بھینس کی قربانی کا حکم: کتاب و سنت کی روشنی میں

ماخوذ : احکام و مسائل، قربانی اور عقیقہ کے مسائل، جلد 1، صفحہ 434

کیا بھینس کی قربانی جائز ہے یا نہیں

کتاب و سنت کی روشنی میں تفصیلی وضاحت

سوال :

کیا بھینس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟ دونوں صورتوں میں کتاب و سنت سے دلائل کے ساتھ وضاحت کریں۔

جواب :

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو لوگ بھینس کی قربانی کے جواز کے قائل ہیں، ان کی دلیل صرف یہ ہوتی ہے کہ قرآن میں جو لفظ
"بقر” (گائے) استعمال ہوا ہے، وہ بھینس کو بھی شامل ہے، یا پھر وہ بھینس کو
بقر پر قیاس (analogical reasoning) کرتے ہیں۔

جبکہ واضح بات یہ ہے کہ:

گائے کی قربانی رسول اللہ ﷺ سے قول (فرمان)، عمل (عملی مثال) اور تقریر (خاموش تائید) تینوں طریقوں سے ثابت ہے۔
◈ لہٰذا، گائے کی قربانی کو ترجیح دی جانی چاہیے کیونکہ یہ سنتِ رسول ﷺ سے مکمل طور پر ثابت ہے۔
◈ جب کہ بھینس کی قربانی کے جواز میں صرف قیاس یا لفظی توسیع کی بنیاد پر دلیل دی جاتی ہے، جو کہ گائے کی قربانی کی صراحت کے مقابلے میں کمزور بنیاد ہے۔

نتیجہ:

➊ گائے کی قربانی کتاب و سنت، رسول اللہ ﷺ کے فرمان، عمل اور تائید سے واضح اور یقینی طور پر ثابت ہے۔
➋ بھینس کی قربانی کا جواز قیاس یا لفظی اشتراک پر مبنی ہے، جو صریح دلیل کے سامنے کمزور ہے۔
➌ اس لیے افضل اور محتاط عمل یہی ہے کہ قربانی گائے کی جائے، جس کا ثبوت تمام پہلوؤں سے ملتا ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب
(یہی میرے علم کے مطابق درست بات ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے