مضمون کے اہم نکات
افضل ترین صدقات
گزشتہ صفحات میں صدقے کے عام فضائل بیان کیے گئے ہیں جو ہر قسم کا صدقہ کرنے والے کو شامل ہیں۔ بعض مواقع پر مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے مختلف حالات و احوال میں صحابہ کرام کو مختلف جواب عنایت فرمائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ ان صدقات کے فضائل اور اجر و ثواب صدقے کی دیگر قسموں سے بڑھ کر ہیں۔ اس باب میں ایسی ہی چند احادیث پیش خدمت ہیں۔
صحت اور تندرستی کی حالت میں صدقہ کرنا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
أى الصدقة أعظم أجرا؟
کون سا صدقہ اجر و ثواب کے لحاظ سے سب سے عظیم ہے؟
آپ نے فرمایا:
أن تصدق وأنت صحيح شحيح تخشى الفقر وتأمل الغنى ولا تمهل حتى إذا بلغت الحلقوم قلت لفلان كذا ولفلان كذا وقد كان لفلان
وہ صدقہ جسے تم صحت و تندرستی میں بخل کے باوجود خرچ کرو۔ تمہیں ایک طرف فقری کا ڈر ہو تو دوسری طرف مالدار بننے کی تمنا اور اس صدقے میں ڈھیل نہیں ہونی چاہیے کہ جب جان حلق تک آ جائے تو اس وقت تم کہنے لگو کہ اتنا فلاں کے لیے اور اتنا فلاں کے لیے، حالانکہ وہ تو اب فلاں کا ہو چکا۔
صحیح البخاری: 1419، صحیح مسلم: 1032
حدیث میں اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ بندے کو تندرستی کی حالت میں صدقہ کرنا چاہیے جبکہ اس کے دل میں مال کی محبت موجود ہو، کیونکہ جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا اسے موت قریب دکھائی دیتی ہے تو انسان کا دل نرم پڑ ہی جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں مرنے سے پہلے سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کر جاؤں، لیکن اس وقت اگر وہ کسی کو نہ بھی دے تب بھی وہ دوسروں کا ہی ہونے والا ہے اور یہ خالی ہاتھ قبر میں جانے والا ہے۔
لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی بیماری یا موت کا انتظار کیے بغیر اول فرصت میں اپنا مال صدقہ کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بہترین صدقہ قرار دیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بیماری کی حالت میں یا موت سے پہلے صدقہ کرنا درست نہیں بلکہ یہ صدقہ بھی بالکل درست ہے اور ثواب کے حصول کا ذریعہ ہے، لیکن صحت اور عافیت کی حالت میں صدقہ کرنا زیادہ افضل ہے۔
کم مال والے کا محنت کر کے صدقہ کرنا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا:
جهد المقل وابدأ بمن تعول
کم مال والے کا محنت مشقت کر کے دینا اور ان سے شروع کرو جن کی کفالت کے تم ذمہ دار ہو۔
سنن أبی داود: 1677، وسندہ صحیح
امیر آدمی کے لیے صدقہ کرنا کوئی مشکل نہیں اور نہ خرچ کرنے سے اس کے مال میں کوئی فرق پڑتا ہے، لیکن ایسا شخص جو محنت مزدوری کر کے اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ پالتا ہے، جب کہ اس کے پاس کوئی جائیداد اور بینک بیلنس بھی نہیں تو ایسے شخص کا اپنی مختصر سی کمائی میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بہت زیادہ فضیلت کا حامل عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ مال کی مقدار نہیں دیکھتے بلکہ بندے کا خلوص دیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک مزدور اگر اپنی مزدوری میں سے دس روپے خرچ کرتا ہے اور کروڑ پتی شخص دس ہزار روپے خرچ کرتا ہے تو مزدور اس سے زیادہ اجر و ثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
جس صدقے کے بعد آدمی خود محتاج نہ ہو
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اليد العليا خير من اليد السفلى وابدأ بمن تعول وخير الصدقة عن ظهر غنى
اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور پہلے ان کو دو جن کی کفالت کے تم ذمہ دار ہو اور بہترین صدقہ وہ ہے جسے دے کر آدمی خود دوسروں سے بے نیاز رہے۔
صحیح البخاری: 1427، صحیح مسلم: 1034
انسان کو اپنی حیثیت دیکھ کر ہی صدقہ خیرات کرنا چاہیے۔ اگر انسان صدقہ کرنے کے بعد خود ہی اپنی بنیادی ضروریات پورا کرنے کے لیے دوسروں کا محتاج ہو جائے تو ایسا صدقہ پسندیدہ نہیں۔ لہذا بہترین صدقہ اسے قرار دیا گیا ہے جسے کرنے کے بعد انسان خود دوسروں کا محتاج نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کرنے والے کو یہی حکم دیتے تھے کہ پہلے اپنے آپ پر اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرو، پھر جو ضروریات سے بچ جائے وہ صدقہ کردو۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو عذرہ قبیلے کے ایک آدمی نے اپنی موت کے بعد اپنے غلام کو آزاد کر دینے کا ارادہ کیا اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے اس سے پوچھا: ”تیرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟“ تو نعیم بن عبد اللہ عدوی رضی اللہ عنہ نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا اور یہ رقم لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے یہ رقم غلام کے مالک کے سپرد کر دی (جس نے اسے آزاد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا) پھر فرمایا:
”سب سے پہلے اپنے آپ پر خرچ کر، اگر کچھ بچ جائے تو وہ تیرے گھر والوں کے لیے ہے۔ اگر گھر والوں کی ضروریات سے کچھ بچ جائے تو وہ تیرے رشتہ داروں کے لیے ہے اور اگر تیرے رشتہ داروں سے بھی بچ جائے تو اسے اپنے آگے اور اپنے دائیں بائیں (جس طرح چاہے) صدقہ کر۔“
صحیح مسلم: 997؛ سنن النسائی: 2547
رشتہ داروں پر مال خرچ کرنا
کسی بھی مسلمان کو صدقہ خیرات کرتے وقت سب سے پہلے اپنے قریبی لوگوں کو دیکھنا چاہیے اور رشتہ داروں کو سب سے اولین ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ دوسرے لوگوں کی نسبت ان کا حق زیادہ ہے اور دوسرے لوگوں کی نسبت ان پر صدقہ کرنے سے اجر و ثواب بھی زیادہ ملتا ہے۔
❀ سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الصدقة على المسكين صدقة وعلى ذي الرحم اثنتان صدقة وصلة
مسکین پر صدقہ کرنا صرف صدقہ ہے اور رشتہ دار کو صدقہ دینے سے دو عمل سرانجام پاتے ہیں: ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔
صحيح سنن النسائی: 2581؛ جامع ترمذی: 658 ؛ ابن ماجه: 1844
سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لونڈی آزاد کی تو اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ نے فرمایا:
لو أعطيتها أخوالك كان أعظم لأجرك
اگر تم وہ لونڈی اپنے ماموں کو دیتی تو تمہیں زیادہ اجر ملتا۔
صحیح البخاری: 594؛ صحیح مسلم: 999
سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی زوجہ محترمہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرنے لگیں: اے اللہ کے رسول! آپ نے آج صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ میرے پاس زیورات ہیں اور میں انہیں صدقہ کرنا چاہتی ہوں۔ (میرے خاوند) عبد اللہ بن مسعود کا خیال ہے کہ وہ اور ان کی اولاد اس صدقے کی زیادہ حق دار ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صدق ابن مسعود زوجك وولدك أحق من تصدقت عليهم به
ابن مسعود نے سچ کہا ہے۔ تمہارا خاوند اور تمہاری اولاد تمہارے صدقے کی زیادہ حق دار ہیں۔
صحیح البخاری: 1462؛ صحیح مسلم: 1000
اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ بیوی اگر صاحب مال ہو تو وہ اپنے ضرورت مند خاوند پر صدقہ کر سکتی ہے۔
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے بارے میں دوسری روایت کچھ اس طرح ہے کہ انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا کہ کیا وہ صدقہ مجھ سے کفایت کرے گا جسے میں اپنے شوہر اور اپنے زیر کفالت یتیم
❀ بچوں پر خرچ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نعم ولها أجران أجر القرابة وأجر الصدقة
ہاں، ان کے لیے دو گنا ثواب ہے، ایک قرابت داری کا اور دوسرا صدقے کا۔
صحیح البخاری: 1466؛ صحیح مسلم: 1000
❀ اللہ تعالیٰ نے بھی جب مال خرچ کرنے کا حکم دیا تو پہلے قریبی رشتہ داروں کا ذکر فرمایا:
يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ ۖ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ(البقرة:215)
آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا چیز خرچ کریں؟ کہہ دیجیے تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو، وہ ماں باپ اور قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے اور تم نیکی میں سے جو کچھ بھی کرو گے، بے شک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔
قرآن مجید کی مذکورہ آیت اور اوپر ذکر کی احادیث سے معلوم ہوا کہ رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
اہل و عیال پر خرچ کرنا
دوسروں پر مال خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ بلکہ ان سے پہلے انسان کو اپنے والدین اور بیوی بچوں کے بارے میں بھی سوچ لینا چاہیے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے بعد صدقے کے دیگر مصارف پر مال خرچ کرنا چاہیے۔ یہ ترتیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بہت سی احادیث میں بیان فرمائی ہے اور بعض احادیث میں آپ نے بیوی بچوں پر خرچ کرنے کو بہترین مصرف قرار دیا ہے۔
عن ثوبان رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أفضل دينار ينفقه الرجل دينار ينفقه على عياله ودينار ينفقه الرجل على دابته فى سبيل الله ودينار ينفقه على أصحابه فى سبيل الله
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بہترین دینار وہ ہے جسے کوئی شخص اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، بہترین دینار وہ ہے جسے کوئی شخص اللہ کی راہ میں سواری پر خرچ کرتا ہے اور بہترین دینار وہ ہے جسے کوئی شخص اللہ کی راہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔
صحیح مسلم: 994
عن أبى هريرة رضي الله عنه قال قال رسول صلى الله عليه وسلم دينار أنفقته فى سبيل الله ودينار أنفقته فى رقبة ودينار تصدقت به على مسكين ودينار أنفقته على أهلك أعظمها أجرا الذى أنفقته على أهلك
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک دینار وہ ہے جسے تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو، ایک دینار وہ ہے جسے تم غلام پر خرچ کرتے ہو، ایک دینار وہ ہے جسے تم مسکین پر صدقہ کرتے ہو اور ایک دینار وہ ہے جسے تم اپنے اہل پر خرچ کرتے ہو۔ ان میں سب سے زیادہ اجر اس دینار پر ملے گا جسے تم اپنے اہل پر خرچ کرتے ہو۔
صحیح مسلم: 995
عَنْ جَابِرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُولُ صلی اللہ علیہ وسلم ابدأ بنفسك فتصدق عليها فإن فضل شيء فلأهلك فإن فضل عن أهلك شيء فلذي قرابتك فإن فضل عن ذي قرابتك شيء فهكذا وهكذا
اپنی ذات سے صدقے کی ابتدا کرو، پھر اگر کچھ بچ جائے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو، پھر اگر اہل و عیال سے کچھ بچے تو رشتہ داروں پر خرچ کرو اور اگر رشتہ داروں سے کچھ بچے تو پھر ادھر ادھر (خرچ کرو)۔
صحیح البخاری: 2141؛ صحیح مسلم: 997
اپنے اہل و عیال کے خرچے سے چشم پوشی کر کے ادھر ادھر مال خرچ کرتے رہنا کوئی دانشمندی نہیں، بلکہ ایسا شخص عند اللہ مجرم ہے جو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كفى بالمرء إثما أن يضيع من يقوت
کسی آدمی کے گناہ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جس کے خرچے کا وہ ذمہ دار ہے اس کا خرچ روک لے۔
صحیح مسلم: 996
عن أبى هريرة الله قال: امر النبى صلى الله عليه وسلم بالصدقة، فقال رجل : يارسول الله عندى دينار، قال: تصدق به على نفسك قال: عندي آخر قال: تصدق به على ولدك قال: عندي آخر قال: تصدق به على زوجتك قال: عندي آخر قال: تصدق على خادمك قال: عندي آخر قال:أنت أبصر
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اپنی جان پر صدقہ کر۔“ وہ کہنے لگا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اپنے بچے پر صدقہ کر۔“ اس نے عرض کیا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اپنی بیوی پر صدقہ کر۔“ اس نے عرض کیا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اپنے خادم پر صدقہ کر۔“ اس نے عرض کیا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تو اس کے بارے میں بہتر جانتا ہے (کہ اسے کس پر خرچ کرنا ہے)۔“
حسن، سنن ابی داود: 1691
ان احادیث مبارکہ سے اہل و عیال پر خرچ کرنے کی فضیلت و اہمیت معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ انسان ساری زندگی اپنے بیوی بچوں کے نخرے پورے کرتا رہے، انہیں بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کرے اور دوسرے مصارف مثلاً فقراء و مساکین اور اشاعت دین کے دیگر کاموں سے عمداً و قصداً چشم پوشی کیے رکھے اور سمجھے کہ میں بہترین مصرف پر مال خرچ کر رہا ہوں۔ ان احادیث کا مفہوم محض یہ ہے کہ اپنے اہل و عیال کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد انسان دیگر مصارف پر مال خرچ کرے۔ یہ ضروریات اتنی نہ بڑھ جائیں کہ انسان ساری زندگی انہیں پورا کرنے ہی کے چکروں میں رہے۔
جہاد فی سبیل اللہ میں مال خرچ کرنا
دین اسلام میں جہاد فی سبیل اللہ کا جو مقام و مرتبہ اور اہمیت ہے وہ کسی مسلمان سے مخفی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے افضل ترین عمل قرار دیا ہے، نیز فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ کے برابر کوئی عمل نہیں۔
عن أبى هريرة رضی اللہ عنہ قال: جاء رجل إلى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فقال: دلني على عمل يعدل الجهاد قال: لا أجده قال: هل تستطيع إذا خرج المجاهد ان تدخل مسجدك فتقوم ولا تفتر وتصوم ولا تفطر قال: ومن يستطيع ذلك؟ قال أبو هريرة إن فرس المجاهد ليستن فى طوله فيكتب له حسنات
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجیے جو جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہو۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے ایسا کوئی عمل معلوم نہیں۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو کہ جب مجاہد اللہ کے راستے میں نکلے تو تم اپنی مسجد میں داخل ہو جاؤ، پھر بغیر کسی توقف کے مسلسل قیام کرتے رہو اور بغیر افطار کے مسلسل روزے رکھتے رہو؟“ اس نے کہا: کون ہے جو اس کی طاقت رکھتا ہو؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک جب مجاہد کا گھوڑا لمبی دوڑ دوڑتا ہے تو اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
جب جہاد افضل ترین عمل ہے تو جہاد میں اپنا مال خرچ کرنا بہترین عمل کیوں نہیں ہوگا کیونکہ بغیر مال کے تو جہاد ہو نہیں سکتا۔ اس لیے اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں اکثر مقامات پر جہاں جہاد کا ذکر فرمایا ہے وہاں ”بأموالكم وأنفسكم“ کے الفاظ بیان فرماتے ہیں کہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو، بلکہ قابل غور بات یہ ہے کہ جان سے پہلے مال کا ذکر ہے۔
صحیح ابن خزیمہ: 2428؛ مسند احمد: 4/154
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اسوہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ وہ عظیم لوگ جہاد میں کس طرح اپنا مال خرچ کیا کرتے تھے۔ بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ عہد رسالت میں جتنا مال صحابہ کرام نے جہاد کے لیے خرچ کیا تھا شاید ہی کسی اور مصرف میں اتنا مال خرچ کیا گیا ہو۔ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے صحابہ کرام سے مال پیش کرنے کو کہتے تو وہ اپنے مالوں کے ڈھیر لگا دیتے۔
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کا سارا مال اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے گھر کا آدھا مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جہاد ہی کے لیے پیش کیا تھا۔ یہ بھی یاد رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہد کو تیار کرنے کے لیے اپنا مال پیش کرنے والے کو اجر میں مجاہد کے برابر قرار دیا ہے۔
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من جهز غازيا فى سبيل الله فقد غزا ومن خلف غازيا فى سبيل الله بخير فقد غزا
جس شخص نے مجاہد کو ساز و سامان تیار کر کے دیا گویا اس نے خود جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے گھر بار کی اچھے طریقے سے نگرانی کی، اس نے بھی جہاد کیا۔
صحیح البخاری: 2843؛ صحیح مسلم: 1895
مجاہد کو تیار کرنے سے مراد اسے اسلحہ وغیرہ فراہم کرنا، جہاد کے لیے سواری اور دیگر سفر وغیرہ کے اخراجات برداشت کرنا ہے۔ جب مجاہد محاذ پر ہو اور اس کے گھر میں کوئی کمانے والا نہ ہو تو مجاہد کے بیوی بچوں اور والدین وغیرہ کے کھانے پینے، لباس، رہائش وغیرہ کے تمام اخراجات ادا کرنے کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل جہاد میں سے قرار دیا ہے اور اگر مجاہد شہید ہو جاتا ہے تو اس کے ورثا کی کفالت کرنا بھی اسی میں شامل ہے۔
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله يدخل بالسهم الواحد ثلاثة الجنة صانعه والممد به والرامي به فى سبيل الله
اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل کرے گا: تیر بنانے والے کو، مجاہد کو تیر فراہم کرنے والے کو اور اللہ کی راہ میں تیر چلانے والے مجاہد کو۔
صحیح ابن خزیمہ: 2428؛ مسند احمد: 4/154
مال اور جان کے ساتھ جہاد کرنے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے افضل انسان قرار دیا ہے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول!
اَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ صلی اللہ علیہ وسلم مؤمن يجاهد فى سبيل الله بنفسه وماله
کون شخص سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ مومن جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرے۔ صحابہ نے پوچھا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: وہ مومن جو پہاڑ کی کسی گھائی میں رہنا اختیار کرے، اللہ کا خوف رکھتا ہو اور لوگوں سے دور رہ کر اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہو۔
صحیح البخاری: 2786، صحیح مسلم: 3501
مال اور جان کے ساتھ جہاد کرنے کو اللہ تعالیٰ نے ایسی تجارت قرار دیا ہے جو دردناک عذاب سے بچانے والی ہے۔
❀ ارشاد باری تعالی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنْجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ(الصف:10-11)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں تمہیں ایسی تجارت کی رہنمائی کروں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچالے؟ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
کھانا کھلانا
غربا اور مساکین وغیرہ کو کھانا کھلانا بڑے اجر و ثواب والا عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل جنت کے بارے میں ان کے اوصاف ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا(الإنسان:8-9)
اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ (اور کہتے ہیں) ہم تو صرف اللہ کی رضا کے لیے تمہیں کھلاتے ہیں، نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔
اہل جنت جب جنت میں چلے جائیں گے تو جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ تمہیں کس چیز نے جہنم میں پہنچا دیا؟
قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ(المدثر:43-44)
وہ کہیں گے: ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور نہ ہم مسکین کو کھانا کھلاتے تھے۔
معلوم ہوا کہ غربا و مساکین کو کھانا نہ کھلانا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کا اعتراف جہنمی خود کریں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھلانے کی بہت زیادہ فضیلت بیان فرمائی۔
سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہجرت کر کے آئے تو میں نے سب سے پہلے آپ کا یہ فرمان سنا:
يا أيها الناس أفشوا السلام وأطعموا الطعام وصلوا الأرحام وصلوا بالليل والناس نيام تدخلوا الجنة بسلام
لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلایا کرو، صلہ رحمی کیا کرو، اور رات کے وقت جب لوگ سو رہے ہوں تو تم نماز ادا کیا کرو۔ تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔
صحیح سنن ابن ماجه: 3251
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کھانا کھلانا جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: أى الإسلام خير؟ کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا:
تطعم الطعام وتقرأ السلام علىٰ من عرفت ومن لم تعرف
یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور تم سلام کرو جسے تم جانتے ہو اور اسے بھی جسے تم نہیں جانتے۔
صحیح البخاری: 12؛ صحیح مسلم: 39
عن أبى هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الله عزوجل يقول يوم القيامة : يا ابن آدم! مرضت فلم تعدني، قال: يا رب كيف اعودك؟ وأنت رب العالمين قال: أما علمت ان عبدى فلانا مرض فلم تعده، اما علمت أنك لو عدته لوجد تني عنده يا ابن آدم استطعمتك فلم تطعمني، قال: يا رب ! وكيف أطعمك ؟ وانت رب العالمين قال: اما علمت أنه استطعمك عبدى فلان فلم تطعمه؟ أما علمت أنك لو أطعمته لوجذت ذلك عندي يا ابن آدم! إستسقيتك فلم تسقني قال: يا رب كيف أسقيك وانت رب العالمين، قال إستسقاك عبدي فلان فلم تسقه، أما إنك لو سقيته وجدت ذلك عندي
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ عز و جل فرمائے گا: اے ابن آدم! میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہیں کی؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں تیری عیادت کیسے کرتا؟ تو تو رب العالمین ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا؟ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔ وہ شخص کہے گا: اے میرے رب! تجھے کھانا کیسے کھلایا جاتا؟ تو تو رب العالمین ہے۔
اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا؟ اگر تو اس کو کھانا کھلا دیتا تو تو اس کو میرے پاس پاتا۔
اسی طرح پانی پلانے کا بھی ذکر ہے۔
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے مریضوں کی عیادت کرنے، بھوکے کو کھانا کھلانے اور پیاسے کو پلانے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم دینا ہی اللہ کا مانگنا ہے اور جو اللہ کے اس حکم کو مانتے ہوئے بھوکوں کو کھلاتا پلاتا ہے وہ اللہ کا قرب حاصل کر لیتا ہے۔
کھانا کھلانا ان چار خصلتوں میں سے ہے جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص میں ایک دن میں یہ چاروں پائی جائیں وہ جنتی ہے۔
عن أبى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من أصبح منكم اليوم صائما؟ قال أبو بكر أنا قال: فمن تبع منكم جنازة قال أبو بكر : أنا قال: فمن أطعم منكم اليوم مسكينا؟ قال أبو بكر أنا قال: فمن عاد منكم اليوم مريضا؟ قال: أبو بكر أنا فقال رسول الله: ما اجتمعن في امرء إلا دخل الجنة
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : آج تم میں سے کون روزے دار ہے؟“ حضرت ابو بکر صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا: میں۔ آپ نے فرمایا: ” آج تم میں سے جنازے کے ساتھ کون گیا تھا ؟ حضرت ابوبکر نے کہا: میں۔ آپ نے فرمایا: آج تم میں سے کس نے مسکین کو کھانا کھلایا؟ حضرت ابوبکر نے کہا: میں نے۔ آپ نے فرمایا: ”آج تم میں سے کس نے کسی مریض کی عیادت کی ہے؟“ حضرت ابوبکر نے کہا: میں نے۔ آپ نے فرمایا: جس شخص میں یہ تمام کام جمع ہوں گے وہ جنت میں داخل ہو گا ۔
صحیح مسلم: 1028
یاد رہے کہ صرف بھوکوں اور ضرورت مندوں کو کھلانا پلانا ہی ثواب کا کام نہیں بلکہ مسلمانوں کو ویسے بھی آپس میں ایک دوسرے کو کھانے پینے کی دعوت دیتے رہنا چاہیے۔ اس سے آپس میں محبت بڑھتی ہے اور مسلمانوں کے بھائی چارے کا بھی یہی تقاضا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفشوا السلام وأطعموا الطعام وكونوا إخوانا كما أمركم الله عز وجل
سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ اور جس طرح اللہ عزوجل نے تمہیں حکم دیا ہے اس طرح بھائی بھائی بن کر رہو۔
صحیح ، سنن ابن ماجه ، كتاب الأطعمة باب إطعام الطعام ، ح 3252، نیز دیکھئے صحیح مسلم : 2563
معلوم ہوا کہ آپس میں سلام عام کرنا اور کھانا کھلانا مسلمانوں کے آپس کے بھائی چارے کو فروغ دینے والے عمل میں سے ہے۔
جانوروں کو کھلانا پلانا
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ آپ نے نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں اور پرندوں تک کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ جانوروں اور پرندوں کو کھلانا پلانا بھی اسی رحمت اور شفقت کا ایک پہلو ہے۔ خاص طور پر اگر کسی نے کوئی جانور یا پرندہ پال رکھا ہے اور اسے باندھ یا قید کر رکھا ہے تو اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس کے کھانے پینے کا خیال رکھے ورنہ وہ گناہگار ہوگا اور اللہ کے عذاب کا مستحق ہوگا۔
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے۔ وہاں ایک اونٹ تھا۔ جب اس اونٹ نے آپ کو دیکھا تو وہ رونے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور اس کے کانوں کے پیچھے ابھری ہوئی ہڈی پر پیار سے ہاتھ پھیرا تو وہ چپ ہو گیا۔ آپ نے فرمایا:
من رب هذا الجمل؟ لمن هذا الجمل؟ فجاء فتى من الأنصار فقال: لى يا رسول الله ! قال: ((أفلا تتقي الله فى هذه البهيمة التى ملكك الله إياها؟ فإنه شكا إلى أنك تجيعه و تدئبه
اس کا مالک کون ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری نوجوان آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا ہے۔ آپ نے فرمایا: ” تو اس (بے زبان ) جانور کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتا جس کا اللہ تعالیٰ نے تجھے مالک بنایا ہے؟ اس نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تو اسے بھوکا رکھتا ہے اور ہر وقت کام میں جوئے رکھتا ہے۔“
صحیح سنن ابی داود: 2548 (کتاب الجهاد، باب ما يؤمر به من القيام على الدواب والبهائم، وسندہ صحیح؛ صحیح مسلم: 342
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عذبت امرأة فى هرة ربطتها حتى ماتت فدخلت فيها النار لا هي أطعمتها ولا سقتها إذ حبستها ولا هي تركتها تأكل من خشاش الأرض
ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔ اس نے اس بلی کو باندھ دیا، اسے کچھ کھلایا نہ پلایا اور نہ اسے کھلا چھوڑا کہ وہ زمین سے کیڑے مکوڑے کھا لیتی حتی کہ وہ مر گئی۔ اس ظلم کی وجہ سے وہ عورت آگ میں داخل کر دی گئی۔
صحیح البخاری: 3482؛ صحیح مسلم: 2243
حضرت سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کا پیٹ (بھوک کی وجہ سے) اس کی کمر سے لگ گیا تھا۔ تو آپ نے فرمایا:
اتقوا الله فى هذه البهائم المذللة فاركبوها صالحة وكلوها صالحة
ان (بے زبان جانوروں) کے بارے میں اللہ سے ڈرو، ان پر سواری کرو تو اچھے انداز میں اور کھلاؤ تو بھی عمدہ طریقے سے۔
سنن ابی داود: 2548، وسندہ صحیح
جانوروں اور پرندوں کو کھلانے کی فضیلت میں بھی متعدد احادیث ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اس عمل کی وجہ سے بندے کے گناہ معاف فرما دیتے ہیں اور اسے جنت میں داخل فرما دیتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک کتا دیکھا جو پیاس کی وجہ سے کنویں کے گرد گیلی مٹی چاٹ رہا تھا۔ اس شخص نے اسے پانی پلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمیں جانوروں کی وجہ سے بھی ثواب ملے گا؟ آپ نے فرمایا:
في كل كبد رطبة أجر
ہر زندہ چیز (جس کا جگر تروتازہ ہے) سے ہمدردی کا ثواب ملے گا۔
صحیح البخاری: 2363؛ صحیح مسلم: 2244
صحیح بخاری کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:
فشكر الله له فأدخله الجنة
اللہ تعالیٰ نے اس کے عمل کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔
صحیح البخاری: 173۔ صحیح البخاری: 3321
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
غفر لامرأة مؤمنة مرت بكلب على رأس ربوة يلهث – قال: كاد يقتله العطش فنزعت خفها فأوثقته بخمارها فنزعت له من الماء فغفر لها بذلك
ایک بدکار عورت کو صرف اس بنا پر معاف کر دیا گیا کہ وہ ایک کتے کے پاس سے گزری جو ایک کنویں کے کنارے پر تھا۔ قریب تھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے مر جاتا۔ اس عورت نے اپنا موزہ اتارا، اسے دوپٹے سے باندھا اور کنویں سے پانی نکال کر پیاسے کتے کو پلایا۔ اس نیکی کی بنا پر اس کی مغفرت ہو گئی۔
صحیح البخاری: 3321
❀ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من مسلم يغرس غرسا أو يزرع زرعا فيأكل منه طير أو إنسان أو بهيمة إلا كان له به صدقة
جو مسلمان کوئی درخت لگائے یا فصل کاشت کرے اور اس میں سے کوئی پرندہ یا انسان یا جانور کچھ کھائے تو یہ اس شخص کی طرف سے صدقہ ہے۔
صحیح البخاری: 2320؛ صحیح مسلم: 1552
حضرت سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کسی کا گمشدہ اونٹ میرے حوض پر آجاتا ہے جسے میں نے اپنے اونٹوں کے لیے تیار کیا ہے۔ اگر میں اس اونٹ کو وہاں سے پانی پلا دوں تو کیا مجھے ثواب ملے گا؟ آپ نے فرمایا:
نعم فى كل ذات كبد رطبة أجر
ہاں، ہر جگر رکھنے والے جاندار کو جسے پیاس لگتی ہے، اسے پانی پلانے میں ثواب ہے۔
صحیح سنن ابن ماجہ: 3686 (کتاب الادب، باب فضل صدقة الماء)
قرض دینا اور مقروض کو مہلت دینا
ضرورت مندوں کے ساتھ تعاون کی ایک صورت انہیں مناسب مدت تک قرض یا ادھار دینا بھی ہے۔ مقررہ مدت تک اگر مقروض قرض واپس کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو قرض دینے والے کو چاہیے کہ اس کے ساتھ سختی سے پیش نہ آئے بلکہ اسے مزید کچھ مہلت دے دے۔ اس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت فضیلت بیان فرمائی ہے۔
❀ حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أنظر معسرا كان له بكل يوم صدقة ومن أنظره بعد حله كان له مثله فى كل يوم صدقة
جو شخص کسی تنگ دست مقروض کو (قرض کی ادائیگی میں) مہلت دیتا ہے، اسے روزانہ صدقے کا ثواب ملتا ہے اور جو آدمی مقررہ وقت کے بعد مزید مہلت دیتا ہے، اسے بھی ہر روز صدقے کا ثواب ملتا ہے۔
صحیح سنن ابن ماجہ: 2418 (کتاب الصدقات، باب إنظار المعسر)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من يسر على معسر يسر الله عليه فى الدنيا والآخرة
جو شخص کسی تنگ دست کو آسانی مہیا کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں آسانی عطا فرمائے گا۔
صحیح مسلم: 2699
❀ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سره أن يظله الله فى ظله فلينظر معسرا أو ليضع عنه
جو شخص پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اسے اپنے سائے میں جگہ دے تو اسے چاہیے کہ تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے۔
صحیح، سنن ابن ماجه: 2419
❀ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تلقت الملائكة روح رجل ممن كان قبلكم فقالوا أعملت من الخير شيئا قال لا قالوا تذكر قال كنت أداين الناس فأمر فتياني أن ينظروا المعسر ويتجاوزوا عن الموسر قال الله عز وجل تجاوزوا عنه
تم سے پہلے گزشتہ امتوں میں ایک شخص کی روح کے پاس فرشتے آئے اور پوچھا: کیا تم نے کوئی نیک کام کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ فرشتوں نے کہا: یاد کرو۔ اس نے کہا: میں لوگوں کو قرض دیتا تھا اور اپنے ملازموں سے کہتا تھا کہ تنگ دست کو مہلت دے دیا کرو اور مالدار سے درگزر کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (فرشتو) تم بھی اس سے درگزر کرو۔
صحیح البخاری: 2077؛ صحیح مسلم: 1560
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من سره أن ينجيه الله من كرب يوم القيامة فلينفس عن معسر أو يضع عنه
جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے، وہ کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے۔
صحیح مسلم: 1563
ایسا مقروض جس نے کسی سے قرض لے رکھا ہو اور وہ قرض دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو، جبکہ قرض دینے والا اس سے مطالبہ کر رہا ہو تو ایسی صورت میں اس مسلمان کی قرض کی واپسی کے لیے صدقے سے مدد کرنا بھی بڑے اجر کا عمل ہے۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عہد رسالت میں ایک آدمی نے پھل خریدے اور اس میں خسارے کی وجہ سے بہت زیادہ مقروض ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تصدقوا عليه اسے صدقہ دو۔ لوگوں نے اسے صدقہ دیا لیکن اس کا قرض ادا نہ ہوا، پھر آپ نے قرض لینے والوں سے فرمایا:
خذوا ما وجدتم وليس لكم إلا ذلك
جو تمہیں ملے لے لو، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں۔
صحیح مسلم: 1556
قرض کی ایک اور قسم ہے جسے ”منيحة“ کہتے ہیں۔ دودھ دینے والے جانور یا پھل دار درخت کو اس کے منافع کے ساتھ کسی کو ادھار دے دینا منيحة کہلاتا ہے۔
ایک غریب آدمی کسی سے گائے یا بھینس ادھار لے کر اس کا دودھ استعمال کرے گا اور مقررہ مدت کے بعد وہ گائے یا بھینس مالک کو واپس کر دے گا۔
اسی طرح کوئی شخص اپنے باغ میں سے بعض درخت بھی کسی کو منيحة کر سکتا ہے، یعنی وہ اسے کہے کہ فلاں درخت کا پھل اتنی مدت تک تمہیں دیتا ہوں۔ یاد رہے کہ منيحة کیا گیا جانور یا درخت اصل مالک کا ہی ہوتا ہے جس کو منيحة کیا جائے وہ وقتی طور پر ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ منيحة کی فضیلت یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ قرار دیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من منح منيحة غدت بصدقة وراحت بصدقة صبوحها وغبوقها
جس نے کسی شخص کو دودھ کا جانور دیا تو صبح دودھ کے وقت اسے ایک صدقہ کا ثواب ہوگا اور شام کو دودھ کے وقت اسے ایک صدقے کا ثواب ہوگا۔
صحیح مسلم: 1020
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رجل يمنح أهل بيت ناقة تغدو بعض وتروح بعض إن أجرها لعظيم
جو شخص کسی گھرانے کو ایسی اونٹنی ادھار دیتا ہے جو صبح و شام ایک گھڑا بھر دودھ دیتی ہے تو اس کا بہت زیادہ اجر ہے۔
صحیح مسلم: 1019
یتیموں، مسکینوں اور بیواؤں پر مال خرچ کرنا
یتیم، مسکین اور بیوہ عورتیں معاشرے کا وہ حصہ ہیں جن کا اللہ کے سوا اور کوئی سہارا نہیں ہوتا۔ اپنے صدقات میں اس طبقے کو بھی فراموش کرنا درست نہیں۔ اسلام میں ان بے کسوں اور بے یار و مددگار لوگوں کے حقوق پر بڑا زور دیا گیا ہے اور ان کی مدد اور خبر گیری کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
❀ ارشاد باری تعالی ہے:
وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ(البقرة:177)
اور اصل نیکی اس کی ہے جو اللہ اور یوم آخرت اور فرشتوں، کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے اور مال دے اس کی محبت کے باوجود قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر اور مانگنے والوں کو اور غلام آزاد کرانے میں اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طویل حدیث میں بیان فرمایا:
وإن هذا المال خضرة حلوة فنعم صاحب المسلم ما أعطى منه المسكين واليتيم وابن السبيل
بے شک یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے، پس وہ کیسا اچھا مسلمان مالک ہے جو اس مال سے مسکین، یتیم اور مسافر کو دیتا ہے۔
صحيح البخاري: 1465
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أنا وكافل اليتيم فى الجنة هكذا
میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔
صحيح البخاری: 6005، صحیح مسلم: 2983
آپ نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الساعي على الأرملة والمسكين كالمجاهد فى سبيل الله أو كالذي يصوم النهار ويقوم الليل
بیواؤں اور مسکین کی خدمت کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا اس شخص کی طرح ہے جو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے۔
صحيح البخارى: 6006؛ صحیح مسلم: 2982
یتیم بچوں اور بیواؤں کے حقوق کی ادائیگی کی اس قدر اہمیت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید کے ساتھ ان کے حقوق کی حق تلفی کو حرام قرار دیا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللهم إني أحرج حق الضعيفين اليتيم والمرأة
”اے اللہ ! میں دو کمزوروں: یتیم اور عورت کی حق تلفی کو حرام قرار دیتا ہوں۔
حسن، سنن ابن ماجه: 3678
یاد رہے کہ ضرورت مند صرف وہی نہیں ہوتا جو لوگوں کے دروازوں پر آ کر سوال کرے۔ بہت سے غیرت مند مسلمان انتہائی مفلس، تنگ دست اور مسکین ہوتے ہیں، لیکن وہ شرم کے مارے کسی سے سوال نہیں کرتے۔ مالدار لوگوں کو چاہیے کہ معاشرے میں ایسے لوگوں کو خود تلاش کریں اور ان کے ساتھ تعاون کریں۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليس المسكين الذى ترده التمرة والتمرتان ولا اللقمة ولا اللقمتان، إنما المسكين الذى يتعفف اقرءوا إن شئتم یعنی قولہ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا
مسکین وہ نہیں جسے ایک دو کھجور یا ایک دو لقمے در بدر لیے پھریں، بلکہ مسکین وہ ہے جو مانگنے سے بچتا رہے اور تم چاہو تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ لو:(وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتے۔)
(البقرة:273) ، صحیح البخاری: 4539، صحیح مسلم: 1039
غلام آزاد کرنا
عربوں میں انسانوں کو غلام بنانے کا سلسلہ جاری تھا اور ان غلاموں اور لونڈیوں کی خرید و فروخت بھی ہوتی تھی۔ اسلام نے اس ذلت کو انسانیت سے ختم کرنے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کیا کہ غلاموں کا سلسلہ ہی آہستہ آہستہ ختم ہو گیا۔ اس کے لیے اسلام نے غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب دلائی اور اسی طرح بہت سے گناہوں کا کفارہ بھی غلاموں کی آزادی کو بنایا۔ جیسے قسم توڑنے کا کفارہ، ظہار کا کفارہ وغیرہ۔
غلام آزاد کرنے کی ترغیب اور فضیلت کے حوالے سے چند احادیث یہاں درج کی جا رہی ہیں۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أيما رجل أعتق امرأ مسلما استنقذ الله بكل عضو منه عضوا من النار
”جس شخص نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا اللہ تعالیٰ اس غلام کے جسم کے ہر عضو کی آزادی کے بدلے میں اس شخص کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد کرے گا۔“
صحیح البخاری: 2517؛ صحیح مسلم: 1509
❀ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیسا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ نے فرمایا :
أعلاها ثمنا وأنفسها عند أهلها
جو سب سے زیادہ قیمتی ہو اور مالک کی نظر میں سب سے عمدہ ہو۔
صحیح البخاری: 2518، صحیح مسلم: 84
یاد رہے کہ وہ مسلمان جو کافروں کی قید میں ہوں، انہیں چھڑانا بھی اسی حکم میں ہے۔ زکوٰۃ یا نفلی صدقے کی رقم سے مسلمان قیدیوں کو چھڑایا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ (آیت: 60) میں جو مصارف زکوٰۃ بیان فرمائے ہیں ان میں ایک ”وفي الرقاب“ ہے، یعنی گردنوں کو آزاد کرانے کے لیے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اس میں غلاموں کو خرید کر آزاد کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمان قیدیوں کو چھڑانا بھی شامل ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کو چھڑانے کا حکم دیا ہے:
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أطعموا الجائع وعودوا المريض وفكوا العاني
بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو اور قیدی کو چھڑاؤ۔
صحیح البخاری: 5649
پڑوسی پر صدقہ کرنا
اسلام میں پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید کی گئی ہے اور اس کی مدد کرنے، اس کا خیال رکھنے اور باہم ہمدردی کا معاملہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمسائے کا حق اتنا زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر والدین، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ کیا ہے۔
❀ ارشاد باری تعالی ہے:
وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ(4-النساء:36)
تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، رشتے دار پڑوسی یا اجنبی پڑوسی اور پہلو کے ساتھی اور مسافر اور اپنے غلاموں کے ساتھ احسان کرو۔
❀ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه
مجھے جبریل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی ہمیشہ تاکید کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا یہ اسے وراثت میں بھی شریک ٹھہرا دیں گے۔
صحيح البخاري: 6014، صحیح مسلم: 2624
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا أبا ذر إذا طبخت مرقة فأكثر ماءها وتعاهد جيرانك
اے ابو ذر! جب تم شوربے والا سالن پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ کر لو اور اپنے پڑوسی کا خیال رکھو (یعنی اسے بھی کچھ سالن بھیج دو)۔
صحیح مسلم: 2625
اس سے معلوم ہوا کہ اگر پڑوسی غریب، مسکین یا محتاج ہوں تو ان کا خیال رکھنا ہمسایوں کا فرض بنتا ہے۔ یہاں تک کہ کھانے پینے کے معاملے میں بھی ان کے ساتھ ہمدردی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پڑوسی کا اس قدر عظیم حق ہونے کی وجہ سے صدقات و خیرات وغیرہ میں بھی پڑوسیوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اور اگر وہ صدقہ خیرات کے مستحق ہوں تو سب سے پہلے انہی کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ جو جتنا قریب ہے اس کا اتنا زیادہ حق ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میرے دو پڑوسی ہیں، ان میں سے میں کس کو ہدیہ بھیجوں؟ آپ نے فرمایا:
إلى أقربهما منك بابا
جس کا دروازہ تیرے زیادہ قریب ہو۔
صحیح البخاری: 2259
پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اللہ کے محبوب لوگوں کا شیوہ ہے۔ یہ اچھا برتاؤ جہاں دیگر معاملات میں ضروری ہے وہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اگر ہمسایہ مالی لحاظ سے کمزور ہے تو اس کی صدقہ خیرات سے مدد کرنا بھی حسنِ سلوک میں شامل ہے اور یہ صدقے کا بہترین مصرف شمار ہو گا۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خير الأصحاب عند الله تعالى خيرهم لصاحبه وخير الجيران عند الله خيرهم لجاره
اللہ کے ہاں ساتھیوں میں سب سے بہتر ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے بہتر ہو اور پڑوسیوں میں سب سے بہتر پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے حق میں بہتر ہو۔
صحیح، سنن الترمذی: 1944
رمضان المبارک میں صدقہ کرنا
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، برکتوں اور عطاؤں کا مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روزے دار کو خود ثواب دینے کا وعدہ فرمایا ہے اور روزے دار سے اللہ کو اتنا پیار ہے کہ اس کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو کستوری کی مہک سے زیادہ پسند ہے۔ روزے کی عظمت کی وجہ سے روزے دار جو بھی نیک عمل رمضان المبارک میں کرتا ہے اسے عام دنوں یا مہینوں کی نسبت یقیناً زیادہ اجر و ثواب ملتا ہے۔ ان نیک کاموں میں سے ایک انفاق فی سبیل اللہ بھی ہے۔ رمضان المبارک کو نیکیوں کا موسم بہار کہا جاتا ہے۔ اس بابرکت مہینے میں مسلمانوں کو جہاں دیگر تمام اعمالِ صالحہ میں سبقت لے جانی چاہیے وہاں صدقہ خیرات کرنے میں بھی پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہیں، ماہ رمضان میں اللہ کی راہ میں کیسے مال خرچ کرتے تھے؟
❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أجود الناس وكان أجود ما يكون فى رمضان حين يلقاه جبريل وكان يلقاه فى كل ليلة من رمضان فيدارسه القرآن فلرسول الله صلى الله عليه وسلم أجود بالخير من الريح المرسلة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب جبریل علیہ السلام آپ کو آ کر ملتے تو آپ بہت زیادہ سخاوت کرتے اور جبریل علیہ السلام رمضان کی ہر رات آپ سے ملتے تھے اور آپ سے قرآن کا دور کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھلائی کے کاموں میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔
صحیح البخاری: 6؛ صحیح مسلم: 2308
ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں صدقہ کرنا
اسلامی کیلنڈر کے آخری مہینے ذوالحجہ کے پہلے دس دن بڑی فضیلت کے حامل ہیں۔ ان دنوں میں انجام دیا جانے والا ہر عمل دوسرے دنوں سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ چنانچہ صدقہ خیرات بھی اگر ان دنوں میں کیا جائے تو اس کا ثواب بھی دوسرے دنوں کی نسبت زیادہ ہوگا۔
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما من أيام العمل الصالح فيها أحب إلى الله من هذه الأيام يعني العشر قالوا: يا رسول الله ولا الجهاد فى سبيل الله؟ قال: ”ولا الجهاد فى سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء
دنوں میں کوئی دن ایسے نہیں جن میں کیا ہوا نیک عمل اللہ تعالیٰ کو ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، الا یہ کہ کوئی شخص اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کے لیے نکلے، پھر ان میں سے کچھ بھی لے کر واپس نہ آئے (یعنی اپنا جان و مال اللہ کی راہ میں لٹا دے)۔
صحیح البخاری: 969؛ سنن ابن ماجہ: 1727 (واللفظ له)
معلوم ہوا کہ جہاد فی سبیل اللہ جیسے عظیم عمل سے بھی زیادہ فضیلت والا وہ عمل ہے جو ان دس دنوں میں کیا جائے، لہذا صدقہ خیرات کے لیے بھی یہ بہترین دن ہیں۔
زندگی میں اپنے مال میں سے وصیت کرنا
دنیا میں کوئی کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو، اور کتنی ہی دولت کا مالک کیوں نہ ہو، دنیا سے جانا تو اسے خالی ہاتھ ہی ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ کفن میں جیب بھی نہیں ہوتی۔ مرنے والا سب کچھ پچھلوں کے لیے چھوڑ جاتا ہے اور جس دولت کو کمانے کے لیے وہ ساری زندگی محنت کرتا رہا اور جس کی حفاظت کے لیے وہ اپنی جان تک کی پروا نہ کرتا تھا، لیکن جب وہ زندگی کو الوداع کہہ کر اپنی آخرت کے سفر کا آغاز کرتا ہے تو یہ دولت اس کے کسی کام نہیں آئی۔
عقلمند انسان وہ ہے جو اس زندگی میں کچھ ایسا کر جائے جو کل آخرت میں اس کے کچھ کام آئے۔ اسی لیے دولت مندوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مال میں سے کچھ حصے کی وصیت کر جائیں تا کہ جو مال جو وہ پچھلوں کے لیے چھوڑ کر جا رہا ہے اور اس کی ذات کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا، وہ اپنی آخرت سنوارنے کے لیے۔
موت کا وقت تو کسی کو معلوم نہیں کہ کب آ جائے اس لیے ہر وقت موت کے لیے تیار رہنا چاہیے اور اگر کسی کی نیت ہو کہ وہ اپنے مال کی وصیت کرنا چاہتا ہے تو اسے وہ وصیت لکھ کر اپنے پاس رکھنی چاہیے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما حق امرئ مسلم له شيء يوصي فيه يبيت ليلتين إلا ووصيته مكتوبة عنده
کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اس کے پاس وصیت کے لیے کوئی مال ہو اور وہ وصیت کو اپنے پاس لکھ کر رکھے بغیر دو راتیں گزار دے۔ یعنی اگر وہ کسی چیز کی وصیت کرنا چاہتا ہے تو اسے لکھ کر اپنے پاس محفوظ کر لے۔ موت تو کبھی بھی آ سکتی ہے۔
صحیح البخاری: 2738، صحیح مسلم: 1627
وراثت کے حکم کے نزول کے بعد مذکور حدیث کا حکم محض استحباب پر محمول ہوگا، نیز وصیت کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے سارے مال کی وصیت نہیں کر سکتا۔ زیادہ سے زیادہ ایک تہائی مال کی وصیت کر سکتا ہے اور اگر اس سے بھی کم مال کی کرے تو زیادہ بہتر ہے۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر میں اتنا بیمار ہوا کہ موت کے کنارے جا لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کافی مالدار ہوں اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے۔ کیا میں اپنے مال میں سے دو تہائی صدقہ کردوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: آدھا مال؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: ایک تہائی؟ آپ نے فرمایا:
الثلث والثلث كثير إنك أن تذر ورثتك أغنياء خير من أن تذرهم عالة يتكففون الناس
ایک تہائی صدقہ کر سکتے ہو اور یہ بھی زیادہ ہے۔ تم اپنے ورثا کو خوشحال چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں مفلس چھوڑ دو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔
صحیح البخاری: 6733؛ صحیح مسلم: 1628
وصیت سے متعلق ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ مرنے والا اپنے مال میں سے ورثا کے لیے کسی چیز کی وصیت نہیں کر سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے وراثت میں حصہ مقرر فرمایا ہے، لہذا وارث خواہ کتنا ہی ضرورت مند کیوں نہ ہو، اس کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی۔
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے میں ارشاد فرمایا:
إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه ولا وصية لوارث
اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے، لہذا اب وارث کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی۔
حسن، سنن نسائی: 3671؛ سنن الترمذی: 2121
مسجد تعمیر کرنا
مسجد کی اسلامی معاشرے میں بہت اہمیت ہے۔ مسجد عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کا عظیم مرکز بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کو اسلامی ریاست کا دارالخلافہ، غزوات و سرایا کی تنظیم کا مرکز و معسکر، بیت المال، دار القضا، سیکریٹریٹ، سٹیٹ گیسٹ ہاؤس، یونیورسٹی اور بعض دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اللہ تعالیٰ نے مساجد کی تعمیر کو ایمان کی نشانی قرار دیا ہے۔
❀ ارشاد باری تعالی ہے:
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ(التوبة:18)
اللہ کی مسجد تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا۔
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے:
من بنى مسجدا يبتغي به وجه الله بنى الله له مثله فى الجنة
جس نے اللہ کی رضا کی خاطر مسجد بنائی، تو اللہ تعالیٰ ایسا ہی ایک گھر اس کے لیے جنت میں بنائے گا۔
صحیح البخاری: 450، صحیح مسلم: 533
یہ ضروری نہیں کہ ایک آدمی پوری مسجد تعمیر کرے تب ہی اسے یہ فضیلت حاصل ہو گی، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اعمال کی ظاہری مقدار کی بجائے خلوص اور کوشش کی اہمیت ہے۔ اگر کوئی شخص مسجد کی تعمیر میں معمولی سا حصہ بھی ڈالے گا تو وہ بھی پورے اجر و ثواب کا حقدار ہوگا۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من بنى مسجدا لله كمفحص قطاة أو أصغر بنى الله له بيتا فى الجنة
جس نے اللہ کے لیے پرندے کے گھونسلے جتنی یا اس سے بھی چھوٹی مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر تیار کرے گا۔
صحیح سنن ابن ماجه 738، ابن خزيمة : 1292
مسجد کی تعمیر کے علاوہ نمازیوں کی سہولت کے لیے مسجد میں کیے جانے والے انتظامات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ جیسے مسجد کے خادم، مؤذن اور امام کی تنخواہیں، بجلی، گیس اور پانی کے بل، گرمیوں میں ٹھنڈے پانی کا کولر، صفیں، نمازیوں کی تلاوت کے لیے قرآن پاک، دینی کتابیں وغیرہ۔ یہ سب وہ کام ہیں جن کی ہر مسجد میں ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اور ان جیسی دیگر ضروریات کو بخوشی پورا کرنا ہر مسلمان کا شوق ہونا چاہیے۔
علوم دینیہ کی نشر و اشاعت اور طلبا کی کفالت
علم کے حصول اور اہل علم کی بڑی شان اور مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ(الزمر:9)
کہہ دیجیے: کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ جو نہیں جانتے، برابر ہیں؟
نیز فرمایا:
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ(المجادلة:11)
اللہ ان لوگوں کو درجوں میں بلند کرے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم دیا گیا اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو پوری طرح باخبر ہے۔
قرآن وحدیث کا علم حاصل کرنے اور اس کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کرنے والے علما، جہاں بڑے اجر و ثواب کے مستحق ہیں، وہاں ان علماء کی مالی مدد کرنے والے سخی بھی کسی کم اجر کے حق دار نہیں۔ ہمارے ہاں دینی مدارس میں پڑھنے والے اکثر طلبا غریب یا متوسط گھرانوں کے ہوتے ہیں اور اگر غریب نہ بھی ہوں تو مسافر تو ہوتے ہی ہیں، کیونکہ وہ گھر سے دور مدرسے میں رہ کر علم حاصل کر رہے ہوتے ہیں، اس لیے یہ طالب علم صدقے کے مستحق ہوتے ہیں اور جو ادارے ان کی کفالت کرتے ہیں، ان کے لیے تنخواہ پر استاد رکھتے ہیں، ان کے کھانے پینے، رہائش، بجلی گیس پانی وغیرہ کے بل اور دیگر اخراجات اٹھاتے ہیں، ان اداروں کے ساتھ صدقات میں سے تعاون کرنا صدقے کا بہترین مصرف ہے۔
یاد رکھیے کہ ان طلبا کے ساتھ تعاون کرنا صدقہ جاریہ ہے کیونکہ یہ علم حاصل کرنے کے بعد جب دین کی تبلیغ کرتے ہیں تو اس سے بہت سے لوگوں کے عقیدے اور عمل کی اصلاح ہوتی ہے تو اس کا ثواب جہاں اس داعی یا عالم کو ملے گا اتنا ہی ثواب اس طالب علم کے ساتھ مالی تعاون کرنے والے کو ملے گا۔ یہاں یہ حدیث مبارکہ یاد رکھنی چاہیے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بیان فرمائی تھی:
فوالله لأن يهدي الله بك رجلا واحدا خير لك من حمر النعم
اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعے سے ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
صحیح البخاری: 2942؛ صحیح مسلم: 2406
عرب میں سرخ اونٹوں کو بڑا قیمتی سمجھا جاتا تھا، اس لیے آپ نے دنیا کی قیمتی ترین چیز کی مثال دے کر فرمایا کہ کسی ایک شخص کی ہدایت کا ذریعہ بن جانا دنیا کی قیمتی ترین چیز مل جانے سے بھی بہتر ہے۔ اس حدیث کو اگر سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دین کی تبلیغ اور نشر و اشاعت میں مالی تعاون بڑا مفید کام ہے۔ دینی کتابیں چھاپ کر تقسیم کرنا، علماء کے خطبات کی سی ڈیز یا کیسٹس وغیرہ تقسیم کرنا بھی یہ فضیلت حاصل کرنے کا آسان ذریعہ ہے۔ ان کتابوں کو پڑھ کر یا خطبات کو سن کر جتنے لوگ راہ راست پر آئیں گے اور زندگی بھر جتنے نیک عمل کریں ان سب کا ثواب تقسیم کرنے والے کو بھی ملے گا۔
وقف
ایسا مال جو دائمی خیرات کے لیے خاص کر دیا گیا ہو، وقف کہلاتا ہے۔ اصل مال تو وقف کرنے والے کے قبضے میں رہتا ہے لیکن اس کا نفع ضرورت مندوں کو ملتا رہتا ہے۔ یہ بھی صدقہ جاریہ کی ایک قسم ہے۔
وقف کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی شخص ٹیوب ویل لگوا دے یا پانی کے لیے کنواں کھدوا دے اور اس کا پانی لوگوں کے لیے وقف کر دے۔ حدیث سے بھی اس کی مثال ملتی ہے۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہاں رومہ نامی کنویں کے علاوہ کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں میٹھا پانی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من يشتري بئر رومة فيجعل دلوه مع دلاء المسلمين فله خير منها فى الجنة
کون ہے جو بئر رومہ خرید لے اور اپنا ڈول مسلمانوں کے ڈول کے ساتھ کر لے (یعنی وہ خود بھی اس میں سے پانی استعمال کرے اور لوگوں کو بھی اجازت دے) اس کے بدلے میں اسے جنت میں ایک بڑی خیر ملے گی۔
حسن، سنن الترمذي 3703
چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے مال سے وہ کنواں خرید لیا۔
اسی طرح جس آدمی کی زمین ہے وہ زمین کو اپنے قبضے میں رکھتے ہوئے اس کی فصل یا اگر باغ ہے تو اس کا پھل وغیرہ لوگوں کے لیے وقف کر سکتا ہے۔ وقف کی گئی چیز نہ تو کسی کو بیچی جا سکتی ہے اور نہ کوئی ایک شخص اسے اپنے قبضے میں لے سکتا ہے بلکہ وہ سب لوگوں کے مشترکہ نفع کے لیے ہوتی ہے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خیبر میں کچھ زمین ملی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں جو زمین ملی ہے، اس سے بڑھ کر نفیس اور عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا، آپ اس کے بارے میں کیا رائے دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:
إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها
اگر چاہو تو اس کی اصل اپنے قبضے میں رکھو اور اس کی پیداوار صدقہ کر دو۔
چنانچہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے (بطور وقف) صدقہ کر دیا کہ اسے بیچا نہیں جائے گا، ہبہ نہیں کیا جائے گا اور نہ وراثت میں تقسیم ہو گا۔ انہوں نے اسے فقراء، قرابت داروں، غلاموں کے آزاد کرانے، مہمات جہاد، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کر دیا اور فرمایا: جو اس کا منتظم ہو، اس پر کوئی پابندی نہیں، وہ اس میں سے معروف طریقے سے کھا بھی سکتا ہے اور کھلا بھی سکتا ہے، بشرطیکہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔
صحیح البخاری: 2737؛ صحیح مسلم: 1632
وقف کے مال سے اگر کسی جگہ فائدہ نہ ہو تو اسے کسی دوسری جگہ یا کسی اور مقصد پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی نے مسجد کے لیے صفیں وقف کی ہیں، لیکن جس مسجد میں اس شخص نے صفیں دی ہیں وہاں صفوں کی ضرورت نہیں تو کسی اور مسجد میں ان صفوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے:
لولا أن قومك حديثو عهد بالجاهلية لأنفقت كنز الكعبة فى سبيل الله ولجعلت بابها بالأرض ولأدخلت فيها من الحجر
اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تیری قوم نئی نئی جاہلیت سے نکلی ہے تو میں کعبہ کے لیے وقف کردہ خزانہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا، اس کا دروازہ زمین کے ساتھ ملا دیتا اور حجر (حطیم) کا حصہ کعبے میں شامل کر دیتا۔
صحیح مسلم: 1333