ صحیح مسلم، البیوع، باب من باع نخلاً علیھا تمر، حدیث 1543]

◈ واضح رہے کہ مال غلام سے زائد چیز ہے، لہٰذا غلام کی بیع میں شامل نہ ہوگا۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کسی کے پاس دو غلام ہوں اور ان میں سے ایک بیچ دے۔ غلام اور مال آقا کا ہوتا ہے، جب غلام بیچا گیا تو مال آقا کے پاس باقی رہے گا۔

✔ اگر مشتری نے بیع میں غلام کے ساتھ مال کی شرط لگا دی تو مال بھی شامل ہوگا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ”
"اگر خریدار شرط لگادے تو درست ہے۔” [صحیح البخاری، حدیث 2379؛ صحیح مسلم، حدیث 1543]

بیعِ سلم کا بیان

◈ بیع سلم کو بیع سلف بھی کہتے ہیں، جس میں قیمت نقد اور شے ادھار ہوتی ہے۔ فقہائے کرام نے اس کی تعریف یوں کی ہے: "موصوف في الذمة مؤجل بثمن مقبوض في مجلس العقد”
"یہ مجلس عقد میں نقد ادا کردہ رقم کے عوض ایک ایسی چیز عقد ہے جس کے اوصاف طے بائع کے ذمہ میں ہے اور مدت معلوم و مقرر ہے۔”

◈ قرآن، سنت اور اجماع کی روشنی میں بیع سلم جائز ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا تَدايَنتُم بِدَينٍ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكتُبوهُ…﴿٢٨٢﴾… سورةالبقرة [البقرۃ: 2/282]
"اے ایمان والو! جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقرر پر قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔”

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے:
"میں شہادت دیتا ہوں کہ بیع سلف (سلم) جس کی ذمے داری ایک مقررہ مدت کے لیے ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے (قرآن مجید میں) حلال قراردیا ہے اور اس کی اجازت دی ہے” پھر وہ (درج بالا) آیت تلاوت کرتے۔ [تفسیر الطبری 3/117، حدیث 4947؛ المستدرک للحاکم 2/314، حدیث 3130]

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہلِ مدینہ دو اور تین سال کی میعاد پر پھلوں کی بیع سلم کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ ، فَفِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ "
"جو شخص کسی سامان میں بیع سلم کرتا ہے تو وہ معین ناپ اور مقرر وزن میں ایک متعین مدت تک کے لیے ‘بیع سلم’ کرے۔” [صحیح البخاری، السلم، باب السلم فی وزن معلوم، حدیث 2240]

◈ اس سے واضح ہوا کہ مذکورہ شرائط کے ساتھ بیع سلم جائز ہے۔ ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے اس کے جواز پر علماء کا اجماع نقل کیا ہے، نیز لوگوں کو اس کی ضرورت بھی پیش آتی ہے، کیونکہ اس میں بائع کو قیمت اور مشتری کو سامان بوقتِ ضرورت مل جاتا ہے۔

بیعِ سلم کی شرائط

① مجلسِ معاہدہ میں مبیع کی تعیین صفات کے ساتھ ہو، تاکہ جنس، نوع اور مقدار واضح ہو جائے، ورنہ اختلاف پیدا ہوگا۔ جن چیزوں کی صفات مختلف فیہ ہوں ان میں سلم جائز نہیں، مثلاً: ترکاریاں، چمڑے، مختلف برتن اور جواہر وغیرہ۔
② شے کی جنس اور نوع بیان ہو، مثلاً: جنس چاول اور قسم "باسمتی”۔
③ شے کا ماپ، وزن اور پیمائش ذکر ہو، جیسا کہ روایت میں آیا۔
④ ادائیگی کی مدت متعین ہو۔ دلیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: "إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ” [صحیح البخاری، حدیث 2240؛ جامع الترمذی، البیوع، باب ما جاء فی السلف فی الطعام والثمر، حدیث 1311]
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا تَدايَنتُم بِدَينٍ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكتُبوهُ…﴿٢٨٢﴾… سورةالبقرة [البقرۃ: 2/282]
⑤ مدتِ ادائیگی میں جنس کا پایا جانا ممکن ہو، تاکہ وقت مقرر پر ادائیگی ہو سکے، ورنہ سلم جائز نہیں؛ مثلاً تازہ انگور کی ادائیگی کا وقت موسمِ سرما مقرر نہ کیا جائے۔
⑥ مجلس میں مقرر قیمت مکمل طور پر نقد ادا کی جائے۔ حدیث میں: "فَلْيُسْلِفْ” یعنی ادائیگی کر دے۔ [صحیح البخاری، حدیث 2240؛ جامع الترمذی، حدیث 1311]
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب تک مشتری مجلسِ عقد میں اٹھنے سے پہلے پوری رقم ادا نہ کرے، اسے سلم نہیں کہا جا سکتا، ورنہ دین کی بیع دین کے ساتھ ہو گی جو ناجائز ہے۔
⑦ مسلم فیہ متعین بالذات نہ ہو بلکہ بائع کے ذمہ ہو؛ اسی وجہ سے متعین گھر یا درخت میں سلم جائز نہیں، کیونکہ متعین چیز ادائیگی سے پہلے تلف ہو سکتی ہے۔
✔ بہتر یہ ہے کہ مسلم فیہ کی ادائیگی محلِ عقد میں ہو، اور اگر ممکن نہ ہو (مثلاً جنگل/سمندر میں عقد ہوا) تو ادائیگی کی جگہ طے کرنا ضروری ہے۔ اختلاف کی صورت میں محلِ عقد ہی جگہ ہوگی، بشرطیکہ وہاں ادائیگی ممکن ہو۔

بیعِ سلم میں قبضہ سے پہلے آگے فروخت کی ممانعت

◈ بیع سلم میں خریدار، سامان وصول کرنے سے پہلے اسے آگے فروخت نہیں کر سکتا، کیونکہ حدیث میں ہے: "لأن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الطعام قبل قبضه”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے والی شے کی بیع کرنے سے اس وقت تک منع فرمایا جب تک وہ قبضہ میں نہ آجائے۔” [المعجم الکبیر للطبرانی 11/12، حدیث 10875]

◈ بیع سلم میں حوالہ جائز نہیں، یعنی فروخت کرنے والا خریدار کو یہ کہے کہ مجھ سے وصول کرنے کے بجائے فلاں سے وصول کر لینا؛ یہ منع ہے، کیونکہ حوالہ ثابت قرض میں ہوتا ہے جبکہ سلم میں فسخ کا امکان ہے۔

وقتِ مقرر پر مسلم فیہ میسر نہ ہو تو حکم

◈ بیع سلم کا ایک حکم یہ ہے کہ اگر وقتِ مقرر پر مسلم فیہ میسر نہ ہو، مثلاً پھل کی ادائیگی تھی مگر اس سال پھل نہ لگا، تو مشتری:

* ایک سال صبر کرے یہاں تک کہ بائع کے پاس پھل آ جائے، پھر مطالبہ کرے، یا
* بیع فسخ کر کے اپنی رقم واپس لے۔
اگر رقم ضائع/خرچ ہو گئی ہو تو اس کے بدل میں رقم ادا کی جائے۔

◈ بیع سلم کی اباحت و جواز شریعت کی طرف سے لوگوں کے لیے سہولت اور خیر و مصلحت ہے، اور یہ بیع سود و ممنوعات سے پاک ہے۔

قرض کے احکام

قرض کے معنی اور حقیقت

◈ قرض کے لغوی معنی "کاٹنے” کے ہیں، کیونکہ قرض دینے والا اپنے مال میں سے کچھ حصہ کاٹ کر مانگنے والے کو دیتا ہے، اس لیے اسے قرض کہتے ہیں۔
◈ قرض کے شرعی معنی: "کسی شخص کو مال دینا تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھائے اور مقرر وقت میں اس کا متبادل لوٹا دے۔”

◈ قرض تعاون اور ہمدردی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے "عطیہ” قرار دیا ہے جسے مقروض فائدہ اٹھا کر قرض خواہ کو واپس کر دیتا ہے۔

قرض دینے کی فضیلت

◈ کسی کو قرض دینا مستحب ہے اور اس میں اجر عظیم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُقْرِضُ مُسْلِمًا قَرْضًا مَرَّتَيْنِ إِلَّا كَانَ كَصَدَقَتِهَا مَرَّةً”
"کوئی مسلمان کسی مسلمان کو دو مرتبہ قرض دیتا ہے تو(اللہ تعالیٰ کے ہاں) وہ ایک بار کے صدقے کے برابر شمار ہوتا ہے۔” [سنن ابن ماجہ، الصدقات، باب القرض، حدیث 2430]

◈ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قرض صدقہ سے بھی افضل ہے کیونکہ قرض ہمیشہ محتاج ہی لیتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے: "مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ”
"جس شخص نے کسی کی دنیاوی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کی تو اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی پریشانیوں میں سے بڑی پریشانی دور کرے گا۔” [صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن ولی الذکر، حدیث 2699]

◈ قرض دینا نیکی ہے، کیونکہ مقصد مسلمان کی تنگی دور کرنا اور حاجت پوری کرنا ہے۔
◈ قرض لینا جائز ہے اور شرعاً مکروہ نہیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قرض لیا تھا۔

قرض کے صحیح ہونے کی شرائط

① قرض وہ شخص دے جو اس مال کو صدقے کے طور پر دینے کی اہلیت رکھتا ہو؛ لہٰذا یتیم کے سرپرست کے لیے جائز نہیں کہ یتیم کے مال میں سے کسی کو قرض دے۔
② قرض کے مال کی مقدار اور صفت معلوم ہو تاکہ مقروض ویسی ہی چیز واپس کر سکے۔
③ قرض مقروض کے ذمہ دین بن جاتا ہے؛ اس پر واجب ہے کہ جب واپسی کی طاقت ہو بلا تاخیر ادا کرے۔

قرض پر مشروط اضافہ سود ہے

◈ قرض خواہ کا مقروض پر یہ شرط عائد کرنا حرام ہے کہ وہ ادائیگی کے وقت اصل قرض سے زیادہ ادا کرے۔ علمائے کرام نے بالاتفاق اسے سود قرار دیا ہے۔
◈ لہٰذا آج کل بینک جو قرض دیتے ہیں، چاہے وہ ذاتی ضرورت کے لیے ہو یا نفع بخش کام کے لیے، مقروض سے زیادہ رقم لینے کی شرط پر دیتے ہیں—یہ سراسر سود ہے۔ شرط بینک کی ہو یا کسی فرد/کمپنی کی، یہ سود ہی ہے چاہے نام کچھ بھی رکھ دیا جائے، مثلاً: منافع (PROFIT)، فائدہ یا ہدیہ وغیرہ۔

حدیث میں ہے: "كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا”
"جو قرض نفع لائے وہ سود ہے۔” [کنز العمال 6/238، حدیث 15516؛ یہ حدیث ضعیف ہے، دیکھئے ارواء الغلیل 5/235-236، حدیث 1398]

سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَى لَهُ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى الدَّابَّةِ فَلَا يَرْكَبْهَا وَلَا يَقْبَلْهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ "
"جب کوئی کسی کو قرض دے تو اس کے بدلے میں اگر مقروض قرض خواہ کوکوئی ہدیہ دے یا اسے جانور پر سوار کرے تو (قرض خواہ) سوار نہ ہو اور ہدیہ قبول نہ کرے الایہ کہ ان دونوں کے درمیان قرض سے پہلے ایسا معاملہ چلتا ہو۔” [سنن ابن ماجہ، الصدقات، باب القرض، حدیث 2432]

حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: "إِذَا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ ، فَأَهْدَى إِلَيْكَ حِمْلَ تِبْنٍ أَوْ حِمْلَ شَعِيرٍ أَوْ حِمْلَ قَتٍّ فَلَا تَأْخُذْهُ ، فَإِنَّهُ رِبًا "
"جب کسی آدمی پر آپ کا حق ہو تو اگر وہ تجھے بھوسے کی ایک گٹھڑی بطور ہدیہ دے تو مت لو کیونکہ وہ سود ہے۔” [صحیح البخاری، مناقب الانصار، باب مناقب عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حدیث 3814]

◈ یہ روایت مرفوع کے حکم میں ہے۔

◈ ان روایات کی روشنی میں قرض خواہ کو چاہیے کہ قرض دینے کے سبب مقروض سے کسی قسم کا ہدیہ یا نفع قبول نہ کرے، کیونکہ ممانعت وارد ہوئی ہے۔ قرض دینے کا مقصد تعاون اور اللہ سے اجر و ثواب لینا ہے۔ اگر کسی نے قرض سے زیادہ وصول کرنے کی شرط لگا دی یا زیادہ لینے کی کوشش/حرص رکھی تو قرض دینے کا مقصد ختم ہو گیا، بلکہ وہ قرض بھی نہ رہا۔

قرض میں نیت اور برکت

◈ ہر مسلمان کو حرام سے بچنا چاہیے۔ قرض دیتے وقت ثواب کی خالص نیت ہو، مقصد مال بڑھانا نہیں بلکہ محتاج کی حاجت پوری کرنا اور واپس لے کر اجر و قرب الٰہی حاصل کرنا ہے۔ اگر یہ مقاصد ہوں تو اللہ قرض خواہ کے مال میں برکت دے گا اور اسے بڑھائے گا۔

◈ واضح رہے کہ قرض کی واپسی کے وقت زیادہ لینا ممنوع ہے جب قرض دیتے وقت شرط رکھی جائے، مثلاً:

* "میں تجھے اس شرط پر قرض دیتا ہوں کہ واپسی پر اتنی رقم زیادہ دینی ہوگی”
* یا "قرض واپس کرنے تک اپنا گھر رہائش کے لیے مجھے دینا ہوگا”
* یا "دوکان دینا ہوگی”
* یا "فلاں چیز ہدیہ دینا ہوگی”
* یا ایسی شرط جو زبان سے نہ کہی جائے مگر دل میں خواہش/حرص رکھی جائے
یہ سب حرام ہیں۔

ادائیگی میں اچھا سلوک (حسنِ قضاء)

✔ اگر مقروض محض جذبۂ احسان و تشکر کے طور پر اپنی طرف سے قرض سے زیادہ لوٹائے تو کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ حسنِ ادائیگی میں شامل ہے، کیونکہ روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ ادھار خریدا اور ادائیگی بہتر اونٹ سے کی، اور فرمایا: "خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً”
"تم میں سے بہتر وہ ہے جو سب سے اچھی ادائیگی کرے۔” [صحیح البخاری، الاستقراض، باب استقراض الابل، حدیث 2390؛ صحیح مسلم، المساقاۃ، جواز اقتراض الحیوان، حدیث (122) 1600]

◈ یہ عمل عرفاً و شرعاً اچھے اخلاق میں شمار ہوتا ہے، اور سود نہیں، کیونکہ قرض خواہ کی طرف سے شرط نہیں تھی اور نہ یہ بات پہلے طے تھی، بلکہ مقروض نے خوش دلی سے دیا۔

✔ اسی طرح اگر مقروض قرض لینے سے پہلے قرض خواہ کو تحفہ دیتا یا نفع مہیا کرتا ہو تو قرض دینے کے بعد بھی قرض خواہ حسب معمول قبول کر سکتا ہے، اس میں ممانعت نہیں۔

قرض کی واپسی میں تاخیر کی مذمت

◈ مقروض پر لازم ہے کہ استطاعت کے وقت قرض خواہ کو اچھے طریقے سے قرض لوٹائے اور ٹال مٹول نہ کرے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿هَل جَزاءُ الإِحسـٰنِ إِلَّا الإِحسـٰنُ ﴿٦٠﴾… سورة الرحمٰن [الرحمٰن: 55/60]
"احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے۔”

◈ بعض لوگ حقوق العباد میں عموماً اور قرض کے معاملہ میں خصوصاً سستی و کوتاہی کرتے ہیں، یہ نہایت مذموم خصلت ہے۔ نتیجہ یہ کہ بہت سے لوگ قرض دینے سے کتراتے ہیں، اور محتاجوں کے ساتھ وسعت ظرفی سے پیش نہیں آتے۔ جب قرض حسنہ دینے والا نہ ملے تو لوگ سودی بینکوں کا رخ کرتے ہیں اور حرام لین دین میں مبتلا ہو جاتے ہیں، کیونکہ ضرورت مند کو قرض دینے والا نہیں ملتا اور قرض دینے والے کو اچھا واپس کرنے والا قرض دار نہیں ملتا، یوں حسنِ سلوک کا رواج کم ہو جاتا ہے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب