بھیک مانگنے کا پیشہ کیا ہے
تحریر: عمران ایوب لاہوری

بھیک مانگنے کا پیشہ کیا ہے
بھیک مانگنے کا پیشہ دنیا میں بھی ذلت و رسوائی کا باعث ہے اور آخرت میں بھی اور اس کے متعلق چند احادیث حسب ذیل ہیں:
➊ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مازال الرجل يسأل الناس حتى ياتي يوم القيامة ليس فى وجهه مزعة لحم
”آدمی ہمیشہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس طرح اٹھے گا کہ اس کے چہرے پر ذرا بھی گوشت نہ ہو گا ۔“
[بخاري: 1484 ، كتاب الزكاة: باب من سأل الناس تكثرا ، مسلم: 1040 ، كتاب الزكاة: باب كراهة المسئلة للناس ، نسائي: 2584 ، كتاب الزكاة: باب المسئلة]
➋ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنما المسائل كدوح يكدح بها الرجل وجهه فمن شاء أبقى على وجهه ومن شاء ترك إلا أن يسال ذا سلطان أو فى أمر لا يجد منه بدا
”بے شک سوال خراشیں ہیں جس کے ذریعے انسان اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے پس جو چاہے اسے اپنے چہرے پر باقی رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے ، الا کہ انسان حاکم سے سوال کرے یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس میں سوال کرنے کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔“
[صحيح: صحيح الترغيب: 792 ، كتاب الصدقات: باب الترهيب من المسألة ، ابو داود: 1639 ، نسائي: 100/5 ، ترمذي: 681 ، ابن حبان فى صحيحه: 3388]
➌ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لو يعلم صاحب المسألة ماله فيها لم يسأل
”اگر سوال کرنے والے کو علم ہو جائے کہ اس میں اس کے لیے کیا ( (ذلت و رسوائی اور گناہ ہے )) تو وہ کبھی سوال نہ کرے ۔“
[حسن لغيره: صحيح الترغيب: 797 ، كتاب الصدقات: باب الترهيب من المسألة ، رواه الطبرانی فی الکبیر]
➍ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
من سأل وهو غنى عن المسألة يحشر يوم القيامة وهى خموش فى وجهه
”جس نے سوال کیا اور وہ سوال سے غنی تھا تو اسے قیامت کے روز اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے چہرے میں خراشیں ہوں گی ۔“
[صحيح لغيره: صحيح الترغيب: 800 ، كتاب الصدقات: باب الترهيب من المسألة ، رواه الطبراني فى الأوسط بإسناد لا بأس به]
➎ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سأل وله ما يغنيه جائت مسئلته يوم القيامة خدوشا أو خموشا أو كدوحا فى وجهه قيل يا رسول الله وما يغنيه؟ قال خمسون درهما أوقيمته من الذهب
”جس شخص نے سوال کیا اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اسے کفایت کرتا ہے تو قیامت کے دن وہ سوال اس کے چہرے پر چھلا ہوا نشان بن کر آئے گا۔ سوال کیا گیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آدمی کو کتنا مال کفایت کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اتنی قیمت کا سونا ۔“
[صحيح: الصحيحة: 499 ، ابن ماجه: 1502 ، كتاب الزكاة: باب من سأل عن ظهر غني ، نسائي: 2591 ، ابو داود: 1626 ، ترمذي: 650 – 651]
➏ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ومن يتقبل لي بواحدة وأتقبل له بالجنة؟ قلت أنا قال: لا تسأل الناس شيئا قال فكان ثوبان يقع سوطه وهو راكب فلا يقول لأحد ناولنيه حتى ينزل فياخذه
”جو شخص میری ایک بات قبول کر لے میں اس کے لیے جنت کا ذمہ لیتا ہوں۔ میں نے کہا میں قبول کرتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں سے کسی چیز کا بھی سوال نہ کر ۔ پھر ثوبان رضی اللہ عنہ کی حالت یہ تھی کہ وہ سوار ہوتے اور ان کا کوڑا گر جاتا تو وہ کسی سے یہ نہ کہتے کہ میرا کوڑا مجھے پکڑا دو بلکہ خود اتر کر اٹھاتے ۔“
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 1487 ، كتاب الزكاة: باب كراهية المسئلة ابن ماجة: 1838 ، ابو داود: 1643 ، نسائي: 2589 ، حاكم: 412/1]

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے