بہن بھائیوں کو زکوٰۃ دینے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔

والد کی وفات کے بعد بہن بھائیوں کو زکوۃ دے سکتا ہوں

سوال :۔

کیا میرے لئے زکوۃ اور صدقہ فطر کا مال اپنے ان بہن بھائیوں کو دینا جائز ہے جو ابھی کماتے نہیں ہیں جن کی تربیت میرے والد کی وفات کے بعد میری والدہ کرتی ہیں۔ اور کیا اپنے ان بہن بھائیوں کو زکوۃ دینا جائز ہے جو چھوٹے تو نہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس مال کے محتاج ہیں اور غالباً ان کی ضرورت ان لوگوں سے زیادہ ہے کہ جن کو میں زکوۃ دیتا ہوں۔

فتوی :۔

اپنے عزیز و اقارب کو زکوۃ دینا افضل اور بہتر ہے بجائے ان لوگوں کے جو آپ کے رشتہ دار نہیں ہیں۔ کیونکہ اپنے قریبی پر صدقہ کرنا دوہرا اجر ہے، صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔ لیکن اگر ایسے عزیز ہیں جن پر خرچ کرنا آپ کی ذمہ داری ہے تو ان کو زکوۃ نہیں دی جاسکتی اور اگر آپ ان کو اس وجہ سے زکوۃ دیں کہ جو پہلے ان پر خرچ کر رہا ہے اس میں کمی ہو جائے گی تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔