مضمون کے اہم نکات
بیس رکعت تراویح پر صحابہ کا اجماع
مفتی شبیر احمد صاحب قاسمی کی پہلی دلیل:

موطا امام مالک اور سنن کبری کے حوالے سے یہ روایت اکثر مقلدین پیش کرتے ہیں حالانکہ یہ روایت اس لائق ہے ہی نہیں کہ اس کو پیش کیا جائے کیونکہ اس کے بیان کرنے والے یزید بن رومان، صغار تابعین میں سے ہیں، انہوں نے حضرت عمر کا زمانہ پایا ہی نہیں، جب وہ اس زمانہ میں تھے ہی نہیں تو آخر اس زمانہ کے متعلق بیان کیسے کر سکتے ہیں؟ ظاہر ہے انہوں نے یہ بات کسی اور سے سنی ہوگی اور یہ کون شخص تھا جس سے انہوں نے یہ بات سنی پتہ نہیں اور یہ مجہول ہے۔
مقام غور:
ایک طرف تو یہ اثر ہے جس میں یزید بن رومان جو خود زمانہ عمر فاروق میں موجود نہیں تھے مجہول الذات والصفات راویوں سے ایک ایسی بات نقل کرتے ہیں جو صحیح حدیث کے خلاف ہے اور خود علماء احناف کو اس کے منقطع غیر متصل ہونے کا اعتراف ہے چنانچہ نصب الرایہ فی تخریج احادیث الھدایہ میں علامہ زیلعی نے اور علامہ عینی نے عمدة القاری شرح بخاری میں اس کا اعتراف کیا ہے اسی طرح دیگر علماء احناف کو بھی اس کا اعتراف ہے چنانچہ علامہ عینی فرماتے ہیں۔
قال البيهقي: والثلاث هو الوترو يزيد لم يدرك عمر ففيه انقطاع
یعنی اس روایت میں بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر کا ذکر ہے لیکن یزید بن رومان نے حضرت عمر کا زمانہ نہیں پایا لہذا یہ اثر منقطع السند ہے۔
عمدة القاری، شرح البخاری کتاب الاذان باب صلاة اللیل
ایک طرف یہ اثر ہے دوسری طرف اسی موطا کی ایک دوسری روایت ہے جو صحیح اور متصل السند ہے چنانچہ امام مالک فرماتے ہیں:
عن محمد بن يوسف عن السائب بن يزيد انه قال: امر عمر بن الخطاب ابي بن كعب وتميما الداري ان يقوما للناس باحدي عشرة ركعة قال: وقد كان القاري يقرأ بالمثاني حتي كنا نعتمد على العصى من طول القيام وما كنا ننصرف الا فى فروع الفجر.
(الموطا: باب ما جاء فی صیام رمضان)
سائب بن یزید فرماتے ہیں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ لوگوں کو گیارہ رکعت پڑھائیں۔
وہ کہتے ہیں: قاری لمبی لمبی سورتیں پڑھتا تھا (ایک رکعت میں سو آیتیں پڑھتا) طول قیام کے سبب ہم لاٹھیوں پر ٹیک لگانے پر مجبور ہوتے اور ہم تراویح کی نماز سے فارغ فجر سے کچھ پہلے ہی ہوتے تھے۔
اس سے صاف ظاہر ہے کہ قاسمی صاحب کی یہ دلیل محض ناکارہ اور بے کار ہے اس سے استدلال کرنے کا مطلب اس کے علاوہ اور کیا ہے کہ ان کے پاس اپنے دعوی کو ثابت کرنے کے لئے کوئی قابل استدلال دلیل موجود نہیں ہے۔
② مفتی صاحب کی دوسری دلیل:

یہ روایت جو مفتی صاحب نے نقل فرمائی ہے کاش آپ بیہقی کی سند بھی نقل فرما دیتے مگر ایسا انہوں نے نہیں کیا۔ اور حضرت سائب بن یزید سے روایت نقل کر دی۔
آخر ایسا کیوں؟
تو یہ اس لئے کہ حضرت سائب بن یزید کی روایت جو صحیح ہے اس میں صرف گیارہ رکعت کا ذکر ہے جس کو ہم نے موطا کے حوالے سے نقل کیا ہے اور دلیل نمبر ایک کے جواب میں گزری ہے۔
مفتی صاحب نے انہی سائب بن یزید سے بیس رکعت کی روایت نقل کر دی تا کہ کم پڑھے لکھے لوگ کنفیوز ہو جائیں اور کوئی فیصلہ نہ کر پائیں۔ اور مفتی صاحب اپنی چال میں کامیاب ہو جائیں، نیز اس لئے کہ پوری سند جو بیہقی نے نقل کی ہے اگر ذکر کر دی گئی تو ساری پول کھل جائے گی جس سے بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا۔ لیکن جب تک اس دنیا میں اہل حدیث کا وجود ہے وہ غیر اہل حدیث حضرات کی تقلید کے لئے کی گئی جعل سازیوں کا بھانڈا پھوڑتے رہیں گے۔ تو آئیے یہ فریضہ آج ہم انجام دیتے ہیں۔
امام بیہقی نے اس روایت کی سند یوں نقل کی ہے:
وقد اخبرنا ابو عبدالله الحسين بن محمد بن الحسين بن فنجويه الدينوري بالدامغان حدثنا احمد بن محمد بن اسحاق السني اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البغوي حدثنا على بن جعفر اخبرنا ابن ابي ذئب عن يزيد بن خصيفة عن السائب بن يزيد قال كانوا الخ.
(باب ماروی فی عدد رکعات القیام فی شھر رمضان)
ناظرین کرام!
سند میں ایک راوی حسین بن محمد بن حسن بن فنجویہ الدینوری ہے۔
مشہور ناقد حدیث امام ذہبی اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
قال شيرويه فى تاريخه كان ثقة صدوقا كثيرا الرواية للمناكير.
صاحب الفردوس الدیلمی امام شیرویہ بن شہردار بن شیرویہ نے کہا:
ابن فنجویہ ثقہ صدوق ہے، کثرت سے منکر روایات بیان کرتا ہے۔
(دیکھئیے سیر اعلام النبلاء 384/7)
دوسرا راوی اس حدیث میں یزید بن خصیفہ ہے جس کے بارے میں مشہور محدث امام آجری فرماتے ہیں اس کو امام احمد بن حنبل نے منکر الحدیث قرار دیا ہے۔ امام احمد کے اس فیصلہ سے امام ذہبی بھی متفق ہیں چنانچہ وہ اپنی کتاب (الکاشف 6326) میں امام احمد کی جرح کو نقل فرما کر سکوت فرماتے ہیں۔
یزید بن خصیفہ کے بارے میں مشاہیر علماء الامصار کے مصنف فرماتے ہیں: وكان يهم كثيرا اذا حدث من حفظه
یعنی جب اپنے حافظہ پر اعتماد کر کے حدیث بیان کرتے ہیں تو ان کو وہم بہت ہوتا ہے۔
مندرجہ بالا بیان سے صاف ظاہر ہے کہ یہ روایت قابل استدلال نہیں اولاً تو اس لئے کیونکہ اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں، دوم اس لئے کہ یہ صحیح روایت کے خلاف ہے، سوم اس لئے کہ یہ حضرت عائشہ وحضرت جابر وغیرہ صحابہ کرام کی صحیح روایات کے خلاف ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام اللیل کی نماز کا بیان فرماتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف حکم دیں یہ مان لینا ان کے مقام و مرتبہ کے سراسر خلاف ہے اور جن روایات میں بیان ہے کہ انہوں نے گیارہ رکعت ہی کا حکم دیا تھا وہ سند و متن دونوں اعتبار سے نیز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے زیادہ مستحق ہیں اس بات کی کہ ان روایات کو تسلیم کیا جائے اور ان متکلم فیہ روایات کو مسترد کر دیا جائے۔
③ مفتی صاحب کی تیسری دلیل
جواب:
مفتی صاحب ذرا اس اثر کی سند تو نقل فرمائیں لیکن کہاں سے نقل کریں خود علامہ بیہقی نے اس کی سند نقل نہیں فرمائی اور ظاہر ہے حضرت عمر بن شکل اصحاب علی سے ہیں اور حضرت امام بیہقی کے اور ان کے درمیان کئی واسطوں کا فاصلہ ہے۔ درمیان کے لوگ کون ہیں کچھ پتہ نہیں۔
امام بیہقی نے اس کو ”وروینا“ کہہ کر ذکر کر دیا ہے یعنی ہم سے روایت کیا گیا، کس نے روایت کیا اور اس کو کس نے بتایا؟ اس کی کوئی تفصیل موجود نہیں، ایسی روایت سے استدلال مفتی صاحب کیا بھول گئے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کے مسئلہ میں آپ نے کیا لکھا تھا۔
اور طاؤس بن کیسان کا اثر جو حدیث مرفوع نہیں ہے اور طاؤس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کون کون سے راوی ہیں ان کا کوئی نام ونشان نہیں ہے۔ اس طرح متکلم فیہ روایات کے ذریعہ سے سینہ پر ہاتھ باندھنے کا اصرار اور نہ باندھنے والوں پر تنقید و الزامات عائد کرنا کون سی انصاف کی بات ہے۔
زیر ناف ہاتھ الخ۔
کیوں مفتی صاحب کیا عمر بن شکل کا یہ اثر حدیث مرفوع ہے۔ اور کیا آپ بتا سکتے ہیں عمر بن شکل اور امام بیہقی کے درمیان کون کون سے راوی ہیں۔ کیا ان کے نام و نشان آپ بتا سکتے ہیں اس طرح متکلم فیہ آثار منقطع غیر مرفوع احادیث سے بیس رکعت تراویح پر اصرار اور گیارہ نہ پڑھنے والوں پر تنقید و الزامات عائد کرنا کہاں کی انصاف پسندی ہے۔
آپ ہی اپنے ذرا قول و عمل کو دیکھیں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
ایک اور بات از راہ اشارہ لکھنا چاہتا ہوں، مفتی صاحب اور ان کے ہم نوا ذرا غور سے پڑھیں اور اس پر توجہ دیں، مفتی صاحب سوال یہاں یہ نہیں ہے کہ بیس رکعت کسی نے پڑھی ہے یا نہیں پڑھی ہے، پڑھنے والوں نے مختلف اوقات میں مختلف رکعات پڑھی ہیں۔ جو مسئلہ ہمارے اور آپ کے درمیان مابہ النزاع ہے وہ یہ ہے ہی نہیں کہ کسی نے بیس رکعت پڑھی ہیں یا نہیں۔ مسئلہ تو یہ ہے کہ تراویح کی وہ تعداد کتنی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا فرمائی تھی، کیا بیس رکعت تراویح سنت رسول ہے اور کیا خلفاء راشدین نے بیس رکعت پڑھانے کا حکم دیا؟
اور ظاہر ہے کسی صحیح سند سے یہ ثابت نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رکعت تراویح پڑھیں، یا آپ نے بیس کا حکم دیا، یا آپ کے زمانہ میں صحابہ نے بیس رکعت پڑھیں۔
اسی طرح یہ بھی ثابت نہیں کہ خلفاء راشدین میں سے کسی نے بیس کا حکم دیا، اس باب میں جو کچھ مروی ہے وہ یا تو صریح نہیں یا صریح ہے تو صحیح نہیں۔ اور آپ اور آپ کے ہمنوا ہیں کہ سیدھی سچی بات نہ کر کے عام مسلمانوں کو کنفیوز کرتے رہتے ہیں۔
سوال یہ ہے ہی نہیں کہ کسی زمانہ میں کس نے کتنی پڑھیں، سوال تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعت ادا فرمائیں۔
اور اس سے آپ حضرات کتراتے دامن بچاتے اور خلفاء راشدین کے متعلق مروی ضعیف آثار اور متکلم فیہ روایات پیش کر کے خوش ہونے اور لوگوں کو دھوکہ دے کر بغلیں بجانے کو اپنی فتح سمجھ بیٹھے ہیں۔ بقول کے:
بے سروپا ہے خطیب شہر کا رنگیں بیان
چند بے بنیاد باتوں پر اسے اصرار ہے
④ مفتی صاحب کی چوتھی دلیل:
جواب:
مفتی صاحب نے اس اثر کی سند نقل نہیں فرمائی آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں اس کی سند یوں ہے:
اخبرنا ابوالحسين بن الفضل القطان ببغداد اخبرنا محمد بن احمد بن عيسي بن عبدك الرازي حدثنا ابو عامر عمرو بن تميم حدثنا احمد بن عبدالله بن يونس حدثنا حماد بن شعيب عن عطاء بن السائب.
(دیکھئیے بیہقی کتاب الصلاة ما روی فی عدد رکعات القیام فی شهر رمضان۔ 4804)
ناظرین کرام!
یہ روایت قابل استدلال نہیں کیونکہ اس کی سند میں حماد بن شعیب المانی الکوفی ہے جس کو ناقدین حدیث نے ضعیف قرار دیا ہے۔ چنانچہ صاحب میزان الاعتدال فرماتے ہیں:
ضعفه ابن معين وغيره وقال يحيي مرة: لا يكتب حديثه وقال البخاري: فيه نظر وقال النسائي: ضعيف وقال ابن عدي اكثر حديثه مما لا يتابع عليه. وقال ابوحاتم، ليس بالقوي.
(میزان الاعتدال 2254)
حضرت امام یحیی بن معین نے اس کو ضعیف قرار دیا اور بھی وہ کہتے تھے: اس کے احادیث لکھنے کے لائق نہیں۔ امام بخاری فرماتے ہیں ”فیہ نظر“ یعنی قابل احتجاج نہیں۔
امام نسائی اس کو ضعیف فرماتے ہیں اور امام ابن عدی کہتے ہیں: اس کی اکثر احادیث ایسی ہیں کہ دوسرے اس کی متابعت نہیں کرتے۔ امام ابو حاتم فرماتے ہیں: یہ قوی نہیں ہے۔
صرف اتنا ہی نہیں کہ متقدمین نے اس کو ضعیف نا قابل اعتبار قرار دیا بلکہ خود دیوبندی حلقے کے مشہور عالم علامہ نیموی فرماتے ہیں
حماد بن شعیب ضعیف۔ یعنی حماد بن شعیب ضعیف ہے۔ دیکھئیے آثار السنن مع التعليق الحسن
اب ایسے اثر سے مفتی صاحب کا دعوی کیسے ثابت ہو سکتا ہے۔
⑤ مفتی صاحب کی پانچویں دلیل:
جواب:
مفتی صاحب نے اس کی سند نقل نہیں فرمائی۔
سند اس کی یوں ہے:
اخبرنا ابوعبدالله بن فنجويه الدينوري حدثنا احمد بن محمد بن اسحاق السني حدثنا احمد بن عبدالله بن البزار، حدثنا سعدان بن يزيد حدثنا حكم بن مروان السلمي انباء الحسن بن صالح عن ابي سعيد البقال عن ابي الحسناء ان علي.
اس اثر میں ابوسعید بقال انتہائی درجہ ضعیف راوی ہیں چونکہ مدلس بھی ہیں اور عن سے روایت کر رہے ہیں لہذا قابل قبول نہیں، امام ذہبی نے ان کے بارے میں کہا: میرے علم میں نہیں کسی نے اس کی توثیق کی ہو۔
امام نسائی نے اس کو ضعیف قرار دیا۔
اس اثر میں ابوالحسناء نامی راوی کا حضرت علی سے لقا ثابت نہیں لہذا یہ روایت منقطع السند اور نا قابل استدلال ہے۔
⑥ مفتی صاحب کی چھٹی دلیل:

مصنف ابن ابی شیبہ کے حوالے سے بیان کی ہوئی یہ روایت بھی ضعیف ہے کیونکہ منقطع السند ہے۔
عبد العزیز بن رفیع کا لقاء ابی بن کعب سے نہیں ہے۔
کیونکہ ابی بن کعب کی وفات 19ھ یا 33ھ ہے اور عبد العزیز بن رفیع کی وفات 130ھ ہے اور کسی نے بھی اس بات کی تصریح نہیں کہ انہوں نے ابی بن کعب سے روایت لی ہے۔ ان کی ساری روایات صغار صحابہ و کبار تابعین سے ہیں۔
(دیکھئیے تہذیب التہذیب و تہذیب الکمال)
⑦ مفتی صاحب کی ساتویں دلیل:
جواب:
مفتی صاحب نے سند نہیں لکھی لیکن ہم بتاتے ہیں کہ مصنف ابن ابی شیبہ کی یہ روایت سخت ضعیف نا قابل اعتبار اور مردود ہے۔ کیونکہ اس کا ایک راوی حارث، رافضی کذاب اور جھوٹا ہے۔
لیکن مفتی صاحب کی معصومیت دیکھئیے ایسے کذاب جھوٹے اور رافضی کو حضرت حارث لکھ کر وہ عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں کہ یہ کوئی بڑے پائے کے محدث اور فقیہ ہیں حالانکہ۔
تقريب التهذيب میں اس کو بد عقیدہ رافضی اور حدیث میں ضعیف کہا ہے اور اس قول کو امام شعبی سے نقل فرمایا ہے۔
امام ذہبی رحمہ اللہ نے سیر اعلام النبلاء میں (153/4) مشہور محدث علی ابن المدینی اور ابو خیثمہ سے نقل فرمایا کہ حارث بہت بڑا جھوٹا ہے۔
افسوس ہے مفتی صاحب صحیح احادیث کے مقابلے اب جھوٹوں کی روایات پیش کرتے ہیں۔
⑧ مفتی صاحب کی آٹھویں دلیل:
جواب:
مفتی صاحب نے سند نقل نہیں فرمائی۔ ابن ابی شیبہ نے سند یوں نقل کی ہے:
حدثنا ابن نمیر عن عبد الملک عن عطاء۔
ایک لطیفہ:
مفتی صاحب نے عطاء کی تعیین کرتے ہوئے ترجمہ میں فرمایا عطاء بن ابی رومہ فرماتے ہیں۔
حالانکہ عطاء بن ابی رومہ رواۃ حدیث میں کوئی شخصیت نہیں، مفتی صاحب نے اس کو کہاں سے نکالا ہے وہی جانتے ہوں گے، عطاء سے مراد یہاں محدثین کے نزدیک عطاء بن ابی رباح ہیں جو اکثر مرسل روایات بیان کرتے ہیں۔
مشہور ناقد حدیث یحیی بن سعید القطان ان کے متعلق فرماتے ہیں:
كان عطاء ياخذ عن كل ضرب
عطاء حدیث لینے میں محتاط نہیں تھے ہر قسم کے لوگوں سے روایت لے لیا کرتے تھے۔
اسی طرح امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ليس فى المرسلات شيء اضعف من مرسلات الحسن وعطاء بن ابي رباح فانما كان ياخذان عن كل احد
مرسل روایات میں حسن بصری اور عطاء بن ابی رباح کی مرسلات سے زیادہ ضعیف کسی دوسرے محدث کی روایات نہیں، وجہ یہ ہے کہ یہ حضرات ہر ایک سے روایت لے لیا کرتے تھے۔
پھر مفتی صاحب تابعین کے ان اقوال سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیس رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے، یا یہ کہ بعد میں لوگوں نے بیس رکعت تراویح پڑھی ہیں، ظاہر ہے کہ پہلی بات تو اس سے ثابت نہیں ہوتی اور دوسری بات سے چنداں بحث نہیں کیونکہ بعد میں لوگوں نے بیس ہی نہیں الگ الگ تعداد میں تراویح پڑھی ہیں۔ جن میں مشہور اقوال آٹھ ہیں۔ اور ظاہر ہے اس بات سے کوئی بحث نہیں کہ بعد میں کتنی رکعت پڑھی گئی، سوال تو ہے کہ سنت رسول کیا ہے آٹھ یا بیس، اور جو آثار آپ نقل فرمارہے ہیں ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رکعت پڑھی ہیں۔ اور جب یہ ثابت نہیں ہوتا تو آپ کا دعوی باطل۔
⑨ مفتی صاحب کی نویں دلیل:

حدثنا الفضل بن دكين عن سعيد بن عبيد.
جواب:
مفتی صاحب نے اس اثر میں بھی ایک تابعی سے جو تابعین کے تیسرے طبقہ کے آدمی ہیں ان سے نقل کیا ہے کہ وہ رمضان میں بیس رکعت پڑھاتے تھے۔
سوال یہ ہے ہی نہیں کہ بعد میں لوگ کتنی رکعت پڑھتے تھے، سوال تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتنی رکعت پڑھتے تھے۔ اور ظاہر ہے کہ اس اثر سے یہ ثابت ہوتا نہیں تو آپ کا دعوی ثابت نہیں۔
یہ کہنا فضول ہوگا کہ یہ حضرات جتنی رکعات پڑھتے تھے انہوں نے رسول سے کوئی سند پائی ہوگی۔ تبھی ایسا کرتے ہوں گے کیونکہ اگر کوئی سند ان کے پاس ہوتی تو ضرور بیان کرتے حالانکہ انہوں نے کوئی سند ذکر نہیں کی۔
⑩ دسویں دلیل :
حدثنا وكيع عن مالك بن انس عن يحيي بن سعيد.

جواب:
مفتی صاحب کی یہ دسویں دلیل ہے اس حدیث کے رواۃ ثقہ ہیں مگر افسوس یحیی بن سعید الانصاری نے حضرت عمر کا زمانہ نہیں پایا، ایسے میں ان کا یہ کہنا کہ حضرت عمر نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ ہم کو بیس رکعت پڑھائے ظاہر ہے درست نہیں، انہوں نے یہ بات کس سے سنی خود وہ تو حضرت عمر کے زمانہ میں تھے نہیں، ظاہر ہے انہوں نے یہ بات کسی اور سے سنی ہوگی اور وہ کون ہے یہ پتہ نہیں، تو ظاہر ہے کہ یہ سند منقطع ہے اس لئے اس بحث میں قابل استدلال نہیں ہے۔
یاد رہے یہ بات کہ یحیی بن سعید الانصاری نے حضرت عمر کا زمانہ نہیں پایا ہم کسی تعصب کی بنیاد پر نہیں کہہ رہے بلکہ یہ تو وہ حقیقت ہے جس کا اعتراف خود علماء دیوبند کو ہے چنانچہ علامہ نیموی اپنی کتاب آثار السنن میں کہتے ہیں:
رجاله ثقات – لكن يحيي بن سعيد الانصاري لم يدرك عمر
(آثار السنن 55/2)
اس حدیث کے رجال ثقہ ہیں لیکن یحیی بن سعید الانصاری نے حضرت عمر کا زمانہ نہیں پایا۔
پھر ایک بات اور بھی پیش نظر رہے ایک طرف تو یہ اثر ہے جو منقطع السند ہے اور دوسری طرف وہ حدیث ہے جس کو امام مالک نے موطا میں بسند صحیح نقل فرمایا ہے کہ حضرت عمر نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو گیارہ رکعت پڑھانے کا حکم دیا تھا۔
ایسے میں صحیح حدیث کے ہوتے منقطع السند حدیث کو کیسے تسلیم کیا جائے۔
پھر یہ بھی یاد رہے کہ یحیی بن سعید بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول فعل یا تقریر نقل نہیں فرمارہے ہیں بلکہ وہ حضرت عمر کے زمانہ کی بات کر رہے ہیں۔ اور حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ کی بات خارج از بحث ہے۔
مفتی صاحب شبیر احمد قاسمی کے بے بنیاد مگر بلند بانگ دعوے
قاسمی صاحب لکھتے ہیں:
بیس رکعت تراویح کے بارے میں خلفاء راشدین اور جمہور صحابہ کا عمل آپ کے سامنے آچکا ہے۔ اب کسی کی ہمت ہے کہ خلفاء راشدین اور اجلہ صحابہ کی مخالفت کر کے یوں کہے کہ بیس رکعت تراویح کا ثبوت نہیں ہے۔
قاسمی صاحب کی سادگی پر کہنے کو جی چاہتا ہے کہ
اس سادگی یہ کون نا مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
خلفاء راشدین اور جمہور صحابہ کا عمل جن دلیلوں سے آپ نے فراہم کیا ہے وہ سب کے سامنے آچکا ہے اور یہ بات بھی کہ حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کو آپ شاید خلفاء راشدین میں شامل نہیں کرتے کیونکہ ان کا تو آپ نے کوئی قول فعل یا تقریر نقل فرمائی نہیں، پھر جن خلفاء کی طرف آپ نے بیس کا عمل منسوب کیا ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ عمل اللہ کے رسول کا تھا۔ حضرت عمر اور ان کے زمانہ سے متعلق جو کچھ آپ نے نقل کیا وہ کمزور اور ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جو صحیح حدیث سے ثابت ہے اس کے خلاف ہے اب بتائیے کیا اسی کا نام ثبوت ہے۔
آپ کے اور ہمارے درمیان جو مسئلہ زیر بحث ہے وہ یہ نہیں ہے کہ کسی نے تراویح بیس رکعت پڑھی ہیں یا نہیں، ہم کو یہ تسلیم ہے کہ تراویح کے نام سے امت میں مختلف اوقات میں مختلف رکعات پر عمل رہا ہے۔
خود علماء احناف کے سرخیل شارح بخاری علامہ عینی اپنی مشہور شرح عمدة القاری شرح صحیح البخاری۔ صلاة التراویح ”فضل من قام رمضان “میں یوں لکھتے ہیں:
وقد اختلف العلماء فى العدد المستحب – فى قيام رمضان على اقوال كثيرة.
قیام رمضان میں مستحب عدد کیا ہے اس بارے میں علماء کے بہت اقوال ہیں۔ اور پھر آپ نے گیارہ اقوال نقل فرمائے۔ تفصیل اس کی یہ ہے:
① 47 رکعت الاسود بن یزید سے مروی
② 38 رکعت امام مالک سے مروی
③ 41 رکعت اہل مدینہ کا قول
④ 39 رکعت اہل مدینہ کا عمل عمر بن عبد العزیز کی خلافت میں
⑤ 34 رکعت زرارہ بن اونی آخری عشرہ میں
⑥ 28 رکعت ایک سے بیس رمضان تک
⑦ 24 رکعت سعید بن جبیر
⑧ 20 رکعت اکثر اہل علم
⑨ 16رکعت ابومجلز
⑩ 13 رکعت محمد بن اسحق
⑪ 11 رکعت امام مالک نے اپنے لیے اختیار کیا۔ نیز امام ابوبکر ابن العربی نے بھی۔
امت نے مختلف اوقات میں مختلف رکعات ادا فرمائیں، یہ خود آپ کے تمام علماء کو (باستثناء متعصبین چند) اقرار ہے اور آپ بھی اس سے بخوبی واقف ہیں پھر یہ دعوی کرنا کہ یہ خلفاء راشدین اور جمہور صحابہ کا اجماعی عمل ہے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔
یہ گیارہ اقوال جو ہم نے شارح بخاری علامہ عینی حنفی سے نقل کیے ہیں یہ اقوال اکثر صحابہ کرام کے زمانہ کے بعد کے اقوال ہیں جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اجماع کا دعوی کرنا باطل اور فراڈ ہے اب آپ کا یہ کہنا کہ اجلہ صحابہ اور خلفاء راشدین کی مخالفت کرنے کی ہمت کون کرے گا۔ میں سے کم یا زیادہ پڑھنے کو خلفاء راشدین کی مخالفت، صحابہ کرام کی مخالفت قرار دینا وہ شرارت ہے جو باعث فتنہ ہے اور جو ہمارے مخاطب مفتی صاحب کا محبوب مشغلہ ہے۔ مفتی صاحب ہمیشہ مختلف آواز کو مخالف آواز قرار دے کر فتنہ کی تخم ریزی کرتے رہتے ہیں۔ میں مفتی صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ ان دس اقوال کو جو علامہ عینی نے لکھے ہیں، مخالف صحابہ و خلفاء راشدین وسواد امت قرار دیں گے۔
کیا آپ امام مالک رحمہ اللہ اہل مدینہ، زرارہ بن اونی سعید بن جبیر، ابو علی محمد بن الحق، ابوبکر ابن العربی کو صحابہ کرام و خلفاء راشدین کا مخالف قرار دیں گے۔ امت نے جس طرح بیس رکعت پڑھی ہیں اسی طرح گیارہ سے زائد اور کم بھی پڑھی ہیں۔ جس طرح بیس کا عمل رسول کے علاوہ دوسروں کا ہے اسی طرح گیارہ سے زیادہ پڑھنے والوں کا عمل بھی دوسروں کا عمل ہے۔ رسول نے جتنی رکعت پڑھیں اتنی آپ بھی نہیں پڑھتے۔ اور دوسرے لوگ بھی نہیں پڑھتے پھر آپ درست ہوں اور دوسرے غلط یہ کہاں کا انصاف ہے۔ اس سے بھی زیادہ نا انصافی تو آپ کی یہ ہے کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بطریق صحیح صریح مرفوع ثابت رکعات ادا کرے اس کو آپ لعن طعن کریں صحابہ کرام کا مخالف اور خلفاء راشدین کی توہین کرنے والا قرار دیں۔
اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیق اکبر کے زمانوں کے عمل پر عمل نہ کر کے رسول کی سنت کو چھوڑ کر صدیق اکبر کے زمانے کے عمل کو ترک کر کے جب کہ تمام صحابہ کرام آٹھ رکعت ہی پڑھا کرتے تھے پکے سننی بننے کی ایکٹنگ کر رہے ہیں صحابہ کرام کی مخالفت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت تو آپ کر رہے ہیں کہ زمانہ رسول کا عمل اور صدیق اکبر کے دور کا عمل جبکہ تمام صحابہ کرام متفق طور پر ایک ہی تعداد پر عمل کرتے تھے اس کو آپ نے چھوڑ دیا اور بعد کا عمل اختیار کر لیا۔ اور یہ بعد کا عمل بھی آپ نے صحابہ کرام کی محبت یا ان کے احترام میں نہیں بلکہ صرف اس لیے اختیار کر لیا ہے کیونکہ آپ جس امام کی تقلید کرتے ہیں اس کا فرمان یہی ہے، آپ صحابہ کرام کی اقتداء کرتے ہوئے نہیں بلکہ امام کی بات مانتے ہوئے ہیں پر عامل ہیں، اگر خدانخواستہ امام صاحب نے گیارہ کا قول اختیار نہ فرمایا ہوتا تو آپ ہزار تاویل کر کے امام صاحب کی بات کو صحیح اور ہمیں کو غلط قرار دیتے۔
آپ نے یہ کیا لکھا:
”اجلہ صحابہ کی مخالفت کر کے یوں کہے کہ بیس رکعت کا ثبوت نہیں ہے۔ “
محترم!
کس نے انکار کیا ہے کہ امت میں کسی نے بیس رکعت تراویح نہیں پڑھیں۔ انکار اس بات کا کرتے ہیں کہ بیس رکعت تراویح کا ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث سے نہیں ہے۔ اور اس میں کیا شک ہے آپ نے جو ثبوت فراہم کیے قطع نظر ان کی صحت کے وہ رسول کے سوا دیگر لوگوں کے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بھی ثبوت صحیح حدیث سے نا آپ نے پیش کیا اور نا پیش کر سکتے ہیں۔ محترم! نا تمام صحابہ اور نا سواد اعظم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بیس رکعت سنت رسول ہے، زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہو کہ بیس رکعت پڑھنا بھی جائز ہے اور بس ائمہ اربعہ سے بیس کا دعوی بھی باطل ہے جس کو ہم آئندہ ثابت کریں گے، ہم پھر کہتے ہیں بیس رکعت کا سنت رسول ہونا دلیل کا محتاج ہے اور کوئی دلیل بیس پڑھنے والوں کے پاس اس بات کی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رکعت تراویح پڑھی ہیں۔
جو یہ کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیس رکعت کا ثبوت ہے اور گیارہ رکعت پر اجماع ہو گیا اس کو شاید اللہ کا ڈر نہیں ہے۔




