مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بیرون ممالک سیر و سیاحت کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

بیرون ممالک سیر وسیاحت کی نیت سے جانا اور ﴿سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ﴾ کے تحت ان ممالک کی سیر کرنا کیسا ہے؟ حالانکہ وہاں کا ماحول اسلام کے بالکل خلاف ہے، جیسا کہ انڈونیشیا، ملائیشیا، ہانگ کانگ اور بینکاک وغیرہ۔

جواب :

آج کل نوجوان نسل خصوصاً اور باقی افراد عموماً کتاب وسنت سے کوسوں دور ہیں۔ ان پر کفار ومشرکین کی عادات و رسومات کا غلبہ ہے اور اسلام کے عقائد و اعمال سے یہ یکسر بے خبر ہیں۔ ایسے افراد کا بلاد کفر میں سیر و سیاحت کے لیے جانا ان کے باقی ماندہ اسلام کو بھی خیر آباد کہنے کے مترادف ہے۔ ایسے حضرات کو بلاد کفر میں سیر و سیاحت اور تجارت کے لیے نہیں جانا چاہیے۔ انبیاء ورسل علیہم السلام کے طریقہ کار کے مطابق اگر وہاں جا کر دعوت و تبلیغ کرنی ہو، یا وہ شخص اپنے اسلام پر پختہ رہ سکتا ہو، یا اسلام کا سفیر اور نمائندہ بن کر جائے تو پھر گنجائش موجود ہے اور اس پر مفصل مضمون مجلہ الدعوۃ میں پہلے طبع ہو چکا ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔